Al-Risala · May 1985

ذوق علم

Al-Risala, May 1985, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کے علمی ذوق کے بارے میں آپ کے ایک قریبی واقف کار روایت کرتے ہیں کہ ایک بارمولانا نے فرمایا۔ " میں نے سوا ایک دفعہ کے بازار سے ایک آنہ کی بھی مٹھائی خرید کر نہیں کھائی یہ وجہ نہ تھی کہ میرے پاس پیسے نہ ہوتے تھے ، بلکہ بات یہ تھی کہ میں نے پیسے جمع کرنے کا ایک ڈبہ بنایا تھا اور اس میں جو پیسے مجھ کو ملتے ڈال دیا کرتا تھا کہ ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی کتابیں خریدوں گا تعلیم کے زمانے میں مولانا انعام الحسن صاحب آپ کے ساتھی اور ہم سبق تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ

"ہم دونوں نے آپس میں یہ طے کر لیا تھا کہ رات کے ابتدائی آدھے حصے میں ہم میں سے ایک مطالعہ کرے گا اور دوسرا سوئے گا۔ اور آدھی رات ہو جانے پر مطالعہ کرنے والا چائے بنائے گا اور دوسرے ساتھی کو اٹھاکر اور اس کے ساتھ چائے پی پلا کر سو جائے گا اور اسی دوسرے کے ذمہ ہوگا کہ فجر کی جماعت کے لیے سونے والے ساتھی کو اٹھائے۔ ایک دن مولانا مرحوم شروع رات میں مطالعہ کرتے تھے اور میں سوتا تھا، اور دوسرے دن برعکس ترتیب رہتی تھی ۔

بستی نظام الدین کی زندگی میں آپ کا معمول تھا کہ روزانہ ایک خاص وقت میں آپ اپنے مطالعہ کے کمرے میں چلے جاتے اور وہاں مقرر وقت تک مطالعہ اور تحریر کا سلسلہ جاری رہتا۔ کسی تحریک کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی ایک زبان پیدا کرتی مولانا یوسف صاحب نے بھی تبلیغی تحریک کو ایک مخصوص زبان اور طرز ادا دیا جو اس طرح رائج ہوا کہ ہزاروں افراد کی زبان سے بے تکلف ادا ہونے لگا۔ مثلاً مسجد میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ہورہا ہے اس میں شرکت کی دعوت دینی ہے تو اس طرح کہیں گے ۔ " بھائی مسجد میں کچھ فکر کی بات ہو رہی ہے، آؤ وہاں چلیں" مولانا یوسف صاحب ایک مکتوب میں لکھتے ہیں ۔ " جب محلوں کی مساجد میں ہفتوں کی دو گشتوں کے ذریعہ فی گھر ایک آدمی تین چلے کے لیے نکلنے کی آواز لگ رہی ہوگی۔ تسبیحات پر احباب جڑ رہے ہوں گے ۔ ہر مسجد سے تین دن کے لیے جماعتیں نکالنے کی کوششیں ہو رہی ہوں گی تو شب جمعہ کا اجتماع صحیح نہج پر ہوگا اور کام کے بڑھنے کی صورتیں بنیں گی ۔ مشورے سے ایسے احباب سے عموماً دعوت دلوائی جائے جو محنت کے میدان میں ہوں اور جن کی طبیعت پر کام کے تقاضے غالب ہوں بہت ہی فکر و اہتمام سے تشکیلیں کی جائیں۔ اگر اوقات وصول نہ ہوں تو رات کو بھی محنت کی جائے، رو رو کر مانگا جائے .... تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے زمانے میں کسی نہ کسی نقشہ کے مقابلہ پر آئے اور بتایا کہ کامیابی کا اس نقشہ سے کوئی تعلق نہیں ہے "

ایک اور مکتوب میں لکھتے ہیں " جزیرہ عرب کو دین حیات کے لیے جان پھیلانے کا مرکز قرار دے کر اس میں طریقہ جہد کے سیکھنے سکھانے کا رواج ڈال کر ہر طرف دین حیات کے لیے ٹھوکریں کھانے کے لیے مقامی احباب کے ساتھ مل کر روانہ کرنے کا رخ ڈالا جائے ..... تین تین چلہ کی حجم کر دعوت دیں ..... غریبلوکس مبرس طبقات میں کام کا ضرور پھیر ڈالیں "

اپنے شہر یا بستی کے قریب دیہات میں کام کی فضا بنے اس کے لیے ہر مسجد سے تین یوم کے لیے جماعتیں

پانچ پانچ کوس کے علاقے میں جائیں “ ماہِ رمضان کے ایک مکتوب میں لکھتے ہیں: ” کیا ہی اچھا ہو کہ اس مبارک زمانہ میں تین تین چلوں کے لیے تشکیل کر کے جماعتیں روانہ کی جائیں تاکہ ارکانِ اسلام کی حیات والی محنت کا حساب اس ماہ میں قائم ہو۔ اور اس ماہ میں چلے کے لیے نکلنے کی برکت سے زیادہ وقت کے لیے اللہ رب العزت کے راستہ میں رواج پڑ جائے “۔

یہ نمونہ کے چند ٹکڑے ہیں ۔ اسی طرح مولانا نے ایک مستقل تبلیغی زبان پیدا کی جس کے اندر سادگی کے ساتھ گہرائی اور تحریکی شدت کے ساتھ مٹھاس کی عجیب و غریب آمیزش تھی ۔ آخر میں میں ایک واقعہ پر اس گفتگو کو ختم کروں گا ۔ ندوہ کے ایک عالم نے مجھ سے بیان کیا ایک جلسہ میں مولانا یوسف صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی تقریر ہو رہی تھی ۔ پورے مجمع پر سحر کن خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ مقرر حکمت و معرفت کی بارش برسارہا تھا۔ جناب مولانا سید ابوالحسن علی ندوی بھی اس جلسہ میں موجود تھے ۔ رادی کا بیان ہے کہ ایک موقع پر جب کہ تقریر اپنے عروج پر تھی ۔ مولانا کی زبان سے بے اختیار نکلا ـــــ ” اگر میں قسم کھاؤں تو میں حانث نہیں ہوں گا کہ اس وقت پورے عالم اسلام میں اس درجہ یقین و ایمان کے ساتھ بولنے والا کوئی دوسرا شخص موجود نہیں ہے “ (۱۳۸۹ھ)

Printed page