غلط استعمال
Al-Risala, April 1985, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
جون ۱۹۸۴ میں امرت سر کے سورن مندر کے خلاف فوجی کارروائی کی گئی۔ کی اس کارروائی کا خفیہ نام آپریشن بلیو اسٹار (Operation Blue Star) تھا۔ سکھوں کا انتہائی متبرک مقام ہے۔ اس واقعہ کے بعد کچھ پرجوش سکھوں میں "شہید" ہونے کا جذبہ چنانچہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ کو خود انہیں سکھ جوانوں نے گولی مار کر اندرا گاندھی کو قتل کر دیا جو حفاظت کی خاطر وزیر اعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں متعین کئے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمہ چلا۔ ۱۱ فروری ۱۹۸۵ کو چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریت مسٹر ایس ایل کھنا کی عدالت میں ملزمین کے خلاف ۲۰ صفحات کی چارج شیٹ پیش کی گئی۔ اس سلسلہ میں اخبارات میں جو رپورٹ آئی ہے اس کا ایک حصہ یہ ہے:
Satwant Singh has further been charged under section 27 of the Arms Act for using a weapon lawfully supplied to him to commit قاتل ستونت سنگھ پر اسلحہ ایکٹ کی دفعہ ۲۷ کے تحت مزید یہ الزام ہے کہ ایک ہتھیار جو اس کو جائز طور پر دیا گیا تھا اس کو اس نے قتل کرنے کے لئے استعمال کیا رٹائمز آف انڈیا ۱۲ فروری ستونت سنگھ کو جو قیمتی آٹومیٹک ہتھیار دیا گیا تھا وہ وزیرِ اعظم کی حفاظت کے لئے تھا نہ کہ وزیرِ اعظم کو قتل کرنے کے لئے۔ یہ اگرچہ اس کے لئے جائز قانونی ہتھیار تھا مگر جب اس نے اس کا غلط استعمال کیا تو وہ قانون کی نظر میں مجرم قرار پایا۔ وہی ہتھیار جس کا صحیح استعمال اس کو انعام کا مستحق بناتا اس کے غلط استعمال نے اس کو سزا کا مستحق بنا دیا۔
اسی طرح خدا کی طرف سے جو چیزیں انسان کو دی گئی ہیں وہ اس کا جائز حق ہیں۔ مگر وہ صرف صحیح استعمال کے لئے ہیں۔ آدمی اگر ان چیزوں کو غلط راہ میں استعمال کرے تو وہ خدا کی نظر میں مجرم قرار پائے گا اور آخرت کی عدالت میں وہ ایسی سخت سزا کا مستحق ہوگا جس سے وہ کبھی نجات نہ