مقبولیت
Al-Risala, May 1985, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا محمد یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو اپنی زندگی ہی میں غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ بجنور کے ایک اجتماع کے مشاہد فرماتے ہیں " اس میں حضرت مولانا اپنے تمام رفقار کے ہمراہ تشریف لائے تھے ، عقیدت مندوں کے ہجوم نے بڑی دشواری پیدا کر دی ۔ ہر شخص چاہتا تھا کہ میں کسی نہ کسی طرح مولانا سے مصافحہ کرلوں ۔ انتظا ماً قیام گاہ پر بعض میواتیوں کا پہرہ لگا نا پڑا۔ قیام گاہ کے دروازہ کی چوکھٹ، داخلے کی بے محابا کوشش کرنے والے کی وجہ سے اکھڑ گئی ۔ قیام گاہ سے جلسہ گاہ میں تشریف لائے مجمع آپ کے گرد سمندر کی طرح موجیں مارتا ہوا نظر آتا۔ مولانا ناسخ طریقت بھی تھے۔ بیعت چاروں سلسلوں میں اپنے والد ماجد صاحب کے واسطے سے کرتے تھے۔ ایک صاحب رائے ونڈ کا حال بیان کرتے ہیں " ایک کثیر مجمع نے بیعت کی ۔ کرنے والوں کے ہاتھوں میں پگڑیاں اور چادریں وغیرہ تھیں اور اتنا کثیر مجمع تھا کہ کئی حضرات مکبر کی طرح پکار پکار کر الفاظ بیعت کو بیعت کرنے والوں تک پہنچا رہے تھے ۔ عجیب دل کش منظر تھا۔ میرے ایک عزیز کہنے لگے کہ آج تو حضرت جی نے امام شہید سید احمد صاحب رائے بریلوی کی یاد تازہ کردی "۔