Al-Risala · January 1985

ایک سفر

Al-Risala, January 1985, pp. 37–34

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی بار میں ۳۰ ستمبر ۱۹۷۹ء کو پونہ آیا تھا۔ اس وقت دوروزہ قیام کے دوران میں نے یہاں کے مختلف مسلم اور غیر مسلم ادارے دیکھے تھے۔ لوگوں سے ملاقاتیں کی تھیں اور شہر میں کچھ تقریریں کی تھیں ۔ اس پہلے سفر کی رو داد اسی زمانہ میں الجمعیتہ دہلی (۱۲ نومبر ۱۹۷۹ء) میں شائع ہوئی تھی۔ پونہ کے لئے میرا دوسرا سفر مارچ ۱۹۸۳ء میں ہوا۔ اس سفر کی مختصر روداد الرسالہ (جون ۱۹۸۴) میں شائع ہو چکی ہے۔ اس سفر کے وقت پونہ میں الرسالہ کی ایک یا دو ایسی تھی اور اس کے پچاس پرچے یہاں آ رہے تھے۔ اب خدا کے فضل سے یہاں دوسوسے زیادہ پرچے آ رہے ہیں اور اسلامی مرکز کی مطبوعات بڑی تعداد میں شہر کے اندر پھیل چکی ہیں۔

پونہ کا تیسرا سفر ایک تربیتی اجتماع کے سلسلے میں ہوا جو یہاں ۲۹ ۔ ۳۰ ستمبر ۱۹۸۴ء کو رکھا گیا تھا۔ پروگرام کے تحت میں جہلم ایکسپریس سے ۲۸ ستمبر کی سہ پہر کو پونہ پہنچا۔

حال میں میں نے سورہ الکہف کی تفسیر مکمل کی تھی۔ اس کے ۴۶ صفحات کے مسودہ کی نظر ثانی کا مسئلہ چنانچہ یہ مسودہ میں نے اپنے ساتھ لے لیا۔ دہلی سے پونہ کے سفر میں پورے مسودہ کو باطنیان دد بار پڑھا اور جگہ جگہ اس کو درست کیا۔ میں نے سوچا کہ موجودہ زمانہ میں اللہ تعالی کی یہ کتنی بڑی نعمت ہے کہ سفر کرتے ہوئے بھی آدمی ایسے نازک علمی کام کو جاری رکھ سکتا ہے۔ قدیم زمانہ کی سواریوں میں ایسا کرنا ممکن

پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کی زبان سے یہ دعا کرائی گئی تھی : ربنا ولا تحمل علینا اصراً كما حملته علی الذین من قبلنا (خدایا ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے پچھلی امتوں پر ڈالا تھا) مذکورہ واقعہ بھی شاید اسی کا ایک جز رہے ۔ امت محمدی کی بعثت ایسے زمانہ میں ہوئی جب کہ دعوت دین کے معاملہ کو ، پہلے کے مقابلہ میں ، بے حد آسان بنا دیا گیا ہے ۔ یہ آسانیاں اسلام کی تعبیر کے لئے ظہور میں لائی گئی تھیں ۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ میں ان مواقع کو اسلام کے نام پر صرف اسلام کی تخریب کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ پونہ میں لوگوں نے بتایا کہ الرسالہ یہاں کافی مقبول ہے۔ مگر اس میں بعض شخصیتوں پر جو تنقید شائع ہوتی ہے اس سے ان شخصیتوں کا حلقہ بہت مشتعل ہے۔ اس کے جواب میں میں نے جو باتیں کہیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ آپ اس حیثیت سے غور کیجئے کہ ان شخصیتوں کا جو حلقہ ہے ، خدا کے فضل سے اتنا ہی الرسالہ کا حلقہ بھی ہندوستان کے اندر اور ہندوستان کے باہر ہے۔ اب آپ ایک تجربہ کیجئے ۔ الرسالہ کے حلقہ میں

آپ صاحب الرسالہ پر تنقید کیجئے۔ مجھے یقین ہے کہ الرسالہ کے حلقہ کا کوئی شخص اس پر اشتعال نہ ہوگا۔ کی تنقید کو صرف اس حیثیت سے جانچے گا کہ وہ دلیل کے اعتبار سے کیسی ہے۔ اس کے برعکس ان شخصیتوں کے حلقہ کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی محبوب شخصیت پر تنقید سنتے ہی مشتعل ہو جاتا ہے۔ وہ یہ دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ تنقید بجائے خود کیا ہے۔ وہ دلیل کی بنیاد پر ہے یا بے دلیل ہے۔

اب آپ بتائیے کہ دونوں میں سے کون سا مزاج اسلامی مزاج ہے۔ کوئی بھی شخص جو پڑھا لکھا ہو اور قرآن و حدیث کو جانتا ہو وہ یہی کہے گا کہ الرسالہ کے حلقہ کا مزاج ہی اسلامی مزاج ہے اور ان شخصیتوں کے حلقہ کا مزاج یقینی طور پر غیر اسلامی۔ پھر ان شخصیتوں کو اور ان کے حلقہ کو یہ سوچنا چاہئے کہ انہوں نے اپنی کوششوں سے کون سی فصل تیار کی ہے۔ ایسی حالت میں انہیں خود اپنا احتساب کرنا چاہئے نہ کہ وہ الرسالہ یا صاحب الرسالہ پر برہم ہونے لگیں۔

پھر میں نے کہا کہ اسلام میں حرام چیزوں کی واضح فہرست ہے۔ مگر اس فہرست میں کہیں بھی "تنقید" کا لفظ درج نہیں۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں ایک دوسرے پر تنقید کی کھلی اجازت تھی۔ فقہا اور محدثین میں کھلی تنقیدیں ہوتی تھیں۔ امت مسلمہ کا جو معیاری زمانہ ہے اس میں تنقید سے روکنے یا برا ماننے کا کوئی مزاج نہ تھا۔ اب اگر کچھ لوگ تنقید سے روکیں تو گویا وہ بدعت کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ اور بدعت ایک ایسی چیز ہے جس کے بارہ میں ہر جمعہ کو ہمارا امام بلند آواز سے اعلان کرتا ہے ــــــــ كل بدعة ضلالة وكل ضلالة فى النار۔ میں نے کہا کہ آپ صرف یہ پابندی لگا سکتے ہیں کہ تنقید کو دلیل کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے کہ بے دلیل ایک دوسرے کے خلاف رائے زنی کی جانے لگے۔

اس اجتماع میں بمبئی سے بھی کچھ حضرات شریک ہوئے تھے۔ محمد شفیع گلزار سرگروہ نے بتایا کہ جناب عبد الغنی حسن سرگروہ (ایڈوکیٹ بمبئی ) نے انگریزی الرسالہ دیکھ کر اس کو پسند کیا اور کہا کہ : It is the need of the hour (یہ وقت کی ضرورت ہے) اس طرح کی رائے سے لوگوں نے ظاہر کی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے انگریزی داں طبقہ میں اور غیر مسلموں میں خالص تعمیری انداز میں اسلام کو پیش کرنے کے لئے ایک رسالہ کی ضرورت تھی اور انگریزی الرسالہ اس ضرورت کو بخوبی پورا کرتا ہے۔ مولانامختار احمد قاسمی (بمبئی) نے بتایا کہ لمبی (سیبوڑی) میں ایک جماعت (اللہ اکبر) کی سرگرمیوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ انھوں نے دیکھا کہ انھوں نے الرسالہ کے ایک جملہ کو اپنے یہاں بطور موٹو

کے اختیار کر لیا ہے۔ اس کو وہ اپنے بورڈ پر، اپنے تعارفی کاغذات پر، اپنی رسیدوں پر، اپنے لیٹرپیڈ پر، غرض ہر جگہ درج کرتے ہیں۔ وہ جملہ یہ ہے:

Printed page