حج کی تنظیم نو
Al-Risala, August 1985, pp. 19–21
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کو دوبارہ اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کرنا یہ ہے کہ اس کو دعوتی ادارہ کی حیثیت سے زندہ کیا جائے ۔ حج کو دعوتِ اسلامی کی عالمی منصوبہ بندی کا مرکز بنا دیا جائے۔ اس بین اقوامِی موقع پر ہر ملک کے لوگ اپنے ملک کے دعوتی حالات پیش کریں۔ ایک جگہ کے لوگ دوسری جگہ کے تجربات کو جانیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔ حج کے خطبات میں دعوت کی اہمیت اور اس کے جدید مواقع کی وضاحت کی جائے۔ حج کے ادارہ کے تحت مختلف زبانوں میں مؤثر دعوتی لٹریچر تیار کرنے کا انتظام کیا جائے اور اس کو عالمی سطح پر پھیلایا جائے ۔ تاہم یہ بھی اچھی طرح جان لینا چاہئے کہ حج کی نئی رخ بندی خود مسلمانوں کی زندگی کی نئی رُخ بندی کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مسلمان کی اصل ذمہ داری شہادت علی الناس ہے۔ ان کے اور دوسری قوموں کے درمیان داعی اور مدعو کا رشتہ ہے۔ مگر مسلمان موجودہ زمانہ میں اس حقیقت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ انھوں نے ساری دنیا میں غیر مسلم اقوام کو اپنا مادی حریف اور قومی فریق بنا رکھا ہے۔ حج کو دعوتی ادارہ
طاقت ور ذریعہ ہونا چاہئے جس میں تمام اختلافات نکل کر رہ جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حج موجودہ حالت میں صرف ایک قسم کارروائی ، ہجوم بن کر رہ گیا ہے نہ کسی عظیم مقصد کے حاملین کا زندہ اجتماع ۔ اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کے درمیان کوئی ایسا مشترک مقصد موجود ہو جوان کی تو جہات کو بلند تر نصب العین کی طرف لگادے۔ اگر ایسا کوئی بڑا مقصد سامنے موجود نہ ہوگا تو لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں میں الجھ کر رہ جائیں گے اور بڑے بڑے اجتماعات کے باوجود مجتمع اور متحد نہ ہوں گے ۔ دعوت، امت مسلمہ کا یہی عظیم مقصد ہے۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوتی جذبہ ابھر آئے تو اچانک پوری امت ایک بڑے نشانہ کی طرف متوجہ ہو جائے گی ۔ اس کے بعد حج کا اجتماع اپنے آپ مسلمانوں کے درمیان عالمی اتحاد پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائے گا اور اسی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا عالمی مرکز بھی ۔ حج ایک زندہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنہ میں آخری حج ادا فرمایا۔ اس موقع پر ایک لاکھ سے زیادہ مسلمانوں کی موجودگی میں آپ نے ۹ ذی الحجہ کو میدان عرفات میں ایک مفصل خطبہ دیا جو خطبۂ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ آپ کے اس حج کو حجتۃ البلاغ بھی کہا جاتا ہے ۔ کیونکہ اس میں آپ نے اسلام کی تمام بنیادی تعلیمات کو امت تک پہنچا کر اس سے اس کا عہد لیا تھا۔ چنانچہ خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ آتے ہیں :
الا فلیبلغ الشاهد الغائب ۔ فرب مبلغ خبر دار، جو موجود ہیں وہ میری بات کو غیر موجود تک اوعی من سامع ۔ وانتم تسألون عنی ماذا پہنچا دیں۔ کیونکہ پہنچائے جانے والے اکثر سننے والوں انتم قائلون - قالوا نشهد انك قد سے زیادہ محفوظ رکھنے والے ہوتے ہیں ، اور تم سے اديت الامانة وبلغت الرسالة و میرے بارے میں پوچھا جائے گا پھر تم کیا جواب دو گے ۔ نصحت فقال رسول الله صلى الله لوگوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے امانت عليه وسلم باصبعه السبابة يرفعها ادا کردی اور پیغام پہنچا دیا اور خیر خواہی کا حق ادا الى السماء وينكتها الى الناس : اللهم کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی آسمان اشهد اللهم اشهد کی طرف اٹھائی اور پھر لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ۔
اس واقعہ کے تین مہینے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی ۔ اس وقت تک اسلام عملاً عرب کے ملک تک پھیلا تھا۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کے اصحاب عرب سے باہر نکلے ۔
تبلیغِ اسلام کو اپنا مشن بنالیا۔ انھوں نے اپنی پوی زندگی اور سارا اثاثہ دین کی اشاعت کی راہ میں اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی وفات کے پچاس سال کے اندر اسلام قدیم آباد دنیا کے بڑے حصہ میں پھیل گیا۔
اب بھی حج باقاعوہ ادا کیا جاتا ہے اور ”حجۃ البلاغ“ سے زیاوہ بڑے مجمع کو خطاب کرتے ہوئے امام حج ہر سال اسی قسم کی باتیں دہراتا ہے جو پیغمبر اسلام نے چودہ سو سال پہلے کہی تھیں ۔ آج ان باتوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا۔ اس فریق کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے حج ایک زندہ عمل تھا، آج دہ ایک روایتی عمل بن گیا ہے۔ پیغمبر اسلام نے حج کے موقع پر جن لوگوں کو خطاب کیا تھا دہ اسی ارادہ اور عزم کے ساتھ وہاں جمع ہوئے تھے کہ ان کو جو ہدایت دی جائے اس کو انھیں پورا کرنا ہے۔ اس کے برعکس آج حاجیوں کی بھیڑ مکہ اور مدینہ صرف اس لئے جاتی ہے کہ وہ حج کے نام پر کچھ رسوم ادا کر کے واپس آجائے۔ اور جس حال میں پہلے تھی اسی حال میں دوبارہ رہنے لگے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حج کو ایک مؤثر عمل کی حیثیت سے زندہ کرنے کا کام سب سے پہلے ”حاجیوں“ کو زندہ کرنے کا کام ہے۔ جب تک حاجیوں ، بالفاظ دیگر مسلمانوں میں شعور بیدار نہ کیا جائے، حج کی عبادت اسی طرح بے اثر رہے گی جیسے ایک غیر صالح بندوق جس کی لبلبی دبائی جائے مگر اس کے باوجود وہ فائر نہ کرے۔