Al-Risala · June 1985

دوسرا سفر

Al-Risala, June 1985, pp. 38–31

By Maulana Wahiduddin Khan

لاہور کے لئے میرا دوسرا سفر فیروز پور کے راستہ سے مئی - جون ۱۹۴۷ء میں ہوا۔ میں نے جو سفر کیا وہ ایک ہی ملک کے ایک حصے سے اس کے دوسرے حصے میں جانا تھا۔ کسی ’’سرحد‘‘ کا وجود نہ تھا جہاں چیکنگ کی ضرورت پیش آئے۔ مگر ۱۹۴۷ء میں تاریخ بدل

اب میں دہلی سے لاہور کے لیے روانہ ہوا تو میں ایک ملک سے دوسرے ملک میں جا رہا تھا چنانچہ سرحد پر زبر دست چیکنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

ہندوستانی چوکی پر نہ جاتے ہوئے کوئی خاص زحمت پیش آئی اور نہ آتے ہوتے۔ چوکی پر ایسی سخت پریشانی پیش آئی کہ میں نے سوچا کہ میرے جیسے آدمی کو پاکستان جانا ہی نہیں

واپسی میں پاکستانی چوکی پر متعین آدمی کا ظالمانہ رویہ اپنی آخری حد کو پہنچ گیا۔ میں جون کی تیز دھوپ میں کھلے میدان میں کھڑا ہوا تھا۔ خدا اور اسلام کا کوئی بھی حوالہ اس آدمی کے لیے بے اثر ثابت ہو رہا تھا۔ جو میری تمام کتابیں اور اوراق بکھیر کر میز کی دوسری طرف مجھے اس طرح فاتحانہ انداز میں دیکھ رہا تھا کہ میں کوئی مجرم ہوں۔ اس کا کھلا مطالبہ تھا کہ جو کچھ پیسہ تمہارے پاس ہے وہ سب ہمارے حوالے کرو۔ ورنہ ہم جانے نہیں دیں گے۔

میں بے بس کھڑا ہوا تھا کہ اچانک ایک تدبیر میرے ذہن میں آئی۔ جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا کہ پاکستان کی سمت میں ایک خیمہ لگا ہوا ہے جس میں ایک فوجی افسر ڈیوٹی پر رہتا ہے۔ ہوئے اتفاقاً میری اس سے کچھ بات چیت ہو گئی تھی۔ جب میں نے دیکھا کہ تفتیش کا آدمی مجھ کو چھوڑ نہیں رہا ہے تو میں نے کہا ” یہ میجر صاحب مجھ کو جانتے ہیں کہئے تو ان کو بلا دوں “ اس جملہ نے جادو کا کام کیا اس کو سنتے ہی فی الفور آدمی کا رویہ بدل گیا۔ اس نے میرے بیگ سے ایک سادہ ڈائری نکالی اور کہا کہ جائیے۔

کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو خدا سے اتنا بھی نہیں ڈرتے جتنا وہ ایک فوجی افسر سے ڈرتے

لاہور پہنچ کر میں آٹو رکشا کے ذریعہ مولانا امین اصلاحی کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ پہنچ کر ڈرائیور نے کچھ لوگوں سے پوچھا ” امین اصلاحی کا گھر کون سا ہے “ مگر لوگ سمجھ نہ سکے۔ کہا ” امین احسن مودودی “ کسی نے کہا ” ابو الاعلیٰ اصلاحی “ لوگ نہ پوری طرح مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کو جانتے تھے اور نہ پوری طرح مولانا امین اصلاحی کو۔

یہ وہ وقت تھا جب کہ جنرل یحییٰ خاں کی حکومت کے تحت ابھی حال میں جماعت اسلامی پاکستان

نے الیکشن میں ناکام حصہ لیا تھا۔ لاہور کی دیواروں پر اب بھی ایسے پوسٹر لگے ہوئے تھے جو اگرچہ پھٹ چکے تھے، تاہم ان پر جلی حرفوں میں یہ الفاظ لکھے ہوئے پڑھے جاتے تھے :

ان شاء اللہ جیتے گی ، جماعت اسلامی جیتے گی۔

جدید اسلامی تاریخ کا یہ ایک عجوبہ ہے وہ لوگ جن کا تعارف ملک کے صرف ۵ فی صد تعلیم یافتہ طبقہ میں ہے وہ الکشن میں کودتے ہیں جہاں جاہل عوام کی اکثریت کی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ بڑا عجوبہ یہ ہے کہ ان کا یہ بے معنی اقدام جب انہیں ناکامی سے دوچار کرتا ہے تو وہ فوراً یہ شور کرنے لگتے ہیں کہ الکشن میں دھاندلی ہوئی ہے۔ ان کے اندر نہ اتنی عقل ہے کہ سیاسی معاملات کو سمجھیں اور نہ اتنا حوصلہ ہے کہ اپنی شکست کا اعتراف کریں۔

لاہور میں میری ملاقات خاص طور پر مولانا مودودی سے ہوئی وہ کافی کمز ور ہو چکے تھے چھڑی ٹیک کر بہت آہستہ آہستہ چلتے تھے۔ پہلی ملاقات ان کے مطالعہ کے کمرہ میں ہوئی ۔ مجھے یہ دیکھ کر سخت تعجب ہوا کہ ان کا مطالعہ کا کمرہ ایک ایسا کمرہ ہے جہاں روشنی صرف بجلی کے بلب کے ذریعہ حاصل کی جاتی راقم الحروف کا ذوق اس معاملہ میں یکسر مختلف ہے۔ میں لکھنے پڑھنے کا کام ایسے کمرہ میں کرنا پسند کرتا ہوں جہاں سورج کی روشنی پوری طرح آتی ہو۔ اس میں صرف رات کا استثنا ہے۔ رات کے وقت مصنوعی روشنی ایک ضرورت بن جاتی ہے۔

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی سے ملاقات ہوئی تو ان کو میں نے الجمعیتہ ویکلی کا ایک شمارہ (۲۷ نومبر ۱۹۰۷ء) اس کو لیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ” میں اس کو پڑھوں گا۔ آپ کی کوئی چیز ملتی ہے تو میں ضرور اس کو پڑھتا ہوں“۔

الجمعیتہ کے اس شمارہ میں ایک مضمون تھا جس میں مسلم ممالک میں اسلامی احیار کے امکانات پر گفتگو تھی ۔ اگلی ملاقات میں اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے مولانا مودودی نے کہا ” آپ جیسے لوگ مسلم ممالک کے بارہ میں کافی خوش فہم رہتے ہیں ۔ حالانکہ موجودہ مسلم ممالک میں اسلامی کام کے مواقع اس سے بھی کم ہیں جتنا غیر مسلم ممالک میں ہیں“۔

میں نے کہا کہ اس کی وجہ اسلامی تحریکوں کی کہ یہ نادانی ہے کہ وہ ملے ہوئے مواقع کا بیجا استعمال کرتی ہیں۔ مسلم ممالک کی موجودہ اسلامی تحریکوں نے اسلام کا ایسا تعارف کرایا ہے گویا کہ اسلام

حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی ایک تحریک ہے۔ ان بنا پر حکمران طبقہ اس کا مخالف ہو گیا اگر وہ سیاسی ٹکراؤ سے بچ کر کام کریں تو حکمران طبقہ ان کا تعاون کرے ۔ اور زبر دست کام ہونے لگے۔

واپسی کے بعد میں نے اپنی کتاب الاسلام کا دوسرا ایڈیشن دستی طور پر مولانا مودودی کے لئے یہ کتاب ان کو پہنچ گئی تھی اور اس کے ملنے کی اطلاع بھی مولانا مودودی کے دستخط سے مجھے بذریعہ ڈاک وصول ہوگئی تھی۔ اس خط پر 11 فروری ۱۹۷۹ کی تاریخ درج ہے اور حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں:

Printed page