حضرت جی
Al-Risala, May 1985, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
۲ اپریل ۱۹۶۵ء کی شب کو تین بجے ایک ہوائی جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ اس میں ایک مسافر تھا جو لاہور سے دہلی لایا گیا تھا۔ مسافر کی آمد ٹھیک اپنے پروگرام کے مطابق ہوئی۔ طرح کہ اس کا جسم تو دہلی آیا اور روح اپنے رب کے پاس ابدی آرام کے لیے پہنچ چکی تھی۔ یہ مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ تھے جنہیں تبلیغ کے لوگ عام طور پر "حضرت جی" وہ فروری ۱۹۶۵ء کے دوسرے ہفتہ میں براستہ لاہور ڈھاکہ کے اجتماع میں شرکت کے لیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں سابق مشرقی پاکستان کے مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے دوبارہ مغربی پاکستان واپس آئے اور یہاں بھی مختلف شہروں میں ان کا بہت مصروف پروگرام رہا۔ سفر کی آخری منزل لاہور تھی۔ وہاں کے اجتماعات کی کارروائیوں میں بھی مکمل شرکت کی۔ بعد ۴ اپریل کو جمعہ کے دن بذریعہ ٹرین سہارن پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے کہ اسی دن اچانک قلب کا حملہ ہوا اور ۲ بجے دن میں انتقال ہو گیا۔ انتقال کے بعد جنازہ رات کو لاہور سے دہلی لایا گیا۔
مولانا محمد یوسف صاحب ۲ مارچ ۱۹۱۷ء کو پیدا ہوئے۔ اپنے والد مرحوم مولانا محمد الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ۱۲ جولائی ۱۹۴۴ء کو تبلیغ کا کام سنبھالا اور اکیس سال تک برابر اسی کام میں لگے رہے۔ اس مختصر مدت میں اتنی زبردست کامیابی حاصل کی کہ وہ تحریک جو ”میوات کے ان پڑھ مسلمانوں کو کلمہ و نماز سکھانے کی تحریک کے نام سے مشہور تھی اس کو پہلے ملکی اور پھر ایک بین اقوامی تحریک بنا دیا اور ہر طبقہ اور ہر ذہنی سطح کے لوگوں کو اس کثرت سے متاثر کیا کہ ایک بزرگ کے الفاظ میں ” اس کی نظیر قریب کی پچھلی صدیوں میں مشکل سے ملے گی ۔
مولانا محمد منظور نعمانی صاحب راوی ہیں کہ مولانا محمد الیاس صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی
بجنور، چاند پور اور رام پور جیسے قریبی مقامات کے یہ دس دس آدمیوں کی جماعتیں بھی نہیں بن سکی تھیں۔ کئی آدمی ترغیب دلانے میں مصروف تھے اور اپنا پورا زور لگا رہے تھے مگر ناموں میں بالکل اضافہ نہیں ہو رہا تھا مولانا یوسف صاحب جو تقریر کرنے کے بعد مسجد کے اندرونی حصے میں چلے گئے تھے۔ لوگوں کی سرد مہری دیکھ کر یکایک اٹھے اور مائیکروفون ہاتھ میں لے کر فرمانا شروع کیا کہ " آج تم بجنور ، چاند پور، رام پور جیسے قریبی مقامات کے لیے اور صرف تین تین دن کا وقت دینے کے لیے تیار نہیں ہو رہے ہو، ایک وقت آئے گا جب تم شام جاؤ گے، مصر جاؤ گے، عراق جاؤ گے۔ مگر اس وقت اجر گھٹ جائے گا۔ وقت اس کا عام رواج ہو چکا ہوگا"۔ مولانا محمد یوسف کی یہ بات جو ۱۹۴۵ ء میں ایک خیالی بات معلوم ہوتی تھی، آج واقعہ بن چکی ہے۔ تبلیغی جماعتوں کی نقل و حرکت آج نہ صرف شام و عرب بلکہ یورپ، جاپان، امریکہ، افریقہ اور اقصائے مشرق سے اقصائے مغرب تک پھیلی ہوئی ہے۔ یہ کہنا شاید مبالغہ ہوگا کہ رات دن کا کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب تبلیغی جماعت کے وفود دنیا کے مختلف حصوں میں گشت نہ کر رہے ہوں۔