Al-Risala · June 1985

خاکسار ابوالاعلیٰ

Al-Risala, June 1985, pp. 31–25

By Maulana Wahiduddin Khan

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے لاہور کی ملاقات میں سب سے زیادہ دل چسپی اس سے ظاہر کی کہ اخبار مسلم (دہلی) اور اخبار الجمعیتہ (دہلی) کے وہ قدیم شمارے انہیں حاصل ہو سکیں جو کہ ان کی ادارت میں شائع ہوئے تھے۔ ان کی فرمائش کے مطابق ہندوستان واپس آکر میں نے الجمعیتہ ویکلی میں اس کا اعلان شائع کیا تھا مگر وہ شمارے حاصل نہ ہو سکے۔ الجمعیتہ ویکلی ۲ جولائی ۱۹۷۱ء صفحہ ۳ پر ایک چوکٹے میں یہ اشتہار دیکھا جا سکتا ہے :

مندرجہ ذیل قدیم پرچے بہ قیمت درکار ہیں:

اخبار مسلم ۱۹۲۲ تا ۱۹۲۳ اخبار الجمعیتہ دسمبر ۱۹۲۴ تا دسمبر ۱۹۲۸ جن صاحب کے پاس مذکورہ فائل برائے فروخت موجود ہو وہ مطلع فرمائیں اور مطلوبہ قیمت بھی تحریر کریں۔

یہ اعلان مولانا مودودی ہی کی فرمائش پر کیا گیا تھا۔ اگر چہ عملاً مذکورہ پرچے دستیاب نہ ہو سکے۔ مولانا مودودی پہلے دن زیادہ تر اخبار مسلم اور اخبار الجمعیتہ کے مذکورہ فائل کے بارہ میں

بات کرتے رہے۔ وہ اگرچہ نہایت کمزور اور مریض تھے، تاہم انھوں نے اس موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کافی دلچسپی کا اظہار کیا۔

ملاقات سے پہلے مولانا مودودی کے رفیق خاص (غالباً رحمت الہی صاحب) نے کہا تھا کہ مولانا کی طبیعت بہت ناساز ہے۔ اس لئے ان سے کوئی اختلافی بات نہ چھیڑی جائے۔ کے وقت برابر میرے پاس بیٹھے رہے۔ جب میں باہر نکلا تو میں نے مذکورہ رفیق سے کہا کہ میں بعض امور پر بات کرنا چاہتا تھا مگر وہ نہ ہو سکی۔ انھوں نے دوبارہ وہی بات کہی کہ موجودہ حالت میں اختلافی امور پر بات کرنا مناسب نہیں ہے۔ کافی اصرار کے بعد وہ اس پر راضی ہوئے کہ میں جو بات کرنا چاہتا ہوں اس کا خلاصہ پیشگی طور پر لکھ کر انھیں دے دوں۔

میں نے وہیں بیٹھ کر ایک کاغذ پر چند سطریں لکھیں۔ اس تحریر کی نقل میرے پاس محفوظ نہیں ۔ مفہوم کے اعتبار سے وہ بات یہ تھی کہ ـــــــــــــ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ اس سے آپ نے قیاس کیا کہ پاکستان کے لئے مسلم لیگ نے جو مومنٹم پیدا کیا تھا اس کو آپ اپنی تحریک کے لئے استعمال چنانچہ آپ نے پوری طرح اپنی جماعت کو اس رخ پر ڈال دیا۔ مگر آپ کا یہ اندازہ صحیح یعنی اور عقلی طور پر ایسا ہونا نا ممکن ہے کہ کسی کی پیدا کردہ حرکت کو کوئی دوسرا شخص اپنے حق میں استعمال کرسکے۔ اس قسم کی کوشش کا انجام نا کامی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس لئے آپ کے لئے صحیح طریقہ یہ ہے کہ آپ الکشن اور مطالبہ نظام اسلامی جیسی سیاست کو چھوڑ کر دوبارہ وہی اصلاحی اور تدریجی انداز اختیار کریں جس پر آپ تقسیم سے پہلے عامل تھے۔

میری یہ تحریر مولانا مودودی کے حوالے کر دی گئی ۔ اور میں یہ کہہ کر واپس آگیا کہ کل میں دوبارہ ملاقات کروں گا اور اس موضوع پر براہ راست گفتگو کروں گا۔ اگلے دن میں عصر کی نماز کے وقت اے ذیل دار پارک ) پہنچا تو پہلے دن کے برعکس مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کا چہرہ بالکل بدلا ہوا تھا۔ وہ سخت برہم نظر آتے تھے۔ میں نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے رفیق خاص کے مشورہ پر عمل کیا اور مولانا کی ناسازی طبع کی بنا پر اختلافی مسئلہ پر گفتگو کئے بغیر واپس چلا آیا۔ عصر اور مغرب کی نمازیں میں نے ان کے ساتھ اچھرہ میں پڑھیں۔

۱۹۷۱ء میں جب میں ہندوستان سے پاکستان پہنچا تو مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے میں دوسرے

درجہ کے ایک ملک میں آگیا ہوں ۔ وہاں کی ہر چیز مجھے ہندوستان کے مقابلہ میں معمولی نظر وہاں کی ٹرین ، وہاں کی بسیں ، وہاں کے پارک ، وہاں کے مکانات ، سب نمایاں طور پر کمتر دکھائی وہاں کے اخبارات کا حال یہ تھا کہ میں نے ایک پاکستانی تعلیم یافتہ سے کہا کہ میری سزا کے لئے یہ کافی ہے کہ مجھے کسی مکان میں بند کر کے پابند کر دیا جائے کہ تم پاکستان کے اخبارات پڑھتے رہو۔ معمولی معمولی چیزیں مثلاً دروازہ کے بولٹ اور قلم کی سیاہی بھی چین کی بنی ہوئی نظر آئی ۔ تاہم ۱۹۸۵ کے سفر میں محسوس ہوا کہ پچھلے پندرہ سال میں پاکستان نے کافی ترقی کی ہے ۔ میں پہلے کے مقابلہ میں زیادہ بہتر حالات نظر آئے ۔

۱۹۷۱ کے سفر کی یادوں میں سے ایک یاد یہ ہے کہ ایک روز رات کا وقت تھا۔ میزبان کے ساتھ ان کے دو منزلہ مکان کی چھت پر کھڑا ہوا تھا۔ چاند کی چاندنی پوری آب و تاب کے ساتھ فضا میں پھیلی ہوئی تھی ۔ ہم دونوں خاموش قدرت کے اس منظر کو دیکھ رہے تھے ۔ میرے میزبان نے گہرے تاثر کے انداز میں کہا :

" یہی چاند تو ہندوستان میں بھی چمکتا ہوگا "

کیسی عجیب ہے وہ دنیا جہاں چاند کو ایک ملک سے لے کر دوسرے ملک تک چمکنے کی اجازت ہو مگر انسان کے لئے حد بندیاں کھڑی ہوئی ہوں ۔ چڑیاں آزادانہ طور پر ایک طرف سے دوسری طرف اڑ رہی ہوں مگر انسان ایک علاقہ سے دوسرے علاقہ میں جانا چاہے تو بے رحم سرحدی قوانین وہاں اس کا استقبال کرنے کے لئے موجود ہوں ۔ کتنا خوش قسمت ہے چاند ۔ اور کتنا بد قسمت ہے انسان ۔ آسٹریلیا کو چھوڑ کر تمام براعظموں (ایشیا، یورپ، افریقہ، امریکہ) ہر جگہ مجھے جانے کا اتفاق ہوا جب بھی میں کسی دوسرے ملک میں گیا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں ہندوستان سے مختلف ایک ملک میں آیا ہوں ۔ مگر ہندوستان سے پاکستان جانا گویا ہندوستان سے ہندوستان میں جانا ہے ۔ دونوں ملکوں میں اتنی زیادہ مشابہت ہے کہ یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ آدمی ایک ملک سے دوسرے ملک میں پہنچ گیا ہے۔ اس کے باوجود ہندوستان اور پاکستان کے ایئر پورٹ پر دونوں ملکوں کے مسافروں کی جتنی تفتیش کی جاتی ہے اتنی تفتیش شاید کسی بھی دوسرے ملک میں آنے جانے والوں کی نہیں کی جاتی۔

بنگلور میں تبلیغی جماعت کا اجتماع ۲۳-۲۵ فروری ۱۹۸۵ء کو ہوا۔ اس موقع پر الرساله اور اس کی مطبوعات کا اسٹال لگایا گیا۔ خدا کے فضل سے اسٹال کامیاب رہا۔ کافی لوگوں نے کتابیں دیکھیں اور خرید کر اپنے ساتھ لے گئے۔ ایک تعلیم یافتہ صاحب اسٹال پر آئے۔ وہ الرساله کے مشن سے پہلے سے واقف تھے۔ انھوں نے کہا کہ الرساله میرے گھر والوں کی غذا ہے۔ نے حاضرین کو مخاطب کر کے کہا۔ ”یہ کتابیں میں نے پڑھی ہیں۔ یہ کتابیں بندہ کو خدا سے ملانے والی ہیں۔ جو شخص بھی اپنا تعلق خدا سے جوڑنا چاہتا ہے اس کو یہ کتابیں ضرور پڑھنا چاہئے۔ میں اپنے بارہ میں آپ کو بتاتا ہوں کہ میں نے ان کتابوں کے ذریعہ حقیقی معنوں میں خدا کو پایا ہے۔ ۳۱ مارچ ۱۹۸۵ کی شام کو مرکز میں ماہانہ درسِ قرآن کا اجتماع ہوا۔ یہ اجتماع ہر مہینہ کی آخری اتوار کو نماز مغرب کے بعد ہوتا ہے۔ اس بار اخبار قومی آواز میں اس کا اعلان کر دیا گیا تھا۔ حاضرین کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی ۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر جو درس دیا اس کا ٹیپ مرکز میں محفوظ ہے۔

اسلامی مرکز اب خدا کے فضل سے اس حد تک معروف ہو چکا ہے کہ اس کا تذکرہ عالمی خبروں میں جگہ پانے لگا ہے۔ مثال کے طور پر الرسالہ کے ایک بیرونی قاری کا خط (۲۹ اپریل ۱۹۸۵) ہمیں موصول ہوا ہے۔ مکتوب نگار نے اپنے خط میں جو باتیں لکھی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے: Abdus Salam was listening to a Kuwaiti radio station the other day. They mentioned Maulana's book: الا سلام يتحدى during one of their talks: كما قال و حيد الدين خان في كتابه It seems that this book is very well known in the Arab world. ۱۳ اپریل ۱۹۸۵ کی شام کو گول مارکٹ (نئی دہلی) میں ایک اجتماع ہوا۔ صدر اسلامی مرکز نے اس موقع پر تعلیم یافتہ اصحاب کے سامنے ملی مسائل پر اظہار خیال کیا۔ ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے یہاں جو دے وہی پاتاہے، جو نہ دے اسے کچھ نہیں ملتا۔ یہ تقریر بر آدھ گھنٹہ کی اس کا ٹیپ لے لیا گیا ہے جو مرکز میں محفوظ ہے۔

مدرسہ مصباح العلوم (آسنصول) کی فرمائش پر صدر اسلامی مرکز نے ان کے سوینیر کے لئے

ایک ’’پیغام‘‘ بھیجا تھا۔ یہ پیغام اسی عنوان سے الرسالہ کی زیر نظر اشاعت (جون ۱۹۸۵) میں

اللہ کے فضل سے کیسٹ میگزین کا اجرارہو چکا ہے۔ یکم جون ۱۹۸۵ سے اس کی باقاعدہ روانگی شروع ہورہی ہے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس سلسلہ کو کافی پسند کیا جارہا ہے۔ پچھلی ڈاک سے مرکز کو ایک پیکٹ ملا۔ اس میں ’’مذہب اور جدید چیلنج‘‘ کا انڈونیشی ترجمہ اس سے معلوم ہوا کہ انڈونیشی زبان میں بھی اس کتاب کا ترجمہ شائع ہوگیا ہے۔ عربی اور کئی دوسری زبانوں میں اس کے ترجمے پہلے ہی شائع ہو چکے ہیں۔ ہندی ترجمہ کے لئے ہمیں ایک لائق اور اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کی خدمات حاصل ہو گئی ہے۔ جلد ہی ہندی زبان میں مرکز کی مطبوعات کے ترجمے شائع کئے جائیں گے مولانا آزاد تعلیمی مرکز (اسر ہٹہ ضلع جونپور) میں ۲۵ - ۲۶ اپریل ۱۹۸۵ کو ایک دوروزہ پروگرام رکھا گیا ۔ اس میں صدر اسلامی مرکز کی دو تقریریں اور ایک درسِ قرآن تھا۔ مرکز کے اساتذہ اور طلبہ کے علاوہ اطراف کی بستیوں سے تعلیم یافتہ اور باشعور افرادان پروگراموں میں شریک رہے۔ اس موقع پر الرسالہ اور مطبوعات کا بک اسٹال بھی لگایا گیا۔ لوگوں نے کتابیں حاصل کیں اور الرسالہ کی خریداری قبول کی۔

۲۸ اپریل ۱۹۸۵ کی شام کو مہینہ کے آخری اتوار کا درسِ قرآن ہوا۔ اس بار انگریزی اخبارات میں بھی اس کا اعلان شائع کیا گیا تھا۔ ہندستان ٹائمز (۲۸ اپریل ۱۹۸۵) نے اپنے مستقل کالم (What's on) میں اس کو پہلی خبر کے طور پر حسب ذیل الفاظ میں شائع کیا تھا : THE ISLAMIC CENTRE: Maulana Wahiduddin Khan to speak on the meanings of the Qur'an; C-29, Nizamuddin West; 7 p.m. اسلامی مرکز کی کچھ کتابیں عرصہ سے ختم تھیں وہ دوبارہ چھپ کر آگئی ہیں۔ کچھ نئی کتابیں بھی شائع ہوئی ہیں ۔ نئی شائع شدہ کتابوں کے نام یہ ہیں ، تذکیر القرآن پندرہ پارے ، اسلامی زندگی ، تبلیغی تحریک ، سوشلزم اور اسلام۔ حل یہاں ہے (مع اضافہ)۔ دین کی سیاسی تعبیر صراط مستقیم - ان کے علاوہ ایک اور کتاب زیر طبع ہے ’’عظمتِ قرآن‘‘

Printed page