عبادتوں کا سردار
Al-Risala, August 1985, pp. 5–6
By Maulana Wahiduddin Khan
حج حق تعالیٰ سے ملاقات ہے۔ آدمی جب سفر کر کے مقامات حج تک پہونچتا ہے تو اس پر خاص طرح کی ربانی کیفیات طاری ہوتی ہیں۔ اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ ”اپنی دنیا“ سے نکل کر ”خدا کی دنیا“ میں پہونچ گیا ہے۔ وہ اپنے رب کو ڈھونڈ رہا ہے۔ وہ اس کے گرد گھوم رہا ہے۔ وہ اس کی طرف دوڑ رہا ہے۔ وہ اس کی خاطر سفر کر رہا ہے۔ وہ اس کے حضور اپنی قربانی پیش کر رہا ہے۔ وہ اس کے دشمن کو کنکریاں مار رہا ہے۔ وہ اس سے مانگ رہا ہے جو کچھ وہ مانگنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے پا رہا ہے جو کچھ اسے پانا چاہیے۔ کعبہ زمین کے اوپر خدا کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ وہاں بھٹکی ہوئی انسانی روحوں کا خدا کا آغوش دیا جاتا ہے۔ وہاں پتھرائے ہوئے سینوں میں عبدیت کے چشمے جاری کئے جاتے ہیں۔ وہاں بے نور آنکھوں کو خدا کی تجلیات دکھائی جاتی ہیں۔ تاہم سب کچھ اس شخص کے لیے ہے جو اس کی استعداد لے کر وہاں جائے۔ بے استعداد لوگوں کے لیے حج بس ایک قسم کی سیاحت ہے۔ وہ صرف اس لیے وہاں جاتے ہیں تاکہ جیسے گئے تھے ویسے ہی دوبارہ واپس چلے آئیں۔
حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ الحج عرفة (عرفات کے میدان میں قیام حج ہے) اس سے عرفات کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حج کے زمانے میں عرفات کا میدان گویا حشر کے میدان کا منظر پیش کرتا ہے۔ ایک خاص تاریخ کو خدا کے بندے قافلہ در قافلہ چاروں طرف سے آتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے۔ تمام لوگوں کے جسم پر ایک ہی سادہ لباس (احرام)
کی وہ آیت یاد آنے لگتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ قیامت کے دن جب صور پھونکا جائے گا تو تمام لوگ قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے : ونفخ فی الصور فاذا هم من اور صور پھونکا جائے گا تو سب لوگ یکایک الاجداث الى ربهم ينسلون (یس ۵۱) قبروں سے اپنے رب کی طرف چلنے لگیں گے۔ عرفات کی یہ حاضری اس لیے ہے کہ آدمی حشر کے خدا کے سامنے اپنی حاضری کو یاد کرے ۔ جو کچھ کل عملاً بیٹنے والا ہے اس کو آج ہی تصوراتی طور پر اپنے اوپر طاری کرلے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حج تمام عبادتوں کا سردا رہے ۔ کعبہ کا جو درجہ دوسری سجدوں کے درمیان ہے وہی درجہ حج کا دوسری عبادتوں کے درمیان ہے۔