اسلام کا قانون
Al-Risala, July 1985, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
خاندان یا نکاح و طلاق کے بارہ میں اسلام کا قانون زندگی کے مختلف پہلوؤں کی مناسب رعایت پر اسلام ہر پہلو کی پوری رعایت کرتا ہے، مگر اس طرح نہیں کہ ایک پہلو کی رعایت کرتے ہوئے دوسرا پہلو مجروح ہو جائے۔
عورت اور مرد جب نکاح کے رشتے میں منسلک ہوتے ہیں تو اسی نیت سے منسلک ہوتے ہیں کہ وہ مستقل طور پر اس کو نبھائیں گے۔ مگر مختلف اسباب سے دونوں یا کسی ایک کو کبھی علیحدگی کا نا خوش گوار فیصلہ کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے موقع کے لیے اسلام نے واضح احکام دیے ہیں ۔ ان احکام کا مدعا یہ ہے کہ رشتہ کی علیحدگی خوش گواری کے ساتھ ہو۔ اس کے ساتھ ایک ضروری مدت تک شوہر اپنی مطلقہ بیوی کے گزارہ کا ذمہ دار رہے۔ عام حالات میں تقریبا تین مہینہ تک اور حاملہ ہونے کی صورت میں کسی قدر لمبی مدت تک ۔
اس مدت کے ختم ہونے کے بعد مرد کے اوپر مطلقہ بیوی کے نان نفقہ کی ذمہ داری نہیں رہتی۔ یہ اصول مرد کے اوپر ایسا غیر فطری بوجھ نہیں ڈالتا کہ وہ نکاح کے طریقہ کو ناقابل برداشت بوجھ سمجھ لے اور غیر اخلاقی طریقے اختیار کرنے لگے۔
یہ اصول بعض مستثنیٰ حالات میں کسی عورت کے لیے تکلیف دہ ہو سکتا ہے ۔ مگر یہ استثنائی حالت ہے نہ کہ عمومی حالت ۔ اور یہ قانون سازی کا مسلمہ اصول ہے کہ عام قانون ہمیشہ عام حالت کی بنیاد پر بنتا ہے استثنائی حالت کی بنیاد پر کبھی عمومی قانون نہیں بنایا جاتا ۔
قانون کسی بھی انداز سے بنایا جائے، اس میں ہمیشہ استثنا ءکی گنجائش رہتی ہے جس کو دوسرے طریقے سے حل کیا جاتا ہے ۔ مطلقہ عورت کے بارے میں بھی استثنائی کیس کو اس کی انفرادی حیثیت میں دیکھا جائے گا اور اخلاقی یا سماجی سطح پر اس کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ، جیسا کہ دوسرے تمام استثنائی معاملات میں ساری دنیا میں کیا جاتا ہے ۔
اورنگ زیب عالم گیر کا واقعہ ہے۔ ایک مرتبہ انھوں نے کسی امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ امام نے بھول کر پہلی رکعت میں قل اعوذ برب الناس پڑھ دی۔ قل اعوذ برب الناس قرآن کی آخری سورہ ہے، اور نماز کے لیے حکم ہے کہ اگلی رکعت میں آگے کی سورہ پڑھی جائے نہ کہ پیچھے کی سورہ۔ اب امام صاحب کے سامنے سوال یہ تھا کہ اگلی رکعت میں وہ قرآن سے کیا پڑھیں ۔ امام صاحب جب اگلی رکعت میں کھڑے ہوئے تو انھوں نے سورہ الم کا ابتدائی حصہ پڑھا۔ اس طرح قرآن کی ترتیب باقی رہی کیونکہ آدمی جب قرآن کو پڑھتے ہوئے سورہ قل اعوذ برب الناس تک پہنچتا ہے تو وہ دوبارہ قرآن کے ابتدائی مَنْ بَابٍ عَانَ يُورث رِزَقاً تَقْتَرُ عَلَيْنِ حصے سے پڑھنا شروع کرتا ہے۔
اور رنگین نسخے سے مطالعہ کرتا ہے تو مندرجه بالا پنجاب کے بارے میں دبران سے ، ا۔ سرخرو ہو چکے ہیں ، نماز کے بعد ان کا جو حصہ صاف الماری، اورنگ زیب عالمگیر امام صاحب کی ذہانت سے بہت خوش ہوئے۔ نماز کے بعد ان کی حوصلہ افزائی اور ان کا عہدہ بڑھا دیا۔
بعض مرتبہ ایک چھوٹا سا واقعہ آدمی کی شخصیت کا تعارف بن جاتا ہے۔ وہ بتا دیتا ہے کہ آدمی مبنی ہے وہ جوہر والا ہے یا بے جوہر والا۔
اسی سے اس حدیث کو سمجھا جا سکتا ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ بعض اوقات آدمی کا چھوٹا سا عمل اس کے لئے بڑے بڑے انجام کا سبب بن جاتا ہے۔ امام بخاری کی روایت کے مطابق اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں :
عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال ، ان العبد لیتکلم بالکلمۃ من رضوان اللہ تعالی ما یُلقی لھا بالا یرفعہ اللہ بھا درجات ، وان العبد لیتکلم بالکلمۃ من سخط اللہ تعالی لایلقی لھا بالاً نیھوی بھا حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بندہ اللہ کی رضا کا کلمہ کہتا ہے۔ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا مگر اللہ اس کی وجہ سے اس کے درجات بلند کر دیتا ہے ۔ اور بندہ اللہ کی ناراضگی کا ایک کلمہ کہتا ہے ۔ وہ اس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا اور اس کی وجہ سے اللہ اس کو جہنم میں ڈال دیتا ہے ۔