مذہب کی طرف واپسی
Al-Risala, May 1985, pp. 27–28
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے ٹائم میگزین (۸ اپریل ۱۹۶۶) کی کور اسٹوری (خصوصی مضمون) کا عنوان تھا ”کیا خدا مر چکا ہے“۔ یہ ۲۰ سال پہلے کی بات تھی۔ اب خود مغربی دنیا میں ایسی کتابیں اور مضامین مسلسل شائع ہو رہے ہیں جن کا عنوان اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ماہنامہ اسپان (دسمبر ۱۹۸۸) میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے۔ اس کی سرخی کے الفاظ یہ ہیں ”مذہب کی طرف واپسی“ یہ رپورٹ الرسالہ کے انگریزی ایڈیشن میں نقل کی جا رہی ہے۔ اس کا خلاصہ یہاں مقابل کے صفحہ پر درج ہے۔ اس کے مطابق امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں میں مختصر وقفہ کے بعد مذہب از سر نو زندہ ہو رہا ہے۔ کالجوں میں دینیات کی کلاس جو پہلے خالی رہتی تھی اب بھری چرچ اور سیلیکاگ (یہودی عبادت خانہ) میں جانے والوں کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی مذہبی لٹریچر پڑھنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ مذہب کے نام پر کانفرنسیں کثرت سے منعقد کی جارہی ہیں۔ ایک پروفیسر کے الفاظ میں، یہاں مذہب میں دلچسپی کا حیرت ناک احیاء ہوا ہے۔
ایک مغربی دانشور جس نے ۱۹۶۵ میں ”سیکولر شہر“ نامی کتاب میں بتایا تھا کہ لوگوں نے مقدس چیزوں میں اپنی دلچسپی کھودی ہے، اب وہ اپنی دوسری کتاب ”سیکولر دنیا میں مذہب“ میں دکھا رہا ہے کہ مذہب میں لوگوں کی دلچسپی از سر نو بحال ہوگئی ہے۔ دانشور طبقہ جو عرصہ سے شک کی بنا پر مذہب کو نظر انداز کئے ہوئے تھا وہ مذہب کی طرف دوبارہ دیکھنے لگا ہے۔ ڈینیل بل نے لکھا ہے کہ ۱۸ ویں صدی کے آخر سے لے کر ۱۹ ویں صدی کے نصف تک تقریباًہر ترقی پسند مفکر یہ خیال کرتا تھا کہ مذہب ۲۰ ویں صدی میں ختم ہو جائے گا۔ یہ عقیدہ عقل کی طاقت کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ نظریہ یہ تھا کہ انسان اپنے دماغ سے اپنے مسائل کو حل کر لے گا اور اس کے بعد مذہب اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ہم نے تکنالوجی کے ذریعہ غیر معمولی طاقت فطرت کے اوپر حاصل کر لی۔ اس کے باوجود ۲۰ ویں صدی غالباً انسانی تاریخ کی سب سے بھیانک صدی ہے۔
چونکہ انسان کے سیکولر خدا ناکام ہو گئے ہیں، وہ روایتی خدا کی طرف زیادہ سے زیادہ دیکھنے
ایک پروفیسر کے الفاظ میں روایت دوبارہ مثبت قوت کے ساتھ ایجنڈا پر آ گئی ہے۔ مذہب کی طرف یہ واپسی حقیقۃٔ فطرت کی طرف واپسی ہے۔ یعنی اس خدا کی طرف واپسی جس کا احساس اس کی فطرت میں پیوست ہے نہ کہ اس خدا کی طرف جس کی نمائندگی وہ اپنے موروثی مذہب میں پا رہا ہے۔
ہارورڈلا اسکول کے پروفیسر آلن ڈر شووٹز (۲۵) نے کہا کہ یہ بڑی عجیب چیز ہے کہ میری نسل مذہب کی طرف واپس آئے۔ ہم وہ نسل ہیں جس کو ہر قسم کی آزادی اور ہر طرح کی چھوٹ حاصل تھی۔ مگر، ہمیں یہ تجربہ ہوا کہ اس آزادی کی کوئی جڑ نہیں۔ یہی بے جڑ ہونے کا احساس ہے جو اکثر دانشوروں کو دوبارہ مذہب کی طرف لایا ہے۔ ایک دوسرے پروفیسر سرکولس نے کہا کہ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں خدا میں عقیدہ رکھتا ہوں۔ میں روحانیت کی تلاش میں ہوں نہ کہ کسی خاص مذہب کو ماننے والا۔
میری زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جبکہ میں ٹھہر جاتا ہوں اور خدا کو پکارنے لگتا ہوں ۔ لیکن اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ وہ خدا کون ہے اور اس کی صورت کیا ہے تو میں تردد میں پڑ جاؤں گا۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں انتشار ذہنی کا شکار ہوں۔ اگرچہ میں نہیں چاہتا کہ ذہنی انتشار میری زندگی پر پوری طرح چھا جائے ۔