ایک تقریر
Al-Risala, June 1985, pp. 24–33
By Maulana Wahiduddin Khan
دوستو، میری بوڑھی آنکھیں جن کے وقت آ گیا تھا کہ وہ قبر میں دفن ہوں، ان کے لئے خدا نے یہ مقدر کیا کہ وہ جس اجتماع کو دیکھیں۔ بخدا اگر آسمان سے آواز آئے کہ زمین پر ایک شخص ایسا ہے جس کو جلسہ اور اجتماع سے کوئی دل چسپی نہیں تو میں سمجھوں گا کہ یقیناً وہ میں ہی ہوں۔ اگر زمین پر کوئی ایک شخص ایسا ہو جس کی یہ تمنا ہو کہ وہ نہ کچھ بولے اور نہ کچھ لکھے بلکہ فطرت کی تنہائیوں میں گم ہو جائے تو مجھے یقین ہے کہ وہ میں ہی ہوں گا۔ مجھے اس میں ذرا ابھی شبہ نہیں کہ میری ان باتوں کو زمین و آسمان سن رہے ہیں اور قیامت میں وہ گواہی دیں گے کہ خدا یا تیرے ایک عاجز بندے نے جو کچھ کہا تھا بالکل سچ کہا تھا۔
بخدا اس چیز نے میری تنہائیوں کو توڑا، جس چیز نے مجھے مجبور کیا کہ میں اپنے خون کو سیاہی کروں اور اپنی بے زبانی کو زبان بناؤں وہ صرف یہ احساس تھا کہ جو اصل بات ہے وہی ان کہی پڑی ہوئی ہے۔ خدا کے نام پر ہنگامے جاری ہیں مگر کوئی خدا کے گیت گانے والا نہیں۔ خدا کے نغمے گار ہی ہیں مگر انسان خدا کے نام پر دوسروں کی کبر یائی کا چرچا کرنے میں مشغول ہے۔ سورج خدا کی روشنی بکھیرتا ہے مگر انسان کے پاس اپنے جھوٹے چراغوں کا بازار لگانے کے سوا اور کچھ نہیں۔ دین کے نام پر بے شمار سرگرمیاں نظر آتی ہیں مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں نے دین اس کو سمجھا ہے کہ لفظی طلسمات کی نمائش کریں اور اس پر خدا کا بورڈ لگا دیں۔ اپنی ذات کا جھنڈا بلند کریں اور اس پر اعلاء کلمۃ اللہ کا طغرا لکھ دیں۔ اپنے دنیوی مفادات کی تجارت کریں اور اس کو آخرت کا عنوان دے دیں۔
بخدا میری کمزور زبان اس قابل نہیں کہ وہ بولے ، میری بوڑھی ہڈیوں میں یہ طاقت نہیں کہ میرے کمزور قدموں میں اتنی جان نہیں کہ وہ چل کر کسی کے پاس پہنچے۔ مگر جس آدمی کا دل غم سے پھٹ رہا ہو وہ اپاہج ہو کر بھی گھٹتا ہے۔ وہ بے زبان ہو کر بھی چیخنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہتر جانتا ہے کہ میں اس زمین کا وہ کمزور ترین انسان ہوں جس کو اس کے دل کے کرب نے مجبور کر دیا ہے کہ وہ چلے اور اس کے غم کے بوجھ نے اس کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ بولے۔
میرے دوستو ، آپ ایک لمبا جغرافی سفر طے کر کے یہاں آئے ہیں۔ اس کے لئے ہم یقیناً آپ کے شکر گز ار ہیں۔ مگر ابھی آپ کو ایک فاصلہ اور طے کرنا ہے۔ یہ روحانی فاصلہ ہے جب تک آپ اس دوسرے فاصلہ کو طے نہ کریں ہمارا آپ کا یہاں آنا صرف انسانی ڈھانچوں کا آنا رہے گا ، وہ روحوں کا آنا نہیں بن سکتا۔
دوستو ، جو کچھ مجھے کہنا ہے اس کو سننے کے لئے کان نہیں بلکہ دل درکار ہیں۔ مجھے بولنا ہے اس کو سمجھنے کے لئے زبان دانی نہیں بلکہ حقیقت شناسی مطلوب ہے۔ جو بات میں آپ تک پہنچانا چاہتا ہوں اس کو آپ تک پہنچنے کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ میرے اور آپ کے درمیان ہوا کی لہریں ہوں جو میرے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ کو آپ تک منتقل کر دیں۔ یہ بات تو اتنی نازک اور اتنی لطیف ہے کہ وہ صرف ان دیکھے روحانی تاروں ہی پر منتقل ہوتی ہے۔ ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ان لوگوں میں سے بنائے جو کان کے بجائے دل سے سنتے ہیں۔ جو لغت اور زبان کے بجائے حقائق کی روشنی میں باتوں کو سوچتے ہیں۔
بجلی کا بلب ہر شخص اپنے کمرہ میں لٹکا سکتا ہے مگر اسی شخص کا بلب روشن ہوتا ہے جس نے اپنے بلب اور پاور ہاؤس کے درمیان ربط قائم کر رکھا ہو ، جس نے اپنے بلب کو پاور ہاؤس سے جوڑ لیا ہو۔ یہی معاملہ حقیقتوں کے دل نشین ہونے کا بھی ہے۔ ان باتوں کو وہی لوگ سمجھیں گے جو انسانوں کی عظمت کے بجائے خدا کی عظمت میں جیتے ہوں ۔ جو دنیا کے بجائے آخرت کو اپنا مرکز تو جہ بنائے ہوئے ہوں۔ جو دکھائی دینے والی حقیقتوں سے زیادہ ان حقیقتوں کو اہمیت دیں جو موجودہ آنکھوں سے کسی کو دکھائی نہیں دیتیں۔
آئینہ کے سامنے آپ کوئی چیز رکھیں تو آئینہ میں عین وہی چیز دکھائی دے گی جو اس کے سامنے رکھی گئی ہے۔ مگر الفاظ کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ کوئی آدمی الفاظ ہی کے ذریعہ اپنی بات دوسروں تک مگر الفاظ کا ذریعہ بے حد ناقص ذریعہ ہے۔ آدمی کہتا کچھ ہے اور سمجھنے والا اس کو کچھ سمجھ لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سننے والا کسی بات کو اپنے ذہن سے سنتا ہے نہ کہ سنانے والے کے
ہائی اسکول کے ایک طالب علم کا لطیفہ ہے۔ جس زمانہ میں اس کا امتحان تھا اسی زمانہ میں اس
کے شہر میں ایک فلم چل رہی تھی جس کا نام تھا دو بدن ۔ طالب علم نے اس فلم کو کئی بار دیکھا تھا۔ کے بعد اس کا امتحان ہوا۔ امتحان میں اس کے فارسی کے پرچہ میں ایک سوال تھا کہ دویدن کا مطلب طالب علم کے ذہن پر چونکہ دو بدن کا لفظ گھوم رہا تھا۔ اس نے دویدن کو دو بدن پڑھ لیا اور دو بدن نامی فلم کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا وہ اس کے جواب میں لکھ ڈالا۔ یہی معاملہ دین کے بارہ میں بھی ہوتا ہے۔ اس کی ایک مثال لیجئے ۔ ایک بزرگ نے پیغمبروں کے مشن کا یہ تصور قائم کیا کہ وہ حکومت پر قبضہ کر کے مکمل قانونی نظام قائم کریں ۔ اس ذہن کے تحت انھوں نے سورہ اعراف پڑھنی شروع کی۔ یہاں تک کہ وہ اس مقام پر پہنچے جہاں موسیٰ اور فرعون کا مکالمہ درج ہوا ہے۔ ان کو نظر آیا کہ موسیٰ کے جواب میں فرعون مصر یہ جملہ کہہ رہا ہے۔ ان یخرجکم من ارضکم (وہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری زمین سے نکال دے) یہ جملہ لے کر مذکورہ بزرگ نے فوراً یہ تقریر شروع کر دی کہ موسیٰ کا مشن یہ تھا کہ فرعون کو مصر کے تخت سے ہٹا کر اس پر قبضہ کریں اور مصری زندگی کے تمام شعبوں میں خدا کے مکمل قانون کو نافذ کریں۔
یہ استدلال سراسر بے بنیاد تھا۔ کیونکہ موسیٰ کا مشن موسیٰ کے کلمہ سے معلوم ہوگا نہ کہ فرعون کے کلمہ سے ۔ پھر آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خصوصی مدد سے فرعون کو، اس کے لشکر کو اور اس کی تمام طاقت کو سمندر میں غرق کر دیا۔ اس کے بعد مصر میں موسیٰ کے لئے میدان بالکل صاف تھا ۔ نہایت آسانی سے مصر کے دارالسلطنت میں داخل ہو کر ملک کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے سکتے تھے۔ حضرت موسیٰ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس وہ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقہ میں چلے گئے قرآن میں جو لفظ لکھا ہوا تھا وہ ” دویدن “ تھا مگر پڑھنے والے نے اپنے ذہنی رجحان کی وجہ سے اس کو ” دو بدن “ پڑھ لیا۔
غالباً دس سال پہلے کی بات ہے۔ مجھے مالیگاؤں کے ایک مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں تقریر کے لئے بلایا گیا۔ کافی بڑا اور سجا ہوا پنڈال تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ شامیانہ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں جب مائک کے سامنے آیا تو میری زبان سے نکلا ؛ ”میں تقریر نہیں کروں گا بلکہ بے تقریر پیش کروں گا“۔ یہ سن کر منتظمین اور سامعین کے اندر عجیب بے چینی پیدا ہو گئی۔ وہ سمجھے کہ میں واقعہ تقریر نہیں کروں گا بلکہ تقریر کے بغیر بیٹھ جاؤں گا۔ یہ دیکھ کر میں نے دوبارہ
کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں سرے سے تقریر نہیں کروں گا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ میں کہوں گا وہ عام معنوں میں کوئی تقریر نہیں بلکہ ایک بے تقریر ہوگی۔
آج بھی میں اپنے ذہن میں اسی قسم کی کیفیت محسوس کر رہا ہوں۔ میرے پاس جو کچھ کہنے کے لئے ہے وہ ایک ''بے تقریر‘‘ ہے پھر کیسے ان لوگوں کو مطمئن کیا جائے جو اس چیز کو سننے کے لئے اجتماعات میں آتے ہیں جس کو تقریر کہا جاتا ہے۔ آہ ، ایک ایسا اجتماع کیسے کیا جائے جو بے اجتماع ہوتا ہے۔ ایک ایسی بات کیسے کہی جائے جو کہنے میں نہیں آتی۔ حق یہ ہے کہ جہاں الفاظ ختم ہو جائیں وہاں سے معانی کا آغاز ہوتا ہے۔ جہاں زبان گنگ ہو جائے وہاں سے بات شروع ہوتی ہے۔ پھر کیسے وہ بات کہی جائے جو لفظوں میں نہیں سمائی۔ کیسے وہ حقیقت کھولی جائے جس کو کھولنے کی طاقت انسان کے
میرے دوستو ، یہ کوئی اجتماع اور تقریر کا معاملہ نہیں۔ یہ تو دل کے ساز پر ربانی نغمہ چھیڑنے کا معاملہ ہے۔ دنیا کا نغمہ مادی ساز کے تاروں پر چھڑتا ہے ہر گیت کار دکان سے ایک ساز خرید کر اپنے راگ فضا میں بکھیر سکتا ہے اور لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ اس کو ہر کان میں داخل کر سکتا ہے۔ آخرت کا نغمہ بازار سے خریدے ہوئے ساز پر نہیں چھڑتا۔ وہ تو دل کے ساز پر چھڑتا ہے۔ کا حال یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے دل کے ساز کو اپنے سینہ کے اندر بند کئے ہوئے ہے۔ پھر وہ نغمہ کیسے چھیڑا جائے جو صرف دل کے چھپے ہوئے تاروں پر چھڑتا ہے۔ وہ ساز کیسے بجایا جائے جو معانی کی زبان میں بجتا ہے اور روح کے کانوں سے سنا جاتا ہے۔
افراد کی سطح پر ہر زمانہ میں کچھ اللہ والے ہوتے ہیں۔ مگر اجتماعی سطح پر حقیقی اسلامی انقلاب تاریخ میں صرف ایک ہی بار پیش آیا۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ تاریخ میں ایک ہی بار یہ واقعہ ہوا کہ انسانوں کی ایک جماعت نے اپنے دل حق کے حوالے کر دئے۔ انھوں نے اپنے سینہ کا ڈھکن کھول دیا کہ اس کے تاروں کو چھیڑا جائے۔ تاکہ ان کی فطرت کے ساز پر حق کا نغمہ گایا جا سکے۔ وہی وہ لوگ ہیں جن کے بارہ میں خدا نے کہا کہ رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ ورنہ تاریخ کے ہر دور میں تو یہی کچھ پیش آتا رہا جس کی تصویر اس آیت میں کھینچی گئی ہے ــــــ يا حسرة على العباد ما ياتيهم من رسول الا كانوا به يستهزؤن
ہمارے سامنے جو کام ہے وہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔ یہ تاریخ کا سب سے زیادہ نازک اور سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ ہم ان روحوں کو رکوٹ کروٹ کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں خدا کی عدالت بن سکیں۔ خدا چاہتا ہے کہ وہ دنیا میں اپنی ترازو کھڑی کرے۔ مگر خدا کا ترازو لوہے اور لکڑی سے نہیں بنتا۔ وہ زندہ روحوں اور تڑپتے ہوئے دلوں کے ذریعہ بنتا ہے۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کے اوپر لوگوں کی سرکشی کو تولا جائے۔ جن کے آئینہ میں لوگوں کی جھوٹی دینداری کو بے نقاب کیا جائے۔ جن کی کسوٹی پر ظالم کا ظالم ہونا ثابت کیا جائے۔ ترازو اس وقت ترازو بنتا ہے جب کہ وہ اپنے پلہ پر من اور کوئنٹل کا بوجھ لادنے کو برداشت کرے۔ اسی طرح آپ بھی اس وقت خدا کے ترازو بن سکتے ہیں جب کہ آپ ایک طرفہ طور پر دنیا کا بوجھ اٹھانے کے لئے تیار ہو جائیں یہ اپنے آپ کو حالات کے کولھو میں ڈال کر پس اٹھنا ہے۔ پھر کون ہے جو اپنے بیج کو دنیا کی مٹی میں دفن کرے تاکہ خدا اس کو آخرت میں ہرے بھرے درخت کی صورت میں اگائے۔ خدا کی ترازو بننے کا انعام بہت بڑا ہے۔ خدا آخرت میں فرشتوں کو اپنی ترازو بنائے گا مگر دنیا میں تو بہر حال انسان ہی اس کی ترازو بن سکتے ہیں۔ اس عمل کا اخروی انجام تو یقینی طور پر معلوم ہے اور وہ جنت ہے۔ مگر دنیا کا انجام معلوم نہیں۔ وہ حضرت یحییٰ اور حضرت مسیح جیسا بھی ہو سکتا ہے اور حضرت موسیٰ اور حضرت محمد جیسا بھی۔
دوستو، اسلام کی ایک نئی تاریخ بنانی ہے۔ یہ اجتماع اس لئے کیا گیا ہے کہ ہم یہ جانیں کہ آپ میں سے کون ہے جو اس مشکل کام میں ہمارا ساتھ دیتا ہے یہ من انصاری الی اللہ کی پکار ہے، اور اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ میں سے کون ہے جو یہ کہنے کے لئے تیار ہو کہ نحن انصار اللہ اسلام کی نئی تاریخ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی قلعہ پر اسلام کا جھنڈا لہرانے لگے یا کسی تخت پر مسلم بادشاہ بیٹھا ہوا دکھائی دے۔ اسلام کی نئی تاریخ کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کی بگڑی ہوئی تصویر کو دوبارہ صاف کیا جائے اور اس کو اس کی صحیح صورت میں دنیا کے سامنے لایا دنیا کی دوسری قومیں ہمارے لئے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں مگر ہم نے ان کو فریق بنا لیا ہے اسلام آخرت کی صراط مستقیم ہے مگر اس کو دنیوی اور قومی جھگڑوں کا عنوان بنا دیا گیا ہے۔ کا دین اس لئے اترا کہ اس کو دوسری قوموں تک پہنچایا جائے مگر ہم نے خدا کے دین کو اپنی
قومی سیاست کا ضمیمہ بنالیا۔ اس صورت حال کو بدلنا ہے۔ اسلام کو آخرت کی صراطِ مستقیم کے طور پر دنیا کے سامنے لانا ہے۔ مسلمانوں اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کے رشتہ کو بحال کرنا ہے۔
آج جو صورت حال ہے اس نے اس کام کو وقت کا مشکل ترین کام بنادیا ہے۔
۱۹۴۵ء میں تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ ہوا کہ جاپان کے اوپر دو ایٹم بم گرایا گیا جس نے جاپان کی معاشیات کو بالکل برباد کر دیا۔ اس کے بعد جاپانی بادشاہ ہیرو ہٹو نے ریڈیو پر ایک تقریر کی۔ اس مختصر تقریر میں اس نے کہا :
ہمیں ایک ناقابل برداشت کو برداشت کرنا ہے۔ تاکہ ہم جاپان کی اگلی نسلوں کی تعمیر نو کر سکیں۔
کسی بھی چیز کی نئی تاریخ ہمیشہ قربانی کی قیمت پر بنتی ہے ۔
قرآن میں بہت سے مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ اے ایمان لانے والو، میری مدد کرو۔ کے بدلے میں تم کو میں بہت بڑا انعام دوں گا دیا ایھا الذین امنوا ان تنصر اللہ ينصركم ويثبت اقدامکم ، محمد ۷ ) من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضـٰعفه له ، حدید ۱۱) خدا تمام زمین و آسمان کا مالک ہے ہر قسم کی طاقتیں اسی کے پاس ہیں۔ وہ کسی کام کے لئے بھی کسی کا محتاج نہیں۔ کے باوجود یہ کہنا کہ میری مدد کرو ، مجھے قرض دو ، ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی اتھاہ سلطنت میں کوئی گوشہ ایسا بھی ہے جہاں خدا کو اپنے بندوں کی مدد کی ضرورت ہے۔ اور ظاہر ہے کہ کسی بندے کی اس سے بڑی خوش قسمتی نہیں ہو سکتی کہ وہ اپنے رب کے لئے استعمال ہو۔ اس کا وجود اپنے خدا کے کسی کام میں آجائے۔
یہ خدا کا کام کیا ہے جس کی ادائیگی کے لئے اسے بندوں کی ضرورت ہے۔ یہ اعلان حق کا کام اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کو ایک خاص منصوبہ کے تحت بنایا ہے۔ یہ منصوبہ امتحان کا منصوبہ ہے یعنی لوگوں کو پیدا کر کے انھیں آزاد ماحول میں رکھنا اور پھر دیکھنا کہ کون خدا کا تابع دار بن کر رہتا ہے اور کون اس کا سرکش بن جاتا ہے۔ اس کے بعد خدا دوسری کامل دنیا بنائے گا جہاں اپنے وفادار بندوں کو جنت میں داخل کرے گا اور سرکش لوگوں کو جہنم میں دھکیل دے گا۔
منصوبہ کا تقاضا تھا کہ پورے معاملہ کو غیب میں رکھا جائے۔ اگر خدا اور فرشتے اور جنت اور دوزخ سب سامنے ہوں تو پھر امتحان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
خدا نے اپنے منصوبہ کو اشارات (آیات) کی زبان میں پوری کائنات میں پھیلا دیا ہے کائنات کی ہر چیز حد درجہ خدائی کنٹرول میں رہ کر بتا رہی ہے کہ یہاں انسانوں کو بھی اس طرح پابند زندگی گزارنا ہے جس طرح ساری کائنات پابند نظام پر چل رہی ہے۔ اسی کے ساتھ انسان کی فطرت میں خیر و شر کی تمیز رکھ دی گئی ہے۔ جو ہر وقت خاموش زبان میں اندر سے بولتی رہتی ہے کہ وہ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔
تاہم فطرت اور کائنات میں ہدایت کے اس انتظام کو خدا نے کافی نہیں سمجھا۔ کیوں کہ وہ انتہائی مکمل ہونے کے باوجود بہر حال خاموش زبان میں تھا۔ خدا نے چاہا کہ نطق کی زبان میں بھی انسان کو حقیقت واقعہ سے باخبر کر دیا جائے تاکہ فیصلہ کے دن کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ رہے کہ آپ ہم کو ایسے جرم کی سزا دے رہے ہیں جس سے ہمیں باخبر نہیں کیا گیا تھا۔ خدا کی طرف سے انسان کے اوپر آخری طور پر اتمام حجت ہو جائے (النساء ۱۶۵)
یہی وہ مقام ہے جہاں خدا کو انسان کی ضرورت ہے۔ خدا نے اپنے امتحانی منصوبہ کی وجہ سے ایسا کیا ہے کہ اپنی وسیع سلطنت کے ایک خاص گوشہ میں سارا اختیار رکھتے ہوئے اپنے کو بے اختیار کر لیا ہے۔ وہ زبان رکھتے ہوئے یہاں خاموش ہے۔ عیاں ہوتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو یہاں چھپا دیا ہے۔ ہر قسم کی قدرت رکھتے ہوئے اس نے اپنے آپ کو بے قدرت کر لیا ہے۔ اب خدا کو کچھ انسان درکار ہیں جو لوگوں کے سامنے خدا کے نمائندے بن کر کھڑے ہوں۔ جو خدا کی زبان سے بولیں ۔ جو چھپی ہوئی حقیقتوں کو اس طرح نمایاں کریں کہ وہ لوگوں کو کھلی ہوئی حقیقتوں کی طرح نظر آنے لگیں ۔ وہ خدا کی جنت اور جہنم کو بے پردہ کر کے لوگوں کے سامنے رکھ دیں۔ یہ کام کوئی لاؤڈ اسپیکر سے اعلان کرنے کا کام نہیں ہے۔ یہ خدائی مشن میں کامل درجہ کی شمولیت چاہتا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ آدمی اللہ کے کام کو اپنا کام بنائے۔ وہ زندگی اور مال کی ہر قیمت دینے کے لئے تیار ہو جائے۔ وہ اپنے آپ کو اتنا زیادہ اس میں شامل کرے کہ جو حقیقتیں کا ئناتی سطح پر غیب میں ہیں وہ اس کی ذات کی سطح پر مشہور و واقعہ بن جائیں۔
دہلی میں کچھ لوگ ہمارے یہاں آئے۔ انہوں نے الرسالہ کی بہت تعریف کی۔ پوچھا کہ الرسالہ کی کیا چیز آپ کو پسند آئی۔ انہوں نے کہا کہ الرسالہ میں سائنسی مضامین ہوتے ہیں اور ہم کو پسند ہے کہ اسلام کو سائنسی انداز میں پیش کیا جائے۔ کسی نے کہا کہ الرسالہ میں چھوٹے چھوٹے واقعات سے بڑے بڑے سبق نکالے جاتے ہیں۔ کسی نے کہا کہ الرسالہ میں اقتصادی تعمیر کو بہت مؤثر انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ یہ باتیں الرسالہ میں ہوتی ہیں۔ مگر وہ ضمنی اور اضافی ہیں۔ باتیں الرسالہ کا مشن نہیں ہیں۔ ہمارا مقصد اسلام کا سائنسی مشاعرہ کرنا نہیں ہے۔ اور نہ کس قسم کے پر لطف ادب کا بازار لگانا ہے۔ الرسالہ کا مشن اس سے کہیں زیادہ آگے ہے۔ ایسے لوگوں کے متعلق میں کہوں گا کہ انھوں نے ابھی تک الرسالہ کو نہیں پڑھا۔ نے اس کو پڑھا ہوتا تو وہ کہتے کہ الرسالہ میں قیامت کی کڑک ہوتی ہے۔ اس میں حشر ونشر کی ہولناکیاں ہوتی ہیں۔ اس میں جنت اور جہنم کے مناظر ہوتے ہیں۔ اس میں خدائے ذو الجلال کی تجلیاں ہوتی ہیں۔ الرسالہ کی اصل چیزیں یہی ہیں۔ اسی شخص نے الرسالہ کو پڑھا ہے جس نے الرسالہ کو اس حیثیت سے پایا ہے۔
جیسا کہ اعلان کیا گیا تھا ، یہ اجتماع الرسالہ کے مشن سے اتفاق رکھنے والوں کا اجتماع جو لوگ الرسالہ کو گہرائی کے ساتھ پڑھتے رہے ہیں ان کے لئے یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ اس اجتماع کا مقصد اور اس کی نوعیت کیا ہے۔ تاہم آغاز ہی میں صاف لفظوں میں میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ یہ اجتماع ہم نے اس لئے نہیں کیا ہے کہ ہم یہاں کوئی سائنسی مشاعرہ کریں یا ادبی اور تقریری کرتب کے نمونے آپ کے سامنے پیش کریں۔ اس قسم کی مصروفیت کو نہ ہم اپنے لئے جائز سمجھتے اور نہ آپ کے لئے۔ یہ اجتماع تو در حقیقت صرف اپنے جائزہ کے لئے کہا گیا ہے۔ اس کا اگر کوئی عنوان ہو سکتا ہے تو وہ حدیث کے الفاظ میں صرف یہ ہے کہ ــــــ حاسبو انفسکم قبل ان تحاسبوا ( اپنا حساب کر لو قبل اس کے کہ تمہارا حساب کیا جائے) عقل مند انسان وہ ہے جو خود ہی اپنا جائزہ لے لے۔ کیوں کہ جس کا جائزہ قیامت میں لیا جا ے گا وہ ہلاک ہوا۔ فمن نوقش فقد هلك)
ایسے بے شمار لوگ ہیں جنہوں نے انگریزی اور فرانسیسی فوجوں کو دیکھا کہ وہ مسلم دنیا کو روندہی ہیں توان کا خون کھول اٹھا اور وہ ان سے اور ان کے حامیوں سے لڑنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔ مگر عین ایسے انسانوں کی تلاش ہے جو شیطان کی فوج کو دیکھ کر تڑپیں اور لوگوں کو جہنم میں جاتا ہو ا دیکھ کر بے قرار ایسے افراد سے زمین بھری ہوئی ہے جو مسلم قوم کے خلاف غیر قوموں کی کارروائیوں کو دیکھ کر بھڑک اٹھے ہوں۔ مگر ہم ان انسانوں کو ڈھونڈنے نکلے ہیں جو ہواؤں کو دیکھ کر تڑپیں۔ جن کو درختوں کا منظر بے قرار کر دیتا ہو ۔ جو زمین و آسمان کو دیکھ کر مبہوت ہو گئے ہوں۔ لوگ انسانی واقعات میں ہم ان انسانوں کو تلاش کر رہے ہیں جو خدائی واقعات میں گم ہو سکیں۔ لوگوں کو دنیا کی محرومی کا احساس متحرک کئے ہوئے ہے۔ ہم کو وہ انسان درکار ہیں جن کو آخرت کی محرومی کے احساس نے دیوانہ بنا رکھا ہو۔
الرسالہ کی پکار من انصاری الی اللہ کی پکار ہے۔ مگر یاد رکھئے کہ یہ ایک قربانی کا راستہ ہے یہاں پانا نہیں کھونا ہے۔ یہ دنیا کو برباد کر کے آخرت کی تعمیر کرنا ہے۔ یہ اپنے بیج کو فنا کرنا ہے تاکہ اس کے اندر سے خدا کا شاداب درخت نکلے۔ یہ اپنے کومٹی میں ملانا ہے تاکہ اس کے اندر سے خدا کا باغ یہ دنیا ایسی دنیا ہے جہاں ٹوٹے ہوئے دلوں کی آواز ہی خدا کے گیت میں ڈھلتی ہے۔ جنت ان لوگوں کا انتظار کررہی ہے جو اس خدائی کام کی طرف بڑھیں۔ جو اپنی بربادی کی قیمت پر خدا کے گھر کی تعمیر کریں۔ میرے دوستو، اس کام کی طرف آگے بڑھو، قبل اس کے کہ خدا کا فرشتہ قیامت کا بگُل بجا دے اور کسی کے لئے نہ کچھ کرنے کا موقع باقی رہے اور نہ انعام خداوندی میں حصہ دار بننے کا۔
میرے دوستو، اللہ کو ایک باغ اگانا ہے ، جنت کا باغ۔ اس کے لئے اللہ تعالی کو کچھ درخت درکار ہیں جو خدائی معیار پر پورے اتریں اور خدائی باغ میں لگائے جاسکیں۔ قرآن میں مومن کی مثال ہرے بھرے تناور درخت سے دی گئی ہے اور اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ اصلھا ثابت وفرعها في السماء (ابراهیم) دنیا میں اگنے والا درخت مومن کی زندگی کی مادی عام درخت زمین سے نکلتا ہے اور آسمان کی طرف بلند ہو کر پھیلتا ہے۔ اسی طرح مومن جس ربانی درخت کا نام ہے وہ دنیا میں اگتا ہے اور اس کو آسمان میں لگایا جاتا ہے۔
اسلام کا معاملہ کوئی نسلی معاملہ نہیں اور نہ وہ چھوتتّر کا معاملہ ہے۔ اسی طرح اسلام کا معاملہ سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور تقریروں اور تحریروں کا سیلاب بہانے کا نام بھی نہیں ہے۔ کا معاملہ یہ ہے کہ آدمی اپنے وجود کو بیج کی صورت میں اس دنیا میں دفن کرنے کے لئے تیار ہو۔ زمین میں دفن ہونے والا بیج ہی اگ کر درخت بنتا ہے۔ اسی طرح دفن ہونے والی روح ہی دوبارہ زندگی پا کر سر سبز و شاداب بنتی ہے۔
اسلام اپنے آپ کی اور خدا کی دریافت ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ دریافت کیسی عجیب اور کیسی لذیذ چیز ہے۔ ایک دریافت کو پاکر ارشمیدس ننگا حوض سے نکل کر بھاگا۔ دریافت کو پا کر اصمعی بھوکا خیمہ سے نکل کر صحرا کی طرف دوڑ پڑا۔ اسلام اس بات کی دریافت ہے کہ میں کیا ہوں اور خدا کیا ہے۔ میں عاجز مطلق ہوں اور خدا قادرمطلق۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کی دریافت کا نام اسلام ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں سارا اختیار خدا کی طرف ہے اور ساری بے اختیاری ہماری طرف۔ مگر اس حقیقت واقعہ پر انسانی اختیار کا پردہ ڈال دیا گیا ہے۔ زندگی کے واقعات بظاہر ہمارے کئے سے ہو رہے ہیں مگر وہ حقیقۃً خدا کے کرنے سے ہو رہے اسی پردہ کو پھاڑنے کا نام ایمان ہے۔ جس کو اس قسم کا ایمان حاصل ہوتا ہے وہ اس کے بعد بالکل دوسرا انسان بن جاتا ہے۔