یہ انسان
Al-Risala, January 1985, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگوں کو دیکھئے وہ یا "ملت" کے مسائل پر باتیں کرتے ہوئے ملیں گے یا زیادہ سے زیادہ دین کے ظاہری پہلوؤں پر۔ دین کے معنوی پہلوؤں پر بات کرنے والا کوئی نظر نہیں اس کی وجہ شاید انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صرف دکھائی دینے والی چیزوں میں اپنی توجہ جو چیز دکھائی نہ دے اس میں توجہ لگانا اس کے لئے مذہب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔ ماضی میں بھی اور آج بھی انسان ان چیزوں کو اپنا معبود بناتا ہے جو اس کو دکھائی دیتی ہیں اور جو چیز دکھائی نہیں دیتی، اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کس طرح اس کو اپنا معبود بنائے۔ وہ ان کاموں میں با آسانی مشغول ہو جاتا ہے جو دکھائی دیں مگر جو کام بنطاہر دکھائی نہ دیتے ہوں ان میں مشغول ہو نا وہ نہیں۔ جو چیز محسوس طور پر سامنے موجود ہو اس کی اہمیت کو وہ خوب جان لیتا ہے مگر جو چیز محسوس طور پر اس کے سامنے موجود نہ ہو اس کو وہ اس طرح نظر انداز کر دیتا ہے جیسے وہ اس کو جانتا ہی نہیں۔ یہ ظاہر پرستی ہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ اس کمزوری کا آخری اظہار تو وہ ہے جس کو شرک کہا جاتا ہے۔ نیز اس کمزوری کا یہ نتیجہ بھی ہے کہ آدمی دین پر ایمان لانے کے باوجود دین ترقی نہیں کرتا۔
مشرک وہ ہے جو نہ دکھائی دینے والے خدا کو مانتے ہوئے کچھ دکھائی دینے والی چیزوں کو بھی خدا ملحد وہ ہے جو یہ کہہ کر سرے سے کسی خدا کا انکار کر دے کہ وہ اس کو دکھائی نہیں دیتا یہ گمراہی کی زیادہ سنگین قسمیں ہیں۔
مگر یہاں ایک اور چیز ہے جو اپنے انجام کے اعتبار سے کم اہم نہیں۔ وہ ہے ایمان کے باوجود ایمان کا بے اثر رہنا۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب آدمی خدا پر ایمان لائے مگر وہ خدا کو دیکھ نہ سکے۔ خدا کو تو مانے مگر اس نے گہرائی کے ساتھ اس کا ادراک نہ کیا ہو۔ وہ خدا کا معتقد ہو مگر محسوسات سے بلند ہو کر وہ خدا کو اپنا مرکز توجہ نہ بنا سکے مزید یہ کہ غیر محسوس خدا کو نہ پا نا گو یا چھپی ہوئی معنویت کو نہ پانا ہے ایسا شخص انہیں انسانوں کو پہچان بناتا ہے جو اسے گر د ظاہری پالت اور کاغذ پر بھر کر کے ہے ہوں، جو انسان اور انسان تصور کا کا جو دان کے لیے ہو نے
| اسکتوبر سن ۱۹۹ کو اندرا گاندھی کا قتل ہوا۔ لوگوں کو جب معلوم ہوا کہ قتل کا یہ واقعہ وزیر اعظم | کے حفاظتی دستہ کے دو سکھ جوانوں نے لیا ہے تو سکھ فرقہ کے خلاف تشدد پھوٹ پڑا۔ یکم نومبر اور ۲ نومبر کی درمیانی | شب میں راقم الحروف دہلی (نظام الدین) میں اپنے مکان میں لیٹا ہوا تھا کہ گیارہ بجے رات کو ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ | ایک صاحب بتا رہے تھے کہ دہلی کے پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے، اس لئے نل کا پانی استعمال نہ کیا جائے ۔ | منٹ بعد دوبارہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ایک اور صاحب نے یہی خبر سنائی ۔ کچھ دیر بعد دروازہ کی گھنٹی نے متوجہ باہر نکلا تو سڑک پر کئی نوجوان اس خبر کو بتانے کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔ کچھ دیر کے بعد پھر ایک وفد نے | دروازہ لا کر یہی خبر سنائی۔ جلد ہی بعد نظام الدین بستی کی مسجدوں میں لگے ہوئے لاؤڈ اسپیکر گونجے | اور مسلسل یہ اعلان کیا جانے لگا کہ جب علیٰ نے کہا ہے کہ پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ آپ لوگ نلوں کا پانی بالکل | استعمال نہ کریں۔
| تقریبا دو گھنٹے تک ان خبروں اور اعلانات کا ہنگامہ لوگوں کی نیند کو درہم برہم کرتا رہا۔ | خبر ملتے ہی ہم نے فوری طور پر یہ کیا کہ ریڈیو کھولا اور بارہ بجے رات اور ایک بجے رات کو دہلی ریڈیولا | سے نشر ہونے والا پروگرام سنا۔ دونوں بار ریڈیو نے واضح لفظوں میں بتایا کہ یہ افواہ بالکل غلط ہے کہ | پانی میں زہر ملا دیا گیا ہے۔ سرکاری طور پر با قاعدہ پانی کا ٹسٹ لیا گیا ہے اور مکمل طور پر درست پایا گیا ہے۔ | اس کے بعد ہم نے دہلی پولس کو نمبر : پر ٹیلی فون کیا۔ انھوں نے بھی کہا کہ پانی میں زہر ملانے کی افواہ سراسر | غلط ہے۔ پانی بالکل ٹھیک حالت میں ہے ۔ جانچ کے بعد اس میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی ۔ | ۲ نومبر کی صبح کو اخبارات دیکھے تو پہلے ہی صفحہ پر دہلی میونسپل کمشنر شری پی پی سری واستو | کا یہ بیان موجود تھا کہ دہلی میں نل کا پانی بالکل صحیح ہے۔ اس کا بار بار ٹسٹ کیا گیا ہے اور کسی | طرح کی زہریلی آمیزش اس میں نہیں پائی گئی ۔ انھوں نے مزید کہا کہ ۳۱ اکتوبر ہی سے پانی کے | تمام واٹر اسٹیشن پلانٹ پر سخت حفاظتی پہرہ بٹھا دیا گیا ہے۔
| سماجی زندگی میں اکثر بگا ڑ صرف اس لئے پیدا ہوتے ہیں کہ لوگ ایک خبر سنتے ہیں اور بلا تحقیق اس | کے پیچھے دوڑ پڑتے ہیں۔ اگر اسلام کے حکم کے مطابق خبروں کی تحقیق کی جانے لگے تو اکثر جھگڑے اور فساد | پیدا ہونے سے پہلے ختم ہو جائیں۔