Al-Risala · April 1985

نور - ۵۵

Al-Risala, April 1985, pp. 33–34

By Maulana Wahiduddin Khan

"حیات طیبہ" سے مراد ہے کہ شخصی طور پر ایک

جو نیک عمل کرے خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہو تو ہم اس کو حیات طیبہ کی زندگی دیں گے، اور ان کے عمل کا ان کو بہترین بدلہ دیں گے ۔ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے عملِ صالح کیا، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انہیں زمین میں اقتدار بخشے گا جس طرح پچھلوں کو اقتدار دیا تھا۔ اور ان کے لیے ان کے دین کو جما دے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے ۔

آدمی کو اچھی اور مستفی زندگی حاصل ہو۔ "حیاۃ طیبہ" سے مراد یہ ہے کہ شخصی طور پر ایک آدمی لو اچھی اور ستھری زندگی حاصل ہو۔ مفسر کے الفاظ میں اس اچھی اور ستھری زندگی کے اجزاء مثال کے طور پر یہ ہیں ــــــــ " دنیا میں حلال روزی، قناعت، غنائے قلبی ، سکون و طمانیت ، ذکر اللہ کی لذت ، حب الہی کا مزہ ، ادائے فرض عبودیت کی خوشی ، کامیاب مستقبل کا تصور ، تعلق مع اللہ کی حلاوت ، وغیرہ ۔ " یہ چیزیں جس کو ملتی ہیں اس کی زندگی تنگی اور فراخی ہر حال میں بہترین کیفیات سے مالا مال رہتی ہے ۔ دوسری چیز استخلاف اور تمکین ہے ۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی وہ نصرت ہے جو اجتماع اور معاشرہ زریں پیدا ہوتا ہے ۔ اور اس میں طرح طرح کے اوپر نازل ہوتی ہے ۔ ایک مفسر کے الفاظ میں : ” اس خیال کی بنیاد اس حقیقت پر کہ لوگ ایک ابو بکر صدیق رضہ عنہ کی یہ صورت ہے کہ ہر ایک کی زبان پر شکریہ جاری ہو لعین جلال الدین دعائم دھر کے کہ شکریہ سے خالی نہیں یہ خطاب فرمایا حضرت نے لوگوں کو۔ یعنی جو ان میں اعلیٰ درجے کے نیک اور رسول کے کے کامل متبع ہیں، رسول کے بعد ان کو زمین کی حکومت دے گا اور جو دین اسلام

خدا کو پسند ہے ان کے ہاتھوں سے دنیا میں اس کو قائم کرے گا۔ گویا جیسا کہ لفظ استخلاف میں اشارہ ہے ، وہ لوگ محض دنیوی بادشاہوں کی طرح نہ ہوں گے۔ بلکہ پیغمبر کے جانشین ہو کر آسمانی بادشاہت کا اعلان کریں گے ۔ اور دین حق کی بنیادیں جما دیں گے ۔ مسلمانوں کو کفار کا خوف مرعوب نہ کرے گا۔ وہ کامل امن و اطمینان کے ساتھ اپنے پروردگار کی عبادت میں مشغول رہیں گے ۔ اور دنیا میں امن وامان کا دور دورہ ہوگا ۔ ان مقبول و معزز بندوں کی ممتاز نشان یہ ہوگی کہ وہ خالص خدائے واحد کی بندگی کریں گے جس میں ذرہ برابر شرک کی آمیزش نہ ہوگی۔ صرف ایک خدا کے غلام ہوں گے ، اسی سے ڈریں گے ، اسی سے امید رکھیں گے ، اسی پر بھروسہ کریں گے۔ اسی کی رضا میں ان کا جینا اور کسی دوسری ہستی کا خوف وہراس ان کے پاس نہ پھٹکے گا۔ نہ کسی دوسرے کی خوشی ناخوشی کی پروا رکھیں گے “ ان دونوں آیتوں میں جس شخصی اور اجتماعی نعمت کا ذکر ہے ، ان کے دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف کی ہے اور دونوں میں ان کے استحقاق کی ایک ہی مشترک بنیاد بتائی گئی ہے ، اور وہ ہے — ایمان اور عمل صالح ۔ گو یا حیات طیبہ اور تمکین فی الارض کے حصول کا راز اللہ تعالیٰ کے حصول میں پوشیدہ ہے اگر ہم حقیقی معنوں میں مومن بن جائیں اور عمل صالح کی زندگی اختیار کریں تو وہ خدا جو مالک الملک ہے ، جو حالات کو کنٹرول کرتا ہے اور واقعات عالم کو الٹا پلٹتا رہتا ہے ، وہ ہمارے لیے ایسے اسباب و حالات پیدا کرے گا کہ ایک طرف ہم ذاتی طور پر دین کی حقیقت کو پالیں ، اور دوسری طرف اگر ہمارا ایمان اور عمل صالح اجتماعی سطح پر پہنچ جائے تو خدا کی نصرت پورے اجتماعی دائرے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی اور ہماری کوششیں ایسے موافق رخ اختیار کریں گی جن کے اجتماعی نتائج نکلنے لگیں ۔

مولانا الیاس صاحب کے نزدیک یہ نصرت کا تصور تبلیغ کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس سے مبلغ کو وہ قوت اور وہ سہارا حاصل ہوتا ہے کہ وہ ہر ماحول اور ہر قسم کے حالات میں دینی کام کا آغاز کر سکے اور ایک ناقابل شکست اعتماد کے ساتھ اپنے کام کو آخر تک جاری رکھے ۔ یہ ایک طرف مبلغ کی قوت ہے ، دوسری طرف وہ اس یقینی امید کا سرچشمہ بھی ہے کہ جس کے اوپر تبلیغ کی جا رہی ہے اس کا دل بھی خدا ہی کی مٹھی میں ہے اور وہ اس کو زیر کر کے رہے گا۔

Printed page