الله ما صدقناك ولا قاتلناگ
Al-Risala, August 1985, pp. 11–13
By Maulana Wahiduddin Khan
بعد کی تاریخ نے بتایا کہ سہیل بن عمرو ان الفاظ میں پوری طرح صادق تھے۔ وہ واقعہ نہ سمجھنے کی وجہ سے مخالفت کمر رہے تھے۔ چنانچہ بعد کو جب ان کی سمجھ میں آگیا کہ آپ سچے پیغمبر ہیں تو وہ ایمان لائے اور اس کے بعد اپنی پوری زندگی اسلام کی حمایت اور تائید میں وقف کردی۔
تیسری مثال ابو جہل کی ہے۔ ابو جہل نے اگر چہ اسلام قبول نہیں کیا۔ مگر اس کے یہاں بھی اس عرب کردار کا ایسا نمونہ ملتا ہے جس کی مثال مشکل سے کہیں دوسری جگہ ملے گی۔
مکی دور کا واقعہ ہے کہ ایک روز ابو جہل کی ملاقات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی ۔ اس نے آپ کو بہت برا بھلا کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ یہ واقعہ کہ کی ایک عورت دیکھ رہی تھی۔ اس نے آپ کے چچا حمزہ بن عبد المطلب سے کہا کہ آج ابو جہل نے آپ کے بھتیجے سے بہت نازیبا انداز میں کلام کیا ہے۔ اس وقت حمزہ کے ہاتھ میں لوہے کی کمان تھی ۔ وہ اس کو لئے ہوئے ابو جہل کے پاس آئے اور کمان سے اس کے سر پر اس طرح مارا کہ اس کا سر بری طرح زخمی ہوگیا ۔ کے قبیلہ (بنو مخزوم) کے کچھ لوگ حمزہ کو مارنے کے لئے دوڑے ۔ ابو جہل نے اپنے آدمیوں کو روک دیا اور کہا کہ حمزہ کو چھوڑ دو کیوں کہ خدا کی قسم میں نے ان کے بھتیجے کو آج بہت برا بھلا کہہ دیا تھا (دعوا ا با عمارة فاني والله قد سببت ابن اخيه سبا قبيحا)
ہر قل کے مشہور واقعہ میں آتا ہے کہ اس نے ابو سفیان سے پوچھا کہ کیا نبوت کے اعلان سے پہلے تم لوگوں نے محمد کو کبھی جھوٹ بولتے ہوئے پایا ہے ۔ ابو سفیان نے کہا کہ نہیں۔ یہ واقعہ نقل کرکے ابن کثیر لکھتے ہیں :
وكان ابوسفيان اذذاك رأس الكفرة ابو سفيان اس وقت کا فروں کے سردار اور مشرکوں وزعيم المشركين ومع هذا اعترف بالحق کے لیے لڑتے تھے ، اس کے باوجود انہوں نے حق (تفسیر ابن كثير، الجزء الثاني، صفحة (۴۱۰) کا اعتراف کیا۔
یہ تھی وہ انسانی نسل جو حضرت ابراہیم نے اپنی اولاد کو ذبح" کرکے بنائی۔ اور پھر اس کے منتخب افراد کے ذریعہ وہ "خیر امت" بنی جس نے دل وجان سے توحید کو قبول کیا اور پھر بے مثال قربانی کے ذریعہ دور شرک کو ختم کر کے دور توحید کو بر پا کیا۔
حضرت ابراہیم سے لے کر حضرت محمد تک یہ ایک ڈھائی ہزار سالہ منصوبہ تھا۔ اس کا مرکز عرب کا وہ علاقہ تھا جس کو حجاز کہا جاتا ہے اور جس میں مکہ واقع ہے۔ حج اسی تاریخ کا علامتی اعادہ ہے۔ حج کے ذریعہ
مسلمان دوبارہ یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ اس منصوبہ خداوندی میں اپنے آپ کو شامل کریں گے۔ وہ لبیک اللھم لبیک لاشریک لک لبیک ! اے خدا ! ہم حاضر ہیں، کہتے ہوئے ابراہیم اور اسماعیل کی سرزمین میں جمع ہوتے ہیں جو کچھ ان لوگوں پر حقیقی طور پر گزر رہا تھا اس کو چند دن میں علامتی طور پر دہراتے ہیں۔ اس طرح وہ خدا سے کہتے ہیں کہ اگر ضرورت ہو تو وہ دوبارہ اس تاریخ کو دہرانے کے لئے تیار ہیں جو یہاں اس سے پہلے
آج زمانہ گھوم کر دوبارہ وہیں پہنچ گیا ہے جہاں وہ حضرت ابراہیم کے زمانہ میں تھا۔ اس وقت سارے عالم پر شرک کا غلبہ تھا، آج سارے عالم پر الحاد کا غلبہ ہے۔ قدیم زمانہ کا انسان اگر مشرکانہ طرز پر سوچتا تھا تو آج کا انسان ملحدانہ طرز پر سوچتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کا مسئلہ بھی وہی ہے جو قدیم زمانہ کا مسئلہ تھا۔ فرق کے ساتھ کہ قدیم زمانہ میں مشرکانہ شاکلہ لوگوں کے اوپر چھایا ہوا تھا۔ آج لوگوں کے اوپر الحادی مت کا کلہ چھایا اس شاکلہ (ذہنی سانچہ) کو توڑنا ہی آج اسلام کا اصل کام ہے۔ آج بھی اسلامی ہم اسی نہج پر طے ہوگی جس نہج پر قدیم زمانہ کی اسلامی ہم طے ہوئی تھی۔
اب دوبارہ کچھ لوگوں کو ذبیح ہونا ہے۔ اب پھر کچھ لوگوں کو اپنی اولاد کو صحرا میں ڈالنا ہے تاکہ دین کی تاریخ دوبارہ زندہ ہو۔ ماضی میں دور شرک کو ختم کرنے کے لئے ایک نسل کی قربانی درکار تھی۔ آج دور الحاد کو ختم کرنے کے لئے دوبارہ ایک نسل کی قربانی درکار ہے۔ یہی حج کا سب سے بڑا سبق ہے۔ آج حج مبہر و رہے۔ جو حج کے بعد یہ عزم لے کر وہاں سے واپس آئے۔
حقیقت یہ ہے کہ حج سے فراغت کے بعد حاجی کا کام ختم نہیں ہو جاتا، حج سے فراغت کے بعد حاجی کا اصل کام شروع ہوتا ہے۔ حج کے سفر سے واپسی ایک نئے اہم ترین سفر کا
حاجی مراسم حج کے دوران بار بار لبیک اللھم لبیک (حاضر ہوں خدایا میں حاضر ہوں) کہتا ہے ۔ یہ کیا ہے ۔ یہ عہد نامے کے الفاظ ہیں۔ رج خدا اور بندے کے درمیان ایک عہد ہے۔ عہد ہمیشہ آغاز ہوتا ہے، وہ اختتام نہیں ہوتا۔ یہی حج کی عبادت کا معاملہ جو شخص مراسم حج کو ادا کرکے واپس آتا ہے وہ گویا خدا سے ایک مقدس عہد کر کے واپس آتا ہے ۔ واپس آنے کے بعد اسے مطمئن ہو کر بیٹھ نہیں جانا ہے بلکہ اپنے حالات اور صلاحیت کے اعتبار سے وہ کام شروع کر دیتا ہے جس کا وہ اپنے رب سے عہد کرکے واپس آیا ہے۔ حج سے لوٹنا مقام عہد سے نکل کر مقام عمل کی طرف لوٹنا ہے ۔ حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، حج کے بعد آدمی کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں۔
حج کا عہد نامہ کیا ہے ۔ یہ ایک تاریخ کو دہرانے کا عزم ہے ۔ حج تاریخ ابراہیمی کو دوبارہ ظہور میں لانے کا اشتراک ہے۔ حضرت ابراہیم نے جب دیکھا کہ عراق کے متمدن لوگ توحید اور آخرت کی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہوں نے اپنے عمل کا ایک نیا نقشہ بنایا انہوں نے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو سخت ترین قربانی کے مرحلے سے گزار کر ایک نئی زندہ نسل پیدا کی۔ انہوں نے دعوت کے عمل کو ایک عظیم منصوبہ کا عمل بنا دیا۔ انہوں نے وہ سب کچھ کیا جو یہ مقصد ان سے کرنے کا تقاضا کر رہا تھا ۔
اسی طرح آج حاجی کو وہ سب کچھ کرنا ہے جو آج کے حالات کا تقاضا ہو اور اس وقت تک کرتے رہنا ہے جب کہ اس کی موت آئے یا وہ منزل مقصود تک پہو نچ جائے ۔ حضرت ابراہیم کے زمانے میں جس طرح شرک کا عالمی غلبہ تھا۔ اسی طرح آج الحاد کا عالمی غلبہ ہے ۔ اب حج سے لوٹنے والوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ دور الحاد کو ختم کرکے دوبارہ دور توحید کو لانے کے لیے ابراہیمی تاریخ کو دہرائیں ۔ وہ ابراہیمی عمل کو از سر نو زندہ کریں ۔ وہ اس مقصد کی راہ میں اپنا وہ سب کچھ لگا دیں جس کو لگانے کا آج کے حالات ان سے تقاضا کرتے ہوں ۔ وہ علامتی قربانی کو حقیقی قربانی بنادیں ۔
حج ایک تاریخ کے اعادہ کا عزم ہے ، ایام حج میں علامتی مناسک کی صورت میں اور ایام حج کے بعد حقیقی زندگی میں منصوبہ بند عمل کی صورت میں ۔
یہ مقالہ ایک تقریر پر مبنی ہے جو اسلامی مرکز دہلی کے ماہانہ اجتماع ۱۳ اکتوبر ۱۹۸۴ میں کی گئی ۔