اجتماعیت
Al-Risala, May 1985, pp. 38–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا اجتماعیت کو بڑی اہمیت دیتے تھے ۔ اپنے رفقاء کو آپ کی ہدایت ہوتی تھی کہ " ہر کام کو اجتماعی کریں ۔ حتی کہ سفر میں بھی یکجا رہنے کی بھر پور کوشش کریں ، مگر اجتماعیت کے بارے میں آپ کا نقطہ نظر عام تصور سے کچھ مختلف تھا ۔ اس کو ہم شاید اس طرح بیان کر سکتے ہیں کہ آپ کے نزدیک اجتماعیت کی اہمیت تھی مگر جماعت بندی کی نہیں ۔ فرماتے ہیں :
" ہم نے اس کام کے لیے کوئی انجمن نہیں بنائی نہ اس کا کوئی دفتر ہے نہ رجسٹر ہے نہ فنڈ ہے یہ سارے ہی مسلمانوں کا کام ہے ہم نے مروجہ طریقہ پر کوئی علیحدہ جماعت بھی نہیں بنائی ہے ۔ مسجد میں نماز کے عمل پر مختلف طبقوں اور مشغولوں والے مسلمان آکر جڑ جاتے ہیں اور نماز سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں اور مشغلوں میں چلے جاتے ہیں اسی طرح ہم آپ سب سے کہتے ہیں کہ کچھ وقت کے لیے اپنے گھروں اور مشغلوں سے نکل کر یہ محنت اور مشق کر لیجئے ۔ اور پھر اپنے گھروں اور مشغلوں میں اگر ان اصولوں کے مطابق لگ جایئے ۔ آپ نے اگر یہ چیز محنت کر کے حاصل کر لی تو دنیا بھر کے سائنس والے آپ سے یہ طریقہ سیکھنے آئیں گے اور خدا نے چاہا تو آپ دنیا کے امام ہوں گے " ایک تقریر میں تبلیغی کارکنوں کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا :
خصوصی گشت میں اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب جن سے آپ ملنے گئے ہیں اس وقت توجہ سے بات سننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو مناسب طریقہ سے جلدی سے بات ختم کر کے ان کے پاس سے اٹھ آنا اور ان کے لیے دعا کرنی چاہیے اور اگر دیکھا جائے کہ وہ صاحب متوجہ ہیں تو پھر پوری بات ان
کے سامنے رکھنی چاہیۓ... خصوصی گشت میں جب دینی اکابر کی خدمت میں حاضری ہو تو ان سے صرف دعا کی درخواست کی جائے ادا ان کی توجہ دیکھی جائے تو کام کا کچھ ذکر کر دیا جائے " مولانا کی تقریروں کا خاتمہ ہمیشہ دعا پر ہوتا تھا۔ لفظ " دعا " اپنے عام استعمالی مفہوم کے لحاظ سے شاید اس کی کیفیت کو ادا کرنے سے قاصر ہے جو مولانا کی دعائیں ہوتی تھی۔ مولانا کی دعوت کا اصل اور مغز اللہ سے استعانت اور دعا کا تعلق پیدا کرنا تھا۔ اور یہ چیز ان کی دعا میں اس طرح ابھر آتی تھی کہ اس وقت وہ اپنی دعوت کا مجسم نمونہ بن جاتے تھے۔ ایک واقف حال کے الفاظ میں " جب دعا کرتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ نہ اس سے پہلے دعا کی ہے نہ اس کے بعد کریں گے۔ سب کچھ اسی دعا میں مانگ لینا ہے اور سب کچھ اسی دعا میں کہہ دینا ہے " مولانا کی دعا کی کیفیت ، اس کے مضامین ، اس کی آمد اور جوش و خروش اس کی رقت انگیزی اور اس کی تاثیر مولانا کے ان خصائص میں سے تھی جن کی مثال دور دور دیکھنے میں جب دعا کرتے ، حاضرین کا عجیب حال ہوتا ، خاص طور پر جب اردو میں دعا کے الفاظ اور فرماتے تو آنسوؤں کا سیلاب امڈ پڑتا ۔ دور دور سے رونے والوں کی ہچکیاں سننے میں آتیں " ایک صاحب جو ایک اجتماع میں شریک تھے ، لکھتے ہیں :
" مولانا محمد یوسف صاحب نے دعا کی ۔ اپنے گناہوں کی توبہ ، مغفرت ، آخرت کی سرخروئی ، دین کی عظمت ، تمام انسانوں کے لیے ہدایت طلبی ، یہ سب باتیں اللہ سے طلب کی گئیں۔ گئی جس طرح مانگنے کا حق ہوتا ہے۔ کوئی آنکھ نہ تھی جو رونی نہ ہو کوئی زبان نہ تھی جو ہلی نہ ہو، کوئی دل نہ تھا جو پھٹ پڑنے پر نہ آیا ہو۔ بس ایک ہی احساس تھا کہ اتنی زندگی جو گزری ناکامی میں گزری ۔ میں ہی سراپا معصیت ہوں ۔ سب برائیاں مجھ ہی میں ہیں۔ اے اللہ ان سب کو تاہیوں کو معاف فرما اور میری زندگی کو اپنے راستے پر لگادے "
ایک دعا جو اتفاق سے ٹیپ ریکارڈ ر کے ذریعہ محفوظ ہو گئی ہے ، اس کے چند الفاظ یہ ہیں :
اے اللہ ہمارے گناہوں کو معاف فرما... اے خدا ہماری محنت کے بگڑ جانے کے اس جرم عظیم کو معاف فرما جس جرم عظیم سے ہزاروں خرابیاں ہم میں پیدا ہو گئی ہیں، محمد صلی اللہ علیہ وسلم جس محنت پر ڈال کر گئے اس محنت کو چھوڑ کر ہم ان محنتوں میں الجھ گئے جن محنتوں سے وہ نکال کر گئے تھے ..... اے اللہ ہمیں عصیاں کے دریاؤں سے نکال دے اور ہمیں طاعت کی سڑکوں پر ڈال دے ...
اے خدا وند قوس جس قسم کے زمانے میں تو نے اس تبلیغ کے ذریعے اس کلمہ و نماز پر محنت کی ضرورت پیدا فرمادی اور اپنی راہ میں نکلنے کی توفیق دی..... اے رب کریم اپنے کرم سے سب کو قبول فرما لے اور ان سب کی ایسی تربیت فرما کہ یہ نقل دو حرکت تجھے پسند آجائے ..... اے اللہ درندوں کی اور اُڑدہوں کی قسم سے جتنے انسان اور درندے ہیں اور جن کو تجھے انسانیت سے نواز نا ہی نہیں ، اے خدا ایسے ایسوں کو چن چن کر ہلاک فرما۔ ایسوں کی زمینوں کو ، ان کے لیے پھاڑ دے ، ایسوں کے مکانوں کو ان پر توڑدے۔ ایسوں سے نعمتوں کو اپنی چھین لے ..... اے خدا لوٹ کھسوٹ کے ماحول کو ختم کر، ظلم وستم کے ماحول کو ختم کر، عدل و انصاف کے ماحول کو قائم کر، علم و ذکر کے ماحول کو قائم کر، خدمت خلق کے ماحول پیدا کر، تعاون و ہمدردی و محبت کے ماحول کو قائم کر..... اے اللہ ہماری دعاؤں کو اپنے فضل و کرم سے قبول فرما۔