امت کا زوال
Al-Risala, July 1985, pp. 17–18
By Maulana Wahiduddin Khan
سورۃ المائدہ (۱۳ - ۱۴) میں یہود اور نصاریٰ کے بارہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اس نصیحت کا بڑا حصہ کھو دیا جو انھیں ان کے نبیوں کے ذریعہ کی گئی تھی (فنسوا حظا مما ذکروا بہ) اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سواء السبیل سے بھٹک گئے۔ ان کے دلوں میں قساوت پیدا ہوگئی۔ وہ باہمی اختلاف اور ٹکراؤ میں مبتلا ہو گئے۔
فنسوا حظا مما ذکروا بہ کی تشریح حضرت حسن بصری نے ان الفاظ میں کی ہے :
تركوا امرى دينهم و و طائف اللہ تعالی الٹی انھوں نے دین کے عُر یٰ کو چھوڑ دیا اور اللہ تعالیٰ کے لا يُقبل العمل الا بہا۔ (تفسیر ابن کثیر ) ان وظائف کو ترک کر دیا جن کے بغیر اعمال کبھی قبول نہیں کئے جاتے۔
عروہ (جمع عُریٰ) کے لفظی معنی کاج کے ہیں۔ یعنی وہ چیز جس میں کوئی چیز اٹکائی جائے۔ استعمالی معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب ہے نفیس مال، کسی چیز کا بہتر حصہ۔ اس لحاظ سے آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ یہود و نصاریٰ کو جو دین دیا گیا تھا اس کا اصل حصہ انھوں نے بھلا دیا۔ اب جو چیز وہ دین کے نام پر لئے ہوئے ہیں وہ گویا ایک ایسا جسم ہے جس سے اس کی روح نکل گئی ہو۔
دین کا ایک ظاہری حصہ ہے اور ایک اس کا معنوی حصہ۔ دین کا معنوی حصہ دوسرے لفظوں میں اس کا خدا کی حصہ ہے۔ یعنی خدا سے سب سے زیادہ ڈرنا، اس سے سب سے زیادہ محبت کرنا۔ اس کے آگے قلب و دماغ کا پوری طرح جھک جانا ، یہ دین کا عُریٰ ہے۔ دین کے ظاہری حصہ سے مراد وہ خارجی اعمال ہیں جو مختلف مواقع پر مختلف انداز سے کئے جاتے ہیں۔
کسی امت کا سواء السبیل پر ہونا یہ ہے کہ دین اس کے اندر معنوی (بافاظ دیگر، خدائی پہلو) کے اعتبار سے زندہ ہو۔ مگر جب امت میں بگاڑ آتا ہے تو اگرچہ اس کے درمیان اب بھی دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں مگر اس کی زندگی سے خدا حذف ہو جاتا ہے۔ دین کا معنوی پہلو گم ہو جاتا ہے اور دین کا ظاہری پہلو مزید اضافہ کے ساتھ اس کے درمیان ابھر آتا ہے۔
دور زوال میں دین اپنی شکل کے اعتبار سے ختم نہیں ہوتا۔ البتہ وہ اپنی روح کے اعتبار سے ختم ہو جاتا خدا کی بڑائی کے چرچے کرنا لوگ نہیں جانتے البتہ خدا کے نام پر دوسری چیزوں کے چرچے سے وہ خوب واقف ہوتے ہیں۔
فضائل اعمال اور مسائل اعمال کا زور ، تاریخ اسلام اور حکومت اسلام کے چرچے ، اکابر امت اور ۔ بزرگان دین کے تذکرے ، جشن میلاد اور ایصال ثواب کے ہنگامے ، سب اسی کی مثالیں ہیں۔ کاخدائی پہلو حذف ہو جاتا ہے تو ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق اس کا کوئی ظاہری پہلو لے لیتا ہے اور اسی کے اوپر اپنے زبان و قلم کی ساری قوت صرف کرنے لگتا ہے۔
جب کسی امت کا یہ حال ہو جائے تو یہ اس کی علامت ہے کہ وہ سوار السبیل سے ہٹ گئی۔ دین کا بڑا حصہ کھو دیا۔ وہ خدا کی رحمت سے بہت دور چلی گئی۔
حضرت حسن بصری تابعی نے تقریباً ستر صحابہ کو دیکھا تھا۔ انھوں نے ایک بار اپنے زمانہ کے مسلمانوں سے کہا کہ تم لوگ جتنا زیادہ نفل نمازیں پڑھتے ہو اور جتنا زیادہ نفل روزے رکھتے ہو، اصحاب رسول اتنا زیادہ نہیں کرتے تھے۔ اس کے باوجود وہ تم لوگوں سے افضل تھے۔ پوچھا گیا کہ کیوں وہ افضل تھے۔ حضرت حسن بصری نے جواب دیا؛
ان کے سینوں میں اللہ کا خوف پہاڑ سے بھی زیادہ بڑا تھا۔
لوگ انسانی عظمتوں میں گم ہیں، صحابہ کرام خدائے ذوالجلال کی عظمتوں میں گم تھے۔ کی مرضی پر نظر رکھتے ہیں، صحابہ کرام خدا کی مرضی کو دیکھتے تھے۔ لوگوں کو قیادت کے اسٹیج پر نمایاں ہو کر تسکین ملتی ہے۔ صحابہ کرام تواضع کے خلوت کدوں میں تسکین پاتے تھے۔
لوگ بولنا جانتے ہیں، صحابہ کرام چپ رہنا جانتے تھے۔ لوگ ہنگاموں میں جیتے ہیں، صحابہ کرام تنہائیوں میں جیتے تھے۔ لوگوں نے دنیا کے مسئلہ کو مسئلہ سمجھ رکھا ہے، صحابہ کرام نے آخرت کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ لوگ وقتی کامیابیوں کی طرف دوڑتے ہیں ، صحابہ کرام وہ لوگ تھے جو ابدی کامیابی کے شوق میں وقتی کامیابی کو اس طرح بھلا چکے تھے جیسے اس کا وجود ہی نہیں۔