پروگرام
Al-Risala, April 1985, pp. 38–47
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا الیاس صاحب نے اپنے کام کا جو ابتدائی خاکہ بنایا تھا ، اس کو وہ چھ نکات کی شکل میں بیان کرتے تھے :
کلمہ اسلام کو دلوں میں بٹھانا ۔
نماز کو اس کی حقیقی شکل میں قائم کرنا ۔
دین کا علم سیکھنا ۔
اکرام مسلم ۔
تفریغ وقت ۔ یعنی دنیوی مشاغل سے اپنے وقت کو فارغ کر کے جماعت کی شکل میں باہر نکلنا تصحیح نیت اور اخلاص واحتساب ۔
ان چھ نکات کو اگر مزید گھٹایا جائے تو اس کو تین پر تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ کلمہ توحید ، نماز اور تفریغ وقت بقیہ تینوں اجزاء در اصل انہیں چیزوں کے تقاضے ہیں جو ان کو صحیح طور پر اختیار کرنے کے بعد لازماً پیدا ان کو الگ سے بیان کرنا محض وضاحت کے لیے ہے نہ کہ تعین کے لیے۔ مولانا الیاس صاحب کے اس دعوتی پروگرام کی تشریح مختلف الفاظ میں بیان کی جا سکتی ہے۔ مولانا اس کو "حضور" کے طریقہ کو زندہ کرنے کی کوشش، " کا نام دینا پسند کرتے تھے اور اسی قسم کے الفاظ اور اصطلاحات میں اس کی وضاحت فرماتے تھے ۔ بلاشبہ یہ الفاظ آپ کی دعوت کو اس کی اصل حیثیت میں ظاہر کرنے کے لیے موزوں ترین بلکہ محبوب ترین ہیں ۔ لیکن وہ لوگ جو جدید انداز میں سوچتے ہیں اور جنہیں کسی بات کی صداقت کا اسی وقت پورا اطمینان ہوتا ہے جب وہ اس کی تعبیر نفسیاتی ، عمرانی یا فلسفیانہ الفاظ میں سن لیں ، ان کے ذوق کی رعایت سے بھی اس پروگرام کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے ۔ مولانا الیاس صاحب کی دعوت میں کلمہ توحید کو اولین اور بنیادی حیثیت حاصل ہے ۔ کلمہ توحید کیا ہے ۔ اس بات کا یقین کہ خدا ہی اس کائنات کا مرجع ومولیٰ ہے اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ شخص ہیں جن کے ذریعہ مکمل صداقت کا ظہور ہوا ہے ۔ ایک شخص جب لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کہتا ہے تو گویا وہ اپنی اس اندرونی کیفیت کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے اس یقین کو اپنے دل میں جگہ دی ہے ۔ اور پر روپیہ زندگی کے اس طریقہ پر آنے کا اعلان کر رہا ہے جو ایک طرف اس یقین کی بنیاد پر قائم ہوتی ہے کہ خدائی حقیقۂ وہ وجود ہے جو انسان کے جذبات اور امنگوں کا مرکز ہے اور وہی وہ ہستی ہے جس پر اس کو سارے معاملات میں بھروسہ اور اعتماد کرنا چاہیے اور دوسری طرف یہ اعلان گویا اس بات کا اظہار ہے کہ آدمی اس احساس سے سرشار ہے کہ وہ زندگی کا راستہ پا چکا ہے اور اسے معلوم ہو چکا ہے کہ سچائی کا سرچشمہ کیا ہے جس کی رہنمائی میں اسے اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے ۔
یہ یقین و اعتماد اور یہ شرح صدر ہی دراصل وہ چیز ہے جو سارے انقلابات کی بنیاد ہے۔
کے کسی بھی انقلاب کی تاریخ پڑھ لیجئے ۔ آپ کولے گا کہ اسی قسم کا احساس ــــ خواہ وہ باعتبار حقیقت صحیح یا غلط ــــ کچھ لوگوں میں پیدا ہو گیا تھا اور وہی بالآخر تحریک اور انقلاب کا سبب بنا۔ کا انقلاب ، کمیونزم کی کامیابیاں اور مختلف ملکوں میں قومی آزادی کی جدوجہد در اصل اسی قسم کے احساس کی بنیاد پر شروع ہوئی اور اسی کی بنیاد پر جیتی گئی۔ ابتدا میں ان میں سے کسی تحریک کے پاس نہ تو ہتھیار تھے نہ مال و دولت کی کثرت ، حتیٰ کہ آئندہ بننے والے نظام کا کوئی تفصیلی نقشہ بھی نہیں تھا۔ ان کا اول و آخر سرمایہ بس ایک تخیل تھا جوان کے دل و دماغ میں بسا ہوا تھا۔ اور وہ یہ کہ ان پر سیاسی، معاشی یا قومی "سچائی" کا انکشاف ہوا ہے۔ اس احساس نے ان کے دل و دماغ میں آگ لگادی ، ان کی قوتوں کو مجتمع کیا۔ مستقبل سے بے پروا ہو کر کے وقت کے خلاف کھڑا کردیا۔ اور انہیں ایک ایسی مجنونانہ جدوجہد میں لگا دیا جس کا آخری انجام صرف کامیابی ہو سکتا تھا۔
یہ اس یقین کا انجام تھا جو صرف جزئی نوعیت کا تھا اور جس کو ہم صحیح بھی نہیں سمجھتے ۔ پھر وہ یقین جو کلی صداقت کی بنیاد پر پیدا ہو اور جو فی الواقع صداقت ہو نہ کہ محض غلط فہمی سے صداقت سمجھ لیا گیا ہو، ایسی صداقت اگر دلوں میں اتر جائے اور ایسے دین کے لیے اگر جنون پیدا ہو جائے تو اس کا کیا انجام دوسری تحریکوں نے اگر کسی جزرائی خطہ یا زندگی کے کسی گوشہ کے لیے ذہن کو متحرک کیا ہے تو یہ عقیدہ سارے کرہ ارض کے لیے انسان کو بے تاب کر دینے والا ہے۔ دوسری تحریکوں کے افراد اگر ملک وبقوم کے نام پر توپوں کے دہانے کے آگئے کھڑے ہو گے تو وہ تحریک جس کے افراد مالک کائنات کے اعتماد پر اٹھے ہوں ان کے سیل رواں کو کون روک سکتا ہے۔ دوسری تحریک کے افراد اگر اپنے خود ساختہ تخیلات کی برتری سے لوگوں کو مرعوب کر سکتے تھے تو عالم کل اور خالق فطرت کے دیے ہوئے تصورات میں جہان گیری کی کیا کچھ طاقت ہوگی ۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا الیاس صاحب امت کو جو کلمہ دینا چاہتے تھے وہی دین کی اصل وہ اس زمین کی عظیم ترین طاقت ہے ۔ اس بنا پر اس تحریک کو کلمہ کی تحریک کہا جا سکتا ہے ۔ مگر ایسا کہنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہر تحریک جو بھی دنیا میں اٹھی ہے وہ ابتداءً کلمہ ہی کی تحریک تھی خواہ وہ انقلابی تحریک ہو یا غیر انقلابی تحریک ۔ اور خواہ اس کا کلمہ سیاسی کلمہ ہو یا معاشی کلمہ یا قومی کلمہ۔ پھر دینی کلمہ کی بنیاد پر اگر کوئی تحریک اٹھے تو اس کو محدود یا ناقص کس بنا پر کہا جا سکتا ہے، جب کہ دینی کلمہ سارے کلمات کا جامع ہے۔
مولانا کی دعوت کا دوسرا جز ر نماز ہے۔ عام طور پر لوگ نماز کی حقیقت اور اہمیت کو نہیں
جانتے اس لیے وہ اس کی واقعی عظمت کو نہیں سمجھ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرح کلمہ کو ذہنی طور پر بنیادی حیثیت حاصل ہے، اسی طرح نماز کا انسان کی عملی زندگی میں بنیادی مقام ہے۔ نماز اپنی اصلی اور اندرونی حقیقت کے اعتبار سے خدا کی طرف متوجہ ہونے اور اس سے حیاتی ربط قائم کرنے کا نام ہے۔ بندے کو اپنے رب سے اس طرح جوڑتی ہے کہ وہ گویا کہ اسے دیکھنے لگتا ہے اور اس سے اس کی سرگوشیاں جاری ہو جاتی ہیں۔ نماز وہ مقام ہے جہاں خدا اپنے بندوں سے ملاقات کرتا ہے۔ جب آدمی نماز کو اس کے سارے ارکان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک ادا کرتا ہے اور دل و دماغ کی پوری یکسوئی کے ساتھ اس میں مشغول ہوتا ہے تو وہ ایک اور ہی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کی روح ایک ایسے تجربہ سے دوچار ہوتی ہے جہاں عبدیت اور معبودیت کی حدیں ملنے لگتی ہیں۔ بندگی، خدائی کے جلوؤں میں نہا اٹھتی ہے۔ یہ تجربہ انسان کی شخصیت کو ایک نئی جلا دیتا ہے اور اس کو ایسی عجیب و غریب نعمتیں عطا کرتا ہے جس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ قرآن میں نماز کی حقیقت کی مکمل تفصیل ہے۔ یہاں میں مُنفراً چند کا ذکر کرتا ہوں۔
ان میں سے ایک چیز وہ ہے جس کو قرآن میں "خشوع" کہا گیا ہے۔ خشوع کے معنی ہیں فروتنی عاجزی اور جھکاؤ۔ نماز کی شکل میں آدمی جب خدا کے سامنے حاضر ہوتا ہے اور اس کو یاد کرتا ہے تو خدا کی خدائی اور اپنی بندگی کا احساس اس پر اس طرح طاری ہوتا ہے کہ اس کے اندر ایک قسم کی عاجزی اور فروتنی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے آپ کو ایک ایسا وجود سمجھنے لگتا ہے جو خدا کے سامنے ہمیشہ جھکا اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندر سے کبرا نکل جاتا ہے جو اکثر برائیوں کا سر چشمہ ہے۔ کے اوپر طاقت ور کا ظلم، ماتحت کے اوپر افسر کا بر سلوک، قانونی طور پر بہتر پوزیشن والے کا قانونی طور پر کمتر پوزیشن والے کو دبانا، صاحب اثر شخص کا بے اثر اشخاص کو خاطر میں نہ لانا، صاحب مال کا بے مال لوگوں سے بے اعتنائی برتنا، اکثریت کے افراد کا اقلیت کے افراد کو لوٹنا، غرض جب بھی کوئی زور آور آدمی بے زور افراد کو تختہ مشق بناتا ہے تو ایسی تمام صورتوں میں ہمیشہ کبر ہی اس کی خاص وجہ اگر کسی معاشرے کے افراد میں کبر کا خاتمہ ہو جائے تو بے شمار برائیوں کا خود بخود خاتمہ ہو جائے گا۔
نماز کا دوسرا فائدہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ۔ " وہ برائیوں اور بے حیائی کے کاموں سے روکتی نماز میں آدمی اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ وہ خدا کا بندہ ہے، وہ اس بات کا وعدہ کرتا ہے کہ وہ خدا کا تابعدار بن کر زندگی گزارے گا، وہ اس آنے والے دن کو یاد کرتا ہے جب اس کی زندگی
کا حساب ہوگا اور عذاب وثواب کی ترازو قائم کی جائے گی ۔ یہ سب باتیں اگر سچے دل سے ہوں تو زندگی کو بدل دینے کے لیے بالکل کافی ہے ۔
نماز کا ایک اور اہم ترین پہلو وہ ہے جس کو ''ذکر‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے خدا کی یاد سے دل کا معمور رہنا اس طرح نماز گویا اس بات کے لیے آدمی کو تیار کرتی ہے کہ اس کے دل ودماغ ان صحیح ترین خیالات سے بھرے رہیں جو حقیقۃً کسی کے ذہن وقلب میں ہونے چاہئیں ۔ یہ فکر اور جذبات کی لغتلا ترین تربیت ہے ۔
یہ نماز کے وہ نتائج ہیں جو نفسیاتی اور سماجی پہلو رکھتے ہیں اور جن کے اثرات معاشی، معاشرتی اور سیاسی زندگی میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ نماز کی اصلی حقیقت تو یہ ہے کہ بندہ خدا کے آگے اپنا سر رکھ دے اور اس کا دل کہہ رہا ہو ــــــــــ "خدایا میں تیرا ہو گیا ۔ تو بھی میرا ہو جا ۔ مولانا کی دعوت کا تیسرا جزو تفریغ وقت ہے ۔ اس کام کے لیے "چلہ ‘‘ کا لفظ سن کر بعض لوگوں کو تو حش ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ صرف ایک اعتباری مدت ہے جو تربیت اور دعوت کی اس دوگونہ مہم کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ تفریغ وقت دراصل اس حقیقت کا مظہر ہے کہ آدمی اپنے عقیدے میں اتنا بے تاب ہو چکا ہے کہ اس کے لیے اپنی مصروفیتوں کو چھوڑ کر گھر سے باہر نکل پڑا ہے۔ ایمان کے ساتھ تبلیغ کا سودا بھی اس کے سر میں سما گیا ہے ، وہ اپنے درد کو سارے عالم کا درد بنا دینا چاہتا ہے ۔ یہ کیفیت جب عملی شکل اختیار کرتی ہے تو تبلیغ کی اصطلاح میں اسی کا دوسرا نام وقت فارغ کرنا یا اس کی ایک مقرر مدت کا نام چلہ ہے ۔
مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے گشت اور تبلیغی سفر کے طریقے پر جو اس قدر زور دیا اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ اس کے اندر تبلیغی فائدوں کے علاوہ بہت سے تعلیمی تربیتی اور اصلاحی فائدے بھی چھپے ہوئے ہیں ۔ آدمی جب تبلیغ کی راہ میں دور دور کے سفر پر نکلتا ہے تو وہ دین سیکھتا ہے اپنی اخلاقی اصلاح کرتا ہے ، لوگوں کی حالت دیکھ کر اپنے اندر دینی کام کی اہمیت کا احساس پیدا کرتا ہے قربانیاں اور مشقتیں اس کے اندر وہ سوز اور تڑپ پیدا کرتی ہیں جس کے بعد ایک طرف وہ دین داری کی حقیقی لذت سے آشنا ہوتا ہے اور دوسری طرف اس کی زبان سے نکلے ہوئے تبلیغی کلمات میں جان پڑ جاتی ہے ۔
لوگوں کو باہر نکالنا مولانا الیاس صاحب کے دینی طریق کار کی جان ہے ۔ کیونکہ اس کے ذریعے سے یہ موقع ملتا ہے کہ لوگوں کو ان کے ماحول سے نکال کر ایک دینی ماحول میں پہنچایا جائے اور اس کے
بعد ان کے اوپر تبلیغ کی جائے تاکہ وہ خالی الذہن ہو کر دین کی باتیں سنیں اور مختلف ماحول میں جاکر اس کا اثر زائل کرنے کے بجائے مسلسل اس سے اثر لیتے رہیں۔ یہ طریقہ عملی طور پر کافی مفید ثابت ہوا ہے اور اس کے ایسے نتائج نکلے ہیں کہ وہ لوگ جنہوں نے قریب سے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی وہ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔
تبلیغ کے لیے نکلنا ، حدیث کے الفاظ میں ، اپنے قدموں کو دین کی راہ میں گرد آلود کرنا ہے ۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو قدم دین کی راہ میں گرد آلود ہوں ، ان کو دوزخ کی آگ کبھی نہ چھوئے گی۔ میں بعض آدمی یہ کرتب دکھاتے ہیں کہ وہ آگ کے الاؤ میں مجسم کو دپڑتے ہیں اور ان پر آگ کا کچھ اثر نہیں یہ لوگ اپنے جسم پر خاص طرح کی مالش کر لیتے ہیں ۔ اس مالش کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ آگ انہیں چھو نہیں سکتی۔ اسی طرح دین کی راہ کی گرد وہ چیز ہے جو دوزخ کی آگ کو بے اثر کر دینے والی ہے جس کے اوپر یہ گرد پڑ گئی وہ گویا دوزخ کی آگ سے محفوظ ہو گیا ۔
یہ غلط فہمی نہ ہو کہ مولانا الیاس صاحب یا ان کے پیروؤں کے نزدیک تبلیغ کا گشت بذات خود وہ چیز ہے جس سے لازمی طور پر یہ نتیجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اس سے مراد کسی خاص گروہ کا گشت نہیں بلکہ دین کا گشت ہے۔ کسی کا گشت اسی وقت اس حدیث کا مصداق بنے گا جب کہ وہ حقیقتاً دین کا گشت ہو ، اور جتنا زیادہ وہ دین کے لیے ہوگا اتنا ہی زیادہ اس کا مصداق ہوگا اور دین سے اس کا تعلق جتنا کم ہوگا اتنا ہی اس کا مصداق ہونا مشتبہ ہوتا چلا جائے گا۔ کسی خاص گروہ سے نسبت اس کو حدیث کا مصداق نہیں بنا سکتی۔
مولانا الیاس صاحب نے ایک مرتبہ فرمایا :
" ہمارے طریقی کار میں دین کے واسطے جماعتوں کی شکل میں گھروں سے دور نکلنے کو بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ اس کا خاص فائدہ یہ ہے کہ آدمی اس کے ذریعہ اپنے دائمی اور جامد ماحول سے نکل کر ایک نئے صالح اور متحرک ماحول میں آجاتا ہے۔ جس میں اس کے دینی جذبات کے نشو و نما کا بہت کچھ سامان ہوتا ہے ۔ نیز اس سفر و ہجرت کی وجہ سے جو طرح طرح کی تکلیفیں مشقتیں پیش آتی ہیں اور در بدر پھرنے میں جو ذلتیں اللہ کے لئے برداشت کرنی ہوتی ہیں ان کی وجہ سے اللہ کی رحمت خاص طور سے متوجہ ہو جاتی ہے " مولانا الیاس صاحب نے اپنے زمانہ میں تبلیغ کا کام جس ڈھنگ سے چلایا تھا، اس کے متعلق
مولانا فرماتے تھے کہ ـــــ " یہ تبلیغ کی الف ب ہے " اس کا مطلب یہ میں ہے کہ الف ب کوئی اور چیز ہوتی ہے اور د۔ ی کوئی دوسری چیز۔ حقیقت یہ ہے کہ جو الف۔ ب ہے وہی د۔ ی بھی ہے۔ مگر جن لوگوں کی نگاہیں ظواہر پر ہوتی ہیں اور جو لوگ حقائق کا ان کی گہرائیوں کے ساتھ مشاہدہ نہیں کرسکتے، ان کو بتانا پڑتا ہے کہ قطرہ کس طرح پھیل کر بحر بیکراں بنتا ہے۔ قطرہ ہی کا دوسرا نام بحر بیکراں مگر عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ قطرہ کوئی دوسری چیز ہے اور بحر بے کراں کوئی اور چیز۔ مولانا الیاس صاحب کے اس قول کو اس مثال کی روشنی میں سمجھا جاسکتا ہے جیسے کوئی ڈرائیور اسٹیم تیار کر رہا ہو۔ اور وہ کہے کہ یہ تو میرے کام کی الف ب ہے۔ اسٹیم تیار کرنا ایک لحاظ سے کام کی الف ہے اور ایک لحاظ سے وہی سارا کام ہے۔ کیونکہ اسٹیم کے بغیر نہ انجن چل سکتا ہے اور نہ گاڑی حرکت میں آسکتی ہے۔ صرف یہی نہیں کہ اسٹیم کے بغیر کوئی انجن اپنی منزل پر نہیں پہنچ سکتا بلکہ اس کے بغیر دو قدم چلنا بھی اس کے لیے ناممکن ہے۔
کام کے دو طریقے ہیں ۔ ایک یہ کہ پہلے ہی دن از اول تا آخر کام کا پورا خاکہ بنا لیا جائے۔ طریقہ یہ ہے کہ اس اصل بنیاد کو پکڑ لیا جائے جو دوسرے تمام اجزاء کے لیے اساس کی حیثیت رکھتی ہے۔ طریقہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کا ہے اور دوسرا تحریک کا ۔ پارلیمنٹ کا اصول اگر تحریک کے لیے اختیار کیا جائے تو اس سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کے ساتھ اسی اصول کے تحت معاملہ کیا کہ آغازِ نبوت میں دین کی صرف بنیادی باتوں کی تعلیم دی گئی اور لمبی مدت تک اسی پر سارا زور دیا جاتا رہا۔ اس کے بعد جیسے جیسے حالات آگے بڑھتے گئے، بقیہ چیزیں نازل کی جاتی رہیں ۔
اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اصل اساس مضبوط ہو جاتی ہے ۔ اور اساس کی مضبوطی کے بغیر کوئی بھی عمارت کھڑی نہیں کی جاسکتی ۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلامی عقیدہ کی رو سے ہر کام کی توفیق خدا ہی سے ملتی ہے ۔ ذاتی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ، ان پر عمل کرنے نہیں آدمی اسی وقت کامیاب ہوتا ہے جب اس کے ساتھ خدا کی توفیق بھی شامل حال ہو جائے ۔
مولانا الیاس صاحب نے ایک مرتبہ اس سوال پر کلام کرتے ہوئے کہ " مسلمانوں کو حکومت و اقتدار کیوں نہیں بخشا جاتا " فرمایا :
" اللہ کے احکام اور اوامر و نواہی کی حفاظت و رعایت ، نہ کہ تم اپنی ذات اور اپنی منزلی زندگی میں نہیں کر رہے ہو (جس پر تمہیں اختیار حاصل ہے اور کوئی مجبوری نہیں ہے )
تو دنیا کا نظم و نسق کیسے تمہارے حوالے کر دیا جائے۔ ایمان والوں کو حکومت ارضی دینے سے تو منشاء الہی یہی ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی مرضیات اور اس احکام کو دنیا میں نافذ کریں تو تم جب اپنے حدود اختیار میں آج یہ نہیں کر رہے ہو تو دنیا کی حکومت تمہارے سپرد کر کے کل کے لیے تم سے اس کی کیا امید کی جا سکتی ہے۔ تبلیغ میں قلم ایک نیاز مند سے (جن کو مولانا کے تبلیغی کام سے بھی تعلق تھا اور اس کے علاوہ تحریر و تصنیف ان کا خاص مشغلہ تھا) ایک دن مولانا نے فرمایا۔ " میں اب تک اس کو پسند نہیں کرتا تھا کہ اس تبلیغی کام کے سلسلے میں کچھ زیادہ لکھا پڑھا جائے اور تحریر کے ذریعہ اس کی دعوت دی جائے۔ اس کو منع کرتا رہا۔ لیکن اب میں کہتا ہوں کہ لکھا جائے اور تم بھی خوب لکھو۔ مگر یہاں کے فلاں فلاں کام کرنے والوں کو میری یہ بات پہنچا کر ان کی رائے بھی لے لو۔ چنانچہ ان نامزد حضرات کو مولانا کی بات پہنچا کر مشورہ طلب کیا گیا۔ ان صاحبان نے اپنی رائے کے یہ ظاہر کی کہ اس بارے میں اب تک جو طرز عمل رہا ہے، وہی اب بھی رہے ۔ ہمارے نزدیک یہی بہتر ہے۔
اس کے بعد مولانا کو یہ بات پہنچائی گئی۔ مولانا نے دوبارہ فرمایا۔ " ہم پہلے بالکل کسمپرسی کی حالت میں تھے۔ کوئی ہماری بات سنتا نہیں تھا۔ اور کسی کی سمجھ میں ہماری بات آتی نہیں تھی۔ وقت یہی ضروری تھا کہ ہم خود ہی چل پھر لوگوں میں پہلے طلب پیدا کریں۔ اور عمل سے اپنی بات سمجھائیں۔ اس وقت اگر تحریر کے ذریعے عام دعوت دی جاتی تو لوگ کچھ کا کچھ سمجھتے۔ اور اپنے سمجھنے کے مطابق ہی رائے قائم کرتے اور اگر بات کچھ دل کو لگتی تو اپنی سمجھ کے مطابق کچھ سیدھی کچھ الٹی اس کی عملی تشکیل کرتے اور پھر جب نتائج غلط نکلتے تو ہماری ایکم کو ناقص کہتے۔ اس لیے ہم یہ بہتر نہیں سمجھتے تھے کہ لوگوں کے پاس تحریر کے ذریعہ ہماری دعوت پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی مدد سے اب حالات بدل چکے ہیں۔ ہماری بہت سی جماعتیں ملک کے اطراف میں نکل کر کام کا طریقہ دکھلا چکی اور اب لوگ ہمارے کام کے طالب بن کر خود ہمارے پاس آتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم کو اتنے آدمی دے دیئے ہیں کہ اگر مختلف اطراف میں طلب پیدا ہو اور کام سکھانے کے لیے جماعتوں کی ضرورت ہو تو جماعتیں بھیجی جاسکتی ہیں۔ تو اب ان حالات میں بھی کس پرسی والے ابتدائی زمانہ ہی کے طریقہ کار کے ہر ہر جز پر جمے رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ تحریر کے ذریعے بھی دعوت دینی چاہیے“۔ بعض مواقع پر مولانا نے اس کا بھی اظہار فرمایا کہ اس وقت جس قسم کے کارکن ہمارے گرد جمع ہیں
اس کے مطابق کام ہو رہا ہے ، اور دوسری دوسری صلاحیتوں والے لوگ آئیں تو کام میں مزید
قلم کے ذریعہ کے بارے میں مولانا کے جو خیالات تھے ، ان کو غالباً حسب ذیل طور پر بیان کیا جا سکتا ہے ۔
کوئی تحریک جب نئی نئی شروع ہوتی ہے تو ایک اہم مسئلہ اس کے صحیح تعارف کا ہوتا ہے اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ داعی کی زبان بذات خود زیادہ سے زیادہ تعارف کا ذریعہ بنے۔ وقت آتا ہے جب دعوت ساری فضا میں گونج اٹھتی ہے اور اس کی صد سے سارا ماحول آشنا ہو جاتا اس وقت غلط تعارف کا اندیشہ بہت کم ہو جاتا ہے ۔ کچھ الفاظ اصطلاح عام بن کر لوگوں کے ذہنوں میں جگہ حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس وقت مقرر یا محرر کے الفاظ ہی دعوت کے تعارف کا کام نہیں کرتے بلکہ ان کے ساتھ سننے والے کا اپنا وہ ذہن بھی شامل ہو جاتا ہے جو پہلے سے اس دعوت کے بارے میں ایک تعارف سے آشنا ہو چکا ہے۔ جب کوئی تحریک اس دوسرے مرحلہ پر پہنچ جائے تو ان ابتدائی تحفظات کی ضرورت نہیں رہتی جو دعوت کے آغاز میں ضروری سمجھے گئے تھے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ ہر تحریک کے لیے کام کرنے کے سیکڑوں پہلو ہوتے ہیں۔ مگر عملی طور پر تحریک انھیں کاموں میں حصہ لیتی ہے جس کے لیے اس کے پاس کارکن موجود ہوں ۔ ایسا کام جس کے لیے کارکن ہی حاصل نہ ہوں اس کو چھیڑنے سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ مولانا الیاس صاحب کا کام ابتداً جس نقشہ کے مطابق چلا ، ایک لحاظ سے اگر چہ اس کی اہمیت یہ تھی کہ وہ بنیادی اور اصلی کام تھا ، مگر اس کے ظاہری ڈھانچہ میں اس واقعہ کا بھی دخل تھا کہ اس وقت جس نوعیت کے کارکن فراہم ہوئے وہ اسی ڈھنگ سے کام کو چلا سکتے تھے ۔ اب اگر تحریک کو پھیلاؤ حاصل ہو جائے تو کام میں بھی اسی نسبت سے پھیلاؤ ہو جائے گا جیسا کہ کارکنوں کی اقسام میں پھیلاؤ ہوا ہے ۔
مولانا نے ایک مرتبہ بہت قیمتی بات فرمائی ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک طریقہ دین کی عمومی تعلیم و تربیت کا ہے ۔ اور دوسرا طریقہ وہ ہے جو ” ضرورت حادثہ “ کے تحت پیدا ہوتا ہے ۔ پہلا جو طریقہ ہے وہی دور نبوت میں ملتا ہے اور عمومی تعلیم و تربیت اسی طریقہ پر ہونی چاہیے ۔ دوسرا طریقہ حالات و ماحول کی غایت سے پیدا ہوتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں پہلے طریقہ میں دوامی قدر ہے اور دوسرے طریقہ میں زمانی قدر ۔
مولانا کے اسی ملفوظ کی روشنی میں ہم تصنیف و اشاعت کے کام کے بارے میں ان کے نقطہ نظر
کو سمجھ سکتے ہیں ۔ موجودہ زمانے میں تصنیف و تالیف کی بے حد اہمیت ہو گئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج علمی سطح پر جو مسائل چھیڑتے ہوئے ہیں ان کو صحیح طور پر کتابی شکل ہی میں ایک دوسرے کے سامنے لایا جا سکتا ہے ۔ دورِ عباسیہ میں یونانی علوم کی اشاعت سے اسلام کے لیے بہت سے ذہنی مسائل پیدا ہوئے جن کے جواب کے لیے علم کلام ایجاد ہوا اور علماء نے قلم کے ذریعہ ان کا جواب دیا۔ دورِ جدید میں افکار و خیالات کا ایک نیا سیلاب امڈ آیا ہے جو مختلف پہلوؤں سے اسلام کو چیلنج کر رہا ہے ۔ ہمیں اسلام کی طرف سے اس کا جواب فراہم کرنا ہے ۔ جہاں تک میرا خیال ہے مولانا الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کا فکر اس کام کی اہمیت کو پوری طرح تسلیم کرتا ہے ۔ البتہ ان کے الفاظ میں اس کام کو ضرورتِ حادثہ کے تحت پیدا شدہ کام سمجھنا چاہئے نہ کہ اس کو اصلی اور عمومی کام سمجھ لیا جائے ۔
اسی طرح ضرورتِ حادثہ کی اور بہت سی اقسام ہو سکتی ہیں مگر سب کا استقصار یہاں مقصود نہیں ۔ ( ۱۳۸۶ ھ )