Al-Risala · April 1985

تبلیغ کی اندرونی طاقت

Al-Risala, April 1985, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا نے اپنی تبلیغ کے ذریعہ لوگوں کو وہ کیا چیز دی تھی جس نے اتنی بڑی تبدیلی پیدا کر دی ۔ وہ تھا آخرت کا خیال اور نصرت الہی کا یقین ۔ مولانا نے اس حقیقت کو شدت سے لوگوں کے ذہن نشین کیا کہ اس کائنات کا ایک مالک ہے ۔ اور اسی کے پاس لوٹ کر ہمیں جانا ہے ۔ کائنات کا کوئی ذرہ اس کی مرضی کے بغیر ہل نہیں سکتا جو کچھ ہو گا اسی کے کیے۔ سے ہوگا ۔ اس کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے ایک واقعہ پر غور کیجیے ۔ مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ایک میواتی

صحبت یافتہ سے ایک شخص نے پوچھا۔ ”اپنی تبلیغی زندگی کا کوئی واقعہ بتائیے “ میواتی نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہنا شروع کیا ”مولانا نے ایک مرتبہ تین آدمیوں کی ایک جماعت مراد آباد بھیجی۔ جس میں سے ایک میں تھا۔ مولانا نے چلتے وقت یہ مختصر سی ہدایت دی کہ اللہ کے نام پر روانہ اور جب کوئی مشکل پڑے تو ایسا کرنا کہ بستی کے باہر جا کر تنہائیوں میں نماز پڑھنا اور دعا کرنا کہ خدایا ہماری مشکل حل کر دے ۔ ہم لوگ بستی میں پہنچ کر ایک مسجد میں داخل ہوئے۔ مغرب کی نماز کے بعد اعلان کیا گیا لوگ ٹھہر جائیں ۔ کچھ دین کی باتیں ہوں گی “ مگر جب ہم سنتوں سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک ایک شخص جا چکا اور مسجد میں ہم تین کے سوا کوئی موجود نہیں ۔ اب ہم بیٹھ کر اگلی شام کا انتظار کرنے لگے۔ پھر مغرب کی نماز کے بعد یہی اعلان کیا۔ مگر دوسرے دن بھی یہی قصہ پیش آیا کہ نماز کے بعد سارے لوگ مسجد سے اٹھ اٹھ کر چلے گئے۔ اب ہمیں مولانا کی نصیحت یاد آئی۔ رات گزار کر صبح کو ہم لوگ حسب ہدایت بستی کے باہر چلے گئے اور سارا دن دعا کرتے رہے۔ شام کو آکر پھر اسی مسجد میں مغرب کی نماز پڑھی اور جس طرح دو دن اعلان کر چکے تھے ، اسی طرح آج بھی اعلان کیا۔ ”نماز سے فارغ ہو کر آپ لوگ ٹھہر جائیں کچھ دین کی باتیں ہوں گی “ اتنا کہہ کر میواتی رک گیا۔ وہ پوچھنے والے کو ایسی نظروں سے دیکھنے لگا جیسے وہ کسی نہایت اہم واقعہ کا انکشاف کرنے جا رہا ہو۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے اپنی خاص زبان میں کہا : ” جیسے دھرتی نے سب کو پکڑ لیا ، ایک بھی نہ اٹھا ، حضرت ! یہ کام تو بس یوں ہی چلے گا “ جن لوگوں کو یہ تجربہ ہوا ، اس تجربے نے انہیں کتنی قیمتی چیز عطا کی۔ اس نے انہیں اس لازوال حقیقت کا رازداں بنایا کہ یہاں ایک ایسا خزانہ بھی پوشیدہ ہے جس کا مالک بننے کے لیے ٹوٹے ہوئے دل اور بہتے ہوئے آنسوؤں کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ یہ ایسی طاقت ہے جو زمین کو ہلا دے اور پہاڑوں کو کھسکا دے۔ کو عظیم ترین ہتھیاروں سے مسلح کرتا ہے ، یہ بے علم افراد کو بڑے بڑے مدعیانِ علم سے مقابلہ کرنے کی ہمت عطا کرتا ہے۔ یہ وہ فیض ہے جس کو پا کر گونگے بولنے لگتے ہیں، اندھے دیکھنے لگتے ہیں اور لنگڑے چلنے لگتے یہ ہر تالے کی کنجی ہے اور ہر دروازے کو کھولنے والا ہے۔ اس کے ملنے سے وہ سرو سامان ملتا ہے کہ انتہائی انتہائی بے سروسامانی کے باوجود آدمی زندگی کے تمام مراحل کو پار کرتا چلا جائے ۔

اس طرح کے بے شمار تجربے ہیں جن سے تبلیغ کی تاریخ بھری ہوئی ہے اور اس نے تبلیغ کے افراد کو ایک ایسی ذہنی اور نفسیاتی طاقت دی ہے کہ وہ انتہائی مشکل حالات کے باوجود اقدام کرنے سے نہیں ہچکچاتے سخت ترین ماحول میں گھس کر کام کرنے سے ہراساں نہیں ہوتے۔ وہ دعا کو اپنے لیے عصائے موسیٰ سمجھتے ہیں۔

انہیں یقین ہے کہ یہ عصا انہیں کسی بھی مقام پر دھوکا نہیں دے سکتا۔

ہر شخص اور ہر قوم کو کسی ایسے سرے کی ضرورت ہے جس کے اوپر وہ اپنے اقدام اور استحکام کے لیے بھروسہ کر سکے اور جس کے اوپر اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ تمام لوگ ایسا سہارا فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کے جس سرچشمے سے عام طور پر لوگ واقف ہیں وہ صرف مادی سازوسامان ہے۔ لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ جدید ترین ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے بڑے بڑے کارخانے کھڑے کرو۔ بنکوں اور انشورنس کمپنیوں کے ذریعہ سارے ملک کی دولت اکٹھا کر لو۔ بموں اور ہوائی جہازوں سے اپنی فوجی چھاؤنیوں کو بھر دو۔ جبری فوجی ٹریننگ کے ذریعہ سارے ملک کو عظیم فوج میں تبدیل کر دو۔ خلائی سائنس کے محیر العقول کارنامے دکھا کر دنیا کے اوپر اپنا سکہ جما دو، ریڈیو، ٹیلی ویژن ہا پریس، اور ان تمام چیزوں کے مالک بن جاؤ جن کو آج طاقت و قوت سمجھا جاتا ہے ۔

گویا جن لوگوں کے پاس اس قسم کے سازوسامان فراہم کرنے کے حالات نہ ہوں، ان کے لیے اس دنیا میں کچھ نہیں ہے۔ مگر تبلیغی نظریہ آدمی کو طاقت کے ایسے خزانے سے آشنا کرتا ہے جس کے لیے ان میں سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ بلکہ صرف ایک ایسی چیز کی ضرورت ہے جو ہر آدمی کے پاس موجود رہتی ہے، خواہ وہ کسی حال میں ہو۔ اور وہ ہے آدمی کا دل ۔ اگر آدمی اپنے دل کو خدا کے آگے ڈال دے تو ساری کائنات اس کے قدموں کے نیچے آجائے گی ۔

یہ طاقت کا ایک ایسا ذریعہ ہے جس کو اقتصادی امداد روک کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ ناکہ بندی کر کے اسے مسدود کیا جا سکتا ہے۔ حتی کہ ٹینکوں کا مارچ اور ہوائی جہازوں کی بمباری بھی اسے فنا نہیں کر سکتی ۔ اور نہ اس قسم کی کوئی خبر اس کے لیے اندیشہ ناک ثابت ہو سکتی ہے کہ حریف نے زیادہ طاقتور قسم کا ہتھیار ایجاد کر لیا ہے ۔

جو نظریہ آدمی کو اتنی بڑی طاقت دیتا ہو، جو نہتوں کو سب سے زیادہ طاقت ور فوج میں تبدیل کر دینے والا ہو، اس کی کشور کشائی اور جہانگیری کا کیا ٹھکانا۔ اور تبلیغی کارکنوں کے وہ حیرت انگیز واقعات جو مغرب سے لے کر مشرق تک پیش آرہے ہیں، ثابت کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اس سرچشمے میں سے ایک حصہ عطا فرمایا ہے۔ مگر خدا کی یہ نعمت اپنی پوری شکل میں اس وقت ظاہر ہوگی جب پوری قوم اس راہ مولانا الیاس صاحب کو اس میں ذرا بھی شبہ نہیں تھا کہ اگر پوری قوم اس راہ پر آجائے تو خدا کی نصرت ان کے اوپر اس آخری اور انتہائی شکل میں ظاہر ہو سکتی ہے جب ایک بے حیثیت قوم اٹھ کر پوری دنیا کو زیر و زبر کر دے۔ جب کسی تار کے بغیر ان کے امیر کی آواز مدینہ سے نہاوند کی پہاڑیوں تک سنائی

، سمندروں اور جنگکوں میں شکار کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ ہانے ایک دوستی کا ہاتھ بڑھایا پھر اچھے جب سمندروں اور جنگلوں پر ان کا حکم چلنے لگے۔ جب قومیں ان کی باج گزار ہوں اور زمین میں ہر طرف ان کا جھنڈا لہرانے لگے۔ یہ سب ممکن ہے اور اس امکان کا سرا صرف اس واقعہ میں ہے کہ ہم "اللہ کو اپنائیں۔ نصرت قرآن میں یہاں "نصرت" بارے میں قرآن کا نظریہ بیان کرنا مناسب ہوگا۔ اللہ تعالی کی نصرت جو بندوں کو حاصل ہوتی ہے۔ اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ جس کو قرآن میں "حیات طیبہ" کہا گیا ہے اور دوسری وہ جس کے لیے استخلاف اور تمکین فی الارض کے الفاظ آئے ہیں۔ دونوں آیتیں حسب ذیل ہیں: من عمل صالحامن ذكر او انثى وهو مومن فلنحيينه حياة طيبة ولنجزينهم اجرهم باحسن ماكانوا يعملون (نحل - ۹۷)

دوسری آیت یہ ہے :

وعد الله الذين آمنوا منكم وعملوا الصالحات ليستخلفنهم في الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن لهم دينهم الذي ارتضى لهم وليبد لنهم من بعد خوفهم امنا يعبدونني لا يشركون بي شيئاً ۔

Printed page