بے قیمت الفاظ
Al-Risala, May 1985, p. 24
By Maulana Wahiduddin Khan
ہمارے قائدین اپنی تقریروں اور تحریروں میں ہر روز مسلمانوں کو بتاتے رہتے ہیں کہ مسلمان وہ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ :
مسلمان متحد ہو جائیں مسلمان اس ملک کی اخلاقی قیادت کریں مسلمان خیر امت کا کردار ادا کریں یہ مشورے یقیناً بہت اچھے مشورے ہیں مگر وہ سادہ معنوں محض مشورے نہیں ہیں۔ وہ عظیم ترین قربانی کے مطالبہ ہیں۔ آدمی قربانی کی قیمت پر ہی ان مشوروں پر قائم ہو سکتا ہے۔ متحد ہونے کی قیمت ہے اختلاف کے باوجود متحد ہونا۔ اخلاقی قیادت کی قیمت ہے تلخیوں کے باوجود اخلاق پر قائم رہنا۔ کا کردار ادا کرنے کی قیمت ہے شکایتوں کے باوجود لوگوں کا خیر خواہ ہونا۔ یہ سب اعلیٰ ظرفی کی باتیں ہیں اور اعلیٰ ظرفی کا یہ معیار وہ ہے جس پر خود مشورہ دینے والے قائدین بھی پورے نہیں اترتے۔ پھر وہ عوام اعلیٰ ظرفی کے اس معیار پر کیسے پورے اتریں گے۔ تقریر و تحریر کی صورت میں یہ قیمتی مشورے دیئے جارہے ہیں۔ ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ مشورے کی بھی ایک قیمت ہے۔ اور وہ ہے آدمی کا اول المسلمین ہونا یعنی مشورہ دینے والا خود اس اصول پر قائم ہو جس کا مشورہ وہ دوسروں کو دیئے جا رہا ہے۔ ایک ایسا مشورہ جس کی قیمت ادا نہ کی گئی ہو سراسر لاحاصل ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہ مشورہ دینے والے کے حصہ میں آتا ہے اور نہ اس کے حصہ میں جس کو مشورہ دیا گیا ہے۔
جو لوگ اختلاف کے وقت بے برداشت ہو جاتے ہیں۔ جو شکایت پیدا ہوتے ہی آدمی کے دشمن بن جاتے ہیں۔ جن کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے مداحوں کے لئے با اخلاق ہیں اور اپنے ناقدین کے لئے بے وہی لوگ دوسروں کو اتحاد اور اعلیٰ کردار کا مشورہ دے رہے ہیں۔
اس قسم کا مشورہ دینے والے قائدین پر حضرت مسیح کے وہ الفاظ صادق آتے ہیں جو آنجناب نے یہودی پیشواؤں کے بارہ میں فرمائے تھے :
" اے شرع کے عالمو، تم پر افسوس کہ تم ایسے بوجھ جن کو اٹھانا مشکل ہے۔ پر لادتے ہو اور آپ ایک انگلی بھی ان بوجھوں کو نہیں لگاتے (لوقا ۱۱: ۴۶ )