اپنی پہچان
Al-Risala, May 1985, pp. 15–16
By Maulana Wahiduddin Khan
ہر انسان خدا کی ایک منصوبہ بندی ہے۔ ہر انسان کی پیدائش انسان اور اس کے خدا کے درمیان ایک خاموش عہد ہے۔ اسی عہد میں انسان کی ساری قیمت چھپی ہوئی ہے۔ ہر انسان کو خدا نے کچھ خاص صلاحیتیں دی ہیں اور ہر آدمی نے خاموش زبان میں یہ اقرار کیا ہے کہ وہ دنیا میں اس خاص کام کو انجام دے گا جس کے لئے اس کے خدا نے اس کو پیدا کیا اور جس کے مطابق اسے خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ جو انسان ایسا کرے اس نے گویا خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کی ۔ جو شخص ایسا نہ کرے وہ خدا کے نقشہ تخلیق میں اپنی جگہ حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
اس بات کو یہاں اصحاب رسول کی مثال سے واضح کیا جاتا ہے۔
صحابہ کرام میں ایک حضرت ابو ہریرہ تھے اور دوسرے خالد بن الولید۔ حضرت ابو ہریرہ کی روایات کی تعداد ۵۳۷۴ تک شمار کی گئی ہے۔ جب کہ حضرت خالد کی روایات کی تعداد ایک سو سے بھی کم ہے۔ یہ فرق بظاہر عجیب معلوم ہوتا ہے۔ مگر اس فرق کی وجہ خدمت اسلام کے میدان کا فرق تھا نہ کہ خود اسلام کا۔
حضرت ابو ہریرہ بھی ایک مخلص مسلمان تھے اور حضرت خالد بھی ایک مخلص مسلمان ۔ فطری صلاحیت کے اعتبار سے دونوں کے درمیان فرق تھا۔ انہوں نے کامل شعور کے ساتھ اس فرق کو پہچانا اور اس پر عمل کیا۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے اپنے لئے خدمت اسلام کا ایک میدان منتخب کر لیا اور حضرت خالد نے اپنی صلاحیت کے لحاظ سے
حضرت خالد کہتے ہیں کہ میں جب بھی رسول اللہ صلی اللہ کے خلاف کسی مہم میں نکلتا تو ہمیشہ یہ احساس لے کر واپس آتا کہ میں اپنے آپ کو وہ ہاں لگاتے ہوئے ہوں جہاں مجھ کو نہیں لگانا چاہئے (لغی موضع فی غیر شئی) ، یہ احساس انھیں ستاتا رہا یہاں تک کہ وہ فتح مکہ سے کچھ پہلے مدینہ آئے اور اسلام قبول کر لیا۔
حضرت خالد فطری طور پر انتہائی بہادر آدمی تھے۔ انھوں نے اپنی اس خصوصیت کو جانا اور اس کے موقع استعمال کا ادراک کیا۔ انھوں نے شعوری طور پر اس کو دریافت کیا کہ اسلامی خدمت
کے وسیع میدان میں وہ کیا خاص حصہ ادا کر سکتے ہیں۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی خدا داد بہادرانہ صلاحیت کو شرک کے استیصال اور توحید کے قیام کے محاذ پر لگا دیں ۔ چنانچہ وہ اسلامی فوج میں
وہ ساری عمر اسی راہ میں سرگرم عمل رہے۔ وہ خدا سے اپنے لئے قوت اور استقامت کی دعا کرتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی درخواست کرتے کہ وہ آپ کے لئے اس کی دعا انھوں نے اپنی ساری زندگی اسلامی جہاد میں صرف کر دی ۔ حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا کہ خالد اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں جس کو خدا نے مشرکین کے خلاف نکالا ہے (سیف من سيوف الله سلّه الله على المشركين)
دوسری مثال حضرت ابو ہریرہ کی ہے۔ حضرت ابو ہریرہ کے اندر حضرت خالد والی صلاحیتیں نہیں تھیں ۔ البتہ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے اندر حافظہہ کی قوت عام لوگوں سے زیادہ انھوں نے اپنی اس صلاحیت کو دین کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا۔
روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے لئے دعا فرمائیے کہ خدا مجھے وہ علم دے جس کو میں فراموش نہ کر سکوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر آمین کہا اور حضرت ابو ہریرہ کے حق میں یادداشت کی دعا فرمائی ۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت ابو ہریرہ کی غیر معمولی قوت حافظ اسی پیغمبرانہ دعا کا نتیجہ ہے۔ مگر نفسیاتی اعتبار سے دیکھئے تو یہ دراصل خود حضرت ابو ہریرہ کی اپنی تڑپ کا اظہار تھا۔ یہ دو طرفہ واقعہ تھا نہ کہ محض یک طرفہ۔ حضرت ابو ہریرہ نے اپنی خدا داد امتیازی صلاحیت کو پہچانا۔ اس کی حفاظت اور ترقی کی دعائیں کیں ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس کے لئے دعا کرائی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرانا در اصل خود اپنی دعا کا ایک تسلسل تھا۔ اس طرح دعاؤں کے سائے میں وہ اپنی استعداد کے مطابق اپنے ممکن میدان میں ہمہ تن لگ گئے ۔ وہ برابر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی باتوں کو پوری توجہ کے ساتھ سنتے۔ اس کو ذہن میں محفوظ رکھتے نیز حسب ضرورت اسے اسی معرفت خویش کا یہ نتیجہ ہے کہ حضرت ابو ہریرہ اسلامی تاریخ میں وہ شخص قرار پائے جن کے ذریعہ اگلی نسلوں کو پیغمبر اسلام کی حدیثیں سب سے زیادہ تعداد میں پہنچی ہیں۔ ہر آدمی کی سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو پہچانے۔ اپنے آپ کو جان کر وہ اپنے لئے بھی زیادہ مفید بن سکتا ہے اور دین کے لئے بھی۔