Al-Risala · April 1985

میواتیوں میں کام

Al-Risala, April 1985, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی کے جنوب کا وہ علاقہ جس میں قدیم زمانے سے میو قوم آباد ہے، میوات کہلاتا ہے۔ اسی قسم کی ایک قبائلی آبادی تھی جیسا کہ عرب کے قدیم بدوؤں کے سلسلے میں ہم تاریخ میں پڑھتے ہیں۔ جاہل اور اجڈ قوم جو غالباً حضرت نظام الدین رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خلفاء و متبعين کی کوششوں سے مسلمان ہو گئی تھی۔ مگر عملاً وہ اسلام سے دور تھے۔ بجز اس خیال کے کہ ”ہم مسلمان ہیں“ اور کوئی اسلامی چیز ان کے اندر باقی نہیں رہی تھی ۔ وہ ناہر سنگھ اور بھوپ سنگھ جیسے نام رکھتے ، ان کے سروں پر چوٹیاں ہوتیں ، ان کے یہاں مورتیاں پوجی جاتیں ، وہ ہندوؤں کے تیوہار اور تقریبات مناتے ، دیوی دیوتاؤں کے نام پر قربانی چڑھاتے، شب برات میں ان کے یہاں سید سالار مسعود غازی کا جھنڈا اٹھتا مگر وہ بھی ایک بت تھا جو پوجا جاتا تھا۔ انہیں کلمہ تک یاد نہ تھا۔ حتیٰ کہ نماز کی صورت سے وہ اس

قدر نا آشنا تھے کہ کبھی کوئی مسلمان اتفاق سے ان کے علاقے میں پہنچ گیا اور اس نے نماز پڑھی تو گاؤں کے عورت ، مرد، بچے سب اس کے گرد یہ دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے کہ یہ شخص آخر کیا کر رہا ہے ۔ پیٹ میں درد ہے یا اس کو جنون ہو گیا ہے کہ بار بار اٹھتا بیٹھتا اور جھکتا ہے ۔ ان کی تہذیب کا یہ عالم تھا کہ عورت مرد اکثر نیم برہنہ گھومتے تھے ۔ چوری ڈکیتی اور رہزنی ان کا پیشہ تھا ۔ آپس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کے درمیان لمبی لمبی خون ریز لڑائیاں ہوتی رہتی تھی ۔ وہ فطرتاً جفا کش اور بہادر تھے ۔ مگر علم اور تربیت کی کمی نے انہیں جنگلی قبائل کی سطح سے آگے نہیں بڑھنے دیا۔ میجر پاؤلٹ، جو انیسویں صدی کے آخر میں ریاست الور کا افسر بند وبست تھا، کے الفاظ میں :

Printed page