ارتقاء کا فریب
Al-Risala, June 1985, pp. 8–13
By Maulana Wahiduddin Khan
نظریہ ارتقاء کا دعویٰ ہے کہ انسان اور حیوان دونوں ایک ہی نسل سے ہیں۔ حیوانات ہی کی ترقی یافتہ نوع ہے نہ کہ کوئی علیحدہ نوع۔ اس دعویٰ کے سلسلے میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان میں سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ واقعہ ہے تو بیچ کی وہ انواع کہاں ہیں جو مفروضہ ارتقائی عمل کے مطابق ابھی موجودہ انسان کے مقام تک نہیں پہنچی تھیں۔ وہ ابھی حیوان اور انسان کے درمیان تدریجی ارتقاء کے مراحل طے کر رہی تھیں۔
اس نظریہ کے حامیوں کے پاس اس کے جواب میں قیاس و گمان کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ چارلس ڈارون نے اپنی کتاب میں بار بار ہم بخوبی قیاس کر سکتے ہیں (We may well suppose) کا جملہ استعمال کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یقیناً ایسا ہوا ہے، اگرچہ ابھی ہیں اس کے تمام نمونے حاصل نہیں ہو سکے اس فرضی یقین کی بنیاد پر ایک پورا شجرہ نسب تیار کر لیا گیا ہے جو انسان کی نسل کو بندر کی نسل تک جا ملاتا ہے۔ بندر اور انسان کے درمیان کی یہ کڑیاں تمام کی تمام مفروضہ کڑیاں ہیں مگر بالکل غلط طور پر ان کو گم شدہ کڑیاں (Missing links) کہا جاتا ہے۔
ان خیالی قسم کی گم شدہ کڑیوں کی تلاش پچھلے ایک سو سال سے جاری ہے۔ بار بار دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلاں گم شدہ کڑی ہاتھ آگئی ہے۔ انھیں میں سے ایک کڑی وہ ہے جس کو پلٹ ڈاؤن مین (Piltdown Man) کہا جاتا ہے۔
پلٹ ڈاؤن مین کو تقریباً آدھی صدی تک "عظیم دریافت کہا جاتا رہا۔ یہ سمجھا جاتا رہا کہ یہ ماقبل تاریخ کا وہ انسان ہے جو ایک طرف انسانی اوصاف کا حامل تھا اور دوسری طرف وہ بندر (چمپینزی) کی بھی کچھ خصوصیات اپنے اندر رکھتا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں باقاعدہ اس کے حوالے شامل ہو گئے۔ وہ کالجوں کے نصاب میں پڑھایا جانے لگا۔ مثال کے طور پر آر ایس لُل (R.S. Lull) کی مشہور کتاب عضویاتی ارتقاء (Organic Evolution) سات صفحات پر مشتمل ہے اور ٹیکسٹ بک کی حیثیت سے رائج ہے۔ اس میں انسان اور حیوان کے درمیان جن معلوم "کڑیوں" کا ذکر کیا گیا ہے وہ حسب ذیل چار ہیں:
1. Ape-man of Jawa 2. Piltdown man
3. Neanderthal Man 4. Cro-magnon Man مگر بعد کی تحقیقات سے ثابت ہوا کہ پلٹ ڈاون میں ایک مکمل فریب تھا۔ اس سلسلہ میں سائنس دانوں کے تحقیقی نتائج مختلف کتابوں اور مقالات میں شائع ہو چکے ہیں۔ اس کو جاننے کے لئے انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۷۸) کا مقالہ "پائلٹ ڈاون فورجری نامی کتاب کا مطالعہ کافی ہے۔ جس کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا ہے۔ چند کتابوں کے نام یہ ہیں : 1. Bulletin of the British Museum (Natural History)
Vol. 2, No. 3 and 6 2. J.S. Weiner, The Piltdown Forgery (1955)
3. Ronald Millar, The Piltdown Men (1972)
4. Readers Digest, November 1956 5. Popular Science (Monthly) 1956 چارلس ڈاسن (Charles Dawson) نامی ایک انگریز پتھر ہڈیوں (Fossil Bones) کے جمع کرنے کا بہت شائق تھا۔ ۱۹۱۲ء کا واقعہ ہے کہ وہ کچھ ہڈیوں کو لے کر برٹش میوزیم پہنچا اور یہ خبر دی کہ یہ ٹکڑے اسے جنوبی انگلینڈ کے ایک مقام پلٹ ڈاون (Piltdown) میں ایک کھوہ کے اندر کنسکر یوں کے درمیان پڑے ہوئے ملے ہیں۔ برٹش میوزیم کے ایک نامور عالم ڈاکٹر آرتھر اسمتھ ووڈورڈ (A.S. Woodward) نے اس میں خصوصی دلچسپی لی اور بتائے ہوئے مقام پر پہنچ کر کھدائی کے ذریعہ مزید ٹکڑے حاصل کئے ۔ اس طرح میں سے کچھ زیادہ ہڈیوں اور دانت کے ٹکڑے جمع کر کے ان کا مطالعہ شروع کیا گیا۔
ان حاصل شدہ ٹکڑوں میں سب سے زیادہ نمایاں ایک جبڑے کا ٹوٹا ہوا حصہ تھا جو واضح طور پر ایک بندر کا جبڑا معلوم ہوتا تھا۔ مگر اس میں ایک خاص چیز بندر سے مختلف تھی۔ یہ اس میں لگے ہوئے داڑھ کے دو دانت تھے جن کی اوپر کی سطح ہموار (Flat) تھی ۔ جو کہ صرف کسی انسانی دانت ہی میں ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قیاس کر لیا گیا کہ یہ جبڑا کسی قدیم انسان کا ہے۔ اور اس کے بعد نہایت آسانی سے اس کو ارتقاء کی ایک گم شدہ کڑی قرار دے دیا گیا۔ تلاش کرنے والوں نے جلد ہی پلٹ ڈاون کے آس پاس وہ کھوپڑی بھی حاصل کر لی جو در اصل کے اس انسان کے سر پر قدرت نے پیدا کی تھی ! مذکورہ بالا کھوہ میں ماقبل تاریخ کے زمانے کے کچھ جانوروں کے آثار ملے جن سے یہ متعین ہو گیا کہ "پلٹ ڈاون میں " قدیم بر فانی دور کا انسان ہے جو پانچ لاکھ سال پہلے زمین کے اوپر گزر چکا ہے۔
اس تحقیق نے دوسری معلوم کی ہوئی گم شدہ کڑیوں کے مقابلے میں اس کو قدیم ترین معلوم انسان کی حیثیت دے دی۔ چارلس ڈاسن عظیم اعزازات کا مستحق قرار دیا گیا کیوں کہ اس نے سائنس کی ایک پیچیدہ گتھی کو حل کرنے میں مدد دی تھی۔
پتھر میں تبدیل شدہ یہ انسانی ہڈیاں جو حاصل ہوئی تھیں وہ پورے انسانی ڈھانچے کے صرف بعض اجزا ر تھے۔ مگر ماہرین نے ان کی روشنی میں قوت تخئیل سے کام لے کر پانچ لاکھ سال پہلے کے انسان کا ایک پورا ڈھانچہ تیار کر لیا جو اپنی بے ڈھنگی پیشانی اور بندر نما جبڑوں کے ساتھ چالیس سال تک سائنس دانوں کا مرکز توجہ بنا رہا۔ مگر ۱۹۵۰ء میں یکایک پلٹ ڈاون مین کی حیثیت کو سخت دھکا لگا۔ جب طبقات الارض کے ایک عالم ڈاکٹر کنتھ آکلے (Kenneth Oakley) نے ایک کیمیاوی طریقے کو استعمال کر کے اس کی تاریخ معلوم کی۔
یہ ایک اصول ہے کہ کوئی ہڈی جتنے دنوں تک زمین میں دفن پڑی رہے گی وہ اسی کے بقدر زیادہ مقدار میں ایک مخصوص عنصر کو جذب کرتی ہے جس کا نام فلورین (Fluorine) ہے۔ آکلے کی آزمائش سے معلوم ہوا کہ حاصل شدہ ہڈیوں میں جتنی فلورین پائی جاتی ہے۔ اس کے لحاظ سے اس کی عمر صرف پچاس ہزار سال ہونی چاہئے نہ کہ پانچ لاکھ سال۔
بعد کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ پلٹ ڈاون مین کی کھوپڑی کے متعلق آکلے کا اندازہ بالکل صحیح مگر اسی کی بنیاد پر اس نے جبڑے کی عمر بھی جو اسی قدر فرض کر لی تھی وہ صحیح نہیں تھی۔ جبڑا در حقیقت موجودہ زمانے کے ایک بندر کا تھا جو فرضی طور پر مذکورہ کھوپڑی کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ آکلے کی مذکورہ دریافت نے پلٹ ڈاون کو دوبارہ ایک معما بنا دیا کیوں کہ پانچ لاکھ سال پہلے کے ایک ڈھانچے کو تو گم شدہ کڑی فرض کیا جا سکتا تھا مگر ایک ایسا جاندار جو صرف پچاس ہزار سال پہلے موجود رہا ہو اس کا گم شدہ کڑی ہونا بالکل نا قابل قیاس تھا۔ اس کے بعد ۱۹۵۳ء کی ایک شام کو لندن کی ایک دعوت میں آکلے کی ملاقات آکسفرڈ یونیورسٹی میں انسانیات کے ایک پروفیسر ڈکٹر ویتر (J. S. Weiner) سے ہوئی ۔ ڈاکٹر ویزر آکلے کی باتوں سے بہت متاثر ہوا۔ اس کے بعد گھر آ کر اس نے سوچنا شروع کیا کہ آخر اس کی حقیقت کیا ہے، سب سے زیادہ حیرانی اس کو پلٹ ڈاون مین کے دانت کے بارے میں تھی ”ایک بندر نما جبڑے میں انسانی دانت جو اس طرح ہموار ہیں جیسے کسی نے ریتی سے .........“ یہ سوچتے ہوئے اچانک ایک نیا خیال اس کے ذہن میں آیا ” ایسا تو نہیں ہے کہ کسی نے ریتی سے گھس کر ان دانتوں کو
چکنا کر دیا ہو۔ " اس کو ایسا محسوس ہوا جی وہ حقیقت کے قریب پہنچ گیا ہے۔ اب وہ اپنے سامنے تحقیق کا ایک نیا میدان پارہا تھا۔
وینر نے اپنے ایک ساتھی سرولفر ڈلی گروز کلارک (Sir Wilfred Le Gros Clark) کی معیت میں چمپینزی (بندر کی ایک قسم) کا ایک داڑھ کا دانت لیا، اس کو ریت کر ہموار کیا اور اس کے بعد ا رنگ کر دیکھا تو وہ پلٹ ڈاون کے دانت کے بالکل مشابہ تھا۔ اس کے بعد وہ دونوں برٹش میوزیم گئے تاکہ پلٹ ڈاون کے جبڑے سے حاصل کر کے اس کے متعلق اپنے قیاس کی تحقیق کریں۔ لوہے کا ایک مقفل بکس جو خاص طور پر فائر پروف بنایا گیا تھا، اس کے دروازے کھولے اور اس کے اندر سے پلٹ ڈاون کے ڈھانچے کے مقدس ٹکڑے نکالے گئے تاکہ سائنسی طریقوں کے مطابق ان کا گہرا تجزیہ کیا جائے۔ مشین اور دوسرے جدید قسم کے آلات حرکت میں آگئے۔ ایک مخصوص قسم کا کیمیادی طریقہ بھی استعمال کیا گیا جو نائٹروجن کی کمی کو معلوم کر کے یہ بتاتا ہے کہ اس پر کتنا وقت گزر چکا ہے۔ وینر کا قیاس صحیح تھا۔ ان مشاہدات سے معلوم ہوا کہ پلیٹ ڈاون میں کے جبڑے کی ہڈی کوئی پرانی ہڈی نہیں تھی بلکہ عام قسم کے ایک بندے سے حاصل کی گئی تھی۔ ہڈی کا قدرتی رنگ چونکہ متحجر ہونے کے بعد بدل جاتا ہے، اس لئے فریب دہندہ نے نہایت ہوشیاری سے اس کو مہوگنی رنگ میں رنگ دیا تھا۔ رنگ کو عین مطابق بنانے کے لئے چند مخصوص اجزاء استعمال کئے گئے تھے۔ مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ دانت کی سطح پر ایسے خراش موجود ہیں جو بلا اشتباہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ دانت مصنوعی طور پر رگڑا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کے کناروں میں غیر فطری قسم کی تیزی بھی تھی جو کہ صرف ریتی سے رگڑنے ہی کی صورت میں ہو سکتی ہے۔
۱۹۵۳ء میں مندرجہ بالا تینوں محققین (آکله ، وینر ، کلارک) نے اعلان کیا کہ جبڑا اور دانت بالکل فرضی ہیں۔ اس کے بعد وینر نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ اتنا بڑا فریب جو گھڑا گیا اس کا مصنف کون تھا۔ اس نے تمام ممکن تفصیلات جمع کرنا شروع کیں، ملک بھر کے سفر کئے تاکہ پلیٹ ڈاون کے واقعہ سے تعلق جو افراد ہیں ان سے گفتگو کرے، جو لوگ مرچکے تھے وہ ان کے عزیزوں اور دوستوں سے ملا۔ اخبار کے قدیم فائلوں سے اس سلسلے کی تمام رپورٹیں پڑھ ڈالیں۔
اس گہرے مطالعہ کے بعد پلیٹ ڈاون کے واقعہ سے تمام افراد بالکل بری نظر آئے۔ ایک شخص (چارلس ڈاسن) اس سے مستثنیٰ تھا۔ جو اس واقعہ کا ہیرو تھا۔ تمام معلومات اشارہ
کر رہی تھیں کہ اس بے بنیاد بات کا اصل مصنف ڈاسن ہی ہے۔
چارلس ڈاسن ایک کامیاب قانون داں تھا۔ وہ انگلینڈ کے اس مخصوص خطے کا باشندہ تھا جہاں متحجرات (Fossils) کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ ڈاسن کو متحجرات سے بہت دل چسپی پیدا ہوگئی اس کا یہی مشغلہ بن گیا کہ وہ متجر ہڈیاں جمع کیا کرتا تھا۔ پلٹ ڈاؤن میں کے واقعہ سے پہلے وہ دور قدیم کے متعدد جانوروں کے ڈھانچے حاصل کرکے لندن کے عجائب خانے میں بھیج چکا تھا۔ بعد کو ڈاسن کو وہ مذاق سوجھا جس نے ۰۰ سال سے زیادہ مدت تک اہل علم کو فریب میں مبتلا ڈاسن کے ایک ملاقاتی نے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ آواز دے بغیر ڈاسن کے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے دیکھا کہ ڈاسن کچھ تجربات میں مشغول ہے۔ وہ مختلف برتنوں میں کھاری اجزاء اور رنگین عرق ڈال کر ہڈیوں کو اس میں ڈبوئے ہوئے تھا۔ ڈاسن نے اس کو دیکھ کر گھبرا کے ہوئے اند از میں وضاحت کی کہ وہ متجر ہڈیوں کو رنگ رہا تھا۔ تاکہ یہ معلوم کرے کہ قدرتی طور پر ان کا جو رنگ ہے وہ کیسے بنتا ہے۔ اس قسم کے اور واقعات معلوم ہوئے جنھوں نے اس خیال کی تصدیق کر دی کہ اس گھڑے ہوئے فریب کا مصنف ڈاسن ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب کہ اس سے بہت پہلے ڈاسن ۱۹۱۶ء میں ۵۲ برس کی عمر میں عین شہرت کے وقت مر چکا تھا۔
ڈاسن نے اپنے جھوٹ کو پکی کرنے کے لئے ایک اور تدبیر کی ۔ اس نے پتھر کے کچھ اوزار پیش کئے اور بتایا کہ یہ اسے پلٹ ڈاؤن کے مقام پر ملے ہیں۔ چنانچہ یہ تسلیم کر لیا گیا کہ یہ پتھر کے وہ اوزار ہیں جن سے پانچ لاکھ سال پہلے کا ناقص انسان کام لیا کرتا تھا۔ مگر بعد کی تحقیقات نے ان کو بھی بالکل جعل ثابت کر دیا۔ ڈاسن نے اسی قسم کا ایک پتھر کا اوزار ہیری موریز(Harry (Harry Moris) کو دیا موریز ایک بنک کلرک تھا اور پتھر کے پرانے نمونے جمع کرنے کا شائق تھا۔ بعد کو موریز اپنی تحقیق سے اس نتیجہ پر پہنچا کہ یہ پتھر کا اوزار بالکل جعلی ہے۔ موریز نے اس پتھر کو اپنی مخصوص الماری میں دوسرے نمونوں کے ساتھ رکھ چھوڑا تھا۔ جب وینر کو اس کی اطلاع ملی تو اس کا شوق بڑھا مگر اس سے بہت پہلے موریز کا انتقال ہو چکا تھا۔
وہ پتھر کہاں ہے؟ وینر کو یہ سوال پریشان کرنے لگا۔ موریز کے مرنے کے بعد اس کی الماری دو ہاتھوں میں منتقل ہو چکی تھی تاہم وینر نے اسے ڈھونڈ نکالا۔ الماری کھولنے پر معلوم ہوا کہ اس کے اندر بارہ خانے ہیں جن میں بہت سے نمونے لیبل لگے ہوئے رکھے ہیں۔ آخری خانے میں پلٹ ڈائون کا پتھر کا اوزار تھا اس پر موریز کے اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ الفاظ درج تھے:۔
"Stained by C. Dawson with intent to defraud"
یعنی اس کو ڈاسن نے بالکل جعلی طور پر اپنے ہاتھ سے رنگا تھا تاکہ دنیا کو دھوکا دے کہ یہ بہت پرانے زمانے کا اوزار ہے۔ ایک نوٹ میں موریز نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہائیڈروکلورک ایسڈ پتھر کے بھورے رنگ کو ختم کر کے اس کو معمولی سفید رنگ کے پتھر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ واقعہ بتارہا ہے کہ دور قدیم کی ہڈیوں کے ٹکڑے جمع کر کے ان کی بنیاد پر جو قیاسی ڈھانچے کھڑے کئے گئے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ بے شک دور قدیم میں کوئی ڈاسن موجود نہیں تھا جو ہم کو دھوکا دینے کے لئے ان ہڈیوں کا حلیہ بگاڑ دیتا۔ مگر لاکھوں اور کروڑوں برس تک آندھی، طوفان اور زلزلے زمین کے اوپر جو الٹ پلٹ کر رہے تھے ان کی وجہ سے ہڈیوں کے مقام اور ان کی ہیئت میں وہ ساری تبدیلیاں ہونا ممکن ہیں جن کا آج ہم نے ڈاسن مین کی صورت میں تجربہ کیا ہے ۔ پھر ار تقاء کے حامیوں کے پاس وہ کون سا علم یقین ہے جس کی بنیاد پر وہ نامعلوم ماضی کے بارے میں اتنی قطعیت کے ساتھ اپنا دعویٰ پیش کر رہے ہیں۔
اس موضوع پر اپنے مضمون کو ختم کرتے ہوئے ماہنامہ پاپولر سائنس (Popular Science) کا مضمون نگار آخر میں لکھتا ہے:
پلٹ ڈاون کی خیالی داستان اب ہمیشہ کے لئے ختم ہو چکی ہے۔ مگر ایک معما ابھی تک حل نہ وہ کیا مقصد تھا جس کے لئے ڈاسن نے اتنا بڑا جھوٹ تیار کیا ؟ اس کو اس کام سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ برٹش میوزیم کو اس نے جو ہڈیاں فراہم کی تھیں وہ اس نے محض تحفہ کے طور پر پیش کی تھیں۔ اس نے ان کی کوئی قیمت وصول نہیں کی ۔ پھر کیا شہرت اس کا مقصد تھا۔ کیا اس زبردست فریب کے ذریعہ وہ محض ایک مذاق کرنا چاہتا تھا۔ اس انگریز جعل ساز کو آخر کس چیز نے اس کام پر آمادہ کیا۔ اس کا معلوم کرنا کیمیاوی اور طبعی تجربوں کی دسترس سے باہر ہے۔ اور شاپردہ ہمیشہ ایک راز ہی رہے یہ فقرہ در حقیقت اس بات کا اعتراف ہے کہ تجر بی علم (Tested Knowledge) اپنی محدودیتوں کی وجہ سے کائنات کی توجہ نہیں کر سکتا۔ وہ ہماری دنیا کے صرف بعض واقعات کا تجزیہ کر سکتا ہے ، جب کہ ہمیں ایک ایسے علم کی ضرورت ہے جو تمام واقعات کا تجزیہ کرے ۔ جو تمام حقیقتوں کو ہم پر آشکار کرسکے۔ کامل علم صرف وحی کا علم ہے ، اس کے سوا کوئی اور علم اس ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔