’’ میو اپنے عادات میں آدھے ہندو ہیں
Al-Risala, April 1985, pp. 23–25
By Maulana Wahiduddin Khan
دہلی کی مسلمان سلطنت کے ابتدائی دور میں میواتی بہت تکلیف دہ عنصر بن گئے تھے ۔ انہوں نے دہلی کے اوپر تاخت و تاراج شروع کر دی تھی ۔ ان کے خوف سے راجہ دھانی ۔ کہ دروازے سر شام بند ہو جاتے شام کو شہر پناہ سے باہر نکلنے کی کوئی ہمت نہیں کر سکتا تھا۔ غیاث الدین بلبن نے ان کے خلاف ایک زبردست مہم بھیجی جس میں میواتیوں کی بڑی تعداد قتل ہوئی ۔ بعد کے حالات بھی بتاتے ہیں کہ انگریزی حکومت کے افسران اور الور اور بھرت پور کی ہمسایہ ریاستیں وہاں امن و امان قائم کرنے میں ناکام رہی تھیں ۔ ۱۹۲۱ء کے زمانے میں مزید ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ۔ آریہ مبلغین سیکڑوں کی تعداد میں اٹھ کھڑے ہوئے جن کا مقصد یہ تھا کہ ہندوستان کے وہ باشندے جنہوں نے پہلے اپنے آبائی مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول کیا تھا انہیں دوبارہ اپنے مذہب کی طرف واپس لایا جائے ۔ ہر طرف ارتداد کی ہوا پھیلنے لگی اور جاہل نو مسلم دیہاتی علاقوں میں آریوں کی کامیابی کی خبریں آنے لگیں ۔
بستی نظام الدین عین میوات کے دہانے پر واقع تھی۔ اور یہاں کے مدرسہ میں ان کے کچھ بچے پڑھتے تھے ۔ اسی کے ساتھ مولانا الیاس صاحب کے والد بزرگوار اور آپ کے بھائی صاحب مرحوم کے تعلق سے کچھ میواتی عقیدت مند بھی ہو گئے تھے ۔ وہ آتے جاتے رہتے تھے ۔ مولانا الیاس صاحب نے میواتیوں کی افسوس ناک حالت دیکھی تو ان کے اندر اصلاح کا جذبہ پیدا ہوا ۔ آپ کے دونوں پیشرو (والد صاحب اور بھائی صاحب ) دینی تعلیم کے ذریعہ پہلے سے بھی ان کی اصلاح کی کوشش کر رہے فطری طور پر آپ کا پہلا ذہن اسی طرف گیا کہ اس سلسلے کو جاری رکھنا ان کی اصلاح کا حقیقی
آپ نے اس میں اتنا اور اضافہ کیا کہ خود میوات کے اپنے علاقہ میں بھی دینی مکاتب و مدارس قائم کرنے کی تحریک چلائی۔
یہ دوسرا جز میواتیوں کے لیے سخت مشکل تھا۔ کیونکہ وہ سوچ ہی نہیں سکتے تھے کہ بچہ کو کھیتی باڑی اور جانوروں کی دیکھ بھال سے ہٹا کر مدرسہ میں بٹھا دیں۔ تاہم آپ نے کوشش جاری رکھی۔ لے کر خوشامد تک ہر طریقہ اختیار کیا۔ میواتیوں سے کہا کہ " تم بچے دے دو، معلمین کی تنخواہ میں لاؤں گا" بالآخر میوات میں سیکڑوں ایسے مکتب قائم ہو گئے جن میں قرآن اور ابتدائی دینی تعلیم ہوتی تھی۔ اس کے بعد ایک واقعہ ہوا جس نے آپ کی کوششوں کے رُخ کو بالکل موڑ دیا۔ ایک بار آپ میوات کے سفر میں تھے۔ ایک مقام پر مولانا کے سامنے بڑی تعریف کے ساتھ ایک نوجوان پیش کیا گیا کہ یہ میوات کے فلاں مکتب سے فارغ ہو کر نکلے ہیں۔ دیکھا تو ڈاڑھی منڈی ہوئی ہے اور چہرہ اور وضع قطع میں کہیں اسلامیت کا کوئی نشان نہیں، یہ واقعہ مکاتب کی عملی ناکامی کی تصویر تھا۔ کے نتائج کے بارے میں جو بے اطمینانی آپ کو رہا کرتی تھی ۔ وہ اب پوری شدت کے ساتھ ابھر آئی۔ مکاتب کے قیام سے بلاشبہ یہ فائدہ تھا کہ آہستہ آہستہ لوگوں کے اندر مولانا کی عقیدت بڑھ رہی تھی ، اور ایک دوسرا کام جو مولانا وہاں کرنا چاہتے تھے وہ بھی کسی قدر ہو رہا تھا ۔ یعنی میواتیوں کے آپس کے لڑائی جھگڑوں کو چکانا اور باہم صلح کرانا۔ اس میں ان کی کامیابی کا یہ عالم تھا کہ میوات کے لوگ کہتے " یہ شخص دیکھنے میں تو ایک مشت استخواں ہے۔ مگر جس معاملے میں پڑ جاتا ہے، چٹکیوں میں اس کو سلجھا دیتا ہے۔ اور معلوم نہیں کیا بات ہے کہ بڑے بڑے ضدّی اس کے کہنے سے فوراً مان جاتے ہیں۔
مگر اصل مسئلہ میواتیوں کی دینی بیداری کا تھا۔ اور اس معاملے میں مکاتب کی ناکامی اپنی جگہ بدستور باقی تھی۔ غور و فکر کے بعد آپ پر کھلا کہ اصل رکاوٹ یہ ہے کہ موجودہ طریق کار کے تحت ہم یہ کرتے ہیں کہ میواتیوں کو ان کے مشاغل اور ماحول میں رکھ کر انہیں دین کا سبق پڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ ہے کہ ہم تو انہیں محنت اور عرق ریزی سے دین کی باتیں بتاتے ہیں۔ مگر اس کے چند ہی لمحے بعد جب وہ اپنے گھر اور اپنے ماحول میں پہنچتے ہیں تو وہاں دوسری قسم کی باتیں انہیں گھیر لیتی ہیں اور پھر خود بخود سفیدی پر سیاہی پھر جاتی ہے ۔ اس کا واحد حل جو مولانا کو نظر آیا وہ یہ کہ میواتیوں کی جماعت بنا کر انہیں ان کے ماحول سے نکالا جائے ۔ اور پھر مسجدوں میں، دینی مدارس میں ، بزرگوں کی صحبتوں میں ، اور وعظ و تلقین کے ماحول میں رکھ کر انہیں تعلیم دی جائے اور انہیں ایک عرصہ تک ذکر اور نماز اور دعا میں مشغول رکھ کر متاثر کرنے کی
کوشش کی جائے ۔ اب انہوں نے اس دوسرے طریقے کے مطابق کام شروع کر دیا۔
اس کام میں ابتدا ئر پہلے سے بھی زیادہ مشکلیں پیش آئیں۔ جس میواتی کا یہ حال تھا کہ اس کو اپنا بچہ مقامی مدرسہ میں دینا گوارا نہیں ہوتا تھا، وہ خود اپنا وطن چھوڑ کر اور اپنا وقت نکال کر باہر جانے کے لیے کس طرح راضی ہوتا، مگر مولانا کا اخلاص، مسلسل کوشش ، دعائیں اور گریہ و زاری نے بالآخر اس کو ایسا رواج دیا کہ سارے میوات میں ایک نئی حرکت پیدا ہوگئی۔
اس سرکش قوم کو مولانا نے کس طرح رام کیا۔ اس کا اندازہ دو واقعات سے ہوگا۔ دوران تبلیغ آپ نے ازراہ محبت ایک شخص کے اوپر ہاتھ رکھ دیا۔ وہ آگ بگولہ ہو گیا اور کہنے لگا کہ اگر اب کی تم نے ہاتھ لگایا تو میں لٹھ مار دوں گا۔ آپ نے فوراً اس کے پاؤں پکڑ لیے اور فرمایا کہ ۔ کو تو نہیں کہا تھا “ اس کے بعد اس کا غصہ کا فور ہو گیا اور فوراً نرم پڑ گیا۔ اسی طرح آپ ایک بار ایک میواتی پر تبلیغ کر رہے تھے کہ وہ بگڑ گیا اور آپ کو ایک گھونسہ مار دیا۔ مولانا الیاس صاحب دُبلے کمزور آدمی تھے، گھونسہ کی تاب نہ لاکر زمین پر گر پڑے۔ کچھ دیر بعد جب ان کے حواس بجا ہوئے تو وہ گرد جھاڑ کر اٹھے اور میواتی کا دامن پکڑ لیا اور کہا :