Al-Risala · January 1985

کہانی بن گئی

Al-Risala, January 1985, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

سرونسٹن چرچل جو بعد کو برطانیہ کے وزیر اعظم بنے، افریقہ کے بوئروں کی جنگ (۱۸۹۹) میں برطانوی اخبار مارننگ پوسٹ کے جنگی نامہ نگار تھے۔ اس دوران ایک واقعہ پیش آیا جس کو جنوبی افریقہ کے سابق وزیر اعظم جان کرپین سمٹس نے چرچل کے عروج کے زمانہ میں سنایا۔ وہ چرچل کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس (واشنگٹن) کے ڈنر کے موقع پر تقریر کر رہے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ بوئر وار کے دوران مسٹر چرچل برطانوی سپاہیوں کے ایک دستے کے ساتھ بوئروں کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ بوئروں نے سپاہی اور اخباری نامہ نگار میں کوئی تمیز نہیں انھوں نے سب کو ایک ساتھ جیل میں ڈال دیا۔

مسٹر چرچل نے جیل سے اس واقعہ کی رپورٹ مجھے بھیجی اور اپنی فوری رہائی پر زور دیا۔ بین الاقوامی رواج کے مطابق اخباری رپورٹر کو قید نہیں کیا جا سکتا۔ میں نے اس خط پر کارروائی شروع کی مگر اس سے پہلے کہ اس کیس کا فیصلہ ہو مسٹر چرچل کسی نہ کسی طرح جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اس واقعہ کے کافی عرصہ بعد میری ملاقات مسٹر چرچل سے ہوئی جو اس وقت برطانوی کابینہ کے رکن تھے ۔ میں نے وہ واقعہ یاد دلایا تو مسٹر چرچل بولے : آپ نے اچھا کیا کہ میرے خط پر میری درخواست کے باوجود فوری کارروائی نہ کی۔ اگر آپ جلدی میں میری رہائی کا انتظام کرا دیتے تو میرا نو ہزار پونڈ کا نقصان ہو جاتا۔ " وہ کہنے " میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ " وہ اس طرح کہ میں نے اپنی جیل سے فرار ہونے کی داستان ایک رسالہ کے لئے لکھ کر نو ہزار پونڈ میں فروخت کیا ؛ مسٹر چرچل اگر آسانی سے رہا ہو جاتے تو یہ واقعہ ایک سادہ واقعہ ہوتا وہ کہانی نہ بنتا۔ اور اس کے بعد جیل سے فرار نے اس کو کہانی بنا دیا۔

خط وکتابت میں ہمیشہ اپنا پورا پتہ لکھیں ۔

ہمیشہ اپنا خریداری نمبر یا اپنی نمبر تحریر فرمائیں۔

Printed page