تبصرہ
Al-Risala, May 1985, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ صورت حال جو غیر مسلم اقوام میں پیدا ہوئی ہے یہی خود مسلمانوں میں بھی پیدا ہوئی ہے ۔ زمانہ میں مسلمانوں کے اندر بھی دین کی طرف از سرِ نو رجوع پیدا ہوا ہے۔ مگر اس رجوع کا تعلق کسی عہد ساز مفکر یا کسی خدا رسیدہ بزرگ سے نہیں ہے۔ یہ تمام تر ایک زمانی مظہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہر قوم میں یکساں طور پر پیدا ہوا ہے ۔ مسلمان ، ہندو ، سکھ ، عیسائی ، یہودی ، بدھسٹ وغیرہ سب کے یہاں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس میں ایک مذہب اور دوسرے مذہب کا کوئی فرق نہیں۔ اس نئی صورت حال کی وجہ مغربی انسان کی وہ مایوسی ہے جو اس کو موجودہ صدی میں پیش آرہی بیسویں صدی عقلیت اور سائنس کی صدی تھی۔ جدید انسان کو یقین ہو گیا تھا کہ وہ اپنی عقل اور اپنی سائنس سے وہ سب کچھ حاصل کرلے گا جس کی امید پہلے صرف مذہب سے کی جاتی تھی۔ کی امیدیں پوری نہیں ہوئیں ۔ انسان کی عقلیت نے اس کو صرف بے یقینی تک پہنچایا اور اس کی سائنس ایٹمی جنگ کا سیاہ بادل بن کر اس کے سر پر منڈلانے لگی۔ چوں کہ لوگوں کے سیکولر خدا ناکام ہو گئے۔
لئے لوگوں نے روایتی خدا کی طرف زیادہ توجہ کے ساتھ دیکھنا شروع کر دیا۔ اس طرح موجودہ صورت حال نے ہمارے لئے ایک نیا امکان کھولا ہے۔ اس نے خدا کے محفوظ دین (اسلام) کی تبلیغ و اشاعت کا ایک نیا موافق میدان پیدا کر دیا ہے۔ آج کا انسان خدا اور مذہب کی تلاش میں نکلا ہے۔ مگر یہ تمام تر فطرت کے زور پر ہے۔ موجودہ مذاہب تحریف ہو جانے کی بنا پر اس کی تلاش کا حقیقی جواب نہیں ہیں۔ یہاں ضرورت ہے کہ اس کو بتایا جائے کہ جس مذہب کی تمہیں تلاش ہے وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین میں موجود ہے۔ اسلام اسی مذہب کا غیر محرف ایڈیشن ہے جس کو تم محرف مذاہب میں ناکام طور پر تلاش کر رہے ہو ۔
دنیا کے موجودہ حالات دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے لوگوں کو لاکر اپنی رحمت کے دروازہ پر کھڑا کر دیا ہے۔ وہ لوگوں کو مجبور کر کے انھیں دین حق میں داخل کرنا چاہتا ہے۔ ہے کہ آسمان سے لوگوں کی ہدایت اتر چکی ہے۔ اب یہ ہمارا کام ہے کہ ہم حق کو طالبان حق تک