Al-Risala · July 1985

تیسرا سفر

Al-Risala, July 1985, pp. 31–24

By Maulana Wahiduddin Khan

لاہور کے لئے میرا تیسرا سفر مارچ ۱۹۸۵ کے آخری ہفتہ میں ہوا۔ ۲۳ مارچ کو دہلی سے لاہور کے لئے پی آئی اے کی فلائٹ نمبر ۷۲ سے روانہ ہوا۔ پاکستانی ہوائی کمپنی سے سفر کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ ایئرویز کا سفر اکثر پہلوؤں سے دوسرے ہوائی جہازوں جیسا تھا۔ تاہم بعض پہلوؤں سے وہ میرے لئے نیا تجربہ تھا۔ اناونسر کے اعلانات میں السلام علیکم، انشاء اللہ اور خدا حافظ جیسے کلمات سننے کو ملے۔ اناونسر خالص کتابی اردو بول رہی تھی۔ اسی طرح ہوائی جہاز اور ہوائی اڈہ کے اندر اجات میں انگریزی کے ساتھ اردو بھی ہر جگہ لکھی ہوئی نظر آئی۔

اپنے ہوائی سفر میں غالباً پہلی بار مسلمان ہو ا باز کا نام سننے میں آیا۔ یہ کیپٹن فاروق تھے ۔ ۷۸۰۰ میٹر کی بلندی پر جہاز کو اڑاتے ہوئے ۴۵ منٹ میں اس کو لاہور کے ہوائی اڈہ پر اتارا۔ واپسی میں ۲۸ مارچ کو جہاز کے کپتان مسٹر عبدالقادر تھے۔ لاہور سے دہلی تک پوری پرواز غیر معمولی طور پر ہموار تھی۔ حتیٰ کہ یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ ہم کسی سواری میں چل رہے ہیں یا گھر کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔

جہاز کے بیشتر مسافر مسلمان تھے۔ تاہم میرے قریب کی نشستوں پر ایک یورو بین جوڑا بیٹھا ہوا تھا۔ مسلمانوں کی عام حالت کے برعکس وہ لوگ اتنا آہستہ بول رہے تھے کہ بمشکل ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ چیز جس سے وہ مجھے اپنے وجود کا احساس دلا رہے تھے وہ ان کے سگریٹ کا دھواں تھا۔ میں سگریٹ کے بارہ میں اتنا زیادہ حساس ہوں کہ ہوا میں اس کی ادنی آمیزش بھی مجھے بے چین کر دیتی ہے۔ تاہم سفر پر نکلنے کے بعد اس سے بچنا ممکن نہیں۔ ”نان اسموکنگ زون“ میں نشست حاصل کرنا بھی اس مسئلہ کا حل نہیں۔ حقیقی حل صرف یہ ہے کہ آدمی برداشت کرے یا وہ سفر ہی نہ کرے۔

اڑان کے دوران ہوائی جہاز کے اندر ناشتہ آیا تو عام قاعدہ کے خلاف اس میں صرف چمچہ تھا ”چھری کانٹا“ نہ تھا۔ اگرچہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ اسلامیت تھی یا کفایت شعاری۔

۲۴ مارچ ۱۹۸۵ کی سہ پہر کو میں پاکستان کے لئے روانہ ہوا تو آج کے دو واقعات کی یاد میرے ذہن میں گھوم رہی تھی۔ آج صبح فجر کی نماز میں نے نظام الدین کی اس مسجد میں پڑھی جس کو عام طور پر کالی مسجد کہا جاتا ہے۔ ایک تبلیغی اجتماع کی وجہ سے آج نمازیوں کی تعداد غیر معمولی طور پر زیادہ تھی۔ نماز کے بعد امام صاحب کھڑے ہوئے۔ انھوں نے مسجد کے لئے مالی تعاون کی اپیل کرتے ہوئے یہ بتایا

کہ یہ عظیم مسجد سات سو سال پہلے فیروز شاہ تغلق نے بنوائی تھی۔ انگریزوں کے زمانہ میں یہ محکمہ آثارِ قدیمہ کے قبضہ میں چلی گئی۔ آزادی کے بعد ہم نے اس کی رہائی کی کوشش شروع کی۔ اس سلسلہ میں گرفتاریاں ہوئیں۔ امام صاحب نے کہا کہ آپ تعجب کریں گے کہ مسجد کے اس مقدمہ میں ہمارے حق میں تین غیر مسلم اصحاب نے گواہی ایک ہریجن، ایک بنیا اور ایک برہمن۔ ان لوگوں نے عدالت میں جا کر بیان دیا کہ ہم ۳۰ سال سے مسلمانوں کو یہاں نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ چنانچہ اس کی بنیاد پر عدالت نے یہ قدیم شاہی مسجد مسلمانوں کو واگزار اس کے بعد کئی لاکھ روپے کے خرچ سے اس کی مرمت کرائی گئی اور اس کو اس شاندار صورت میں تبدیل کیا گیا جیسا کہ آپ آج اسے دیکھ رہے ہیں۔

فجر کی نماز پڑھ کر مکان واپس آیا تو آج کے اخبارات موجود تھے۔ ہندوستان ٹائمس (۲۳ مارچ ۱۹۸۵) میں مسٹر خشونت سنگھ کا کالم تھا۔ اس میں انھوں نے لندن میں سابق ہندوستانی ہائی کمشنر مسٹر سید محمد کی فروری ۱۹۸۵ میں وفات پر ایک لمبا نوٹ لکھا تھا ، اس نوٹ میں دوسری باتوں کے علاوہ یہ پیراگراف

The conventional period of mourning prescribed for the dead in Muslim families is forty days. In the case of Valiavectil Abdul Aziz Syed Moham- mad who died last month it will last much longer. Besides his comely wife Thangam, their children and friends amongst whom I count myself, the period of mourning will be our lifetimes. He was a good, able and honest man. Such men are rare. Their going leaves a void in many hearts that remains forever unfilled. میں ہندوستان سے پاکستان جا رہا تھا اور میرے ذہن میں یہ سوال تھا کہ جس ملک میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان اتنے گہرے تعلقات تھے کہ بے شمار نا خوشگواریوں کے باوجود آج بھی وہ اتنی گہرائی کے ساتھ باقی ہیں، اس ملک کو دو قومی بنیاد پر تقسیم کرایا گیا تو آخر کس لئے۔ ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ کو مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا تھا جس میں قرار داد پاکستان منظور کی گئی اس تاریخی نسبت کی بنا پر پاکستان کی نئی منتخب پارلی منٹ (مجلس شوریٰ) کا افتتاحی اجلاس ۲۳ مارچ ۱۹۸۵ کو رکھا گیا۔ ۲۳ مارچ کی شام کو جب میں لاہور پہنچا تو ٹیلیویژن پر جنرل محمد ضیاء الحق کی تقریر آ رہی تھی۔ صدر پاکستان نے اپنی افتتاحی تقریر کا آغاز علامہ اقبال کے اس شعر سے کیا: تقدیر کے پابند نباتات و جمادات مومن فقط احکام الہی کا ہے پابند

انہوں نے مشترکہ اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے جس میں ۲۴۲ ممبران شریک تھے اور جو پاکستان کے نوکر اور باشندوں کے نمائندہ تھے کہا کہ جوں ہی نئی حکومت نے امورِ مملکت پر اپنی گرفت مستحکم کرلی تو مارشل لا کی چھتری فوری طور پر لپیٹ لی جائے گی۔ کیوں کہ ارکانِ اسمبلی اور سینٹ کی شکل میں اتنے سارے مسیحا اکٹھا ہو گئے ہیں تو یقیناً مریض بہت جلد صحت یاب ہو جائے گا اور مارشل لا کی کڑوی گولی کو ترک کرنے میں دیر نہیں لگے گی ۔ نفاذِ اسلام کی رفتار کو تیز کرنا ، اور عام آدمی کے روزمرہ کے مسائل ارکانِ شوریٰ کی فوری توجہ کے مستحق ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ قومی اسمبلی اور سینٹ عوام کی توقعات پر پوری اتریں گی اور قوم کو اتحاد، استحکام اور خوش حالی کی طرف لے جائیں گی ۔

اس تقریرکا ایک دلچسپ حصہ یہ تھا کہ ” صدر ضیاء الحق نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اس پر غور کرے کہ بیشتر ارکانِ اسمبلی قانونی حد سے کہیں زیادہ خرچ کر کے ایوان میں پہنچے ہیں“۔ (نوائے وقت لاہور ، ۲ مارچ ۱۹۸۵)

پاکستان میں مارچ ۱۹۸۵ میں قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مارشل لا حکومت کے تحت الیکشن کمیشن نے یہ ہدایت نامہ جاری کیا تھا کہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو ۲۵ ہزار روپے اور قومی اسمبلی کے امیدواروں کو ۴۵ ہزار روپے تک انتخابی مہم پر صرف کرنے کی اجازت ہوگی (جنگ ۹ فروری ۸۵) مگر عملاً جو ہوا وہ یہ تھا کہ مہرین کے اندازے کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً دولاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کئے۔ اسی طرح صوبائی اسمبلی کے امیدوار نے اوسطاً ایک لاکھ سے پانچ لاکھ روپے انتخابی مہم پر صرف کیا (امرونہ ۴ مارچ ۱۹۸۵) ایک اندازہ کے مطابق ملک بھر میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے چار ہزار امیدواروں نے انتخابات میں حصہ لیا۔ اور انتخابی مہم پر مجموعی اعتبار سے چالیس کروڑ روپے اخبار حریت (۹ فروری ۱۹۸۵) کی ایک خبر میں بتلایا گیا کہ کراچی کے حلقہ نمبر ۱۸۹ میں قومی اسمبلی کے ایک مضبوط امیدوار کو پیشکش کی گئی کہ اگر وہ امیدواری سے دست بردار ہو جائیں تو انھیں پندرہ لاکھ روپے کی ادائیگی کی جائے گی۔

پاکستان کے الیکشن کے دلچسپ پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ ”دین دار “افراد نے آپس میں سخت مقابلہ کیا جس کی وجہ سے دین پسند ووٹ بٹ کر ان کی طاقت کمزور ہو گئی۔ مثال کے طور پر کراچی کے حلقہ نمبر ۱۹ میں محمود اعظم فاروقی اور شاہ بلیغ الدین کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ اسی طرح لاہور میں مولانا ابوالاعلیٰ

مودودی کے صاحبزادہ اور جماعت اسلامی کے ایک رکن کے درمیان مقابلہ ہوا۔

پاکستان کے لوگوں کو بعض چیزیں قدرتی نعمت کے طور پر حاصل ہیں۔ یہاں کا جغرافیہ خاص طور پر پنجاب کا صحت اور زرعی پیداوار کے لئے نہایت موزوں ہے۔ سوئی گیس نے ان کے لئے ایندھن کے مسئلے کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ یہاں آدمی کو سلنڈر حاصل کرنے کے مشکل مراحل سے گزرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ پانی کے پائپ کی طرح گھروں میں کوکنگ گیس کے پائپ لگے ہوئے ہیں۔ جتنا چاہے استعمال کردیجئے۔ اور میٹر کے مطابق قیمت ادا کیجئے ۔

ایک بار میں نے کچھ لوگوں سے پوچھا کہ سنا ہے کہ یہاں کوکنگ گیس کی افراط کی وجہ سے لوگ اپنے چولھے کو بالکل بند نہیں کرتے بلکہ کھانا پکانے کے بعد گیس کو کم کر کے چھوڑ دیتے ہیں تاکہ دوسرے وقت انھیں دیا سلائی یا لا ئٹر جلانے کی زحمت نہ کرنی پڑے۔ ایک صاحب نے تصدیق کی۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ سارے لوگ ایسا نہیں کرتے۔ اور اس میں بہت کم گیس جلتی ہے۔ بس ذرا سی چراغ کی لو کی طرح۔ اس قوم کا ہے جس کے پیغمبر نے یہ تعلیم دی تھی کہ پانی میں بھی اسراف نہ کرو خواہ تم بہتے ہوئے دریا کے کنارے کیوں نہ ہو (ولو كنت عند نهرجار)

بعض پاکستانی حضرات نے بتایا کہ حکومت کی اطلاع کے مطابق یہاں پورے ملک میں ۵۵ ہزار ایک صاحب نے فرمایا کہ ’’میں نے خود کتنی مسجدیں دیکھی ہیں کہ وہ بند پڑی رہتی ہیں۔ وقت میں سے ایک وقت بھی وہاں نماز نہیں ہوتی‘‘۔ میں نے سوچا کہ غیر ملک کا محکمہ آثار قدیمہ اگر کسی مسجد کو بند کر دے تو فوراً اسلام خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ اور خود اپنے ملک میں مسلمان اگر مسجد کو بند رکھیں تو اس سے اسلام کے لئے کوئی خطرہ نہیں۔

اخبار میں ایک خبر یہ پڑھی کہ ۲۳ مارچ کو چنیو ٹ میں نماز استسقاء ادا کی گئی۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہاں کے ایک معمر بزرگ نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد یہ پہلا واقعہ ہے کہ اس موسم میں قلتِ مطر پیش آیا ہے۔ پھر انھوں نے کہا کہ پہلے جب استسقائی نماز ہوتی تھی تو عوام امڈ پڑتے تھے۔ اب تو بہت کم لوگ استسقائی نماز میں آتے ہیں۔ یہ حال صرف پاکستان کا نہیں۔ آج تمام مسلم دنیا کا یہی حال ہو رہا ہے۔

یہاں گھروں اور دفتروں میں عام طور پر دو تصویریں ضرور ہوتی ہیں۔ مسٹر جناح اور علامہ اقبال

میرے ایک سوال کے جواب میں ایک صاحب نے کہا کہ اقبال نے نہ صرف پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ بلکہ ان کی شاعری نے بالواسطہ طور پر اس کا ذہن بنایا۔ ایک انگریزی اخبار میں ایک اشتہار دیکھا۔ اس میں تین تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ سب سے اوپر علامہ اقبال کی تصویر۔ اس کے نیچے مسٹر جناح کی۔ کے نیچے لیاقت علی خاں کی۔ تینوں تصویروں کے سامنے بالترتیب یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے: میں نے ایک صاحب سے پوچھا کہ پاکستان میں اسلام کی کون سی خصوصیت نسبتاً زیادہ زندہ ہے۔ انھوں نے فوراً کہا ”عید میلاد النبی“ ہر سال یہاں کے مسلمان اتنی دھوم سے اور ایسے عجیب عجیب طریقے سے میلاد النبی کا جشن مناتے ہیں جس کو صرف دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کو لفظوں میں بیان نہیں کیا اس پر کروڑوں روپے خرچ کئے جاتے ہیں۔ جشن اور دھوم اور ہنگاموں والا اسلام آج دنیا بھر کے مسلمانوں پر اتنا چھایا ہوا ہے کہ وہ خاموشی والا اسلام جانتے ہی نہیں۔

۲۵ مارچ کو مولانا منظر حسین ندوی مظفر آبادی (۶۲ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کچھ واقعات سنائے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کئی برس تک دہلی میں کا شف العلوم میں مقیم رہے ہیں۔ ۱۹۴۲ میں وہ دیو بند گئے۔ وہاں وہ مولانا حسین احمد مدنی کے درس حدیث میں شریک ہوئے۔ درس ہورہا تھا۔ درس ختم ہوا تو ایک طالب علم نے سوال کیا کہ سید ابو الا علیٰ مو دودی نے جماعت اسلامی کے نام سے ایک جماعت بنائی ہے۔ اس جماعت کا مقصد اسلامی نظام قائم کرنا ہے۔ آپ کی رائے اس جماعت کے بارہ میں کیا ہے۔ مولانا مدنی نے جواب دیا:

کانگریس اور جمعیۃ علماء ہند کو چھوڑ کر جو کوئی بھی جماعت ہندوستان میں بنے گی وہ اس ملک میں انگریزوں کے قدم مضبوط کرنے والی ثابت ہوگی۔

میں نے مولانا منظر حسین ندوی سے پوچھا کہ اس جملہ سے مولانا مدنی کا مقصد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے اس سے جو بات سمجھی وہ یہ تھی کہ دوسری بنیادوں پر جماعت بنانے سے مسلمانوں کی توجہ بٹ جائے گی اور انگریزوں کے خلاف جو سیاسی جدوجہد جاری ہے وہ کمزور پڑ جائے گی۔

پاکستان میں اگر چہ مارشل لا نافذ ہے۔ مگر یہاں کا مارشل دوسرے ملکوں کے مارشل سے کافی

مختلف نظر آتا ہے ۔ مارشل لاء کے باوجود لوگوں میں کوئی خوف دہر اس نہیں ۔ مجلسوں اور اخباروں میں کھلے عام ہر طرح کے تبصرے ہوئے رہتے ہیں ۔ مثال کے طور پر بولتے وقت (جو یہاں کا آزاد اخبار سمجھا جاتا ہے) اس کی اشاعت ۲۵ مارچ کی پہلی سرخی یہ تھی :

سول حکومت اور مارشل لاء ایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔

اندر کے صفحے میں ایڈیٹوریل کا عنوان تھا ۔ " نئے دور کا آغاز ، جمہوریت یا مارشل لائی جمہوریت " اخبارات میں صدر ضیاء الحق سے زیادہ نمایاں تصویریں عورتیں اور کھلاڑیوں کی نظر آئیں ۔ پاکستان میں ایک عجیب طبقہ ابھر رہا ہے جس کا نام ہے " نوجوان شاعر ات " ایک خاتون کالم نگار نے اس کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا تھا کہ پاکستان کی حساس طبع خواتین میں روز بروز شاعری کا رجحان بڑھ رہا خواتین کی اکثریت جو شاعری سے اپنا دل بہلانے کا کام لیتی ہے ، چند غزلیں یا نظمیں لکھنے کے بعد ان کو کتابی شکل میں چھپوانے میں بہت جلد بازی کرتی ہے ۔

مولانا عبد الغفار حسن صاحب فیصل آباد کی جامعہ تعلیمات میں حدیث کے استاذ ہیں ۔ نے کہا کہ ہم نے اس مدرسہ میں منطق کا جزبہ بہت کم رکھا ہے ۔ اس سلسلہ میں انھوں نے ایک عالم کا قول نقل کیا کہ طالب علم اگر ذکی ہے تو اس کو منطق کی ضرورت نہیں ۔ اگر وہ غبی ہے تو وہ منطق کو سمجھے گا نہیں۔ دوسرے اکثر شہروں کی طرح لاہور بھی دو لاہور کا نام ہے ۔ ایک قدیم لاہور ۔ یہاں تنگ سڑکیں پرانے مکانات ، ٹریفک کی بھیڑ کا وہی منظر ہے جس کی مثال پرانی دہلی میں نظر آتی ہے ۔ دوسرا نیا لاہور ۔ چوڑی سڑکیں ہیں ۔ سر سبز پارک ہیں ۔ جدید وضع کے کھلے ہوتے مکانات پھیلے ہوتے ہیں ۔ کوئی شخص پرانے لاہور میں آئے اور یہیں سے واپس چلا جائے تو وہ یہ تاثر لے گا کہ لاہور نے پچھلے سو سال کے اندر کوئی خاص ترقی نہیں کی لیکن اگر کوئی نئے لاہور کو دیکھے تو وہ یہ یاد لے کر یہاں سے لوٹے گا کہ لاہور جدید دنیا کا ایک اعلی ترقی یافتہ شہر ہے۔ مشاہدہ کے فرق سے رائیں کس طرح بدل جاتی ہیں ۔ آزاد ہندوستان سیکولر زم کے نام پر وجود میں آیا ۔ چنانچہ یہاں کے لیڈر ہمیشہ سیکولر زم کی بات کرتے ہیں خواہ وہ سیکولر زم سے با لکل دور ہوں ۔ یہی حال پاکستان کا ایک اور شکل میں ہوا ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہاں ہر کام اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے ۔ سوشلزم کے حامی اس کو اسلامی سوشلزم کہہ کر پیش کرتے ہیں ۔ عورتوں کو گھرسے نکالنے کی تحریک بھی

اسلامی حریت کے عنوان پر چلائی جاتی ہے۔ ایک تاجر اخبار میں اپنا اشتہار دیتا ہے تو اس کا عنوان ہوتا ہے: ''الحمد للہ ایک اور امتیاز‘‘ حتّیٰ کہ فلمی لوگ بھی اس کا اہتمام کرتے ہیں کہ وہ اپنے ساتھ اسلام کا لیبل لگائیں۔ روزنامہ نوائے وقت (۲۶ مارچ ۱۹۸۵) میں نئی فلم "ایک دلہن‘‘ کا اشتہار نظر سے گزرا۔ مضمون ان الفاظ سے شروع ہوتا تھا:

"انشاء اللہ ماہ اپریل میں نمائش کے لئے پیش کی جائے گی۔

لاہور کی سڑکوں پر جگہ جگہ ایسے بورڈ نظر آئے جن پر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا " نماز قائم کرو"، " اتحاد میں برکت ہے" وغیرہ۔ تاہم پاکستان کے اخبارات میں سب سے زیادہ نمایاں مقام فلم اور کھیل کو حاصل نوائے وقت ( ۲۶ مارچ) میں ترکی کی فلم ایکٹریس نازاں کا انٹرویو تھا۔ اس کا ایک حصہ یہ تھا : "فیشن میں ترکی پر یورپی تہذیب کا زیادہ اثر ہے۔ وہاں خواتین جدید فیشن کے ملبوسات بہت شوق سے زیب تن کرتی ہیں۔ پیرس اور لندن میں جوں ہی کوئی نیا فیشن ایجاد ہوتا ہے ترکی میں اس کی فوری طور پر کاپی کر لی جاتی ہے۔

عجیب بات ہے کہ پاکستان میں بے شمار اسلامی جماعتیں اور اسلامی تنظیمیں ہیں۔ کوئی ایک جماعت یا تنظیم ایسی نہیں ہے جس کے پروگرام میں یہاں کے غیر مسلموں تک اسلام پہنچانا شامل ہو۔ پاکستان میں ہندو اور عیسائی قابلِ لحاظ تعداد میں آباد ہیں۔ مگر مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے تو انہوں نے بے پناہ ہنگامے کئے۔ مگر غیر مسلموں کو اسلام کی رحمت میں داخل کرنے کے لئے کوئی بھی قابلِ ذکر کوشش اب تک پاکستان میں وجود میں نہ آسکی۔ حالانکہ اسی ملک میں عیسائی زبر دست تبلیغی کوشش میں مصروف ہیں۔

یہی حال آج سازی دنیا کے مسلمانوں کا ہے۔ وہ لوگوں کو جہنم میں ڈالنے کے لئے تو بہت بے قرار مگر لوگوں کو جنت میں پہنچانے کے لئے ان کے اندر کوئی تڑپ نہیں پائی جاتی۔ پاکستان کے نامزد وزیرِ اعظم محمد خان جونیجو کے متعلق معلوم ہوا کہ وہ مذہبی آدمی ہیں۔ پگاڑا کے مرید ہیں۔ وہ اپنے پیر کے مکان یا دفتر میں جاتے ہیں تو بغیر جوتوں کے داخل ہوتے ہیں۔ میں وہ کبھی بھی اپنی پیٹھ کے رخ واپس نہیں آتے۔ چنانچہ یہاں ایک مسئلہ پیدا ہو گیا ہے۔ پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں کس طرح شرکت کریں کیونکہ اگر پیر پگاڑا

پارلی منٹ کے اجلاس میں موجود ہوں تو وزیر اعظم محمد خان جونیجو اس بات پر آمادہ نہ ہوں گے کہ وہ اپنے روحانی پیشوا سے بلند مقام پر بیٹھیں۔

پیر پگاڑا کے لاکھوں مریدوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے پیر صاحب کی موجودگی میں کوئی بھی شخص اس عزت کا مستحق نہیں کہ وہ ان سے اونچی نشست پر بیٹھے۔ اس قسم کا ایک واقعہ سابق صدر ایوب خاں کے ساتھ سانگھڑ (سندھ) کے ایک استقبالیہ میں پیش آچکا ہے۔ صدر ایوب خاں اسٹیج پر پیر پگارا سے تقریبا دو انچ اوپر بیٹھے ہوئے تھے۔ جب پیر پگاڑ اکے مریدوں کو معلوم ہوا تو وہ ہزاروں کی تعداد میں کھڑے ہوگئے اور احتجاج کرنے لگے۔ بعد کو جب صدر ایوب خاں کو صورت حال کا علم ہوا تو وہ فوری طور پر مریدوں کے جذبات کے احترام میں اپنی کرسی سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد مریدین خوش ہوگئے ۔ نے ایوب خاں زندہ باد کے نعرے لگائے۔

وزیر اعظم جونیجو کی اہلیہ کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ پردہ میں رہتی ہیں۔ نوائے وقت (۲۶ مارچ) کی ایک خبر میں بتایا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے اسلام آباد میں اپنی ہونے والی سرکاری رہائش گاہ کا معائنہ کیا ۔ ‘‘ وزیر اعظم نے تزئین و آرائش میں کچھ تبدیلیوں کے احکام بھی جاری کئے ۔ اور تلاوت قرآن پاک کے لئے ایک جگہ مخصوص کرنے کی ہدایت کی۔

۲۵ مارچ ۱۹۸۵ء کو جماعت اسلامی پاکستان کے مرکز ’’منصورہ‘‘ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ مجموعی طور پر بارہ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے ۔ وسیع چہار دیواری کے اندر مسجد ، اسکول ، اسلامک ریسرچ سنٹر، اسپتال لائبریری ، دارالاشاعت ، تنظیمی دفاتر ، رہائش گاہ وغیرہ بنی ہوئی ہیں۔ درخت اور سبزہ بھی کافی نظر آتے۔ تاہم انتظام کے اعتبار سے وہ عام اداروں سے بہتر محسوس نہیں ہوا۔

جناب نعیم صدیقی صاحب اور دوسرے صاحبان سے اجتماعی ملاقات ہوئی۔ نعیم صدیقی صاحب (۵۹ سال) سے میں نے کہا کہ اپنی زندگی کی کوئی خاص دریافت بتائیے۔ انھوں نے جو بات بتائی وہ میں نے اسی وقت ان سے کاغذ پر لکھوالی۔ موصوف کی دریافت ان کے الفاظ میں یہ تھی : میرے نزدیک جو ہر دین یہ ہے ــــ دل پاک ، دیدہ پاک ، دہن پاک جماعت اسلامی کے امیر میاں طفیل محمد صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ نوائے وقت (۲۴ مارچ ۱۹۸۵ء) میں میں نے سینٹ کے رکن اور جماعت اسلامی پاکستان کے سکریٹری جنرل قاضی حسین احمد صاحب کا

بیان پڑھا تھا جس کی سرخی یہ تھی :

جماعت اسلامی پیش کش ہونے پر بھی حکومت میں شامل نہیں ہوگی۔

میں نے میاں طفیل محمد صاحب سے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ لوگوں نے ایسا فیصلہ کیوں انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے ہم نے تجربہ کر کے دیکھ لیا۔ موجووہ حالات میں شرکت حکومت کا کوئی

جماعت اسلامی نے پاکستان کی مرکزی اسمبلی کے لئے ۶۱ امیدوار کھڑے کئے تھے۔ ان میں رکن اور متفق کو ملا کر صرف آٹھ کامیاب ہوئے۔ میں نے کہا کہ اس سے پہلے آپ حضرات اپنی انتخابی شکست کا ذمہ دار دھاندلی کو بتاتے تھے۔ اس بار خود آپ کی پسندیدہ حکومت نے الیکشن کرایا ہے اور آپ کو الیکشن لڑنے کا سب سے زیادہ موقع ملا ہے پھر آپ کو شکست کیوں ہوئی۔ میاں طفیل محمد نے بڑا عجیب جواب دیا۔ انہوں نے یہ تسلیم نہیں کیا کہ جماعت اسلامی پاکستان کو موجودہ الیکشن میں شکست ہوئی ہے۔ مسلمانعرہں کی پر فخر نفسیات نے انہیں اس عجیب و غریب خوش قسمتی سے ہم کنار کیا ہے کہ وہ اپنی شکست کو بھی اپنی فتح کے خانہ میں ڈال سکیں۔

کچھ لوگ سندھ سے آتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ میری کتابوں کا سندھی زبان میں ترجمہ : کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تیزی سے کمیونزم کا سیلاب آرہا ہے۔ ان کو اولا پنجابیوں سے بیزاری ہوئی اور اس کے بعد وہ اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ پنجاب سے بیزاری کی ایک مثال انھوں نے یہ دی کی کہ پی آئی اے (پاکستان انٹرنیشنل اییرویز) کو دہ پنجاب انٹرنیشنل اییرویز کہتے ہیں۔ کمیونزم اور الحاد کی کاٹ کے لئے وہ میری کتابوں کو سندھی زبان میں منتقل کرنا

میں نے کہا کہ میرے اندازہ کے مطابق یہ مسئلہ عقیدہ کا نہیں بلکہ مفادات کا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مختلف اسباب سے وہ پنجابیوں سے پیچھے ہو گئے ۔ فوائد کی تقسیم میں انھیں کم حصہ ملا اور پنجابیوں کو اس کی وجہ سے ان کے اندر رد عمل پیدا ہوا۔ اپنے رد عمل کے اظہار کے لئے انھیں اسلام کا نو زیادہ مفید مطلب نظر نہیں آیا۔ چنانچہ کمیونزم کو اپنے لئے زیادہ مفید مطلب سمجھ کر انھوں نے کمیونزم کا نعرہ اختیار کر لیا۔ انہوں نے میرے اس نقطہ نظر کی تصدیق کی۔

لاہور میں بہت سے لوگوں نے آٹوگراف لئے۔ ایک آٹوگراف مجھے یاد ہے۔ میں نے اپنی دستخط کے ساتھ انھیں حسب ذیل جملہ لکھ کر دیا:

زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مطلوبِ اعلیٰ سے کمتر کسی چیز میں ضائع کیا جائے۔ لاہور کے قرآنی محاضرات کا عنوان تھا: تصورِ فرائضِ دینی مختلف علماء نے اپنے اپنے نقطہ نظر کے مطابق مختلف قسم کے خیالات پیش کئے۔ میں نے ۴۵ منٹ کی تقریر میں یہ دکھانے کی کوشش کی کہ دینی دعوت کا نشانہ فرد ہے نہ کہ اجتماع۔

۲۶ مارچ کو شام کی نشست میں میں نے ایک مقالہ پڑھ کر سنایا جس کا عنوان تھا” دلائل قرآن“ لوگوں نے اس کو بہت پسند کیا۔ اور متعدد لوگوں نے اس کی فوٹو کاپی کراکر اس کی نقل حاصل کی۔ ۲۵ مارچ کی شام کو جناب کرامت اللہ شیخ کی رہائش گاہ پر ایک نشست ہوئی۔ اس میں کچھ پروفیسر اور ڈاکٹر حضرات شریک ہوئے۔ گفتگو کے انداز میں اسلامی موضوعات پر باتیں ہوئیں۔ یہ نشست تقریباً دو گھنٹہ تک جاری رہی۔

۲۶ مارچ کی صبح کو مولانا وصی مظہر ندوی اور الانصار المسلمون کے دوسرے ذمہ دار ملاقات کے لئے دیر تک ملی موضوعات پر گفتگو ہوئی۔

مختلف ملاقاتوں کے درمیان مجھ کو ایک تجربہ یہ ہوا کہ ہر آدمی اپنے ذہن کو کسی نہ کسی شخصیت سے وابستہ کئے ہوئے ہے۔ وہ ہمیشہ اسی کی نسبت سے سوچتا ہے۔ مثلاً ایک بار میں نے ایک بات کہی۔ ایک صاحب نے فوراً کہا ” ہاں حضرت تھانوی نے بھی یہی بات اس طرح فرمائی تھی“ حالانکہ انھوں نے جو ملفوظ نقل کیا اس کا اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ اسی طرح ایک بار میں نے کوئی بات کہی تو ایک صاحب فوراً بولے ”جی ہاں۔ مولانا مودودی نے فلاں موقع پر کہی تھی“ حالانکہ جو بات انھوں نے نقل کی وہ ایک اور ہی بات تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ صرف شخصیتوں کو پہچانتے ہیں۔ وہ حقیقتوں کو نہیں جانتے۔ کسی حقیقت کو وہ اس وقت تک سمجھ نہیں پاتے جب تک وہ اس کو اپنی محبوب شخصیت کے ساتھ وابستہ نہ کر لیں۔ ایسے لوگ کبھی حقیقت کو نہیں پاتے۔ ان کے لئے وہ لذت مقدر نہیں جو اس دنیا میں صرف اس شخص کا حصہ ہے جو حقیقت کو براہ راست دریافت کرے ۔

ایک طبقہ وہ بھی ہے جو رسول کے معاملہ میں غلو کرتا ہے۔ وہ رسول کو اتنا بڑھانا چاہتا ہے کہ رسول

کا درجہ خدا سے بڑھ جائے یا کم از کم وہ اس کے ہم پلہ ہو جائے ۔ اس طبقہ میں جو نادان لوگ ہیں وہ یہاں تک کہہ گزرتے ہیں کہ :

اللہ کے بد میں وحدت کے سوا کیا ہے جو کچھ ہمیں لینا ہے لیں گے محمد سے اور جو لوگ نسبتاً سنجیدہ ہیں وہ دوسرے الفاظ میں سوچتے ہیں ۔ مثلاً ایک بزرگ نے فرمایا : شان کے اعتبار سے قرآن کا درجہ پہلا ہے اور رسول اللہ کا درجہ دوسرا ۔ مگر ایمان کے اعتبار سے رسول اللہ کا درجہ پہلا ہے اور قرآن کا درجہ دوسرا ۔ کیونکہ قرآن کو ہم رسول اللہ کے کہنے کی وجہ سے مانتے ہیں ۔ اس قسم کی باتیں بے فائدہ لفظ بازی ہیں ۔ حقیقت دین سے ان کا کوئی تعلق نہیں ۔

۲۳ مارچ سے ۲۸ مارچ تک یہ پروگرام رہا کہ روزانہ دن کے اوقات میں تنظیم اسلامی کے اجتماعات ان میں وہ تمام افراد تنظیم شریک ہوتے جو ملک کے مختلف حصوں سے آئے تھے ۔ مغرب کی نماز کے فوراًَ بعد محاضرات قرآنی کا سلسلہ شروع ہوتا ۔ ان محاضرات کا عنوان تھا : تصور فرائض دینی ۔ طبقہ کے علماء کو اس موقع پر دعوت دی گئی تھی کہ وہ مذکورہ موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کریں ۔ اس کی بھی پوری آزادی تھی کہ وہ تنظیم اسلامی اور انجمن خدام القرآن کے نظریات یا پروگرام پر کھلی تنقید

راقم الحروف ہر روز محاضرات قرآن کی نشستوں میں شریک ہوا ۔ میرا احساس ہے کہ اصل موضوع پر بہت کم اظہار خیال ہو سکا ۔ زیادہ تر لوگوں کی تقریریں واعظانہ انداز میں تھیں ۔ تاہم بعض ایسے افراد بھی تھے جنھوں نے اصل موضوع کا پابند رہ کر اظہار خیال کیا۔

لاہور کی بادشاہی مسجد دیکھی جو اور نگ زیب کی بنوائی ہوئی ہے ۔ یہ دہلی کی شاہجہانی مسجد سے بڑی ہے ۔ دونوں کا طرز تعمیر اگر چہ ایک ہے ۔ مگر دہلی کی مسجد میں جو غیر معمولی تناسب ہے وہ لاہور کی مسجد میں نظر نہ آیا ۔ البتہ لاہور کی مسجد میں صفائی اور دیکھ بھال وغیرہ کا انتظام بہت زیادہ ہے ۔ مسجد کے اندر کئی کمروں میں تاریخی تبرکات رکھے ہوئے ہیں ۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمامہ ، آپ کا عصا ، اور جبہ اور موئے مبارک وغیرہ ۔ بعد کے بزرگوں کے تبرکات بھی موجود ہیں ۔ پر تبرکات کی تعداد تقریباً ۳۰ ہے ۔ ۱۸۵۳ میں لارڈ لارنس کے حکم سے ان تبرکات کی تاریخ لکھی گئی تھی اس کے لکھنے والے سید نور الدین اور سید محمد لطیف تھے ۔ انھوں نے تبرکات لاہور نامی کتاب میں تحقیق

کر کے تفصیل سے بتایا ہے کہ یہ تبرکات کس طرح مختلف ہاتھوں سے ہوتے ہوئے یہاں پہنچے۔ اپنئے آخری مرحلہ میں انگریزی حکومت کی طرف سے انجمن اسلام لاہور کو دئے گئے۔ مسجد کے ایک حصہ میں قرآن کا ایک خاص نسخہ نمائش کے لئے رکھا گیا ہے۔ یہ سنہرے تاروں سے لکھا گیا ہے۔ عطا محمد مزارات پر چڑھائی جانے والی چادریں تیار کرتے تھے۔ ان کا مکان آتش بازی کے ایک کارخانہ کے اوپر تھا۔ کارخانہ میں آگ لگنے سے ان کا مکان اور بیوی بچے سب ہلاک ہو گئے۔ کے بعد روحانی سکون حاصل کرنے کے لئے عطا محمد کے ذہن میں آیا کہ وہ سنہری تاروں سے قرآن پاک تیار مختلف لوگوں کے تعاون سے انھوں نے دس سال میں یہ قرآن تیار کیا۔ یہ قرآن ۳۲۸ صفحات اس کی ۳۰ موٹی موٹی جلدیں ہیں۔ وہ ۱۹۴۷ میں اس مسجد میں رکھا گیا۔ مسجد سے متصل سکھوں کی ایک بڑی عمارت ہے۔ اس کے اندر مہاراجہ رنجیت سنگھ کا مقبرہ اور گورو دو راہے۔ ہم اس کے اندر داخل ہوئے اور درشن سنگھ سے ملے جو یہاں "سیوا دار" کی حیثیت سے مقیم ہیں۔ جب ہم ان کے کمرہ میں داخل ہوئے تو وہ ٹیلیفون پر کسی سے بات کر رہے تھے۔ پاکستان کی سرکاری زبان اردو ہے۔ اردو زبان کی ایک بڑی کمی یہ تھی کہ اس کا ٹائپ نہیں مگر دور جدید میں کمپیوٹر کی ایجاد نے اس کو حل کر دیا۔ برطانیہ کی ایک کمپنی نے کمپیوٹر کے ذریعہ اردو ٹائپ سٹنگ کی مشین ایجاد کی ہے۔ یہ مشین کافی مہنگی ہونے کی وجہ سے ابھی عام نہ ہو سکی۔ پاکستان میں کچھ اخبارات (مثلاً جنگ، نوائے وقت) اسی مشین کے ذریعہ چھپتے ہیں۔

تا ہم اس کے حروف میں وہ خوبصورتی نہیں جو ہاتھ کی کتابت میں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ مشین کی خرابی نہیں ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ کمپنی کے ذمہ داروں نے حروف تیار کرنے کا کام آرٹسٹ سے کرایا جب کہ یہ کام انھیں خطا ط سے کرانا چاہئے۔ انگریزی میں یہ کام چونکہ آرٹسٹ ہی انجام دیتے ہیں اس لئے انھوں نے اردو کے لئے بھی آرٹسٹ کا انتخاب کیا۔ معلوم ہوا کہ کمپنی کے لوگ دوبارہ خطا ط کے ذریعہ نے حروف تیار کرانا چاہتے ہیں۔

لاہور میں ایک میواتی بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی قوم کی نصف تعداد پاکستان میں ہے اور نصف تعداد ہندوستان میں۔

ان کو حکومت پاکستان سے شکایت تھی۔ انھوں نے کہا کہ میواتی لوگ جب ۱۹۷۷ میں پاکستان

میں داخل ہوئے تو انھوں نے یہاں کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کی پوری آبادی کو ایک جگہ بسایا جائے مگر یہ مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ چنانچہ یہ تمام میواتی مختلف علاقوں میں منتشر ہیں۔ میوات کے لوگ صرف اتنا ہی جانتے ہیں۔ وہ یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ حکومت نے ایسا کیوں کیا۔ اصل یہ ہے کہ میواتی قوم نے اپنے آپ کو ایک لڑاکا قوم کی حیثیت سے متعارف کیا ہے ۔ انھوں نے دہلی کے مسلم سلاطین کی ماتحتی قبول نہیں کی۔ اسی طرح انگریزوں کے دور میں بھی وہ برابر بغاوت کرتے رہے۔ ایسی حالت میں حکومت پاکستان کا یہ سوچنا بالکل درست تھا کہ ان کو مجموعہ کی شکل میں بسانا ٹھیک نہیں ہے۔ ورنہ وہ یہاں بھی شورش برپا کرتے رہیں گے۔

یہی وہ صورت حال ہے جس کے بارے میں حضرت مسیح نے فرمایا کہ ــــ انھیں دوسرے کی آنکھ کا تنکا دکھائی دیتا ہے مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔

حکیم عبد الرحيم اشرف صاحب (فیصل آباد) کا ٹیلی فون آیا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ فیصل آباد کے سفر سے معذوری ظاہر کی۔ چنانچہ وہ خود لاہور تشریف لائے۔ ان سے موجودہ زمانہ میں احیار اسلام کے موضوع پر گفتگو رہی۔ اس مجلس میں روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر جناب مصطفی صادق صاحب اور بعض دوسرے حضرات بھی موجود تھے۔

ہندوستان کے مسلمانوں کے بارہ میں سوال کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا کہ میری رائے اس سے بالکل مختلف ہے جو عام طور پر آپ نے سنا ہوگا ۔ لوگ ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق ہمیشہ ظلم وستم کی داستانیں بیان کرتے ہیں۔ مگر یہ یا تو تحریف (Distortion) ہوتی ہے یا تعمیم (Generalization) یعنی یا تو کسی واقعہ کو بگاڑ کر غلط شکل میں پیش کیا جاتا ہے یا کسی اتفاقی واقعہ کو عمومی حالت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں میں نے اپنا نقطہ نظر نہایت تفصیل کے ساتھ ایک کتاب میں بیان کیا ہے جس کا نام ہے" حل یہاں ہے"۔

پاکستان کے لئے روانگی سے چند دن پہلے میں نے ایک اخبار میں ایک بیان پڑھا تھا۔ کی سابق مجلس شوری کی خاتون رکن بشریٰ رحمان کا بیان تھا۔ اس بیان میں انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا :

ہندوستان کے مسلمان ثقافتی شدھی کے دور سے گزر رہے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی

حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ مسلمانوں کو وہاں با عزت روزگار حاصل کرنے کے لئے ہندو نام رکھنے پڑتے ہیں ۔ ان کو ہندوؤں جیسی وضع قطع اختیار کرنی پڑتی ہے ۔ عجیب بات ہے کہ اس طرح کے جھوٹے بیانات دینے میں بہت سے مذہبی رہنما بھی عام لیڈروں سے پیچھے نہیں ہیں ۔ مثلاً مولانا مودودی نے ایک بار ہندوستان کے مسلمانوں کو اسرائیل کے عربوں کے مشابہ میں جب اس کو پڑھتا ہوں تو میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں اس کو کس خانہ میں ڈالوں ۔ اس قسم کے تبصرہ سے قائل کی سنجیدگی مشتبہ ہو رہی ہے ۔

مولانا ابو الا علیٰ مو دو دی نے ۱۹۵۹ میں عرب دنیا کا سفر کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے رفیق خاص محمد عاصم صاحب بھی تھے جنھوں نے واپسی کے بعد " سفر نامہ ارض القرآن " کے نام سے اس سفر کی تفصیلی رو داد شائع کی ۔ یہ رو داد ۱۹۶۲ میں لاہور سے کتابی شکل میں شائع ہوئی۔ مولانا ابو الا علیٰ مو دودی اور محمد عاصم صاحب نومبر ۱۹۵۹ میں سمندری جہاز کے ذریعہ کراچی سے بحرین پہنچے ۔ یہاں کی رو داد کا ایک حصہ کتاب میں ان الفاظ میں درج ہے :

(بحرین میں) مولانا مودودی لوگوں کے سوالات کا اطمینان اور تفصیل سے جواب دیتے ہندوستان کے مسلمانوں کے متعلق مولانا نے بتایا کہ ان کی حالت ویسی ہی ہے جیسے اسرائیل میں عربوں کی۔ یہ مختصر جواب نہایت مو ثر رہا۔ اس مثال کے بغیر اگر ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کے متعلق کوئی مفصل تقریر بھی کی جاتی تو شاید وہ اتنی مؤثر نہ بعض لوگوں نے پاکستان کے موجودہ سیاسی مسائل کے متعلق بھی سوالات کئے لیکن مولانا نے ان کا جواب نہیں دیا اور فرمایا کہ میں پاکستانی سیاسیات کو کراچی کے ساحل پر بطور امانت رکھ آیا ہوں ۔ اور جب واپس جاؤں گا تو اسے وصول کر لوں گا۔ اس لئے آپ لوگ اس کے متعلق مجھ سے سوالات نہ کریں (صفحہ ۲۳)

حیران کن بات یہ ہے کہ مولانا ابو الکاعلیٰ مودودی خود اپنے ملک کے بارہ میں تو جانتے تھے کہ اس کی بابت باہر انھیں خاموش رہنا ہے۔ مگر یہی بات وہ ہندوستان کے نازک تر مسئلہ کے بارہ میں نہیں جانتے تھے ۔ کیسا عجیب تھا ان کا جاننا اور کیسا عجیب تھا ان کا

Printed page