Al-Risala · April 1985

ابتدائی حالات

Al-Risala, April 1985, pp. 30–22

By Maulana Wahiduddin Khan

انیسویں صدی کے آخر میں اگر کوئی شخص دہلی کی کسی اونچی عمارت پر چڑھے تو اس کو شہر کے باہر جنوبی سمت میں

دور تک پھیلے ہوئے جنگلوں کے درمیان چند بے ترتیب عمارتیں نظر آئیں گی ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نظام الدین اولیاء کا مزار ہے اور اسی نسبت سے یہ جگہ بستی نظام الدین کے نام سے مشہور ہے ۔ یہیں اس وقت ایک بزرگ رہا کرتے تھے جن کا نام مولانا محمد اسماعیل (م ۵۹۸ھ) تھا۔ ان کا معمول تھا کہ جو مزدور اس ویرانہ میں آ نکلتے ان کا بوجھ اتار کر رکھتے اور اپنے ہاتھ سے ڈول کھینچ کر ان کو پانی پلاتے، پھر دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرتے کہ اللہ نے اپنے میںدوں کی اس خدمت کی توفیق عطا فرمائی ۔

مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلوی انہی بزرگ کے صاحبزادے تھے ۔ جن کی ولادت ۱۳۰۳ھ اور وفات ۱۳۶۳ھ (۱۹۲۴ء) میں ہوئی ۔

مولانا محمد الیاس صاحب خاندان ولی اللہی سے تعلق رکھتے تھے ۔ یہ وہی خاندان ہے جس کے متعلق اگر یہ کہا جائے تو صحیح ہوگا کہ ہندوستان میں آل تیمور کی غلط سیاست نے دین اسلام کو جو نقصان پہنچایا تھا اس کے تدارک اور اصلاح کا کام اللہ تعالیٰ نے اسی خاندان کے ذریعے لیا ۔ مولانا الیاس صاحب نے ایک ایسے گھرانے میں آنکھ کھولی جہاں زندگی میں ہماہمی پیدا کرنے کے لیے لوگوں کو فرضی واقعات کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں تھی ، کئی کئی پشت سے ان کے خاندان اور رشتہ داروں میں علماء اور مجاہدین کی شاندار روایات چلی آرہی تھیں ان کے گھر کے باہر اور اندر کی مجلسیں سید صاحب اور شاہ عبدالعزیز صاحب کے خاندان کے قصوں سے گرم ان بزرگوں کے واقعات مردوں اور عورتوں کی زبانوں پر تھے ۔ اور گھر کی بیبیاں بچوں کو طوطا مینا اور پریوں کی کہانیاں سنانے کے بجائے ان کے روح پرور واقعات سناتی تھیں ۔ گھر میں ہر طرف نماز، روزہ، تلاوت اور ذکر کا منظر دکھائی دیتا تھا ۔ گھر کی کوئی بڑی بی خوش ہوتیں تو یہ نہ کہتیں کہ " میرا بچہ آئی ۔ ایس بن جائے " بلکہ ان کی زبان سے نکلتا ۔ " بیٹے مجھے تجھ سے صحابہ کی خوشبو آتی ہے ۔ " یہ تھے وہ ابتدائی خاندانی حالات جن میں مولانا محمد الیاس رحمتہ اللہ علیہ کی پرورش ہوئی ۔

آپ کے گھر پر ایک تجارتی کتاب خانہ تھا جس کا انتظام آپ کے بڑے بھائی مولانا یحییٰ صاحب کرتے تھے ۔ مولانا الیاس صاحب یوں بھی بچپن سے کمزور ہونے کی وجہ سے جسمانی مشقت کا کام نہ کر سکتے اور وہ اس میں کچھ حصہ نہیں لیتے تھے ۔ ان کا وقت زیادہ تر مطالعہ اور دینی مشاغل میں گزرتا تھا اس کے برعکس بڑے بھائی کافی محنت سے کتاب خانہ کے امور انجام دیتے تھے ۔ ایک روز کتاب خانہ کے منتظم نے کہا " مولوی الیاس کتاب خانہ کے کاموں میں کچھ ہاتھ نہیں بٹاتے۔ کوئی خدمت ان کے ذمہ بھی کر دینی چاہیے " بڑے بھائی نے تکدر کے ساتھ جواب دیا۔ " حدیث میں آیا ہے کہ ہل ترزقون الا بضعفائكم(تم (تم کو جو رزق ملتا ہے وہ تمہارے کمزور افراد ہی کی برکت تو ہوتی ہے) میرا اعتقاد ہے کہ مجھے اسی بچہ کی

برکت سے رزق مل رہا ہے۔ اس لیے آئندہ اس قسم کی بات مجھ سے نہ کہی جائے“۔

اخلاص اور دین داری کے اس ماحول کا نتیجہ یہ تھا کہ مولانا کی پرورش اس طرح ہوئی گویا وہ دین کے گہوارے میں پل رہے ہیں۔ ایسی حالت میں جذبات کا دین کی راہ پر مڑ جانا بالکل فطری تھا۔ مولانا کے ایک ہم درس بیان کرتے ہیں کہ بچپن میں جب وہ ان کے ساتھ مکتب میں پڑھتے تھے، ایک دن آپ لکڑی لے آئے اور کہا آؤ میاں ریاض الاسلام! چلو بے نمازیوں پر جہاد کریں“۔

مکتب کی تعلیم سے فارغ ہو کر مولانا نے قدیم طرز پر عربی و دینی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد مدرسہ مظاہر العلوم (سہارن پور) میں استاد مقرر ہوئے۔ مگر قدرت کو منظور تھا کہ اب آپ کو اگلے مرحلہ کی تربیت گاہ میں پہنچایا جائے۔ پہلے ذکر آچکا ہے کہ آپ کے والد صاحب دہلی کے پاس بستی نظام الدین میں رہتے تھے۔ وہاں انہوں نے ایک چھوٹا سا مدرسہ جاری کیا تھا۔ جس میں کچھ غریبوں کے بچے پڑھنے آیا کرتے والد صاحب کے انتقال کے بعد آپ کے بھائی مولانا محمد صاحب نے اس مدرسہ کو سنبھالا۔ ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ اس وقت جب آپ اس سلسلہ میں نظام الدین گئے تو وہاں لوگوں نے اصرار کیا کہ اب یہیں قیام کریں اور والد اور بھائی کی جگہ، جوان کی وفات سے خالی ہوئی ہے، اس کو پر کریں۔ اس درخواست کو منظور کر لیا۔

یہاں سے آپ کی زندگی کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے جب کہ میواتیوں سے تعلق کی وجہ سے آپ کو تبلیغی تحریک چلانے کی طرف توجہ ہوئی۔ تبلیغ کا ابتدائی محرک میواتی مسلمان بنے۔ اس کے بعد یہ کام دوسرے تمام مقامات پر پھیل گیا۔

Printed page