کتنا سنگین
Al-Risala, April 1985, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
اخبار ایک اعتبار سے موت کا خبر نامہ ہے۔ ہر روز اخبار مثلاً میرے سامنے ۲۲۴ فروری ۱۹۸۵ کا اخبار ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ چکریدھر پور ناگپور کی دو بوگیوں میں آگ لگ گئی۔ یہ آدھی رات کا وقت تھا۔ تیز ہوا چل رہی تھی۔ آگ تیزی سے مگر بریک کام نہ کرنے کی وجہ سے مسافر ٹرین کو فور اًٹھہرا نہ سکے۔ اگلے اسٹیشن پر ٹرین رکی تو بھرے ہوئے ڈبے کے قریب ایک سو آدمی جل کر مر چکے تھے۔
دوسری خبروں میں صرف دہلی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ہندی ادیب چندر گیت ودیا لنکڑ ۷۷ سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ اجیت سنگھ (م اسمائل) جیپ میں سفر کرتے ہوتے ایکسیڈنٹ کا شکار ہوا اور مر گیا۔ ۴۵ سال کے ایک آدمی کی لاش بورے میں بند پائی
اس طرح کے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آتے ہیں۔ وہ سادہ معنوں میں صرف موت کے واقعات نہیں ہیں۔ یہ مخلوق کی اپنے خالق و مالک کے سامنے حاضری ہے۔ یہ ایک انسان کا خدا کی عدالت میں پہنچایا جانا ہے۔ یہ امتحان کے مرحلہ کو پورا کر کے ابدی انجام کے مرحلہ میں داخل ہونا ہے۔
موت کا یہ پہلو کتنا ہولناک ہے۔ یہ موت کے واقعہ کو انتہائی سنگین بنا دیتا ہے۔ سنگین کہ اس سے زیادہ سنگین کوئی دوسرا واقعہ نہیں۔
موت کے اس پہلو کا تقاضا ہے کہ آدمی سب سے زیادہ موت کے بارہ میں سوچے ۔ لکھنے اور بولنے والے سب سے زیادہ اس کے بارہ میں لکھیں اور بولیں۔ انفرادی مجلسوں اور عوامی اجتماعات میں سب سے زیادہ اس کا چرچا ہو۔ مگر عملاً صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔ آدمی کو صرف یہ بتاتی ہے کہ " فلاں شخص اس دنیا سے چلا گیا “، وہ کسی کو یہ نہیں بتاتی کہ ” میں بھی اس دنیا سے جانے والا ہوں “ ہر آدمی موت کے سفر کو دوسروں کا سفر سمجھتا ہے کسی کو موت کے واقعہ میں اپنا سفر دکھائی نہیں دیتا۔
آہ وہ انسان، جو اس وقت تک ہوش میں آنے کے لئے تیار نہیں جب تک اس کو ہوش میں آنے کے لئے مجبور نہ کر دیا گیا ہو۔