Al-Risala · July 1985

ایک حدیث

Al-Risala, July 1985, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

عن ابی ذر رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلّی حضرت ابو ذر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ اللہ علیہ : انی اریٰ ما لا ترون و اسمع ما لا تسمعون وسلم نے فرمایا ۔ میں وہ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور اطّت السّماء وحُقّ لها ان تَطِئ ۔ ما فيها موضع میں وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان میں چرچراہٹ اربع اصابع الّا و مَلكٌ واضع جبهته ساجداً ہو رہی ہے اور اس کے لئے حق ہے کہ اس میں لله تعالى ۔ واللہ لو تعلمون ما اعلم لضحكتم چرچراہٹ ہو۔ آسمان میں کوئی چار انگل جگہ بھی قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء نہیں مگر یہ کہ وہاں ایک فرشتہ اپنی پیشانی جھکائے ہوئے ولخرجتم الى الصعدات تجأرون اللہ کو سجدہ کر رہا ہے ۔ خدا کی قسم اگر تم وہ جانتے جو میں الی الله تعالیٰ ۔ جانتا ہوں تو تم ہنستے کم اور روتے زیادہ۔ وفي رواية ان ابا ذر قال ، لووددت انی پر تمہارے لئے عورتوں میں لذت نہ رہ جاتی۔ كنت شجرة تُعضد (ترمذی ، ابن ماجه ، احمد) تم خدا کو پکارتے ہوئے میدانوں کی طرف نکل جاتے۔ ایک روایت کے مطابق، حضرت ابو ذر نے یہ بیان کرنے کے بعد کہا : میری تمنا ہے کہ میں ایک درخت ہوتا جو کاٹ دیا جاتا۔

اس حدیث میں پیغمبر کا جو حال بتایا گیا ہے وہی داعی کا حال ہوتا ہے۔ اس فرق کے ساتھ کہ اس کیفیت میں آخری کمال کے درجہ پر ہوتا ہے اور عام داعی اپنی اپنی استعداد کے درجہ پر۔ خدا کا داعی وہی شخص بن سکتا ہے جس کی معرفت اتنی بڑھی ہوئی ہو کہ غیب اس کے لئے شہود کا جو اپنے تصور کی آنکھ سے ان چیزوں کو آج ہی دیکھ لے جن کو موت کے بعد ہر آدمی اپنی پیشانی کی آنکھ سے دیکھے گا۔

لوگ عالم ظاہر میں الجھے ہوئے ہیں پھر وہ عالم غیب کی خبر دینے والے کیسے بن سکتے ہیں ۔ سے دور ہیں پھر کیسے ممکن ہے کہ ان کی زبان سے معانی کا وہ چشمہ جاری ہو جو خدا سے قریب ہونے کے ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔

یہی موجودہ زمانہ میں ہمارے مسئلہ کا آغاز ہے اور یہی ہمارے مسئلہ کا اختتام بھی۔ لوگوں کو مندروں اور گرجاؤں کی گھنٹیاں اس لئے سنائی دیتی ہیں کہ ابھی صور اسرافیل کی چنگھاڑ ان کے کان کے پردے نہیں پھٹے ۔ سڑک پر انسانوں کا جلوس ان کو اس لئے دکھائی دیتا ہے کہ فرشتوں کی فوج نے ابھی ان کی آنکھوں کو خیرہ نہیں کیا۔ معاشی اور سیاسی امتیاز کی شکایت لوگ اس لئے کر رہے ہیں کہ قیامت کے اس ہولناک دن سے ابھی تک وہ باخبر نہیں ہوئے جب کہ خوراک کا ایک دانہ نہیں ہوگا جس کو لوگ کھائیں اور پانی کا ایک قطرہ نہیں ہوگا جس سے لوگ اپنے حلق کو ٹھنڈا کریں۔

لوگ انسان کے چھیڑے ہوئے مسائل میں گم ہیں ، اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ لوگوں کو خدا کے چھیڑے ہوئے مسائل کی خبر نہیں۔ لوگ الفاظ کا کمال دکھا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ وہ ابھی تک معانی کی گہرائیوں سے آشنا نہیں ہوئے۔ لوگ چھوٹے چھوٹے معاملات میں الجھے ہوئے ہیں کیوں کہ بڑے سے بڑے معاملات کو ابھی تک انھوں نے جانا ہی نہیں۔ آہ وہ انسان جو جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ حالانکہ وہ ابھی تک یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ نہیں جانتا۔

داعی بننے کے لئے پیغمبر کے مقام پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ اس عظیم مقصد کے لئے اٹھنا ہے جس کے لئے فرشتے اترے اور کت ہیں نازل کی گئیں۔ یہ کوئی قومی لیڈری نہیں، یہ انسان کی سطح پر خدا کی نمائندگی ہے۔

داعی بننے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی اپنے ذاتی تقاضوں کو بھول جائے ۔ خواہشات کو نظر انداز کر دے۔ وہ ہر دوسرے جھگڑے اور مطالبے سے اپنے آپ کو اوپر اٹھا لے۔ انسانوں کا خیر خواہ بنے ، خواہ لوگ اس کو گالیاں دیتے ہوں۔ وہ قوموں کی ہدایت کے لئے نہڑ پلے، خواہ قوموں نے اس کے اوپر ظلم کا آہرہ چلا رکھا ہو۔ اس کو دوسروں کے لئے سراپا رحم بننا پڑتا ہے تاکہ خدا اس کے لئے سراپا رحم بن جائے۔

دعوت کی لازمی شرط صبر ہے۔ دنیا میں داعی اور مدعو کے درمیان طرح طرح کے مادی جھگڑے ہوتے مگر داعی کو بلا شرط تمام مادی جھگڑوں کو ختم کرنا پڑتا ہے تاکہ مدعو اس کے دینی پیغام کو سنے۔ اس کو یک طرفہ طور پر تمام نقصانات پر راضی ہونا پڑتا ہے تاکہ وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے والا بن سکے۔ خلاصہ یہ کہ اس کو دنیا کی آگ میں جلنا پڑتا ہے تاکہ خدا اس کو آخرت کی آگ سے بچالے۔

Printed page