Al-Risala · April 1985

دل سے خطاب

Al-Risala, April 1985, pp. 34–38

By Maulana Wahiduddin Khan

اکتوبر ۱۹۳۱ء کا واقعہ ہے ۔ ڈاکٹر محمد اقبال اپنے لاہور کے مکان میں آرام کرسی پر نیم دراز ہیں۔

سامنے ہے اتنے میں ایک شخص داخل ہوتا ہے ۔ علیک سلیک اور رسمی مزاج پرسی کے بعد گفتگو شروع ہوتی ہے۔ " آپ ایک کتاب لکھیے ، " ڈاکٹر صاحب نے فرمایا ۔

" کیسی کتاب ، " نووارد نے پوچھا ۔

تحقیقات کرنے سے آپ کو معلوم ہوگا کہ ہندوستان کے قصبات اور دیہات میں ہزار ہا غیر مسلم حلقہ اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ۔ اگر کوئی شخص ان از خود مسلمان ہونے والوں سے ملے اور ان سے قبول اسلام کے اسباب دریافت کر کے ایک کتاب میں جمع کر دے تو اس سے تبلیغ اسلام کے مقصد کو بے حد تقویت حاصل ہوگی ۔

" کیا صداقت اسلام کے متعلق پہلے دلائل ناکافی ہیں ؟

" بہت کافی ہیں ۔ مگر ایسا کرنے سے کئی ایسے عجیب اور جدید دلائل آپ کو ملیں گے کہ دنیا حیرت زدہ رہ جائے گی ۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ دل اور دماغ کے کام کرنے کے طریقوں میں بہت فرق ہے ۔ اوقات ہزارہا مضبوط دلائل کو مسترد کر دیتا ہے اور ان کی کچھ بھی پروا نہیں کرتا ۔ لیکن دل اس کے برعکس بعض اوقات کمزور سے کمزور چیزوں سے اس قدر متاثر ہو جاتا ہے کہ صرف ایک ہی جھٹکے میں زندگی کا سارا نقشہ بدل جاتا ہے ۔ قبول اسلام کا تعلق جس قدر دل سے ہے ، دماغ سے نہیں ۔ اصل بات جو مبلغ کو معلوم ہونا چاہیے ، یہ ہے کہ وہ کون کون سے نشتر ہیں جن سے دل متاثر ہوا کرتے ہیں ۔ کفار اور مشرکین کے انقلاب حیات کی ہزارہا مثالیں تاریخ اسلام میں موجود ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنے حالات کے تحت ایک خیال یا ایک مذہب پر چٹان کی طرح قائم ہوتا ہے ۔ ناگہاں غیب سے اس کے دل پر ایک نشتر چلتا ہے اور چشم زدن میں اس کی زندگی کی تمام گزشته تاریخ بدل جاتی ہے ۔ صداقت اسلام کے قلبی دلائل تو آپ کے پاس بہت ہیں ۔ مگر عقلی دلائل کم ہیں ۔ اگر آپ نو مسلموں کے پاس جائیں تو وہ بتائیں گے کہ اسلام کی وہ کون سی بے ساختہ ادا تھی جو ان کے دل کو بھاگئی ۔ اگر ان کے بیانات ایک کتاب میں جمع کر دیئے جائیں تو مجھے یقین ہے کہ انقلاب حیات کی ایک بالکل نئی دنیا مبلغین کے سامنے آجائے گی اور انہیں اشاعت اسلام کے لیے ایسے نئے دلائل یا جدید ہتھیار مل جائیں گے جن سے اسلام کا موجودہ کتب خانہ خالی ہے ۔

اس کے بعد مثال کے طور پر چند واقعات بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر اقبال نے مزید کہا : " قبول اسلام میں اصل چیز دل ہے ۔ جب دل ایک تبدیلی پر رضامند ہو جاتا ہے اور کسی بات پر قرار پکڑ لیتا ہے تو پھر باقی تمام جسم اس کے سوا کچھ نہیں کرتا کہ وہ اس تبدیلی کی تائید کے لیے وقف ہو جائے ۔

ہمیں اسلام کے قدیم وجدید مبلغوں میں ایک واضح فرق نظر آتا ہے ۔ قدیم مبلغوں کا دار و غیرمسلموں کے دلوں پر ہوتا تھا۔ وہ اپنی للہیت ، بے نفسی ، خوش خلقی اور احسان ومروت کی جادو اثر اداؤں سے دلوں کو گرویدہ کرتے تھے۔ اور اس طرح ہزار ہا لوگ از خود بغیر کسی بحث وتکرار کے ان کے رنگ میں رنگ جاتے مگر جدید مبلغوں کا سارا زور دماغ کی تبدیلی پر صرف ہوتا ہے ۔ وہ صداقتِ اسلام پر ایک دلیل دیتے مقابلہ میں دوسری حجت غیر مسلم پیش کر دیتے ہیں ۔ اس پر بحث وتکرار شروع ہو جاتی ہے ۔ اپنی بات پر اڑ جاتا ہے ۔ غیر مسلم اپنے قول پر تن جاتا ہے ۔ اس سے ضد پیدا ہو جاتی ہے ۔ اور ہدایت ختم ہو جاتی ہے ۔

" مبلغینِ اسلام کو دلوں کو متاثر کرنے کے لیے نکلنا چاہیے یا دما غوں کے ؟ " ڈاکٹر اقبال نے مزید تفصیل کرتے ہوئے کہا۔ " اس کے فیصلے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم فطرت کی روش کی پیروی کریں۔ سے معلوم ہو گا کہ فطرت اپنی فتوحات حاصل کرنے کے لیے اپنا تعلق ہمیشہ دلوں سے جوڑتی ہے۔ کھانے میں لذت پیدا کرتی ہے اور آپ اسے بے اختیار کھا جاتے ہیں ۔ اس وقت ایک بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا ۔ کیا یہ کھانا طبی لحاظ سے مفید ہو گا ۔ آپ کہیں جا رہے ہوتے ہیں کہ ناگہاں پھولوں کی ایک خوشنما زمین اور لبِ جو کا ایک حسین نظارہ سامنے آجاتا ہے ، آپ وہاں بے اختیار بیٹھ جاتے ہیں ، وہیں ٹھنڈی ہوا کا ایک دلنواز جھونکا آتا ہے اور آپ کو میٹھی نیند سلا دیتا ہے ۔ اس وقت کوئی بھی شخص دماغ سے یہ نہیں پوچھتا کہ مجھے سونا چاہیے یا نہیں۔ مختصر یہ کہ فطرت ہر کام میں اسی طرح دلوں کو گرویدہ کرکے مطلب نکالتی وہ دماغوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتی۔ اسلام چونکہ سرمیںر نورِ فطرت ہے ۔ اس واسطے مبلغینِ اسلام کو چاہیے کہ اخلاق ومحبت کی گیرائیوں سے دلوں کو اس طرح شکار کریں کہ ان میں سرکشی اور انکار کی سکت ہی باقی نہ رہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مبلغِ اسلام ، اسلامی گیر کٹڑ کی عظمت کے مالک ہوں ۔ تاکہ سرکش سے سرکش آدمی بھی ان کے سامنے اپنی گردن جھکا دیں۔ باقی رہے دماغی مباحث اور عقلی تکرار ، تو اس سے نہ تو دل مطمئن ہو سکتے ہیں نہ منقلب ہو سکتے ہیں ۔ اور نہ فطرت رام ہو سکتی ہے ۔ شاید یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مولانا الیاس صاحب کی ذات اور ان کی پھیلائی ہوئی تبلیغ ، کم از کم مسلمانوں کے اندر۔ کام کی حد تک ، ڈاکٹر اقبال کے اسی خواب کی تعبیر ہے ۔ مولانا کی پوری زندگی اور تبلیغی تحریک کی پوری تاریخ اس طریقِ تبلیغ کی مثالوں سے بھری پڑی ہے اور اس کے حیرت انگیز نتائج بر آمد ہوئے ہیں۔ یہاں واقعات کو جمع کرنا مقصود نہیں ہے ۔ بس اصل مدعا کو واضح کرنے کے لیے صرف ایک مثال نقل کروں گا۔ ایک عربی مدرسہ کے کچھ طلبہ مولانا الیاس صاحب کے یہاں حاضری کے لیے نظام الدین گئے۔

میں ایک نہایت شریر طالب علم بھی تھا جس کو اس کے ساتھیوں نے کہہ سن کر وہاں جانے کے لیے راضی کیا تھا۔ جانے کو تو وہ طالب علم چلا گیا۔ مگر جب رات ہوئی اور لوگ سو گئے تو وہ کچھ ساتھیوں کو لے کر سینما دیکھنے کے لیے دہلی روانہ ہو گیا۔ ان لوگوں کو نظام الدین سے دہلی جانے کے لیے تو بس مل گئی مگر دوسرا شو دیکھ کر جب وہ فارغ ہوئے تو واپسی کے لیے کوئی بس نہیں تھی۔ مجبوراً رات کو یہ لوگ دہلی ہی میں رہ گئے۔ یہاں نظام الدین میں صبح کی نماز کے بعد حسب معمول جب مولانا الیاس صاحب وعظ کے لیے ممبر پر بیٹھے تو انہوں نے کہا۔ مدرسہ کے لوگ جو کل شام کو آئے ہیں وہ سب قریب آجائیں! اس وقت وہاں صرف دو طالب علم تھے ۔ مولانا نے کہا خیر انتظار کیجیے۔ وہ لوگ شاید ضروریات کے لیے کہیں گئے ہوں واپس آجائیں گے تو گفتگو شروع ہوگی۔ مگر وہ لوگ کافی دیر بعد نظام الدین پہنچے۔ اب ان کا معاملہ مشتبہ ہوگیا نیز بعض ذریعوں سے بھی معلوم ہو گیا کہ وہ لوگ سینما دیکھنے کے لیے دہلی گئے ہوئے تھے۔ اس وقت مذکورہ مدرسہ کے ناظم صاحب بھی نظام الدین میں موجود تھے۔ انہیں جب معلوم ہوا کہ طلبہ نے یہاں آکر اس قسم کی "بے ہودگی" کی ہے تو وہ سخت برہم ہوئے ۔ مذکورہ طالب علم کے بارے میں پہلے ہی سے ان کی رائے خراب تھی۔ کیونکہ وہ مدرسہ میں بری عادتوں کی وجہ سے کافی بد نام تھا ۔ وہ اس قدر ڈھیٹ ہو چکا تھا کہ ایک بار مدرسہ کی انجن کے لیے چندہ وصول کرنے گیا اور اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے ۲۰ ہزار روپے چندہ وصول کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ مگر روپیہ ملا تو اس نے پورے روپیہ کی ناولیں خرید ڈالیں اور ان کے پارسل انجن کے کتب خانہ کے نام روانہ کر دیئے ۔ یہاں جب ذمہ داران مدرسہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے بندھے ہوئے بنڈل بازار میں بھجوا دیئے اور انہیں ردی میں فروخت کرا دیا ۔

رات کے واقعہ کے بعد یہ سارے واقعات ناظم صاحب کے ذہن میں آگئے ۔ اس سے پہلے اس کو سمجھانے بجھانے کی ساری کوششیں نا کام ہو چکی تھیں۔ انہوں نے سوچا کہ اب یہ لڑکا نا قابلِ اصلاح ہو چکا ہے اور مدرسہ کو مزید بد نامی سے بچانے کے لیے اس کا فوراً اخراج ہونا چاہیے ۔ چنانچہ انہوں نے مدرسہ کے صدر مدرس کو خط لکھا کہ فلاں طالب علم نے یہاں آکر ہمارے مدرسہ کو سخت بد نام کیا ہے۔ ان کے نام فوراً مدرسہ سے خارج کر دیئے جائیں۔

ادھر جو صاحب اس طالب علم کو کہہ سن کر نظام الدین لائے تھے وہ پریشان ہوئے ۔ ان کی سمجھ میں آیا کہ مولانا الیاس صاحب سے یہ تمام بات کہہ دی جائے ۔ چنانچہ تنہائی میں حاضر ہو کر انہوں نے مولانا کو پورا واقعہ بتا دیا۔ مولانا نے کہا ٹھیک ہے ۔ فکر نہ کرو ۔ اللہ تعالیٰ سب درست فرمادے گا۔ اس کے بعد عصر کی نماز پڑھ کر جب شام کی مجلس ہوئی تو مولانا نے قلم کا غذا ورلفافہ منگوایا ۔

مدرسہ کے ناظم صاحب کو قریب بلا کر کہا کہ آپ کے مدرسہ کے صدر مدرس صاحب کے نام ایک خط میں املا کراتا ہوں اس کو لکھیے ۔ اس کے بعد انہیں کے ہاتھ سے اس مضمون کا خط لکھوایا کہ " آپ کے مدرسہ سے کچھ لڑکے میں ان سے بہت خوش ہوں ۔ وہ یہاں سے بہت کچھ لے کر جا رہے ہیں۔ میری خصوصی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ۔ اور آپ سے گزارش ہے کہ آپ ان سے اعزاز و اکرام کا معاملہ فرما ئیں ۔ اس کے بعد ناظم صاحب سے کہا کہ آپ بھی اس پر اپنی تصدیق لکھئے۔ ناظم صاحب نے خاموشی سے تصدیق لکھ دی ۔ کے بعد مولانا نے اپنے ہاتھ سے وہ خط لفافہ میں بند کر کے اپنے خاص آدمی کو دیا کہ جاؤ ڈاک میں

اس واقعہ کا اتنا زبردست اثر ہوا کہ مدرسہ کا سب سے زیادہ شریر طالب علم وہاں کا سب سے زیادہ شریف اور سنجیدہ طالب علم بن گیا ۔ اور تبلیغ کا باقاعدہ کارکن ہو گیا ۔ لوگ اس سے پوچھتے کہ تمہاری زندگی میں اتنا زبردست تغیر کیسے ہو گیا تو وہ صرف ایک جملہ کہتا ہے " مولانا الیاس نے مجھے چھین لیا" جس شخصیت کو مدرسہ کا علم اور ناظم کے اختیارات قابو میں نہیں لاسکے تھے ۔ اس کو اخلاق کی طاقت نے مسخر کر لیا ۔

اس طرح کے واقعات سے مولانا الیاس صاحب کی زندگی اور تبلیغی تحریک کی تاریخ بھری ہوئی ہے دعا اور محبت اخلاق اور خیر خواہی نے ہزاروں قلوب کو جیتنے میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی ہے ۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ تبلیغ کی زبان میں ایک عجیب خیری شان پیدا ہو گئی ہے ۔ آپ تبلیغ کے کسی بھی جلسے میں شریک ہو کر اس کے مقررین کی تقریریں سنیئے ۔ آپ محسوس کریں گے کہ یہاں ایک ایسی زبان استعمال ہو رہی ہے جو ساری تحریکوں سے جدا ہے ۔ اس زبان کے اجزا اور ہیں ۔ سادگی ، گھلاوٹ حقیقت رسی، فطرت سے قریب تر استدلال، روح کو مانوس کرنے والا انداز ، دل کو چھیدنے والے کلمات ، اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تبلیغ کے کارکن ، ڈاکٹر اقبال کے الفاظ میں ، دل کی راہ سے چلتے ہیں ۔ اس لیے خواہ ان کے یہاں عقلی ساز و سامان کم ہو مگر دل والی باتوں کی بہتات ہے اور یہ اس کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ۔

Printed page