Al-Risala · May 1985

دعوت میں انہماک

Al-Risala, May 1985, pp. 31–37

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا محمد یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کو جن لوگوں نے بھی قریب سے دیکھا ہے اور ایسے لوگ بلا شبہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ہیں) وہ جانتے ہیں کہ مولانا کو اپنی دعوت میں کس قدر انہماک تھا۔ ایک صاحب جو لاہور میں نمازِ فجر کے بعد مولانا کی ایک تقریر میں شریک تھے، فرماتے ہیں کہ نماز کے بعد مولانا نے تقریر شروع کی اور پورے تین گھنٹے تک انتہائی جوش و خروش کے ساتھ مجمع کو خطاب کرتے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی لاوا پھوٹ پڑا ہے اور ماحول کو گرمات نہیں بلکہ پگھلائے جارہا ۸ بجے خطاب ختم ہوا اور ناشتہ کا دسترخوان بچھا یا گیا ۔ مولانا نے دسر خوان پر بیٹھتے ہی پھر گفتگو شروع فرما دی اور اس انداز سے الفاظ زبان سے نکلنے لگے کہ گفتگو کے زور، استدلال کی ندرت اور مطالب کی آمد کو دیکھ کر کوئی شخص یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ یہ وہی شخص ہے جو ابھی تین گھنٹے کے زور دار خطاب سے فارغ ہوا ہے ایسا محسوس ہوتا تھا اگ بالکل تازہ دم

خطیب ہے جو بول رہا ہے۔

یہ ناشتہ کی مجلس تھی۔ مگر مولانا اپنی دعوت کی وضاحت میں اس قدر مستغرق تھے کہ انہوں نے ناشتہ کی جانب کوئی توجہ نہیں کی۔ ایک رفیق نے چائے کی پیالی پیش کی تو آپ نے پکڑ لی۔ منٹ تک وہ یونہی پیالی ہاتھ میں پکڑے رہے اور پھر ایک شریک مجلس کے توجہ دلانے پر آپ نے وہ چائے جواب پانی کی طرح ٹھنڈی ہو چکی تھی، حلق میں انڈیل لی۔ دوسری پیالی یہ کہہ کر پیش کی گئی کہ حضرت یہ گرم ہے، پی لیجئے اور یہ بسکٹ بھی تناول فرمائیے۔ مگر اللہ کے اس بندے نے اس پیالی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا۔ گفتگو میں مستغرق رہے اور ۱۰-۱۵ منٹ بعد اسے بھی پانی کی طرح پی لیا۔

اس کے بعد اٹھے اور ایک دوسرے اجتماع میں تقریر کے لیے تشریف لے گئے۔ اور یہ پہلے سے معلوم تھا کہ دوپہر سے قبل ایک تیسرا خطاب بھی کرنا ہے۔ یہ کوئی استثنائی واقعہ نہیں ہے۔ بلکہ یہی آپ کی روزانہ کی زندگی تھی۔

مولانا کے ایک رفیق خاص راوی ہیں :

” میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ وہ تقریر شروع فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ اور مراقب ہوتے تھے اور اس کے بعد تقریر شروع فرماتے تھے اور پھر ان کو خود اپنی خبر نہیں رہتی اب سے ۸-۱۰ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ بھوپال میں اجتماع تھا۔ ان دنوں حضرت مولانا مرحوم کی ران میں ایک بہت بڑا زخم تھا جس کا حال یہ تھا کہ حرکت کرنے سے اور زور سے تقریر کرنے سے اس میں خون جاری ہو جاتا تھا۔ مولانا اسی حال میں بھوپال تشریف لائے اور اپنی عادت کے مطابق اجتماع میں تقریریں بھی فرمائیں۔ زخم کی تکلیف کافی بڑھ گئی۔ بھوپال سے فارغ ہونے کے بعد وہاں سے ۵۰ میل کے فاصلہ پر ایک اور اجتماع طے تھا۔ حضرت مولانا وہاں بھی تشریف لے گئے۔ لیکن طے یہ ہوا کہ یہاں مولانا تقریر نہیں فرمائیں گے۔ بلکہ فلاں ساتھی کی تقریر مگر ساتھی کی تقریر کے بعد مولانا کو احساس ہوا کہ دعوت، ، قوت کے ساتھ نہیں دی جاسکی تو اپنے اندرونی جذبے سے مغلوب ہو کر خود تقریر کے لیے اصرار فرمایا۔ حالت یہ تھی کہ بیٹھنے کے لائق چنانچہ لیٹ کر بولنا شروع کیا۔ ادھر زخم کی یہ حالت ہوئی کہ اس میں سے خون جاری ایک کپڑا لگا دیا جاتا۔ جب وہ بالکل تر بتر ہو جاتا تو دوسرا کپڑا لگا دیا جاتا۔ کئی کپڑے خون سے بھر گئے۔ اور مولانا نے عادت کے مطابق پوری تقریر فرمائی۔ اندازہ ہے کہ

اس تقریر کے دوران غالباً آدھا سیر خون مولانا کے جسم سے نکل گیا ہوگا مگر اللہ کے اس بندے کو کچھ پتہ نہ تھا کہ کیا ہو رہا ہے"۔

گھر کے لوگ، خاص طور پر بیوی کو جتنی خبر کسی شخص کی ہوتی ہے، اتنی دوسروں کو نہیں ہو سکتی۔ مولانا کی اہلیہ جواب مرحومہ ہو چکی ہیں دق کی مریض تھیں۔ اور آخر میں حالت کافی خراب مگر مولانا کے اوقات میں ان کا حصہ بہت کم ہوتا تھا۔ یہ دیکھ کر ایک صاحب نے اپنی بیوی کو مولانا کی اہلیہ کے پاس بھیجا اور یہ بھی ہدایت کر دی کہ اس بارے میں تم ان سے اس طرح کی جذباتی باتیں کرنا کہ ان کے دل کی بات زبان پر آجائے اور اگر مولانا سے انہیں کوئی شکایت ہو تو ظاہر چنانچہ راوی موصوف کی اہلیہ نے مرحومہ سے بات کی۔ ان کا بیان ہے کہ انہوں نے مولانا کی طرف سے خود مدافعت کی اور کہا کہ وہ دن رات دین کی فکر اور دین کے کام میں لگے رہتے ہیں، انہیں اپنا بھی ہوش نہیں ہے۔ میں نے خود ہی ان سے کہہ دیا ہے آپ میری فکر نہ بالکل کریں دوا علاج ہو ہی رہا ہے۔ اگر اللہ نے جنت میں جمع فرما دیا تو وہاں اطمینان سے رہنے کا موقع ملے گا۔ چند مہینوں کے بعد اسی مرض میں خاص نماز کی حالت میں مرحومہ کا انتقال ہو گیا۔ آپ کی دعوت یہ تڑپ اور لگن کس کام کے لیے تھی۔ صرف اس لیے کہ لوگوں کے اندر دین کا صحیح تصور آجائے اور زندگیاں اس کے مطابق چل پڑیں۔ مولانا کے نزدیک ایمان کا مطلب ایک لفظ میں یہ تھا کہ اللہ سے سب کچھ ہوتا ہے ، چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا" ایک

کام یہ ہے کہ کام کرنے والے کا اس ذات پر یقین قائم ہو جائے جس کے کرنے سے کام ہو گا ۔ اللہ جل جلالہ کی ذات پر، اور اس کی حیثیت کام کرنے والے پر ایسی منکشف ہو کہ اپنی ذات اور کوئی دوسری ذات دکھائی نہ دے۔ دوسرا یقین یہ ہو کہ جب میں ظاہر و باطن سے حضور کے طریقوں پر آ جاؤں گا تو رب العزت دنیا و آخرت میں اچھے حالات لائے گا۔

ایک تقریر میں فرمایا :

محنت کے دو میدان ہیں۔ ایک زمین اور زمین سے پیدا ہونے والی چیزیں۔ ایمان اور ایمان والے اعمال ۔ پہلی محنت کا معاوضہ دنیا میں ملتا ہے۔ لیکن ایسا نہیں ملتا کہ محنت کرنے والے اس پر خوش اور مطمئن ہوں ۔ دوسری محنت کا معاوضہ دنیا و آخرت میں اللہ تعالیٰ

تڑ دیتا ہے۔ تم جن کو بڑی طاقتیں کہتے ہو، خدا کے نزدیک ان کی حیثیت مکڑی کے جالے کے برابر بھی نہیں ہے۔ اس دنیا میں پاکیزہ انسانوں کے نہ ہونے کی وجہ سے مکڑیوں کے بڑے بڑے جالے لگ گئے تھے، جب حضور کی سعی سے پاکیزہ انسان بن گئے تو خدا نے عذاب کی ایک جھاڑو سے روم و فارس کے جالے صاف کر دیئے تھے۔ بالکل یہی صورت روس اور امریکہ کی ہوگی “ ایک طویل مکتوب کے چند فقرے یہ ہیں:

”اللہ نے انسانوں کی تمام کامیابیوں کا دار و مدار انسان کے اندرونی مایہ پر رکھا ہے۔ کامیابی اور ناکامی انسان کے اندر کے حال کا نام ہے ..... اللہ جل شانہ ملک و مال کے ساتھ انسان کو ذلیل کر کے دکھا دیں اور فقر کے نقشہ میں عزت دے کر دکھا دیں۔ انسان کے اندر کا یقین اور اندر سے نکلنے والے عمل اگر ٹھیک ہوں گے تو اللہ جل شانہ کامیابی کی حالت پیدا فرما دیں گے خواہ چیزوں کا نقشہ کتنا ہی پست کیوں نہ ہو۔ ..... جو کچھ قدرت سے بنا ہے وہ قدرت کے ماتحت ہے .... ہر شکل پر خواہ ملک کی ہو یا مال کی، برق کی ہو یا بھاپ کی، ان کا ہی قبضہ ہے اور وہ ہی تصرف فرماتے ہیں۔ جہاں سے انسان کو تعمیر نظر آتی ہے وہاں سے تخریب لا کر دکھا دیں اور جہاں سے تخریب نظر آتی ہے وہاں سے تعمیر لا کر کے دکھا دیں۔ .... اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی سے تعلق پیدا ہو جائے اور ان کی قدرت سے براہِ راست استفادہ ہو، اس کے لیے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی طرف سے طریقے لے کر آتے ہیں۔ جب ان کے طریقے زندگیوں میں آئیں گے تو اللہ جل شانہ ہر نقشے میں کامیابی دے کر دکھائیں گے ..... آج امت میں کسی حد تک انفرادی اعمال کا رواج ہے گو ان کی حقیقت نکلی ہوئی ہے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے طفیل پوری امت کو دعوت و والی محنت ملی تھی اس کے بندوں کا تعلق اللہ جل شانہ سے قائم ہو جائے۔ اس کے لیے انبیاء علیہم السلام والے طرز پر اپنی جان و مال کو جھونک دینا اور جن میں محنت کر رہے ہیں ان سے کسی چیز کا طالب نہ بننا، اس کے لیے ہجرت بھی کرنا اور نفرت بھی کرنا ..... اس راستے میں محنت کرنے والوں

کی دعائیں بنی اسرائیل کے انبیاء علیہم السلام کی دعاؤں کی طرح قبول ہوتی ہیں یعنی جس طرح ان کی دعاؤں پر اللہ جل شانہ نے ظواہر کے خلاف قدرت کو استعمال فرما کر ان کو کامیاب فرمایا اور باطل خاکوں کو توڑ دیا اسی طرح اس محنت کرنے والوں کی دعاؤں پر اللہ جل شانہ ظواہر کے خلاف اپنی قدرت کے مظاہر سے فرمائیں گے۔ اور اگر عالمی بنیاد پر محنت کی گئی تو تمام اہل عالم کے قلوب میں ان کی محنت کے اثر سے تبدیلیاں لائیں گے۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ چیزوں میں سے چیزیں نکل رہی ہیں اور چیزوں میں سے اثرات و خواص ظاہر ہورہے ہیں“ مگر مولانا کے نزدیک انبیاء کے ذریعہ جو حقیقت انسانوں پر کھولی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جو کچھ چیزوں سے بنتا ہوا اور ظاہر ہوتا ہو انظر آتا ہے، یہ چیزوں سے نہیں بنتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور امر سے بنتا ہے ؛ اگر یہ حقیقت ذہنوں میں پوری طرح بیٹھ جائے تو مولانا کے الفاظ میں بازار کے نقشوں سے اساس زندگی ہٹ کر دعاؤں پر آجاتی ہے اور بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل مرحلہ خداوند قدوس کی قدرت کاملہ سے آسان سے آسان بن جاتا ہے۔ “ مولانا کی تقریریں جن لوگوں نے سنی ہیں وہ جانتے ہیں کہ مولانا کا سب سے زیادہ زور اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے پر ہوتا تھا کہ محنت اور کوشش کا اصل میدان کیا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ زراعت، تجارت، ملازمت وغیرہ محنت کے میدان اسی طرح اجتماعی مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے لوگ جن چیزوں پر انحصار کرتے ہیں وہ الیکشن اور حکومت پر اثر ڈالنے اور اس پر قبضہ کرنے کی دوسری کوششوں ہیں۔ مولانا کا کہنا تھا کہ یہ چیزیں مثل بجلی کے بلب اور پنکھے کے ہیں۔ بلب اور پنکھے پر عمل کرکے ہم نہ انہیں روشن کر سکتے ہیں اور نہ انہیں چلا سکتے ہیں، بلکہ اس کے لیے بجلی کے بٹن تک ہاتھ پہنچانے کی ضرورت ہے، اسی طرح اگر خدا سے تعلق پیدا ہو جائے تو سب کچھ ہو سکتا اور اگر تعلق پیدا نہ ہو تو ساری کوششیں کے باوجود کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس مقصد کے لیے مولانا کا طریق کار نہایت سادہ تھا۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مسجدوں کو ان کے اعمال کے ساتھ زندہ کرنے کی کوشش گشت اور سفر جس پر مولانا بہت زور دیتے تھے ، اس کا مقصد بھی حقیقت آدمی کو مسجد والا بنانا تھا۔ اس کا فلسفہ یہ تھا کہ لوگوں کو ان کی روزمرہ کی دنیوی مصرو فیتوں سے نکال کر کچھ دنوں کے لیے ایک خاص طرح کی دینی

فضا میں رکھا جائے ۔ جب کہ آدمی عبادات و اذکار میں وقت گزارے دوسروں کو دینی زندگی اختیار کرنے کی تلقین کرے ، اور اس طرح تربیت یافتہ ہو کر جب اپنے وطن واپس آئے تو آئندہ مسجد والی زندگی میں مصروف ہو جائے مسجد والی زندگی ہی مولانا کے نزدیک دنیا و آخرت کی کامیابی کی ضامن تھی۔

ایک جماعت کے نام خط میں اس طرح طریق کار کی وضاحت فرماتے ہیں:

”دین سے مناسبت پیدا کرنے کے لیے ہر شخص سے خواہ کسی شعبہ سے متعلق ہو، چار ماہ کا۔ مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اپنے مشاغل، ساز و سامان اور گھر بار سے نکل کر ان چیزوں کی دعوت دیتے ہوئے اور خود مشق کرتے ہوئے ملک بہ ملک ، اقلیم بہ اقلیم ، قوم بہ قوم ، قریہ بہ قریہ پھریں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر امتی کو مسجد والا بنایا تھا ۔ مسجد کے کچھ مخصوص اعمال دیے تھے ۔ مسجد میں اللہ کی بڑائی کی، ایمان کی اور آخرت کی باتیں ہوتی تھیں، اعمال سے زندگی بننے کی باتیں ہوتی تھیں، عملوں کے ٹھیک کرنے کی تعلیمیں ہوتی تھیں۔ ایمان وعمل صالح کی دعوت کے لیے ملکوں اور علاقوں میں جانے کی تشکیلیں بھی مسجد ہی سے ہوتی تھیں ۔ اللہ کے ذکر کی مجلسیں مسجدوں میں ہوتی تھیں۔ یہاں تعاون ، ایثار، ہمدردیوں کے اعمال ہوتے تھے، ہر شخص حاکم ، محکوم ، مالدار، غریب ، تاجر ، زارع، ، مزدور، مسجد میں آکر زندگی سیکھتا تھا۔ اور باہر جا کر اپنے اپنے شعبہ میں مسجد والے تاثر سے چلتا تھا۔ آج ہم دھوکے میں پڑ گئے کہ ہمارے پیسے سے مسجد چلتی ہے۔ مسجدیں اعمال سے خالی ہو گئیں اور چیزوں سے بھر گئیں۔ حضور صلعم نے مسجد کو بازار والوں کے تابع نہیں کیا حضور صلعم کی مسجد میں نہ بجلی تھی ، نہ پانی تھا، نہ غسل خانے تھے، خرچ کی کوئی شکل نہ تھی۔ مسجد میں آکر داعی بنتا تھا، معلم اور متعلم بنتا تھا، ذاکر بنتا تھا۔ نمازی بنتا تھا، مطیع بنتا تھا، متقی زاہد بنتا تھا، خلیق بنتا تھا، باہر جا کر ٹھیک زندگی گزارتا تھا۔ مسجد بازار والوں کو چلاتی تھی۔ ان چار ماہ میں ہر جگہ جا کر مسجدوں میں ہر امتی کو لانے کی مشق کریں مسجد والے اعمال کو سیکھتے ہوئے دوسروں کو یہ محنت سیکھنے کے لیے تین چلوں کے واسطے واپس اپنے مقام پر آکر اپنی بستی کی مسجد میں ان اعمال کو زندہ کرنا ہے، ہفتہ میں دو مرتبہ گشت کے ذریعہ بستی والوں کو جمع کرکے انہیں چیزوں کی طرف متوجہ کرنا اور مشق کے لیے فی گھر ایک نفر تین چلوں کے لیے باہر نکلنا ہے۔ ایک گشت اپنی مسجد کے ماحول میں اور دوسرا گشت دوسری مسجد کے ماحول میں کریں۔ ہر مسجد میں مقامی جماعت بھی بنائیں ہر مسجد کے احباب روزانہ

فضائل کی تعلیم کریں ۔ اپنے شہر یا بستی کے قریب دیہات میں کام کی فضا بنے ، اس کے لیے ہر مسجد سے تین یوم کے لیے جماعتیں پانچ کوس کے علاقے میں جائیں ۔ ہر دوست مہینے میں تین یوم پابندی سے لگائے ۔ الحسنۃ بعشر امثالھا کے مصداق تین دن پر حکماً تیس دن کا ثواب ملے گا ۔ پورے سال ہر مہینے تین دن لگائے تو سارا سال اللہ کی راہ میں شمار ہوگا ۔ اشاعت سے پر ہیز مولانا اشاعت کے عام طریقوں کو پسند نہیں فرماتے تھے ۔ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: " اس کام کی تعمیم کے لیے روایتی طریقوں ۔ اخبار ، اشتہار پریس وغیرہ اور روایتی الفاظ سے بھی پورے پر ہیز کی ضرورت ہے ۔ یہ کام سارا کا سارا غیر روایتی ہے ۔ روایتی طریقوں سے رواج کو تقویت پہنچے گی اس کام کو نہیں ۔ اصل کام کی شکلیں ، دعوت، گشت ، تعلیم تشکیل وغیرہ ہیں “ مولانا کے ذہن میں لٹریچر کا جو تصور تھا اس کا اندازہ مندرجہ ذیل اقتباس سے

وہ فضائل قرآن مجید پڑھ کر منور کی دردِ کلام پاک کی ان سورتوں کی تجوید کی مشق کی جائے جو عموماً نمازوں پر پڑھی جاتی ہے ۔ اللہ پاک توفیق دیں تو ہر کتابیں سے تین چار صفحے پڑھے جائیں ۔ تعلیم میں اپنی طرف سے تقریرنہ ہو ، حدیث شریف پڑھنے کے بعد دو تین جملے ایسے کہہ دیے جائیں کہ اس سے عمل کا جذبہ ابھرے ۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا صاحب دامت برکاتہم کی تالیف فرمودہ فضائل قرآن مجید ، فضائل نماز ، فضائل تبلیغ ، فضائل ذکر فضائل صدقات حصہ اول دوم ، فضائل رمضان ، فضائل حج ، (ایام حج در رمضان میں) اور مولانا احتشام الحسن صاحب کا ندھلوی دام مجدہ کی (مسلمانوں کی موجودہ پستی کا واحد علاج) صرف یہ کتاب میں ہیں جن کو اجتماعی تعلیم میں پڑھنا اور سننا ہے اور تنہائیوں میں بیٹھ کر بھی ان کو پڑھنا ہے“ اشاعت سے پر ہیز کا یہ عالم تھا کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے مکاتیب کی تلاش میں ایک صاحب نے دہلی کا سفر کیا۔ مگر وہاں ایک مکتوب کی نقل بھی محفوظ نہیں مل سکی ۔ آپ کثرت سے خطوط لکھتے تھے ۔

Printed page