Al-Risala · June 1985

بادشاہ بھی

Al-Risala, June 1985, pp. 19–21

By Maulana Wahiduddin Khan

یروی ان عبد الملك بن مروان بیان کیا جاتا ہے کہ عبدالملک بن مروان نے ایک خطبَ يوماً خطبة بليغة ثم قطعها روز ایک بلیغ خطبہ دیا۔ پھر وہ رک گیا۔ وبکی بكاءً شديداً ثم قال: يارب کے ساتھ رویا۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ اے ان ذنوبي عظيمة وان قليل عفول میرے رب، بے شک میرا گناہ بہت زیادہ ہے اعظم منها ـ اللهم فامنح بقليل مگر تیری تھوڑی معافی اس سے بھی زیادہ ہے ۔ عفوك عظيم ذنوبي ـ فبلغ ذالك اے اللہ، اپنی تھوڑی سی معافی سے میرے زیادہ الحسن فبكى وقال لوكان كلام گناہ کو مٹا دے۔ یہ بات حضرت حسن بصری يكتب بالذ هب لكتب هذا الكلام کو پہنچی تو اس کو سن کر وہ رو پڑے اور کہا کہ (الدعوة ۱۲ جمادی الآخرة ۵۱۳۰۵) اگر کوئی کلام سونے سے لکھا جاتا تو یقیناً یہ کلام اس قابل تھا کہ اسے سونے سے لکھا جائے۔

عبد الملک بن مروان (۸۵ - ۲۳ھ) بنو امیہ کا نہایت ذہین اور مدبر خلیفہ تھا۔ حجاج بن یوسف ثقفی اسی کا عامل تھا جس نے مکہ پر چڑھائی کی اور عبداللہ بن زبیر کو قتل کیا۔ عبد الملک بن مروان کا شمار تابعین کے گروہ میں ہوتا ہے۔

مذکورہ واقعہ بتاتا ہے کہ قدیم زمانہ کے جابر بادشاہ بھی خدا کے خوف سے خالی نہ تھے ۔ کسی نہ کسی موڑ پر ان کا جذبہ پھٹ پڑتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ’’دیندار‘‘لوگ لوگ بھی خوف خدا سے خالی ہو گئے ہیں۔ ان کی نمازوں نے ان کے دلوں کو نرم نہیں کیا۔ ذکر نے ان کے سینہ کو چھلنی نہیں کیا۔ ان کا ایمان وہ ایمان نہیں بنا جو ان کو خدا کے سامنے کھڑا کر دے۔ موجودہ زمانہ کے لوگوں پر قرآن کے یہ الفاظ صادق آتے ہیں: پھر تمہارے دل سخت ہو گئے تو وہ پتھر کی مانند ہیں یا اس سے بھی زیادہ سخت۔ اور بعض پتھر تو ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹ اور بعض ایسے ہیں جو پھٹ پڑتے ہیں پھر ان سے پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ایسے ہیں جو خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔ اور اللہ اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو (البقرہ ۷۴)

دیکھنے والا دیکھ رہا ہے یہ واقعہ نئی دہلی میں ۱۱ فروری ۱۹۸۵ کو پیش آیا۔

کناٹ پلیس کے ہوٹل تاج میں ایک تقریب تھی۔ یہ تقریب دہلی کے ایک تاجر مسٹر ایس پی سونی نے اپنے لڑکے کی شادی کے سلسلہ میں نہایت اہتمام کے ساتھ منعقد کی تھی۔ شرکاء کی تعداد تقریباً چار سو تھی جو سب کے سب اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھتے تھے۔

لوگ تقریب کی رونقوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک ایک خاتون نے محسوس کیا کہ اس کا پرس چوری ہوگیا ہے۔ یہ مسز سنتوش سونی کا پرس تھا۔ اس میں پچاس ہزار روپے نقد رکھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ اس کے اندر ایک قیمتی ہار بھی تھا جو خالص موتیوں کا بنا ہوا تھا۔ چوری کے واقعہ کو نہ پرس کی مالکن نے دیکھا اور نہ دوسرے شرکاء اس کو محسوس کر سکے۔ بظاہر یہ مکمل طور پر ایک راز تھا۔ چوری کرنے والا چوری کر چکا تھا۔ اور جس کی چوری ہوئی تھی اس کے لئے صرف یہ باقی رہ گیا تھا کہ وہ اپنی خوشیوں کو غم میں تبدیل کرکے اپنے گھر واپس چلی جائے۔ حتیٰ کہ ہوٹل کے ذمہ داریہ ماننے کے لئے بھی تیار نہ تھے کہ چوری کا واقعہ ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بناوٹی بات ہے۔ ہمارے یہاں ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہوٹل والوں کی نظر میں یہ قصہ اتنا بے بنیاد تھا کہ انھوں نے اس کی ضرورت بھی نہیں سمجھی کہ ہال کا دروازہ بند کرکے لوگوں کی تلاشی لیں۔ اتنے میں بعض افراد کو خیال آیا کہ شادی کی تقریب شروع سے آخر تک (Video film) پر ریکارڈ کی گئی ہے، کیوں نہ اس کا معائنہ کیا جائے۔

فوراً تقریب کے شر کا ء اور ہوٹل کے ذمہ داروں کے سامنے ویڈیو ٹیپ چلایا گیا۔ سے پہلے تمام شرکاء کی نگاہیں زرّق برق اسٹیج پر لگی ہوئی تھیں جہاں دولھا اور دلھن رونق افروز مگر اب ان کی توجہ کا مرکز دوسرا تھا۔ جس منظر کو اس سے پہلے انھوں نے صرف تفریح کی نظر سے دیکھا، اب اس کو انھوں نے تفتیش کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا۔

بہت جلد لوگوں کی نگاہیں ایک عورت پر جم گئیں جو ایک لڑکے کے ساتھ آیا کے روپ میں ہال کے اندر داخل ہوئی تھی۔ ابتدا ر لوگوں نے یہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا تھا کہ وہ معزز

مہمانوں میں کسی مہمان کے ساتھ آئی ہے۔ مگر اب اس کو ایک امکانی مجرم کی نظر سے دیکھا جانے لگا۔ یہ عورت جو آیا کے روپ میں آئی تھی وہ اس سے بالکل بے خبر تھی کہ یہاں ویڈیو کیمرہ نصب ہے اور اس کی نظریں ہر لمحہ اس کو دیکھ رہی ہیں۔ وہ اس کی ہر حرکت کا نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہی ہیں۔ وہ مشتبہ انداز میں ادھر سے ادھر جا رہی تھی۔

آخر کار لوگوں نے دیکھا کہ اس ”آیا“ نے شال میں چھپا ہوا اپنا ہاتھ باہر نکالا اور نہایت تیزی سے مذکورہ پرس کو اٹھا کر عین اس وقت اس کو اپنے کپڑوں کے اندر چھپا لیا جب کہ پرس کی مالکہ فوٹو کھینچوانے کے پروگرام میں کھوئی ہوئی تھی۔

جو واقعہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھا اس کو ویڈیو کیمرہ کی نگاہ نے بتا دیا جو مجموعی طور پر سارے منظر کی تصویر کشی کر رہا تھا۔ فوراً پولیس بلائی گئی اور پولیس کے سامنے دوبارہ پوری فلم چلائی گئی ۔ جرم ثابت ہو گیا تھا۔ مذکورہ عورت کو پولیس نے تلاش کر کے گرفتار کر لیا۔ اس کا نام اخبار میں شیلا بتایا گیا ہے جو سلطان پوری کی رہنے والی ہے۔ ہندوستان ٹائمس (۱۶ مارچ ۱۹۸۵) نے یہ کہانی تفصیل کے ساتھ شائع کرتے ہوئے یہ معنی خیز جملہ لکھا ہے:

You can not only spot the thief but see her commit the cirme. آپ نہ صرف چور کو پکڑ سکتے ہیں بلکہ اس کو جرم کرتے ہوئے دیکھ بھی سکتے ہیں۔ یہ دنیوی واقعہ آخرت کے واقعہ کا آئینہ ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتا رہا ہے کہ کوئی بالاتر دیکھنے والا ہے جو ہر ایک کو دیکھ رہا ہے۔ وہ ان باتوں کو نہایت باریکی کے ساتھ ریکارڈ کر رہا ہے جس کی خبر نہ قریب کے لوگوں کو ہوتی اور نہ دور کے لوگوں کو ۔ وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جس کو لوگ وہ ان چیزوں کو بھی دیکھتا ہے جن کو لوگ نہیں دیکھتے۔

دنیا کے واقعات آخرت کی حقیقتوں کا آئینہ ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے۔ اس میں ان واقعات کو دیکھا جا سکتا ہے جو کل کے دن پیش آنے والے ہیں۔ مگر اس مشاہدہ کے لئے بصیرت کی نگاہ درکار ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جو آنکھ والوں کے پاس بھی اکثر

Printed page