میں ہے، برکت والا اور سارے جہان کے لئے رہنماء
Al-Risala, August 1985, p. 9
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الدِّينَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْحِجَازِ كَمَا تَأْرِزُ دین حجاز کی طرف سمٹ آئے گا جس طرح سانپ اپنے الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا وَلَيَعْقِلَنَّ الدِّينُ من بل کی طرف سمٹ آتا ہے اور دین حجاز کے ساتھ الْحِجَازِ مَعْقِلَ الْأُرُوِيَّةِ مِنْ رَأْسِ باندھ دیا جائے گا جس طرح بکرے کو پہاڑ کے ان الدين بد أ غريبا و سيعود تھان پر باندھ دیا جاتا ہے ۔ دین شروع ہوا تو وہ كما بدا، فطوبى للغرباء وهم الذين يصلحون اجنبی تھا۔ وہ دوبارہ اجنبی ہو جائے گا تو اجنبیوں کو ما افسد الناس (اخرجه الترمذي )
یہی لوگ ہیں جو اس وقت لوگوں کی اصلاح کریں گے جب کہ وہ بگڑ جائیں ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حجاز دعوت اسلامی کا مرکز بنا اسی طرح آئندہ بھی جب دین لوگوں کے اندر سے گم ہو گا تو دوبارہ حجاز ہی خدا کے دین کو زندہ کرنے کا مرکز بنے گا۔ حج کا مقام خدا کی عبادت کا مقام بھی ہے اور خدا کے دین کی دعوت و تجدید کا مرکز بھی۔ ضرورت ہے کہ آج حج اور حج کے مراکز کو دوبارہ اسی حیثیت سے زندہ کیا جائے۔