Al-Risala · April 1985

” اچھا تم تو اپنا کام کر چکے، اب میری سنو “

Al-Risala, April 1985, pp. 25–30

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دیکھ کر میواتی آپ کے قدموں پر گر پڑا اور بولا ۔ " مولوی مجھے معاف کرو ورنہ میری بخشش نہیں اسی اخلاص اور اخلاق کا نتیجہ تھا کہ بالآخر لوگوں کے دل کھنچے۔ میواتیوں کی کثیر تعداد آپ کے ساتھ ہو گئی۔ ان کے قافلے جوق در جوق اپنے علاقوں سے نکل کر نظام الدین ، سہارن پور، اور دوسرے مقامات کو جانے لگے اور ہفتوں اور مہینوں تک ان کی زندگیاں دینی تعلیم و تربیت کے سائے میں گزرنے نتیجہ نے بتایا کہ مولانا کا سوچنا صحیح تھا۔ اس کورس سے نکل کر جو لوگ میوات لوٹتے وہ بڑی حد تک بدل چکے ہوتے ۔ ماحول سے متاثر ہونے کے بجائے ماحول کو بدلنے کا جذبہ ان کے اندر بیدار ہو چکا ہوتا تھا۔

اب میوات کی فضا بدلنے لگی۔ پورے علاقے میں دین کی رغبت پیدا ہو گئی۔ جہاں میلوں تک کوئی مسجد نظر نہیں آتی تھی وہاں گاؤں گاؤں مسجدیں بن گئیں۔ مکاتب و مدارس نہ صرف تعداد میں بڑھے بلکہ اب انہیں واقعی میؤوں کے درمیان دینی تعلیم و تربیت کے ادارے کا مقام حاصل ہو گیا۔ وضع ولباس کی جگہ اسلامی وضع ولباس ہر طرف نظر آنے لگا۔ ہاتھوں کے کڑے اور کانوں کی مُرکیاں

بے کہے لوگوں نے داڑھیاں رکھنی شروع کر دیں۔ تقریبات سے مشرکانہ رسوم کا خاتمہ ہو گیا۔ سود خواری کم ہو گئی۔ شراب نوشی کا وجود مٹ گیا۔ قتل و غارت گری اور لوٹ کھسوٹ کی واردات میں کمی گاؤں کے گاؤں ایسے ہوگئے جہاں ایک بچہ بھی بے نمازی نہیں ہوتا۔ ان کی معاشرت، ان کے برتاؤ، ان کے لین دین، غرض ہر چیز میں فرق آگیا۔ یہی نہیں بلکہ وہ قوم جو پہلے دینی شعور سے بالکل بیگانہ تھی، اس کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو گیا کہ وہ دوسروں کو خدا کے دین سے آگاہ کرے ۔ ان کی سیدھی سادی زبانوں سے دین کی باتیں سن کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ تاریخ اپنے اوراق الٹ رہی ہے۔ اور آغاز اسلام میں عرب کے نو مسلم بدو دوبارہ پیدا ہو کر زمین کے اوپر چلنے پھرنے لگے ہیں۔ اسی زمانے کا واقعہ ہے کہ ایک بزرگ ستمبر ۱۹۲۹ء میں میوات کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے گئے ہوئے تھے انہوں نے ایک جاہل میواتی کو روک کر پوچھا ؀ ”یہ تبلیغی دورے تم کس لیے کر رہے ہو؟ “ اس نے جواب دیا: ”ہم جہالت میں پڑے ہوئے تھے۔ نہ ہم کو خدا کی خبر رکھتی نہ رسول کی۔ اس مولوی کا خدا بھلا کرے کہ اس نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے دوسرے بھائیوں تک بھی یہ نعمت پہنچائیں جو ہمیں ملی ہے۔ میواتی کے یہ سیدھے سادے الفاظ سن کر ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے تاریخ اپنے آپ کو دُہرا رہی ہے۔ مولانا کی شخصیت کسی کام کی کامیابی کے لیے طریق کار کی صحت کے ساتھ کارکنوں کا اخلاص اور تعلق بھی ضروری ہے۔ مولانا الیاس صاحب کی بے تاب طبیعت نے فراہم کر دیا۔ مولانا کو جن لوگوں نے دیکھا ہے ان کی متفقہ شہادت ہے کہ وہ اس قدر بے چین اور مضطرب آدمی تھے کہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا وہ گوشت پوست کا مجسمہ نہیں بلکہ درد اور تڑپ کا مجسمہ ہیں۔ مولانا کے ایک قدیم رفیق ایک بار نظام الدین گئے۔ وقت مولانا الیاس صاحب کا انتقال ہو چکا تھا۔ انہوں نے گھر میں مولانا الیاس صاحب کی زوجہ محترمہ کے یہاں کہلایا کہ مولانا کی کوئی خاص بات جو آپ کو یاد ہو بتائیے ۔ محترمہ نے اندر سے کہلایا : ”جب میری شادی ہوئی اور میں رخصت ہو کر مولانا کے گھر گئی تو میں نے دیکھا کہ مولانا راتوں کو بہت کم سوتے ہیں۔ ان کی راتیں بستر پر کروٹ بدلنے اور آہ بھرنے میں گزرتی تھیں۔ میں نے کہا کہ یہ کیا بات ہے کہ آپ کو راتوں کو نیند نہیں آتی ۔ مولانا نے ایک آہ بھری اور فرمایا ؀ کیا بتاؤں اگر تم کو وہ بات معلوم ہو جائے تو جاگنے والا ایک نہ رہے، دو ہو جائیں “

مولانا کی ساری زندگی گواہی دیتی ہے کہ وہ سراپا دردِ دین تھے۔ وہ اگرچہ لکنَت کی وجہ سے، نیز اکثر قدیم طرز کی زبان اور اصطلاحات میں بولنے کی وجہ سے عام لوگوں کو اپنی بات بخوبی سمجھا نہیں پاتے تھے۔ وہ بولتے تو شدتِ احساس کی وجہ سے ان کا وجود مجسم بیان اور اظہار بن جاتا۔ اکثر ماہی بے آب کی طرح تڑپتے، آہیں بھرتے اور فرماتے "میرے اللہ میں کیا کروں، کچھ ہوتا ہی نہیں"۔ اس قدر کمزور اور لاغر تھے کہ دیکھنے والوں کو ترس آتا۔ مگر اس کے باوجود تندرست اور طاقتور لوگوں سے زیادہ کام کرتے۔ کرتے تھے "۔ دین کے فروغ کے لیے جان دینے کے شوق کو زندہ کرنا اور جان کو بے قیمت کر دینا ہماری تحریک کا خلاصہ ہے"۔

اپنے مقصد کے پیچھے آرام اور کھانا پینا تک بھول جاتے۔ میوات کے نا ہموار علاقوں میں ۲۰ - ۲۰ میل اور ۲۵ - ۲۵ میل تک پیدل چلے جاتے کھانا موجود ہونے کے باوجود بعض اوقات اس ہنگامی زندگی کی وجہ سے کھانے کی نوبت نہ آتی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ جمعہ کے دن نظام الدین سے کھانا کھا کر روانہ ہوئے اور اتوار کو نظام الدین واپس آکر کھانا کھایا۔ راتوں کو جاگنا، پہاڑیاں عبور کرنا، میوات کے میدانوں میں کبھی گرم لو کی لپٹیں اور کبھی زمستانی ہوا کے سرد جھونکوں کا مقابلہ کرنا، یہ ان کی زندگی تھی۔ اس طرح کے پرمشقت سفروں میں کبھی دیکھتے کہ ساتھی گھبرا گئے ہیں تو فرماتے :

" جبلِ جُہد کے پرلی طرف خدا ہے جس کا جی چاہے مل لے"

بیماری کے عالم میں کوئی خیریت پوچھتا تو فرماتے :

"بھئی تندرستی بیماری تو انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے اس میں کیا خیریت اور کیا خیریت تو جب ہے کہ جس کام کے لیے پیدا اگئے ہیں وہ کام ہو"

ایک مرتبہ مولانا کے وطن کاندھلہ سے کچھ اعزہ عیادت کے لیے آئے۔ مولانا نے پوچھا کس لیے آئے کہنے لگے آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لیے۔ فرمایا " جو مٹنے کے لیے بنا ہے اس کی خیریت پوچھنے کے لیے کاندھلہ سے یہاں تک آؤ۔ اور رسولِ کریم کا دین جو مٹنے والا نہیں، وہ مٹایا جا رہا ہے، اور تم اس کی خبر نہیں لیتے"۔ بیماری میں ڈاکٹر بولنے سے منع کرتے تو فرماتے "۔ تبلیغ کے لیے بول کر مر جانا پسند کرتا ہوں۔ بہ نسبت اس کے کہ اس سے خاموش رہ کر صحت حاصل کروں"۔ ایک صاحب کو طلب خیریت کے سلسلے میں جواب دیتے ہوئے خط میں لکھا :

"طبیعت میں سوائے تبلیغی درد کے اور خیریت ہے"

مولانا کو تبلیغ کے کام سے اس قدر تعلق تھا کہ جب دیکھتے کہ ان کی ساری کوشش کے بعد جو

لوگ ان کے گرد جمع ہوائے ہیں وہ زیادہ تر جاہل یا معمولی پڑھے لکھے لوگ ہیں تو سخت غمگین ہوتے، آخری بیماری میں ایک مرتبہ گہرے تاثر کے ساتھ فرمایا :

"کاش علماء اس کام کو سنبھال لیتے اور پھر ہم چلے جاتے "۔

لوگوں کے ساتھ رعایت کا یہ عالم تھا کہ ریل کے سفر میں ایک بار مغرب کے نوافل پڑھتے وقت ایک رفیق نے مسافروں کو سامنے سے گزرنے سے روکنے کا انتظام کیا۔ آپ نے منع فرمایا اور کہا کہ یہ حقوق عامہ ہیں، تم دوسرے کو گزرنے سے نہ روکو بلکہ سترہ کا انتظام کرو۔ کاندھلہ کے سفر میں ایک مرتبہ بھیڑ کی وجہ سے آپ سیکنڈ کلاس میں بیٹھ گئے۔ ٹکٹ تھرڈ کلاس کا تھا۔ خیال ہو کہ ٹکٹ چیک کرنے والا آئے گا تو ٹکٹ بنوا لیا جائے گا۔ وہ آیا تو اس نے ایسی بے ڈھنگی گفتگو کی کہ مولانا کو غصہ آگیا۔ اور اس کو ڈانٹ ٹکٹ بنانے کے بعد وہ چلا گیا۔ تو مولانا انعام الحسن صاحب نے جو اس وقت ساتھ تھے کہا کہ حضرت ، اس کو تو کہنے کا حق تھا۔ ان صاحب الحق مقالاً (جس کا حق آتا ہو وہ کہنے سننے کا مجاز ہے)، مولانا نے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کر لیا اور اگلے اسٹیشن پر اتر کر اس ٹی ٹی ای سے معذرت کی اور معافی مانگی۔ اسی کے ساتھ خدا سے تعلق اور آخرت کے استحضار کا یہ عالم تھا کہ نمازیں انہیں لذت ملتی۔ پر چڑھتے اور اوپر پہنچ کر جب تمام ساتھی تھک کر بیٹھ جاتے، مولانا فوراً نماز کی نیت باندھ کر کھڑے انتقال کے بعد جب غسل دیا گیا اور خوشبو لگائی جانے لگی تو ایک رفیق خاص کی زبان سے بے اختیار نکلا_ "پیشانی پر اچھی طرح خوشبو لگاؤ، یہ گھنٹوں سجدہ میں ٹکی رہتی تھیں " آپ کی یہی عبادتیں، قربانیاں، اور خلق اللہ سے آپ کی محبت تھی جس نے آپ کی محنت اور آپ کے کام میں وہ تاثیر پیدا کر دی کہ آج جو لوگ تبلیغ کے کام کے پھیلاؤ اور اس کے حیرت انگیز نتائج کو دیکھتے ہیں، ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ مادی اصطلاحوں میں ان واقعات کی کس طرح تشریح کریں۔ ایک مکتوب میں مولانا نے لکھا :

"عادات خداوندی عموماً دین میں اپنی جدوجہد کی مقدار کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مقصد کے لیے جتنا اپنے آپ کو ذلیل کرتا ہے اور تکالیف کو جھیلنے کے ذریعہ اپنے حالات، جوارح، قلب اور قوتوں کی شکستگی اور تعب وانکسار کو پہونچتا ہے، اتنا ہی حق تعالیٰ کی رحمت کے نزول کا سبب ہوتا ہے ۔ انا عند المنكسرة قلوبهم کسی راہ کی ذلت کو اٹھائے بغیر اس کی عزت کو پہونچنا عاده ہوتا نہیں "

یہ الفاظ در حقیقت خود کہنے والے کی تصویر ہیں۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ آپ نے خود کو دین کی راہ میں

گھلا دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی زندگی اور آپ کے کلام میں عجیب کشش پیدا ہو گئی۔ مولانا نے جو بات اوپر کے اقتباس میں کہی ہے اس کو دوسرے الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ آدمی جب کسی کام میں اپنے کو فنا کئے ہوئے ہو، اس وقت اس کی شخصیت بے پناہ ہو جاتی ہے۔ اس کی زبان سے تیر و نشتر کی باتیں نکلنے لگتی ہیں جو دلوں میں گھستی ہیں اور روحوں کو بے چین کر دیتی ہے۔ دلوں کو چھیدنے والے کلمات اسی زبان سے نکل سکتے ہیں جس کا دل مقصد کے غم میں چھلنی ہو گیا ہو۔

مولانا کے چند کلمات سے اس کی مزید وضاحت ہو سکے گی۔ ایک مرتبہ آپ نے ایک صاحب سے مخاطب ہو کر فرمایا:

’’ سمجھے مولوی جی، یہ کام قرن اول کا ہیرا ہے۔ اس کے لیے اپنی جانیں قربان کر دو اور اپنا سب کچھ مٹا دو۔ اس کے لیے جتنا زیادہ قربان کرو گے اتنا زیادہ پاؤ گے۔ کچھ لوگ مولانا سے ملنے گئے اور مہمان کی طرح رہ کر واپس چلے گئے ۔ ان کو کہلایا ’’ تم لوگ آئے اور چند روز مسند نشینی کر کے چل دیے۔ یاد رکھو اس راہ میں بھوک اور پیاس کی تکلیفات برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ اس راہ میں اپنا پسینہ بہاؤ اور خون بہانے کے لیے تیار رہو۔ ایک خط میں اس پر افسوس کرتے ہوئے کہ فی گھر ایک آدمی بھی لوگ تبلیغ کے لیے نہیں دے رہے ہیں

’’ عیسیٰ ! تم غور تو کرو ۔ دنیا فانی میں کام کے لیے تو گھر کے سارے افراد ہوں اور اس کے لیے صرف ایک آدمی کو کہا جائے اور اس پر بھی نباہ نہ ہو، تو آخرت کو دنیا سے گھٹایا یا نہیں گھٹایا۔ ایک مرتبہ لکھنؤ میں تبلیغی جلسہ ہوا۔ جلسہ کے بعد تحریک ہوئی کہ کچھ لوگ جماعت بنا کر کانپور کے لیے مگر اعلان کے باوجود کوئی نام نہیں دے رہا تھا۔ مولانا بے قرار ہو کر کھڑے ہو گئے اور لوگوں کو آمادہ کرنا شروع کر دیا۔ حاجی ولی محمد صاحب کئی روز سے صاحب فراش تھے۔ بواسیر کی شکایت نے نقاہت پیدا کر دی تھی۔ آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا، تم کیوں نہیں جاتے ۔ انہوں نے جواب دیا۔ ’’ میں تو مر رہا ہوں‘‘ فرمایا ’’ مرنا ہی ہے تو کان پور جا کر مرو‘‘ یہ چند جملے محض سمجھنے کے لیے نقل کر دیے گئے ہیں۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے الفاظ کبھی بھی اپنی اصل حیثیت کے ترجمان نہیں ہوتے۔ کیونکہ جب اس طرح کا جملہ کہا جاتا ہے تو وہ کاغذ پر لکھ کر کسی کو نہیں دیا جاتا، بلکہ کہنے والا سامنے موجود ہوتا ہے اور سننے والا براہ راست اس کے کلمات کو سن رہا ہوتا ہے۔

ایسی حالت میں بات بالکل دوسری ہو جاتی ہے ۔ اس وقت یہ الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ اس میں دو اور چیزیں شامل ہو جاتی ہیں ۔ اور وہ ہیں ــ جذبات اور شخصیت ۔ اس وقت وہ ایک ایسی حقیقت ہوتی ہے جس میں درد ، خیر خواہی اور اخلاص کے ساتھ ایک زندہ شخصیت کا پورا وزن بھی شامل رہتا ہے ۔ کلمات جب وجود میں آتے ہیں تو فضا میں رعشہ پیدا کر دیتے ہیں وہ سوتوں کو بیدار کر دیتے ہیں ۔ طبیعتیں رام ہو جاتی ہیں ۔ غفلت میں پڑے ہوئے چونک اٹھتے ہیں ، فطرت میں چھپی ہوئی عبودیت اس طرح جاگ اٹھتی ہے کہ ساری زندگی کو بدل کر رکھ دیتی ہے ۔ ایسے ہی کلمات کے لیے کہا گیا ہے ــ از دل خیزد بر دل ریزد ۔

ایک صاحب ایک مرتبہ تبلیغی جلسہ سے واپس آئے تو مولانا نے فرمایا ۔ کہو کچھ اپنی حالت پر افسوس بھی انہوں نے کہا ” جو کچھ دیکھا اس کے بعد تو اپنے کو مسلمان کہتے ہوئے بھی شرم آنے لگی ہے “ اسی کا نتیجہ تھا کہ آپ کی زندگی ہی میں کام اس ترقی کو پہنچ گیا کہ نومبر ۱۹۳۱ء میں جب میوات میں پہلا بڑا تبلیغی جلسہ ہوا تو ۲۵ ہزار آدمی اس میں شریک ہوئے ۔ ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی تھی جو ۵۰ - ۵۰۰ میل سے پیدل چل کر وہاں پہنچے تھے ۔ ایک میواتی سے جب پہلی بار آپ نے کہا کہ جاؤ تبلیغ کرو ۔ تو وہ بولا ” تبدیل کیا ہو ہے “ یہی لوگ جو تبلیغ کا صحیح تلفظ بھی نہیں جانتے تھے وہ ایسے مبلغ بنے کہ انہوں نے مبلغوں کی ایک نئی قوم ملک میں پیدا کر دی ۔ اگر کوئی اس وقت مبلغوں کے ان قافلوں کو دیکھے جو بستی بستی اس طرح گھوم رہے ہیں کہ کاندھوں پر کمبل پڑے ہوئے ہیں ۔ بغل میں سیپارے دبے ہوئے ہیں ۔ چادر کے پلو میں چنے یا چند روٹیاں بندھی ہوئی ہیں ۔ زبانیں تسبیح اور ذکر میں مشغول ہیں ۔ آنکھوں میں شب بیداری کے آثار ، پیشانی پر سجدے کے نشانات ، ہاتھ پاؤں سے جفا کشی اور مشقت نمایاں ، تو دیکھنے والوں کو وہ منظر یاد آجاتا جب عرب کے مفلس اور غیر تعلیم یافتہ باشندے اسلام کی دولت کو پا کر سرشار تھے اور قرآن اور احکام دین کی تعلیم کے لیے چاروں طرف چلتے پھرتے نظر آتے تھے ۔

Printed page