Al-Risala · January 1985

سائنسی ترقیاں اور روحانی عقائد

Al-Risala, January 1985, pp. 30–33

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں سائنسی ترقیوں کے دو دور ہیں۔ ایک آئزک نیوٹن (۱۶۴۲۔ سے لے کر البرٹ آئن سٹائن تک۔ اور دوسرا البرٹ آئن سٹائن (۱۹۵۵-۱۸۷۹) کے بعد۔ سائنسی ترقی کا تعلق مادی ترقی سے ہے۔ یعنی ان چیزوں کی ترقی سے جو ہر دیکھنے والے کو نظر آتی اس کے برعکس روحانیت ایک ایسی چیز ہے جو دکھائی نہیں دیتی۔ سائنس کی دنیا مڈی ہے اور روحانیت کی دنیا غیر مڈی۔ نیوٹن کے بعد سائنس کا جو دور شروع ہوا اس میں بے شمار سائنسی ترقیاں ظہور میں آئیں۔ مادہ نے تبدیل ہو کر ایک پر رونق تہذیب کی صورت اختیار کرلی۔ اس کے مقابلہ میں روحانیت بدستور ایک غیر مڈی چیز بنی ہوئی تھی۔ ان حالات میں بہت سے لوگوں نے سمجھا کہ روحانیت ایک فرضی چیز ہے اور اس دنیا میں اصل وجود صرف مادہ کا ہے۔

مگر آئن شائن اور دوسرے سائنس دانوں کی تحقیقات نے اس نظریہ کو ختم کر دیا۔ سمجھا جاتا تھا کہ دنیا کی تمام چیزیں آخری طور پر جس چیز سے بنی ہیں وہ ایٹم ہے اور ایٹم ایک ٹھوس مادی ذرہ ہے جس کے مزید ٹکڑے نہیں کئے جا سکتے۔ جدید تحقیقات نے ایٹم کو توڑ دیا۔ اب معلوم ہوا کہ مادہ کوئی ٹھوس چیز نہیں، وہ صرف ایک قسم کی منجمد توانائی ہے۔ مادہ کو جیسے ہی توڑا جاتا ہے وہ توانائی کی صورت اختیار کر لیتا ہے جس کا دیکھنا ممکن نہیں۔

ایٹم کے ٹوٹنے کے بعد اب مادہ خود بھی اسی طرح غیر مڈی ہو چکا ہے جس طرح اس سے پہلے روحانیت کو غیر مڈی سمجھا جا رہا تھا۔ چنانچہ جدید سائنس داں یہ کہنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ہماری دنیا امکانات کی لہروں (Waves of probabilities) کے سوا اور کچھ نہیں۔

اس طرح جدید سائنسی ترقیوں نے ثابت کیا ہے کہ حقیقت اپنی آخری صورت میں غیر مڈی پہلے روحانیت اور مادیت دو الگ الگ چیزیں سمجھی جاتی تھیں، اب مادہ خود روحانیت میں تبدیل ہو گیا۔ سائنس اپنے ابتدائی مرحلہ میں روحانیت کی تردید کرتی ہوئی دکھائی دیتی تھی، مگر سائنس اپنے آخری مرحلہ میں پہنچ کر روحانیت کی تصدیق کرنے والی بن گئی۔ اس نے روحانی حقیقت کو ہمیشہ سے زیادہ ثابت اور مضبوط بنا دیا۔

روحانی عقیدہ دراصل معنوی حقیقتوں میں یقین کرنے کا دوسرا نام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آدمی یہ سمجھے کہ انسانی وجود میں جسم سے زیادہ اہمیت روح کو حاصل ہے۔

ترقیوں سے زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اخلاقی قدروں کو ترقی حاصل ہو۔ سے زیادہ بڑی چیز یہ ہے کہ انسان کو اندرونی سکون ملے۔ یہ سب وہ چیزیں ہیں جو دکھائی نہیں دیتیں، اور سائنس کے پہلے دور میں نہ دکھائی دینے والی چیزیں غیر واقعی سمجھی جانے لگی تھیں۔ اس بنا پر یہ سمجھ لیا گیا کہ سائنس اور روحانیت میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔ مگر اب جب کہ سائنس خود بھی ایک قسم کا روحانی علم بن چکا ہے، روحانیت کے بارہ میں اس قسم کا خیال قائم کرنے کی کوئی

یہ سائنس اور روحانیت کا نظریاتی پہلو تھا۔ اب اس موضوع کے عملی پہلو کو دیکھئے ۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس اور روحانیت میں فکر او ہے۔ دونوں ایک ساتھ نہیں چل مگر یہ بات روحانیت کے غلط تصور کی پیدا کی ہوئی ہے ۔ روحانیت کا صحیح تصور سامنے رکھا جائے تو سائنس اور روحانیت میں دوبارہ کوئی ٹکراؤ باقی نہیں رہتا۔ ۱۹۶۱ میں نئی دہلی میں ایک بین اقوامی صنعتی نمائش ہوئی تھی۔ اس نمائش کو دیکھنے والوں میں میں بھی شامل تھا۔ اس موقع پر ہر ملک نے اپنی اپنی صنعتی ترقیاں دکھائی تھیں ۔ امریکی پویلین سب سے زیادہ زائرین کی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا۔ اس کی وجہ وہ جدید طرز کی کار تھی جس کو ”ہوائی موٹر کار“ کہا جاتا تھا۔

میں اور دوسرے بہت سے لوگ ایک خاص میدان میں جمع تھے۔ اتنے میں ایک کاربر آمد ڈرائیور نے پہلے اس کو زمین پر عام کار کی طرح چلایا۔ اس کے بعد کار اوپر اٹھی اور سطح زمین سے تقریباً چارفٹ بلند ہو کر چلنے لگی ۔ اس طرح اس نے میدان کے چاروں طرف گول دائرہ میں چند چکر لگائے اور پھر نیچے آگئی۔

بتایا گیا کہ اس کار کا طریقہ یہ ہے کہ وہ اوپر سے ہوا لے کر تیزی سے نیچے کی طرف پھینکتی یہاں تک کہ کار اور سطح زمین کے درمیان ایک طاقت ور ہوائی گدا بن جاتا ہے۔ ہوائی گدے پر تیرتی ہوئی چلتی ہے جس طرح کشتی پانی میں تیرتی ہوئی چلتی ہے۔ اس انوکھی کار کو دیکھنے والوں میں ایک نوجوان سادھو بھی تھا۔ گیروے کپڑے میں ملبوس اور لمبے بکھرے ہوئے بالوں والا یہ نوجوان ۲۰ منٹ تک امریکی کار کو دیکھتا رہا۔ اس کی محویت کو دیکھ کر ایک اخباری نمائندہ نے اس سے اس کا تاثر پوچھا۔ اس کا جواب یہ تھا :

” اس کو دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ وہ یہ کہ کیا میں تیاگ

کی زندگی کو چھوڑ کر مادی ترقیوں کی دیا میں اپنے حوصلے کی تسکین تلاش کروں۔ اس نمائش نے مجھے اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ روحانی اور مادی دونوں دنیاؤں میں سے کون سی دنیا ہے جس کو میں اپنے لئے زیادہ بہتر سمجھ کر اس کو اختیار کروں (ہندوستان ٹائمز ۲۰ فروری ۱۹۶۱ اس طرح کے واقعات سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویاساسی ترقی اور روحانیت کے درمیان مکرا د ہے۔ ایک چیز کو لی اسی وقت ممکن ہے جب کہ آدمی دوسری چیز کو چھوڑ دے۔ مگر اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ روحانیت کے کیا معنی لیتے ہیں: نا اگر روحانیت کا مطلب یہ ہو کہ آدمی دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا جائے اور دنیا کی چیزوں سے کوئی مطلب نہ رکھے تو البتہ سامن اور رو طابت دو متضاد چیزیں معلوم ہوں گی لیکن اگر روحانیت کا دوسرا مطلب لیا جائے تو سائنس اور روحانیت کے درمیان کوئی فکر او بانی نہیں رہتا۔ روحانیت کا دوسرا مطلب ہے روح اور نفس کی پاکیزگی۔ اس دوسرے اعتبار سے روحانیت حسن تعلق کا نام ہے نہ کہ ترک تعلق کا۔

روحانیت یا سس کا الٹا لفظ نہیں ہے بلکہ مادیت کا الٹا لفظ ہے۔ روحانی آدمی غیر مادی ہوتا ہے نہ کہ غیر سائنسی۔ روحانیت کا مطلب یہ ہے کہ آدمی مادی چیزوں میں نہ جیتا ہو بلکہ روحانی چیزوں میں جیتا ہو۔ اس کی ایک ذہنی زندگی ہو جس کو اس سے کوئی چھین نہ سکتا ہو۔ اس کو ایک قلبی سکون حاصل ہو جو ظاہری نفع یا نقصان سے بے نیاز ہو۔ اس کے فکری سطح پر کوئی ایسی چیز بنائی ہو جو اس کو دوسری تمام چیزوں سے اعلیٰ نظر آئے۔ وہ اپنے آپ پر قائم ہو نہ کہ اپنے سے باہر کی مادی چیزوں پر۔

موجودہ دنیا میں ہر آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک مادیت اور دوسرے روح حانیت ۔ کوئی بھی شخص ان دو چیزوں سے خالی نہیں۔ دونوں ہی چیزیں ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہیں۔ اب سوال صرف یہ ہے کہ دونوں میں سے کس چیز کو اولین اہمیت دی جائے اور کس کو ثانوی درجہ میں رکھا جائے۔ جو شخص مادی چیزوں کو دوسرا درجہ دیے اور روحانیت کو پہلے درجہ میں رکھے اس کا نام روحانی آدمی ہے۔ اور جو شخص اس کے برعکس کرے وہ مادی آدمی اس کا سب سے اہم نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانیت کو آدمی کی زندگی میں مقصد کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ اور جو مادی چیزیں ہیں وہ ضرورت کے خانہ میں چلی جاتی ہیں۔ اس سے ہماری رچیاں وہ بدستور جاری رہتی ہیں۔ البتہ ناسی یا مادی ترقیوں کو بینات خود مقصد سمجھ لینے

سے سماج میں جو خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ان کی اصلاح ہو جاتی ہے۔ روحانیت آدمی کو ذہنی اور اخلاقی صحت عطا کرتی ہے۔ مادی خوراک سے آدمی کا جسم تندرست ہوتا ہے اور روحانی خوراک سے آدمی کے ذہن و فکر کو تندرستی حاصل ہوتی ہے۔

عام آدمی کے لئے مادی چیزیں مقصد ہوتی ہیں اور روحانی آدمی کے لئے ضرورت۔ نقطہ نظر کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں زبردست فرق پیدا کر دیتا ہے۔

اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ روحانی آدمی کے اندر مادی نقصان کو برداشت کرنے کی بے پناہ طاقت آ جاتی ہے۔ موجودہ دنیا مقابلہ اور حادثات کی دنیا ہے۔ یہاں بار بار مختلف قسم کے نقصانات سے سابقہ پیش آتا ہے۔ اب جو شخص مادی چیزوں کو اپنا مقصد سمجھ رہا ہو وہ نقصان کو دیکھ کر گھبرا اٹھتا ہے اس کے اندر سخت جھنجھلاہٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ حتی کہ بعض اوقات وہ خود کشی کر لیتا ہے۔ مگر روحانی آدمی اس قسم کی ناخوشگواریوں کو آسانی سے جھیل لیتا ہے۔ کیوں کہ مادی نقصان کے بعد بھی اس کے پاس ایک اعلیٰ چیز موجود رہتی ہے جس کے سہارے وہ جی سکے۔

اس طرح روحانی آدمی اس سب سے بڑی برائی سے خالی ہوتا ہے جس کو گھمنڈ کہا جاتا ہے۔ ہمیشہ مادی چیزوں کے بل پر پیدا ہوتا ہے۔ لوگ چونکہ مادی چیزوں کو سب سے بڑی چیز سمجھتے ہیں اس لئے وہ ان کو پا کر گھمنڈ میں پڑ جاتے ہیں۔ وہ انسانوں کو مادی سازوسامان سے ناپتے ہیں۔ جس شخص کے پاس مادی سازوسامان کم ہو اس کو نیچا خیال کرتے ہیں اور جس شخص کے پاس مادی ساز و سامان زیادہ ہو اس کی بابت ان کا خیال ہو جاتا ہے کہ وہ اونچا آدمی ہے۔ اسی سے گھمنڈ کا جذبہ ابھرتا ہے اور انسانوں کے درمیان مصنوعی اونچ نیچ کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔

مگر روحانی آدمی مادی چیزوں کو دوسرے درجہ کی چیز سمجھتا ہے۔ وہ ان کو اپنا خادم سمجھتا ہے نہ کہ اس بنا پر وہ مذکورہ قسم کی نفسیات سے بچا رہتا ہے۔ نہ مادی سامان زیادہ ہونے کی بنا پر وہ اپنے کو اونچا سمجھتا۔ اور نہ ایسا ہوتا کہ جس کے پاس مادی چیزوں کی کمی ہو اس کو وہ حقیر اور نیچا سمجھتے لگے۔ روحانیت آدمی کو اپنے لئے بھی بہتر بنا دیتی ہے اور دوسروں کے لئے بھی۔

نوٹ: ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۴ کو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی سے نشر کیا گیا۔

Printed page