Al-Risala · August 1985

حج ذریعہ اتحاد

Al-Risala, August 1985, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا اختلاف و انتشار ہے۔ کیا وجہ ہے کہ حج جیسا نادر اجتماعی ادارہ ان کے درمیان پوری طرح موجود ہے، اسی کے باوجود ان کے اندر باہمی اتحاد پیدا نہیں ہوتا ۔ حالانکہ حج اپنے سالانہ عالمی اجتماع کے ساتھ ساری دنیا کے مسلمانوں کے لئے اتحاد کا ایسا

طاقت ور ذریعہ ہونا چاہئے جس میں تمام اختلافات گھل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کاردایتی، ہجوم بن کر رہ گیا ہے نہ کہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع ۔ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جو ان کی توجہیات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگادے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔ دعوت، امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی ۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی ۔ حج ایک زندہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ ؀ میں آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی میں آپ نے 9 ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے اس حج کو حجتہ البلاغ بھی کہا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں آپ نے اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو امت تک پہنچا کر اس سے اس کا عہد لیا تھا۔ چنانچہ خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں :

الا فلیبلغ الشاهد الغائب ۔ فرب مبلغ | خبردار، جو موجود ہیں وہ میری بات کو غیر موجود تک اوی من سامع ۔ وانتم تسألون عنی ماذا | پہنچا دیں۔ کیونکہ پہنچائے جانے والے اکثر سننے والوں انتم وتائلون ۔ قالوا نشهد انك قد | سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں ، اور تم سے اديت الامانة وبلغت الرسالة و | میرے بارے میں پوچھا جائے گا پھر تم کیا جواب دو گے ۔ نصحت فقال رسول الله صلى الله | لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے امانت علیہ وسلم باصبعه السبابة يرفعها | ادا کردی اور پیغام پہنچادیا اور خیر خواہی کا حق ادا الى السماء وينكتها الى الناس : اللهم | کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان اشهد اللهم اشهد | کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ۔

اس واقعہ کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ۔ اس وقت تک اسلام عملاً عرب کے ملک تک پھیلا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب عرب سے باہر نکلے۔

تبلیغِ اسلام کو اپنا مشن بنالیا۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اور سارا اثاثہ دین کی اشاعت کی راہ میں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی وفات کے پچاس سال کے اندر اسلام قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔

اب بھی حج باقاعدہ ادا کیا جاتا ہے اور "حجۃ البلاغ“ سے زیادہ بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے امام حج ہر سال اسی قسم کی باتیں دہراتا ہے جو پیغمبر اسلام نے چودہ سوسال پہلے کہی تھیں۔ آج ان باتوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس فرق کی وجہ کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے حج ایک زندہ عمل تھا، آج وہ ایک روایتی عمل بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حج کے موقع پر جن لوگوں کو خطاب کیا تھا وہ اسی ارادہ اور عزم کے ساتھ درہاں جمع ہوئے تھے کہ ان کو جو ہدایت دی جائے اس کو انھیں پورا کرنا ہے۔ اس کے برعکس آج حاجیوں کی بھیڑ مکہ اور مدینہ صرف اس لئے جاتی ہے کہ وہ حج کے نام پر کچھ رسوم ادا کر کے واپس آجاتے ۔ اور جس حال میں پہلے تھی اسی حال میں دوبارہ رہنے لگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کو ایک مؤثر عمل کی حیثیت سے زندہ کرنے کا کام سب سے پہلے ’’ حاجیوں ‘‘ کو زندہ کرنے کا کام ہے۔ جب تک حاجیوں ، با الفاظ دیگر مسلمانوں میں شعور بیدار نہ کیا جائے، حج کی عبادت اسی طرح بے اثر رہے گی جیسے ایک غیر صالح بندوق جس کی لبلبی دبائی جائے مگر اس کے باوجود وہ فائر نہ کرے۔

Printed page