حج کا پیغام
Al-Risala, August 1985, pp. 7–10
By Maulana Wahiduddin Khan
کہا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ کو اس میں تردد تھا کہ اسلامی عبادتوں میں کون سی عبادت افضل حب انھوں نے حج ادا کیا تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب مجھے یقین ہوگیا کہ حج تمام عبادتوں میں سب سے افضل عبادت ہے۔
حج کی اس فضیلت کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ حج کا تعلق ایک عظیم خدائی منصوبہ سے ہے۔ ایسے خدائی منصوبہ کی یادگار ہے جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں ہوا اور محمد صلے اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کی آخری تکمیل ہوئی۔
حج کے مختلف مناسک اسی خدائی منصوبہ کے مختلف مراحل ہیں جن کو حاجی علامتی طور پر دہراتا حاجی اپنے گھر سے نکل کر حجاز کے لئے روانہ ہوتا ہے جس طرح حضرت ابراہیم عراق سے نکل کر حجاز وہ مکہ کے قریب پہنچ کر سلے ہوئے کپڑے اتار دیتا ہے اور اپنے جسم پر دو چادریں لپیٹ لیتا یہ اسی قسم کی سادہ پوشاک ہے جو اس زمانہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی ہوتی تھی۔ حاجی مکہ پہنچتا ہے تو کعبہ کے گرد گھوم کر اس کا چکر لگاتا ہے۔ یہ وہی طواف ہے جو حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے عہد خداوندی کی توثیق کے لئے کیا تھا۔ حاجی صفاومروہ کے درمیان سات بار سعی کرتا ہے۔ یہ حضرت ہاجرہ کی اس دوڑ کی نقل ہے جو انھوں نے اس بیابان میں پانی کی تلاش کے حاجی منیٰ جا کر قربانی کرتا ہے، یہ اس قربانی کا علامتی اعادہ ہے جو حضرت ابراہیم نے اولاپئے کے لئے اور اس کے بعد خدا کے حکم سے مینڈھے کے لئے کی تھی۔ حاجی جمرات پر جاکر شیطان کو سنگ کریاں
یہ اس عمل کی یادگار ہے جو حضرت اسماعیل نے شیطان کی طرف کنکریاں مار کر کیا تھا۔ جب کہ اس نے انہیں بہکانے کی کوشش کی۔ پھر تمام حاجی عرفات کے میدان میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ اس عمل کی آخری صورت ہے جو لبیک اللھم لبیک کی صورت میں ہر حاجی کی زبان سے ادا ہوتا ہے۔ یہاں تمام حاجی کھلے میدان میں جمع ہو کر اپنے خدا سے اجتماعی عہد کرتے ہیں کہ وہ وہی کریں گے جس کا سبق انہیں حج کی صورت میں دیا گیا ہے۔ وہ اسی میں جئیں گے جس میں وہ لوگ جئے جن کی یادگار میں حج کی عبادت ادا کی
حج کے مناسک کو قرآن میں شعائر کہا گیا ہے یعنی علامتی چیزیں۔ یہ سب دراصل حضرت ابراہیم اور ان کے خاندان پر گزرنے والے واقعات ہیں جو مذکورہ منصوبہ الہی کی تکمیل کے دوران پیش ان واقعات کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح یہ عہد کرتا ہے کہ وہ بھی اسی تاریخ کا جز بنے گا۔
حاجی گویا یہ عہد کرتا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو وہ اپنی دنیا کو جائز حق کی طرف بڑھے گا۔ وہ آرام و راحت کو چھوڑ کر قناعت اور سادگی پر اپنے آپ کو راضی کرے گا۔ وہ خدا کے لئے دوڑے گا اور خدا کے گرد گھومے گا۔ وہ شیطانی بہکاؤں کو پتھر مار کر اپنے سے دور بھگائے گا۔ خدا کا دین اس کو جہاں لے جائے وہاں وہ جائے گا۔ اور جس چیز کا تقاضا کرے گا اس کو وہ اس کے حوالے کر دے گا۔ وہ عمل کی زبان میں خدا سے کہتا ہے کہ اگر دوبارہ دین کے لئے ضرورت پیش آئی تو وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے کہ اپنی اولاد کو ذبح کر کے دین کی ضرورت پوری کرے۔
حضرت ابراہیم کا عراق سے چل کر کے آنا اور یہاں مذکورہ واقعات کا پیش آنا ایک عظیم خدائی منصوبہ تھا جو ڈھائی ہزار سال میں بروئے کار لایا گیا۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اب سے پانچ ہزار سال پہلے انسانی ذہنوں پر شرک کا اتنا غلبہ ہو گیا تھا کہ زندگی کا کوئی شعبہ شرک سے خالی نہ تھا۔ یہ صورت حال نسل در نسل جاری رہی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسانی نسلوں میں شرک کا تسلسل قائم ہو گیا۔ اس زمانہ کی آبادیوں میں جو شخص بھی پیدا ہوتا وہ شرک کا ذہن لے کر پیدا ہوتا اور اسی پر اس کی پوری اٹھان ہوتی۔ بنا پر پیغمبروں کی توحید کی دعوت کسی طرح لوگوں کو اپیل نہیں کرتی تھی۔
اب خدا نے یہ منصوبہ بنایا کہ انسانوں کی ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو مشرکانہ ماحول سے الگ ہو کر پرورش پائے تاکہ وہ مشرکانہ تسلسل سے آزاد ہو کر سوچ سکے۔ اس کے لئے شہری آبادیوں سے دور ایک غیر آباد مقام ہی مناسب ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے عرب کے خشک علاقہ کا انتخاب کیا
گیا جو اس زمانہ میں آباد دنیا سے الگ تھلک بالکل غیر آباد حالت میں پڑا ہوا تھا۔ اب اس بے آب و گیاہ علاقہ میں ایک نئی نسل تیار کرنے کے لئے وہ پہلا انسان درکار تھا جو موت کی قیمت پر وہاں بسنے کے لئے تیار ہو۔ اس نازک موقع پر حضرت ابراہیم کو خواب دکھایا گیا کہ آپ اپنے نوجوان بیٹے اسماعیل کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ جسمانی ذبح حقیقۃً صحرائی ذبح کی تمثیل تھی۔ اس کے ذریعہ یہ دیکھنا مقصود تھا کہ کیا ابراہیم اس کے لئے تیار ہیں کہ وہ اپنے آپ کو خدائی منصوبہ میں اس طرح شامل کریں کہ اپنی محبوب اولاد کو لے جاکر حجاز میں بسادیں جہاں خشک پہاڑوں اور رتیلے صحراؤں کے سوا اور کچھ نہیں۔ اس زمانہ میں حجاز میں بسنا موت کی وادی میں بسنے کے ہم معنی تھا۔
قدیم زمانہ میں حجاز اس لئے غیر آباد پڑا رہا کہ وہاں پانی اور سبزہ نہ تھا۔ قدیم حجاز کا مشرکانہ تمدن سے پاک رہنا اسی لئے ممکن ہوا کہ وہ زندگی کے سامان سے خالی تھا۔ قدیم حجاز کی وہ خصوصیت جس نے اس کو مشرک انسانوں سے خالی رکھا تھا، اسی نے اس کو اس قابل بنا دیا کہ وہاں موحدین کی ایک نئی نسل تیار حضرت ابراہیم کا اپنے نوجوان بیٹے (اسماعیل) کے گلے پر چھری رکھنا اس بات کا اظہار تھا کہ وہ اس قربانی کے لئے آخری طور پر تیار ہیں۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کو اس منصوبہ خداوندی کے لئے چن لیا گیا اور ان کو قدیم حجاز کے الگ تھلک علاقہ میں بسا کر نئی نسل تیار کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ حضرت ابراہیم نے اسماعیل کی نسل میں ایک پیغمبر پیدا ہونے کی دعا کی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دعا کے نتیجے میں پیدا ہوئے ۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، دعا اور اس کی قبولیت کے درمیان ڈھائی ہزار سال کا فاصلہ ہے۔ اس تاخیر کا سبب یہ ہے کہ اس مدت کے دوران وہ نسل تیار کی جارہی تھی جو شرک کے تسلسل سے منقطع ہوکر سوچ سکے اور صحرائی تربیت کے نتیجہ میں جس کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ پیغمبر کا ساتھ دے کر اس مشن کو تکمیل تک پہنچاسکے۔ اسی لئے اس گروہ کو " خیر امت " کہا گیا۔ یہ امت تاریخ کی انوکھی امت ہے۔ ابتداً اگر ضرورت اس کی ایک تعداد پیغمبر کی دشمن ہوگئی۔ مگر جب اس کی سمجھ میں آگیا تو اس نے بھر پور طور پر آپ کا ساتھ دیا۔
اس طرح جو نسل بنائی گئی اس کے اندر اگرچہ بعد کو اطراف کی دنیا سے کچھ شرک کے اثرات آگئے۔ مگر بنیادی طور پر وہ ایک محفوظ نسل تھی۔ کچھ ناقص افراد کو چھوڑ کر وہ لوگ صحیح فطرت پر قائم تھے۔ نے ابتدائی پیغمبر کا مطالبہ بھی کیا۔ مگر اس کا سبب زیادہ تر ناگھی تھا۔ جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ واقعی یہ پیغمبر ہیں اور ان کا دین برحق ہے تو ان کی مخالفت دوبارہ موافقت میں تبدیل ہوگئی۔ وہ بھر پور طور پر آپ کے ساتھی بن گئے۔
حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کو" ذبیح "کر کے جو نسل تیار کی اس کا سب سے زیادہ نمایاں وصف یہ تھا کہ وہ آزاد ذہن کے ساتھ حقیقت کو دیکھ سکتی تھی اور اس کا اعتراف کر سکتی تھی۔ حقیقت واقع کو مان لینے کی صلاحیت اس کے اندر کامل درجہ میں موجود تھی۔ یہاں اس سلسلہ میں تین مختلف مثالیں نقل کی جاتی ہیں۔ شخص وہ جس نے حق کو سنتے ہی اسے مان لیا۔ دوسرا وہ جس نے ابتداً انکار کیا مگر جب بات سمجھ میں آگئی تو اس نے اعتراف میں دیر نہیں کی۔ تیسرا وہ جس نے اگرچہ اپنی سرداری کی خاطر اعتراف نہیں کیا مگر وہ بھی اس صفت عام سے خالی نہ تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو لوگ ابتدائی مرحلہ میں ایمان لائے ان میں سے ایک خالد بن سعید بن العاص تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ : اے محمد ، آپ کس چیز کی طرف بلاتے آپ نے فرمایا کہ میں تم کو ایک اللہ کی طرف بلاتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد اس کے بندے اور اور یہ کہ تم پتھروں کی عبادت چھوڑ دو جو نہ سنتے اور نہ دیکھتے ہیں اور نہ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ ان کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کس نے ان کی عبادت کی اور کس نے ان کی عبادت نہیں کی (ولا یدری من عبده ممن لا يعبدہ)، خالد نے یہ سن کر کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور میں گو اہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔
حضرت خالد کے والد جو مشرک تھے جب ان کو معلوم ہوا کہ ان کے بیٹے نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ انھوں نے ان کو پکڑا اور انھیں مارنا شروع کیا یہاں تک کہ مارتے مارتے لکڑی ٹوٹ گئی۔ جب حضرت خالد اسلام سے پھرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے تو باپ نے کہا کہ میں تمہارا کھانا پینا بند کر دوں گا اور تجھے گھر سے نکال دوں گا۔ حضرت خالد نے جواب دیا ، خدا کی قسم محمد نے جو کہا سچ کہا اور میں ان کا پیرو ہوں (قد صدق واللہ واتبعته) دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد جب ایک حق بات کہہ رہے ہیں تو کیسے ممکن ہے کہ میں اسے نہ مانوں۔
دوسری مثال سہیل بن عمرو کی ہے۔ صلح حدیبیہ کے وقت وہ مخالفین اسلام کے نمائندہ تھے۔ گفت و شنید کے بعد جب معاہدہ لکھا جانے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو املا کراتے ہوئے یہ الفاظ کہے: