Al-Risala · June 1985

اعلیٰ ظرفی

Al-Risala, June 1985, pp. 16–18

By Maulana Wahiduddin Khan

امیر معاویہ کی خلافت کے زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس زمانہ میں روم کی مشرقی سلطنت کے اکثر حصے فتح ہو چکے تھے۔ رومی بادشاہ پسپا ہو کر قسطنطنیہ (ترکی) کے قلعہ میں رہنے لگا تھا۔ پر وہ مسلمانوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا تھا۔ اسی قسم کی ایک جھڑپ میں ایک بار رومیوں نے کچھ مسلمانوں کو قید کر لیا جن میں قریش کا ایک آدمی بھی شامل تھا۔ رومی بادشاہ کو معلوم ہوا تو اس نے کہا کہ وہ لوگ میرے سامنے حاضر کئے جائیں۔

مسلمان قیدی اس حال میں دربار میں لائے گئے کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور پاؤں میں بیڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ رومی بادشاہ نے ان سے ذلت آمیز گفتگو کی۔ اس نے کہا کہ تم جیسے لوگوں کی سزا یہی ہم تم کو اسی طرح سزا دیں گے یہاں تک کہ تم مر جاؤ اور تمہارے ہم قوموں کو عبرت ہو کہ وہ ہمارے علاقہ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں۔

قریشی کو بادشاہ کا کلام سن کر غیرت آ گئی۔ اس نے بادشاہ کو سخت انداز میں جواب دیا۔ کہا کہ جب تک تمہاری اسلام دشمنی باقی ہے تمہارے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی ۔ اور تم جان لو کہ خدا کے راستہ میں ہمارا خون بہت سستا ہے مگر وہ اس وقت بہت قیمتی ہو جائے گا جب کہ تمہارے جیسا بادشاہ ہم کو قتل کرے۔

قریشی کا یہ جواب سن کر دربار کے ایک بطریق (Patriarch) کو غصہ آ گیا۔ وہ اٹھ کر قریشی کے پاس آیا اور اس کے چہرہ پر دائیں بائیں دو طمانچہ مارا۔ قریشی کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اس لئے اس وقت وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ اپنی اس بے عزتی پر وہ چیخ پڑا :

وصاح القرشی با علی صوته ۔ یا معاویة قریشی بلند آواز سے چیخا ۔ اے معاویہ تم کہاں ہو ابن انت لتنتقم من ھؤلاء الا نذال الذین که ان ذلیل لوگوں سے انتقام لو جنھوں نے تمہارے نطموا شريفاً من اهلکا۔ والتقت الی البطریق ایک شریف آدمی کو طمانچہ مارا ہے۔ پھر وہ بطریق وقال : اقسم بالله ان لى معك يوما ستعرف کی طرف مخاطب ہوا اور کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر فیه من انا۔

جب کہ تم جان لو گے کہ میں کون ہوں۔

اس واقعہ کی خبر قسطنطنیہ سے دمشق پہنچی۔ امیر معاویہ کو اسے سن کر بہت رنج ہوا۔ عزم کیا کہ اس سلسلہ میں ضرور کچھ نہ کچھ کرنا چاہئے۔ امیر معاویہ نے اولارومی بادشاہ سے تبادلہ کی بنیاد پر مسلمان قیدیوں کی رہائی کی بات کی۔ یہاں تک کہ مسلم قیدیوں کی تعداد کے مقابلہ میں رومی قیدیوں کی زیادہ تعداد کو واپس کر کے اپنے قیدیوں کور ہا کر لیا۔

اس کے بعد امیر معاویہ نے نہایت خاموشی کے ساتھ ایک منصوبہ بنایا۔ انھوں نے تلاش کر کے صور شام) کے ایک آدمی کو حاصل کیا۔ وہ تاجر تھا اور رومی زبان جانتا تھا۔ نے کثیر مقدار میں اس کو سونے کے دینار دئے۔ اس کو پورا منصوبہ بتایا اور کہا کہ تم جاؤ اور کسی نہ کسی طرح اس بطریق کو پکڑ کر دمشق لے آؤ۔

اس آدمی نے تاجر کے روپ میں سفر کیا اور اس طرح دمشق سے قسطنطنیہ پہنچا۔ بارہ میں معلومات حاصل کر کے اس سے تعلقات پیدا کئے۔ اس کو قیمتی تحفے (عطر، جواہرات، ریشمی کپڑے وغیرہ ) پیش کئے۔ اس طرح وہ کئی بار دمشق سے قسطنطنیہ اور قسطنطنیہ سے دمشق آتا جاتا رہا اور بطریق کو تحفے دیتا رہا۔ یہ پورا معاملہ اتنی راز داری کے ساتھ ہوا کہ تاجر اور امیر معاویہ کے سواکسی اور کو اس کی مطلق خبر نہ ہوسکی۔

اس طرح لمبا عرصہ گزر گیا۔ جب بطریق سے کافی تعلقات ہو گئے تو اس نے بطور خود کچھ خاص تحفے لانے کی فرمائش کی۔ تاجر اس سے وعدہ کر کے واپس ہوا۔ وہ دمشق آیا۔ یہاں اس نے نہایت تیز رفتار اونٹنی حاصل کی۔ اونٹنی کو ایک آدمی کے ساتھ لا کر ایک خاص مقام پر ٹھہرایا۔ اس کے بعد وہ بطریق کے پاس گیا اور کہا کہ میں تمہارے تمام تحفے لے کر آیا ہوں۔ تم میرے ساتھ چلو۔ اس طرح حیلہ کر کے وہ بطریق کو مذکورہ مقام پر لے گیا۔ یہاں دونوں نے اچانک بطریق کو پکڑ لیا۔ انھوں نے نہایت تیزی سے بطریق کے ہاتھ پاؤں باندھے اور اس کو سواری پر بٹھا کر ہوا کی رفتار سے دمشق کی طرف روانہ

بطریق جب دمشق پہنچ گیا تو امیر معاویہ نے ایک مجلس میں بہت سے لوگوں کو جمع کیا اور مذکورہ قریشی کو بھی بلایا۔ اس کے بعد ایک پردہ ہٹایا گیا تو اس کے پیچھے مذکورہ بطریق موجود تھا۔

کو دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ تاریخ کے اگلے الفاظ یہ ہیں : قال معاويۃ يخاطب القرشي يا ابـن عمّى ، الان تستطيع ان تشکر الصوری فقد نفذ كل تدبير دبرتہ لہ دون ان يخيب ظني في اقل شئی. والان تستطيع ان تاخذ بحقك من البطريق دون ظلم لہ. فقال القرشي لولا انی اقسمت لعفوت عنہ ، ورفع يده ولطمہ لطمۃ واحدۃ وهو يقول هذه تكفی، واعفو عنہ فيما

ونظر معاويۃ الى البطريق ، وقال : بعد هذا انت فى ضيافتنا ثلاثۃ ايام ومرت الايام الثلاثۃ فاعادہ الصوری ومعہ كل الهدايا التي كان قد طلبها وفى قصر ملك الروم التف البطارقۃ حول الملك ليقول لهم لا تسيؤا الى اسری المسلمين منذ الان فما رأيت مثلهم عزة وكـرامۃ وأخـلاقـا۔ معاويۃ ان يخطفنى لما عجز لكنه

امیر معاویہ نے قریشی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے میرے چچا کے بیٹے ، اب تم اس صوری تاجر کا شکریہ ادا کرو۔ اس کو میں نے جو تدبیر بھی بتائی اس کو اس نے بغیر کسی ادنیٰ کمی کے نافذ کیا۔ تم اس بطریق سے اس پر ظلم کئے بغیر اپنا حق لے سکتے قریشی نے کہا کہ اگر میں نے قسم نہ کھائی ہوتی تو میں اس کو معاف کر دیتا۔ پھر ہاتھ اٹھایا اور اس کو ایک طمانچہ مارا اور کہا کہ بس یہ کافی ہے۔ بقیہ کو میں اس سے معاف کرتا ہوں۔ پھر معاویہ نے بطریق کی طرف دیکھا اور کہا کہ اب تم تین دن کے لئے ہمارے مہمان ہو۔ تین دن گزرنے کے بعد اس کو صوری تاجر نے اس حال میں واپس کیا کہ اس کے ساتھ وہ تمام تحفے تھے جن کو اس نے طلب کیا تھا۔ اس کے بعد قسطنطنیہ میں تمام بطریق رومی بادشاہ کے پاس جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ اب مسلم قیدیوں کے ساتھ برا سلوک کیوں کہ میں نے عزت اور شرافت اور اخلاق میں ان کے جیسا نہیں دیکھا۔ اور اگر معاویہ مجھ کو پکڑنا چاہتے تو وہ اس کے لئے عاجز نہ تھے مگر انھوں نے ایسا کرنا پسند نہیں کیا۔

الدعوة ( مكة ) ۱۴ جمادی الاولی ۱۳۰۵ھ

Printed page