Al-Risala · August 1985

حج کی تاریخ

Al-Risala, August 1985, pp. 14–17

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کو امام ہدایت بنایا (انی جاعلک للناس اماما) یعنی آپ کو اس مستقل کام کے لئے چنا کہ آپ کے ذریعہ نبوت کا علم لوگوں تک برابر پہنچتا رہے۔ ابتدائی دو ہزار سال تک اس خدائی فیصلہ کا ظہور آپ کے صاحبزادہ اسحاق کی شاخ میں ہوا۔ حضرت اسحاق سے لے کر حضرت مسیح تک اس نسل میں کثرت سے انبیاء پیدا ہوئے جنھوں نے فلسطین اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں دعوت حق کا کام مسلسل انجام دیا۔ حضرت مسیح کے بعد یہ دینی امامت آپ کے دوسرے صاحبزادہ اسماعیل کی نسل میں منتقل ہوگئی۔ ان کی اولاد میں آخری نبی پیدا آپ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصی طور پر غلبہ کی نسبت دی تاکہ آپ کے ذریعہ کتاب الہی کی حفاظت کا یقینی انتظام ہوسکے اور دین کے ملنے کا اندیشہ نہ رہے یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اظہار دین (لیظهره علی الدین كله) کہا گیا ہے۔ عام پیغمبروں سے اصلاً صرف تبلیغ دین مطلوب تھی اور پیغمبر آخرالزمان سے تبلیغ دین کے ساتھ اظہار دین بھی۔

اس مقصد کے لئے انسانوں کی ایک معاون جماعت درکار تھی جو تمام انسانی اوصاف سے متصف وہ پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اظہار دین کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچائے۔ اسی جماعت کی تیاری کے لئے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے لڑکے اسماعیل کو قدیم مکہ کے غیر آباد اور خشک علاقے میں لاکر بسا دیا، تاکہ تمدن سے دور فطرت کے سادہ ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعہ ایک ایسی قوم پیدا ہو جس کے اندر تمام اعلیٰ انسانی صلاحیتیں محفوظ ہوں۔ جو حیلے آمیز ڈھنگ سے سوچے۔ جس کے قول و فعل میں تضاد نہ ہو۔ جو ایک نظری حق کی خاطر اپنا سب کچھ لٹا سکے۔ جس کے اندر پہاڑوں کی صلابت، صحرا کی وسعت اور آسمان کی بلندی ہو۔ اس طرح جب صحرائی ماحول میں پرورش پا کر ایک خیر امت وجود میں آگئی (آل عمران (۱۱۰) تو عین وقت پر اس کے اندر وہ نبی پیدا کر دئے گئے جس کے لئے حضرت ابراہیم نے تعمیر کعبہ کے وقت دعا کی تھی (البقرہ (۱۲۹)

حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ کے بطن سے خدا کو ایک پیغمبر پیدا کرنا تھا۔ یہ پیغمبر حضرت ابراہیم ہی کی زندگی میں پیدا ہو گیا اور اس کا نام اسحاق رکھا گیا۔ دوسری طرف حضرت ابراہیم نے مکہ میں دعا کی کہ میرے لڑکے اسماعیل کی اولاد میں ایک نبی پیدا کرے، تو اس دعا کی تکمیل میں دو ہزار سال سے زیادہ مدت لگ اس فرق کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ دونوں کے تاریخی کردار کا فرق تھا۔ پیغمبر آخر الزماں کو اپنا مطلوبہ کردار ادا کرنے کے لئے ایک زندہ قوم درکار تھی ۔ اس طرح کی قوم اسباب کے پردہ میں بننے کے لئے دو ہزار سال سے زیادہ کی مدت لگ گئی۔ چنانچہ جب یہ قوم تیار ہو گئی تو آپ خدائی منصوبہ کے مطابق پیدا کر دئے گئے، تاہم یہ بھی ضروری تھا کہ تیاری کے اس طویل وقفہ کے دوران پیغمبرانہ دعوت کے تسلسل کو باقی رکھا جائے۔ اس لئے دوسرا انتظام یہ کیا گیا کہ حضرت ابراہیم کی نسل کی اسرائیلی شاخ میں انبیاء کی پیدائش کا سلسلہ قائم کر دیا گیا ۔ اور ایک کے بعد ایک پیغمبر آکر لوگوں کو خدا پرستی کا پیغام دیتے رہے ۔ تا آنکہ نبی آخر الزماں کے ظہور کا وقت آجانے کی وجہ سے اس کی ضرورت باقی نہ رہی۔ اس منصوبہ کے مطابق حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ ایک طرف آپ نے فلسطین (حبرون) میں اپنی بیوی سارہ کو بسایا جن سے اسحاق پیدا ہوئے۔ دوسری طرف آپ نے عرب (مکہ) میں اپنی دوسری بیوی ہاجرہ اور ان کے لڑکے اسماعیل کو رکھا اور یہاں کعبہ کی تعمیر کی۔ گویا حضرت ابراہیم کے ذریعہ ہدایت عالم کی جو منصوبہ بندی کی گئی اس کے ابتدائی جز کا مرکز فلسطین تھا اور اس کے آخری جز کا مرکز حجاز ۔ حضرت ابراہیم کے بعد اولاً فلسطین ہدایت الہی کا مرکز بنا۔ اسی علاقہ میں اسی زمانہ کے تمام انبیاء پیدا ہوئے ــــــــــــ حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت یوسف، حضرت موسیٰ، حضرت داؤد ،

حضرت سلیمان ، حضرت یحییٰ ، حضرت عیسیٰ وغیرہ۔ حضرت ابراہیم کے پوتے حضرت یعقوب کا دوسرا نام اسرائیل تھا۔ انھیں کی نسبت سے یہ نسل بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ بعد کو جب بنی اسرائیل پر زوال آگیا اور پیغمبروں کی مسلسل فہمائش کے باوجود انھوں نے اپنی اصلاح نہ کی تو خدا نے ہدایت آسمانی کے حامل ہونے کی حیثیت سے انھیں معزول کر دیا اور یہ مقدس منصب ابراہیمی نسل کی دوسری شاخ بنو اسماعیل کو دے دیا۔ یہ واقعہ عین اس وقت ہوا جب کہ دو ہزار سالہ عمل کے نتیجہ میں کے اندر ایک ایسی زندہ قوم تیار ہو چکی تھی جو خدا کے دین کی حامل بن سکے۔ اس تبدیلی کی ایک ظاہری نشانی کے طور پر قبلۂ عبادت بدل دیا گیا۔ حضرت ابراہیم کے بعد تمام انبیار بیت المقدس کی طرف رخ کر کے عبادت کرتے تھے ۔ اب قدیم قبلہ کو منسوخ کر کے کعبہ کو قبلہ عبادت کی حیثیت دے دی گئی ۔ حج ایک دعوتی ادارہ حج ابراہیمی تاریخ کا اعادہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے ذریعہ دعوت حق کی جو عالمی منصوبہ بندی کی گئی، اسی کے مختلف مراحل کو حاجی علامتی طور پر دہراتا ہے اور اس طرح خدا سے یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو اسی ربانی مشن میں لگائے گا جس میں حضرت ابراہیم نے اپنے آپ کو لگایا، وہ ختم نبوت کے بعد نبوت کے کام کو اسی طرح جاری رکھے گا جس طرح خدا کے پاک پیغمبر نے اس کو انجام دیا۔

خدا کے دعوتی منصوبہ کی تکمیل کے لئے حضرت ابراہیم اپنے وطن سے نکلے، اسی طرح حاجی بھی اپنے وطن سے نکل کر زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ وہ دین کی خاطر بے وطن ہونے کے لئے تیار ہے۔ انھوں نے بالکل ساد اور معمولی زندگی پر قناعت کی اسی طرح حاجی احرام باندھ کر یہ عزم کرتا ہے کہ وہ صرف ناگزیر ضرورت پر اکتفا کر کے اپنی توجہ کو اصل مقصد کی طرف لگائے رہے گا۔ انھوں نے کعبہ کے گرد طواف کر کے خدا کے ساتھ اپنی وفاداری کو استوار کیا اسی طرح حاجی بھی کعبہ کا طواف کر کے خدا کا وفادار ہونے کا اعلان کرتا ہے ۔ تقاضوں میں مصروف ہونے کی وجہ سے ان کے اہل خاندان پر یہ حالت گزری کہ پانی کی تلاش میں وہ صفا مروہ کے درمیان دوڑنے اسی طرح حاجی دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی کر کے ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی خاطر وہ اس آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے خواہ اس کے گھر والوں پر وہ کیفیت گزرجائے جو ہاجرہ اور اسماعیل پر حضرت ابراہیم کو شیطان نے خدا کے کام سے ہٹانے کی کوشش کی تو انھوں نے اس کے اوپر کنکریاں پھینکیں اسی طرح حاجی علامتی شیطان پر رمی کر کے اس ارادہ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ بھی شیطان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا اگر اس نے اس کو ورغلایا۔ حضرت ابراہیم کو خدا کی خاطر بیٹے کی جان تک پیش کرنی پڑی اسی طرح حاجی جانور کو قربان کر کے یہ اعلان کرتا ہے کہ دین کی خاطر وہ قربانی کی حد تک جانے کے

لئے تیار ہے۔ حضرت ابراہیم کا دعوتی مشن آخرت سے آگاہ کرنے کا مشن تھا، چنانچہ حاجی میدان عرفات میں جمع ہوکر میدان حشر کو یاد کرتا ہے تاکہ اس سب سے بڑی حقیقت کی یاد کو وہ اپنے ذہن کا جزو بنائے اور اس کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کرے ۔ حضرت ابراہیم کو جب جب ان کے رب نے پکارا وہ فوراً حاضر ہو گئے اسی طرح حاجی اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے : لبيك اللهم لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك (میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں تیرا کوئی شریک نہیں۔ میں حاضر ہوں ۔ تعریف اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور اقتدار میں تیرا کوئی شریک نہیں) اس طرح حاجی اعلان کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر ہر وقت حاضر ہونے کے لئے تیار ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ دعوتِ اسلامی کا مرکز ہے اور حج اسلام کے داعیوں کا عالمی اجتماع۔ حج کے موقع پر جو افعال کئے جاتے ہیں وہ سب وہی ہیں جو حضرت ابراہیم کی دعوتی زندگی کی یادگار ہیں۔ حج کے مناسک انھیں واقعات کا تمثیلی اعادہ ہیں جو حضرت ابراہیم کو اپنی دعوتی سرگرمیوں کے درمیان مختلف صورتوں میں پیش آئے ۔ حاجی بطور شعار (علامت) انھیں حج کے دنوں میں دہراتا ہے اور اس طرح اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ اسی طرح داعی بن کر رہے گا جس طرح حضرت ابراہیم دنیا میں خدا کے داعی بن کر ان میں سے کچھ دعوتی زندگی کے براہ راست مرحلے ہیں اور کچھ بالواسطہ مرحلے ۔ حضرت ابراہیم کی زندگی بتاتی ہے کہ حج کے یہ مراسم ان کی دعوتی زندگی کا جزو یا ان کے دعوتی سفر کے مراحل تھے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے حج اور کعبہ کی زیارت محض ایک قسم کی سالانہ مذہبی رسم بن کر رہ گئی ہے۔ مسلمانوں میں اگر دعوتی شعور اور تبلیغی روح زندہ ہو تو حج کا اجتماع خود بخود دعوتی اہمیت اختیار کرلے گا اور سالانہ دعوتی کانفرنس کے ہم معنی بن جائے گا۔ مگر جب مسلمانوں میں دعوتی روح ختم ہو جائے تو حج اسی طرح ایک بے روح عمل بن کر رہ جاتا ہے جیسا کہ وہ اس وقت مسلمانوں کے درمیان بنا ہوا ہے ۔ وہ پتھر کے شیطان پر کنکریاں پھینکتے ہیں مگر زندہ شیطان کو زیر کرنے کے لئے کچھ نہیں وہ علامتی اعمال کو دہراتے ہیں مگر حقیقی اعمال کی ادائیگی کے لئے ان کے اندر کوئی جذبہ نہیں

Printed page