ان اول بیت وضع للناس للذی ببكة
Al-Risala, August 1985, pp. 54–4
By Maulana Wahiduddin Khan
مبارکاو هدی للعالمین (آل عمران ۹۶)
بنی الاسلام علی خمس شهادة ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله واقام الصلاة وايتاء الزکاة و حج البیت وصوم رمضان (حدیث)
تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو۔
پہلا گھر جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا وہ وہی ہے جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے رہنما۔ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ اور نماز قائم حمی کیاں انگریزیاں شانشا عات کا ۳ ارتا اور مسالیانا کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا۔
فریضہ ہے، صحابہ کرام کے احکام الٰہی بارگاہوں پر عمل کرنے حج کی ادائگی (بشرطِ استطاعت) تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ وہ اسلام کے پانچ لازمی ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ۔
حج کے لفظی معنی ہیں قصد کرنا، زیارت کے لئے جانا ۔ اسلامی شریعت میں حج سے مراد وہ سالانہ عبادت ہے جس میں آدمی مکہ جاکر خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے ۔ عرفات کے میدان میں قیام کرتا ہے ۔ اور دوسرے اعمال کرتا ہے جن کو مراسم حج کہا جاتا ہے ۔ حج ایک جامع عبادت ہے ۔ اس میں مال کا انفاق بھی ہے اور جسم کی مشقت بھی ۔ اللہ کا ذکر بھی ہے اور اللہ کے لئے قربانی بھی ۔ حج ایک ایسی عبادت ہے جس میں بقیہ عبادتوں کی روح بھی کسی نہ کسی اعتبار سے شامل ہوگئی ہے ۔
حج کے فرائض کی ادائیگی کا مرکز بیت اللہ ہے جو م میں واقع ہے۔ بیت اللہ ایک بندہ خدا کی اس پوری مومنانہ زندگی کی یاد دلاتا ہے جس کے آغاز میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی تاریخ ہے اور جس کے اختتام پر نبی آخر الزماں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تاریخ۔ بیت اللہ اس واقعہ کا ایک یادگاری نمونہ ہے کہ کس طرح اللہ کا ایک بندہ اللہ کے لئے اپنا سب کچھ لٹا دیتا ہے۔ کس طرح وہ اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی میں ڈھال لیتا ہے۔ کس طرح وہ اللہ کے مشن میں اپنے آپ کو ہمہ تن لگا دیتا ہے یہاں تک کہ اسی حال میں اس کی موت آ جائے۔