Al-Risala · January 1985

فطرت سے دور ہو کر

Al-Risala, January 1985, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کا بچہ تمام جانداروں کے بچے میں سب سے زیادہ کمزور ہوتا ہے۔ اس کو جسمانی پرورش اور ذہنی تربیت دونوں مقصد کے لئے لمبے عرصہ تک اپنے ماں باپ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہے کہ قدرت نے انسان کے اندر اپنے بچے کے لئے خصوصی کشش رکھی ہے۔

قدیم زمانہ میں کسی بچے کے لئے اپنے باپ یا ماں سے محروم ہونا صرف ہنگامی اسباب سے ہوتا تھا۔ جنگ یا کسی اتفاقی حادثے سے قبل از وقت موت۔ عام حالات میں یقین کیا جا سکتا تھا کہ بچوں کو اپنے والدین کی سر پرستی پختگی کی عمر تک حاصل رہے گی۔

جدید ترقی یافتہ سماج میں یہ استثنا اب عموم بن گیا ہے۔ اور یہ نتیجہ ہے جدید تصور زندگی کا جس نے نکاح کے رشتہ کو غیر مقدس بنا دیا ہے۔ اب یا تو نکاح کے بغیر لڑکے پیدا ہوتے ہیں یا نکاح کے جلد ہی بعد طلاق کی شکل میں دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہے ــــ بچوں کی اپنے ماں باپ سے جدائی۔ بچوں کا اپنے والدین کے جیتے جی یتیم ہو جانا۔ اس بڑھتی ہوئی "یتیمی" نے جدید معاشرہ کے لئے طرح طرح کے پیچیدہ مسائل پیدا کر دئے۔ اس میں سے ایک وہ ہے جس کو محرومی کا بونا پن (Deprivation dwarfism) کا نام دیا گیا ہے۔ سلسلہ میں مغرب کے طبی ماہرین کی ایک تازہ رپورٹ (ایوننگ نیوز، ۲ جون ۱۹۸۴) سامنے آئی ہے۔ یہ رپورٹ الرساله (انگریزی) میں مکمل طور پر دی جارہی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ماں باپ سے محرومی کی بنا پر جن بچوں کو ابتدائی عمر میں محبت نہیں ملتی ان میں مختلف قسم کا نقص پیدا ہو جاتا ہے مثلاً جسمانی نشو و نما میں کمی۔ دماغ کا ہلکا پن۔ حتی کہ یہ چیزیں بعض اوقات ان کی قبل از وقت موت کا باعث ہو جاتی ہیں۔

محرومی کا بو نا پن نامی بیماری کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ٹھیک طرح سو نہیں پاتا، اس کا نظام ہضم ٹھیک طرح کام نہیں کرتا۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اسپتالوں میں جہاں چھوٹے بچے بیڈ پر ڈال دئے جاتے ہیں، پیٹھ کے بل دیر دیر تک پڑے رہنے سے ان کے سر کا پچھلا حصہ گنجا ہو جاتا ہے کیوں کہ وہاں کوئی ماں بار بار کروٹ بدلنے کے لئے موجود نہیں ہوتی۔ ماں باپ سے محروم ہو کر دار الاطفال میں پرورش پانے والے بچے اپنے ذہنی اور جسمانی ارتقاء سے محروم رہتے ہیں۔

ڈاکٹر گار ڈنر (Dr. Gardner) کا کہنا ہے کہ مطالعہ بتاتا ہے کہ دماغ کی اعلیٰ سطح سے ارتعاشات (Impulses) اٹھتے ہیں۔ یہ ارتعاشات جسمانی نظام میں داخل ہو کر مختلف قسم کے ہارمون پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جو زندگی کی نشو و نما کے لئے ضروری ہیں۔ انہیں میں سے ایک وہ ہے جو پروٹین کو شکر میں تبدیل ماں باپ کی محبت سے محروم ہو کر جو بچے پرورش پاتے ہیں ان میں یہ قدرتی علم کم ہو جاتا ہے۔ یہ ہوتا ہے کہ ان کا جسم حاصل شدہ پروٹین کو پوری طرح استعمال نہیں کر پاتا جوان کے نشو و نما کے لئے انتہائی

یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ فطرت کے راستے سے ہٹنا کس قدر تباہ کن ہے۔ خدا کی بنائی ہوئی دنیا سے ہٹ کر اپنے لئے کوئی دوسری دنیا نہیں بنا سکتا۔ اس کے لئے لازم ہے کہ اس دنیا کے ساتھ مطابقت کرے۔ اگر وہ فطرت کی شاہراہ کو چھوڑ کر اپنے لئے کوئی دوسری شاہراہ بنانا چاہے گا تو وہ صرف ناکامی اور بربادی پر ختم ہوگا۔ اس کے سوا اس کا کوئی انجام نہیں اسلامی مرکز کا یہ اساعتی کام اب خدا کے فضل سے کافی بڑھ گیا ہے۔ اس کو وقت پر اور معیار کے مطابق انجام دینے کے لئے ضروری ہو گیا ہے کہ اسلامی مرکز کا خود اپنا پریس ہو، اس سلسلہ میں اس سے پہلے بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔ اب ہم نے اللہ کے بھروسہ پر فیصلہ کر لیا ہے کہ خود اپنا آفسٹ پریس قائم کریں اسی مقصد کے لئے اسلامی مرکز کی طرف لئے ایک پریس منڈ کھولا گیا ہے۔ ہم اپنے تمام ہمدردوں اور بہی خواہانوں سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ پریس فنڈ میں مالیاتی حصہ لے کر اس اسکیم کو کامیاب سیکریٹری اسلامی مرکز

Printed page