رسول اللہ کا حج
Al-Risala, August 1985, pp. 23–32
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کی عبادت کا نظام حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل نے قائم فرمایا تھا۔ اس کے بعد اگرچہ اس نظام میں بہت سے بگاڑ پیدا ہوئے ، تاہم اس کا رواج برابر باقی رہا۔ اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں پیدا ہوئے تو حج جاہلی رسوم کی آمیزش کے باوجود پوری طرح زندہ تھا۔
رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج ادا فرمایا۔ تاریخی اعتبار سے اس سوال کے دو حصے ہیں۔ ایک ، ہجرت سے پہلے ۔ دوسرا، ہجرت کے بعد ۔ ثانی الذکر حصہ کے بارے میں ہم کو مکمل معلومات حاصل ہیں۔ مگر جہاں تک اول الذکر حصہ کا معاملہ ہے اس کی بہت قطعی معلومات حاصل نہیں۔
ہجرت کے بعد رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایک بار حج کا فریضہ ادا کیا جس کو عام طور پر حجۃ الوداع کہا جاتا ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ مکہ میں مقیم تھے۔ روایات سے اتنا ثابت ہوتا ہے کہ مکہ کے زمانہ قیام میں بھی آپ نے حج کا فریضہ ادا کیا۔ مگر اس کی قطعی تفصیل نہیں ملتی۔ سنن ترمذی اور ابن ماجہ میں ہے کہ آپ نے ہجرت سے پہلے دو حج ادا کئے۔ صحیح مسلم میں صرف ایک حج کا ذکر موجود ہے۔ بعض محدثین کا قول ہے کہ آپ اہل مکہ کی عادت کے مطابق ہر سال حج ادا کرتے تھے۔ طبقات ابن سعد کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کے بعد آپ نے ایک حج کے سوا اور کوئی حج ادا نہیں کیا۔ ایک طرف ہجرت سے قبل حج کے بارہ میں اتنی کم معلومات ہیں اور دوسری طرف حجۃ الوداع کے بارہ میں اتنی تفصیلی روایات ملتی ہیں کہ اس کے متعلق اول سے آخر تک مکمل ڈائری مرتب کی جاسکتی ہے۔
اس فرق کی وجہ کیا ہے ۔ اس کی وجہ زمانہ کا فرق ہے۔ ہجرت سے پہلے آپ کی حیثیت ایک ناقابل ذکر شخصیت کی تی۔ لوگوں کی نظر میں آپ کو کوئی خاص اہمیت نہیں مگر حجۃ الوداع آپ کی آخری عمر میں اس وقت پیش آیا جب کہ آپ کی حیثیت عرب کے فاتح کی ہو چکی تھی۔ آپ کی زندگی کے دو دوروں کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر آپ کے ابتدائی حج کے واقعات کو تاریخ نے باقاعدہ ریکارڈ نہیں کیا۔ کے آخری حج کو تاریخ نے اتنی تفصیل کے ساتھ ریکارڈ کیا کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا جزو بھی غیر مذکورنہیں۔
روایات کے ذخیرہ میں حجۃ الوداع کی جو تفصیلات بکھری ہوئی ہیں ان کو بعض مولفین نے یکجا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سلسلہ میں چند کتابوں کے نام یہ ہیں : السيرة النبوية امام ابوالفداء اسماعیل بن کثیر زاد المعاد علامہ شمس الدین ابن قیم الجوزیہ شرح المواهب اللدنیہ علامہ محمد بن عبد الباقی الزرقانی حجۃ الوداع و جز ر عمرات النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، الشیخ محمد زکریا الکاندھلوی ذیل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حج کا بیان مختصر طور پر نقل کیا جاتا ہے : حجۃ الوداع سنہ ھ میں پیش آیا ۔ اس کے تقریباً دو ماہ بعد مدینہ میں آپ کی آپ کے اس حج کو حجۃ الوداع اس لئے کہا جاتا ہے کہ آپ نے منیٰ میں اور عرفہ کے خطبہ میں اس وقت کے اہلِ ایمان کو وداع کہا تھا۔ آپ نے فرمایا تھا کہ اس سال کے بعد آئندہ اس جگہ تم سے میری ملاقات نہ ہو سکے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حج مختلف پہلوؤں سے اہمیت رکھتا تھا۔ اسی لئے اس کو کئی ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ مثلاً حجۃ الوداع ، حجۃ الاسلام ، حجة البلاغ ، حجۃ الکمال ،
مکہ رمضان سند ھ میں فتح ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شدھ اور ۹ھ ھ میں حج کے لئے تشریف نہیں لے گئے۔ البتہ آپ کی ہدایت کے مطابق ۹ھ ھ میں تین مسلمانوں کی ایک جماعت نے مدینہ سے مکہ جا کر حج ادا کیا۔ اس جماعت کے امیر حضرت ابو بکر صدیق اس حج میں عرب کے مشرکین بھی شریک تھے۔ مگر سورہ تو بہ میں نازل شدہ حکم
کے مطابق ۱۰ھ کے حج میں یہ اعلان کر دیا گیا کہ آئندہ سے کسی مشرک کو حج کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ یہ اعلان حضرت علی نے کیا (بخاری)
اگلے سال ۱۰ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا ارادہ فرمایا۔ اسی کے ساتھ تمام قبائل میں اہتمام کے ساتھ اطلاعات بھیج دی گئیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آپ کے ساتھ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کے بعد حج کی عبادت اگرچہ جماری تھی ۔ مگر اس میں بہت سی جاہلی رسمیں شامل ہو گئی تھیں۔ اس لئے ضروری تھا کہ بڑی تعداد میں لوگ آپ کو حج کے اعمال کرتے ہوئے دیکھ لیں اور آئندہ اسی کے مطابق حج ادا کرتے رہیں۔ اس قسم کے اعمال ہمیشہ دیکھ کر ہی سمجھ میں آتے ہیں، لفظوں میں بتانے سے سمجھ میں نہیں
حضرت جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔ اپنی سواری پر تھے اور رمی جار کر رہے تھے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو، حج کے طریقے مجھ سے سیکھ لو۔ شاید اس سال کے بعد میں دوبارہ حج نہ کر سکوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر حج کی خبر اطراف ملک میں پھیلی تو لوگ آنا شروع ہوئے۔ یہاں تک کہ مدینہ میں تقریباً ایک لاکھ آدمیوں کا مجمع اکٹھا ہو گیا۔ آپ ۲۵ ذی قعدہ ۹ھ کو مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں بھی لوگ اس قافلہ میں شریک ہوتے رہے۔ آپ اس طرح مکہ کی طرف جا رہے تھے کہ آپ کے چاروں طرف آدمیوں کا ہجوم تھا۔ کہتے ہیں کہ میری نگاہ جہاں تک جاتی تھی مجھے ہر طرف انسان ہی انسان دکھائی دیتے تھے ۔ مکہ پہنچ کر یہ مجمع تقریباً سوا لاکھ ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اس اونٹنی پر سوار تھے جس کا نام قصواء تھا۔ یہ ایک غیر معمولی قسم کی تیز رفتار اونٹنی تھی۔ تاہم اس وقت اس کے اوپر جو کجا وہ بندھا ہوا تھا۔ اس کی قیمت چار درہم سے زیادہ نہ تھی۔ گویا ضرورت کی حد تک اعلیٰ معیار اور جہاں ضرورت کی حد ختم ہو جائے وہاں صرف سادگی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روانگی سے پہلے ظہر کی چار رکعتیں لوگوں کے ساتھ پڑھیں۔ آپ نے ایک تقریر فرمائی جس میں بتایا کہ احرام باندھنے کے فرائض و آداب کیا ہیں۔ اس کے بعد آپ وہ الفاظ کہتے ہوئے روانہ ہوئے جن کو تلبیہ کہا جاتا ہے۔ یعنی لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك ان الحمد و النعمة لك و الملك لا شريك لك
حاضر ہوں ۔ خدا یا میں حاضر ہوں ۔ حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ اور نعمت تیرے ہی لئے ہے اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں )
مدینہ سے پانچ میل کے فاصلہ پر ذوالحلیفہ ہے جو اہل مدینہ کی میقات ہے۔ یہاں پہنچ کر آپ نے رات گزاری ۔ اگلے دن غسل کیا۔ ظہر کی نماز دو رکعت ادا کی اور حج و عمرہ (قران) کا احرام باندھا۔ پھر تلبیہ کہتے ہوئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستہ میں کوئی ٹیلہ ملتا تو اس پر چڑھ کر بلند آواز سے اللہ اکبر (اللہ سب سے بڑا ہے) کہتے ، گویا کہ آپ سارے عالم کے سامنے خدا کی بڑائی کا اعلان کر رہے ہوں۔
آپ ۴ ذی الحجہ کو مکہ پہنچے ۔ مدینہ سے مکہ کا سفر نو دن میں طے ہوا ۔ یہ پہر کا وقت تھا۔ آپ چلتے ہوئے حرم میں داخل ہوئے ۔ بیت اللہ پر نظر پڑی تو آپ کی زبان مبارک سے نکلا : اللهم زد بيتك هذا تشريفا وتعظيما وتكريما ومهابة (اے اللہ تو اپنے اس گھر کے شرف اور عظمت اور بزرگی اور ہیبت میں اضافہ فرما) آپ اپنے ہاتھ کو اٹھا کر تکبیر کہتے اور فرماتے : اللهم انت السلام ومنك السلام حينا ربنا بالسلام (اے اللہ تو سلامتی ہے ۔ تجھی سے سلامتی ہے ۔ اے ہمارے رب ہم کو سلامتی کے ساتھ زندہ رکھ )
حرم میں داخل ہو کر آپ نے تحیۃ المسجد کا دوگانہ نہیں پڑھا بلکہ طواف قدوم شروع کر دیا۔ حجر اسود کے پاس آئے اور بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر اس کا استلام کیا۔ پھر دائیں طرف سے چل کر سات بار اس کا طواف اس طرح کیا کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا۔ طواف کے پہلے تین شوط (پھیرے) میں آپ تیز تیز چلے جس کو رمل کہا جاتا ہے ۔ باقی چار پھیروں میں آپ معمول کی چال چلے۔ کے بائیں شانہ پر احرام کی چادر پڑی ہوئی تھی اور دایاں شانہ کھلا ہوا تھا۔ اس طریقہ کو اضطِباع کہا جاتا ہے ۔ طواف کے دوران جب آپ حجر اسود کے سامنے سے گزرتے تو اس کی طرف اشارہ کرکے اپنی چھڑی سے استلام کرتے۔
حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان یہ دعا ماثور ہے: ربنا آتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار (اے ہمارے رب ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی دے اور ہم کو آگ کے عذاب سے بچا) اسی طرح طواف میں ۔ آپ سے بعض اور د عائیں بھی منقول ہیں۔
طواف کعبہ سے فراغت کے بعد آپ مقام ابراہیم کے پاس آئے اور قرآن کی یہ آیت
پڑھی : واتخذوا من مقام ابراهيم مصلی (البقرۃ (۱۲۵) مقام ابراہیم کے پاس کھڑے ہو کر آپ نے دو رکعت نماز ادا کی ۔ اس کے بعد حجر اسود کے پاس گئے اور اس کا بوسہ لیا۔ پھر صفا کی طرف روانہ ہوئے ۔ قریب آئے تو فرمایا : ان الصفا والمروة من شعائر اللہ۔ ابدأ بما بدأ اللہ به (بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ اس سے شروع کرتا ہوں جس کا اللہ نے پہلے ذکر کیا ہے)
پھر آپ صفا پر چڑھے یہاں تک کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ آپ نے قبلہ کی طرف متوجہ ہو کر یہ الفاظ کہے : لا الہ الا اللہ وحدہ لا شريك لہ۔ لہ الملك ولہ الحمد وهو علی کل شئ قدیر ۔ لا الہ الا اللہ وحدہ انجز وعدہ ونصر عبدہ وهزم الاحزاب وحدہ (اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ۔ وہ اکیلا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لئے ساری تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں۔ وہ اکیلا ہے۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا۔ اس نے اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام گروہوں کو تنہا شکست دی۔
پھر آپ صفا سے اتر کر مروہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ دونوں پہاڑیوں کے درمیان آپ نے اس طرح سعی فرمائی کہ جب آپ نشیب میں (میلین اخضرین کے درمیان) پہنچے تو دوڑنے لگے۔ نشیب ختم ہوا تو آہستہ چلنے لگے۔ مروہ پہنچ کر آپ اس کے اوپر اتنا چڑھے کہ کعبہ دکھائی دینے لگا۔ یہاں بھی آپ نے تکبیر و تہلیل کی اور دعا مانگی ۔ اسی طرح آپ نے صفا و مروہ کے درمیان سات پھیرے کئے ۔ بعض روایات کے مطابق آپ نے ابتدائی چند پھیرے پیروں پر کئے اور بقیہ پھیرے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر ۔ آپ نے ایسا غالبًا اس لئے کیا کہ دور تک پھیلا ہوا مجمع آپ کے عمل کو بخوبی طور پر دیکھ سکے ۔ آپ کا ساتواں پھیرا مروہ پر ختم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذی الحجہ کو مکہ میں مقام ابطح میں اترے تھے۔ ۸ ذی الحجہ تک (چار دن) رہے ۔ اور وہیں اپنے ہمراہیوں کے ساتھ قصر کر کے نماز پڑھتے رہے۔ ۸ ذی الحجہ کو آپ اپنے تمام اصحاب کے ساتھ منیٰ گئے ۔ جاتے وقت کوئی طواف نہیں کیا۔ دن ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازیں آپ نے منیٰ میں پڑھیں اور رات کو یہیں صبح ۹ ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد آپ عرفات کی طرف روانہ ہوئے ۔
(وادی عرنہ) کے ایک خیمہ میں اترے۔ صحابہ میں سے کوئی لبیک پکارتا تھا اور کوئی تکبیر کہتا تھا۔ کوئی ایک دوسرے پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔
جب زوال کا وقت آیا تو آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر چلے اور میدان عرفہ کے بیچ میں یہاں موجودہ مسجد نمرہ کی جگہ اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے آپ نے وہ خطبہ دیا جو خطبہ حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔ یہ خطبہ اور دوسرا خطبہ جو آپ نے منیٰ میں دیا، وہ متفرق طور پر حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ان کا مجموعہ اگلے صفحات میں نقل کیا
یہ جمعہ (9 ذی الحجہ) کا دن تھا۔ جب آپ خطبہ دے چکے تو آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ انھوں نے اذان دی۔ آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے ظہر اور عصر کی نماز جمع کر کے دو دو رکعت پڑھی۔ یہ جمعہ کی نماز نہیں بلکہ ظہر کی قصر نماز تھی۔ کیوں کہ آپ نے اس میں قرآت بالجہر نہیں کی۔ فرض کے علاوہ اس موقع پر کوئی سنت یا نفل آپ نے نہیں پڑھی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ عرفات کے اس مقام پر آئے جس کو وقوف کی جگہ کہا جاتا یہاں آپ نے اپنے اونٹ پر بیٹھے بیٹھے سورج ڈوبنے تک دعا کی ۔ آپ نے فرمایا کہ اس دن کی دعا بہترین دعا ہے ۔ اس وقت آپ کس قسم کے ربانی احساسات سے بھرے ہوئے تھے، اس کا اندازہ ان کلمات سے ہوتا ہے جو اس وقت آپ کی زبان سے نکل رہے تھے۔ کے مطابق آپ نے فرمایا :
اللهم إنك تسمع كلامی، وتری مکانی ، وتعلم سرى وعلانيتي ، لا يخفى عليك شئ من امرى ، انا البائس الفقير، المستغيث المستجير ، الوجل المشفق المقر المعترف بذنوبی ، اسألت مسئلة المسكين وابتهل اليك ابتهال المذنب الذليل ، وادعوك دعاء الخائف الضرير ، من خضعت لك رقبته وفاضت لك عيناه وذل جسده ورغم أنفه لك اللهم ! لا تجعلني بدعائك رب شقيا وكن لى رؤفارحيما، يا خير المسئولين ويا خير المعطين !
اے اللہ تو میری بات سن رہا ہے اور تو میری جگہ کو دیکھ رہا ہے ۔ تو میرے چھپے اور کھلے کو جانتا میری کوئی بات تجھ سے چھپی ہوئی نہیں ۔ میں مصیبت زدہ ہوں، محتاج ہوں، تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔ پریشان ہوں ۔ خوف زدہ ہوں۔ اپنے گھنا ہوں
کا اقرار اور اعتراف کر رہا ہوں۔ تجھ سے بے کس آدمی کی طرح سوال کر رہا ہوں۔ اور گنہ گار و حقیر انسان کی طرح تیرے سامنے گڑگڑا رہا ہوں۔ اور تجھ سے خوف زدہ اور آفت رسیدہ آدمی کی مانند سوال کرتا ہوں ، جیسے وہ شخص جس کی گردن تیرے آگے جھکی ہوئی ہو اور اس کی آنکھیں تیرے لئے بہہ پڑی ہوں ، اور اس کا جسم تیرے آگے فروتنی کئے ہوئے ہو اور اپنی ناک تیرے سامنے رگڑ رہا اے اللہ تو مجھے اپنے سے دعا مانگنے میں ناکام نہ رکھ اور تو میرے حق میں بڑا مہربان نہایت رحم والا بن جا۔ اے تمام مانگے جانے والوں سے بہتر اور اے سب دینے والوں سے اچھا۔ اس اثنا میں لوگ حج کے مسائل پوچھنے آتے تھے۔ کچھ نجدیوں نے پوچھا کہ حج کیا ہے۔ نے فرمایا کہ الحج عرفة (حج عرفات میں ٹھہرنے کا نام ہے )، جو شخص یوم النحر سے پہلے یہاں آجاتے اس کا حج ہوگیا۔
قرآن کی آیت الیوم اکملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الاسلام دينا (المائدہ (۳) ، یہیں عرفہ میں خطبہ حجۃ الوداع کے بعد نازل ہوئی سورج ڈوبنے کے بعد آپ عرفہ سے مزدلفہ کی طرف روانہ ہوئے ۔ اسامہ بن زید کو اپنے پیچھے بٹھالیا۔ راستہ بھر آپ تلبیہ کرتے رہے۔ مزدلفہ پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ آپ نے لوگوں کو تیز چلنے سے آپ نے کہا : السکينة ايها الناس | السكينة ايها الناس فان البر ليس بالا يضاع (لوگو سکون اور اطمینان کے ساتھ چلو۔ دوڑ نا کوئی ثواب کی بات نہیں) مزدلفہ میں آپ نے حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا۔ اذان کے بعد آپ کھڑے ہوئے اور اونٹوں کو بٹھانے اور سامان اتارنے سے پہلے مغرب کی نماز ادا کی اس کے بعد جب لوگوں نے سامان اتار لیا تو آپ نے عشاء کی نماز دو رکعت ادا فرمائی۔ یہاں بھی آپ نے ایک اذان اور دو اقامت سے دونوں نمازیں ادا کیں ۔ فرض کے علاوہ آپ نے کوئی اور نماز نہیں اس کے بعد آپ لیٹ گئے اور صبح تک سوئے ۔ صبح اٹھ کر فجر کی نماز آپ نے اول وقت یہ ذی الحجہ کی گیارہ تاریخ تھی۔ پھر آپ سواری پر بیٹھے اور مشعر حرام آئے یہاں قبلہ کی طرف رخ کر کے دعا اور تضرع کرتے رہے ، یہاں تک کہ پوری طرح اجالا ہو گیا۔ نکلنے سے پہلے آپ مزدلفہ سے روانہ ہوئے ۔ آپ برابر تلبیہ کرتے رہے۔ فضل بن عباس آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ نے ان کو حکم دیا کہ رمی جمار کے لئے یہاں سے سات کنکر یاں
جب آپ وادی محسر میں پہنچے تو لوگوں سے کہا کہ یہاں سے تیزی سے گزر جاؤ۔ بھی آپ نے تیز کر دی۔ وادی محسر وہ جگہ ہے جہاں اصحاب فیل پر خدا کا عذاب نازل ہوا تھا۔ آپ چلتے رہے، یہاں تک کہ آپ منی پہنچ گئے۔ پھر آپ جمرۃ العقبہ آئے۔ یہاں آپ اس طرح کھڑے ہوئے کہ کعبہ آپ کے بائیں طرف تھا اور منی داہنی طرف۔ آپ نے سواری پر بیٹھے ہوئے سورج نکلنے کے بعد ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں جس کو رمی کہا جاتا ہے۔ ہر کنکری کے ساتھ آپ تکبیر کہتے رمی جمار کے بعد آپ نے تلبیہ موقوف کیا۔ اس کے بعد آپ منی واپس ہوئے۔ آپ نے دین کا خلاصہ ان لفظوں میں بیان فرمایا:
اعبدوا ربكم وصلوا خمسكم وصوموا شهركم اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور پانچ وقت کی نماز واطيعوا ذا امركم تدخلوا جنة ربكم پڑھو اور رمضان کے مہینہ کا روزہ رکھو اور اپنے صاحب امر کی اطاعت کرو، اور اپنے رب کی جنت میں داخل ہو جاؤ۔
منی میں آپ نے ایک خطبہ دیا۔ یہ اہم خطبہ عرفہ کے خطبہ سے مشابہ تھا۔ یہ تکرار غالباً اس لئے تھی کہ جس نے وہاں نہ سنا ہو وہ یہاں سن لے۔ اور اچھی طرح یاد کر لے۔ یہاں آپ نے جن باتوں کا اعلان فرمایا ان میں سے یہ بھی تھا۔
لا فضل لعربي على عجمي ولا لعجمي على عربی، کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں اور کسی عجمی کو کسی ولا لاسود على احمر ولا لاحمر على اسود عربی پر فضیلت نہیں۔ اور کسی کالے کو کسی سرخ الا بالتقوى (مسند احمد، عن ابی نضرة) پر فضیلت نہیں اور کسی سرخ کو کسی کالے پر فضیلت کا مدار صرف تقویٰ پر ہے۔
نیز آپ نے فرمایا:
الا ان الشيطان قدا یس ان یعبد فی سُن لو، شیطان اس سے مایوس ہو گیا ہے بلدكم هذا ابدا ولكن ستكون له کہ اب تمہارے اس شہر میں قیامت تک اس طاعة فيما تحقرون من اعمالكم فيرضی کی پرستش نہ ہوگی۔ مگر تم ایسے کاموں میں اس
کی پیروی کرو گے جس کی تمہاری نظر میں اہمیت نہ ہوگی اور وہ اس سے راضی
ہو جائے گا۔
اس کے بعد آپ منیٰ میں مقامِ نحر (قربانی کی جگہ) پر گئے۔ یہاں آپ نے ترسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ۔ آپ کی عمر بھی ۶۳ سال ہوئی ۔ اس کے بعد آپ رکے اور حضرت علی سے کہا کہ سو اونٹ میں جو تعداد باقی ہے اس کو تم پورا کر دو۔ قربانی سے فارغ ہو کر آپ نے معمر بن عبد اللہ (حجام) کو بلایا اور اپنے بال منڈائے جس کو حلق کہا جاتا ہے اور ناخن کتروائے۔ عورتوں کو آپ نے صرف تقصیر (بال کتروانے) کا حکم دیا۔ مونڈنے سے منع فرمایا۔ اس کے بعد آپ اپنی سواری پر بیٹھ کر مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ آپ نے فرمایا کہ نحر بانی مقام نحر کے علاوہ دوسرے مقامات پر بھی کی جاسکتی ہے۔ قربانی کا گوشت آپ نے تھوڑا سا پکا کر کھایا اور بقیہ سب خیرات آپ نے لوگوں سے کہا کہ قربانی کا گوشت کھاؤ اور کھلاؤ اور جب تک چاہے اس کو سکھا کر رکھو۔
۱۰ ذی الحجہ کو آپ مکہ پہنچے۔ یہاں آپ نے ظہر سے پہلے طواف افاضہ کیا جس کو طواف زیارت بھی کہا جاتا ہے۔ اس طواف میں آپ نے رمل اور اضطباع نہیں کیا اور نہ سعی کی۔ اس کے بعد آپ زمزم کے کنویں کے پاس آئے اور کھڑے ہو کر زمزم پیا۔ اس وقت حسب دستور خاندانِ عبد المطلب کے لوگ پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہے تھے۔ اس کے بعد آپ اسی روز منیٰ کے لئے واپس ہو گئے ۔ رات آپ نے منیٰ میں گزاری۔
اگلے روز ۱۱ ذی الحجہ کو آپ منیٰ میں سورج ڈھلنے کا انتظار کرتے رہے۔ جب زوال کا وقت آیا تو آپ سواری سے اتر کر رمی جمار کے لئے گئے۔ پہلے آپ نے جمرہ اولیٰ پر ایک کے بعد ایک سات کنکریاں ماریں ۔ اس کے بعد کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ اور پھر جمرہ وسطیٰ پر اسی طرح کنکریاں ماریں ۔ اس کے بعد پھر کچھ دیر تک دعا کرتے رہے۔ ہر کنکری پر آپ اللہ اکبر اس کے بعد جمرۃ العقبہ کے قریب جاکر اس کو سات کنکریاں ماریں۔ وہاں سے ہٹ گئے۔
اس کے بعد ۱۲ ذی الحجہ اور ۱۳ ذی الحجہ (ایامِ تشریق کے تینوں دن تک) آپ منیٰ ہی میں منیٰ میں آپ نماز قصر بغیر جمع پڑھاتے رہے۔ ۱۳ ذی الحجہ کو زوال کے بعد مکہ کے لئے روانہ آپ نے وادی محصب (ابطح) کے ایک خیمہ میں قیام کیا۔ ظہر اور عصر اور مغرب اور عشا کی نمازیں یہیں پڑھیں۔ رات کو یہیں آرام کیا۔ رات کو پچھلے پہر اٹھ کر حرم گئے اور کعبہ
کا طواف (طواف الوداع) کیا اور وہیں فجر کی نماز ادا کی ۔ اس کے بعد قافلہ کو سفر کا حکم دیا۔ لوگ اپنے اپنے مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ آپ مہاجرین اور انصار کے ساتھ مدینہ کی طرف مکہ میں داخل ہونے سے لے کر نکلنے تک آپ کا قیام کل دس دن رہا۔ جب ذو الحلیفہ (مدینہ کے قریب) پہنچے تو آپ ٹھہر گئے اور رات یہاں گزری۔ طلوع آفتاب کے وقت مدینہ میں داخل ہوئے۔ جب آپ کی نظر سواد مدینہ پر پڑی تو آپ نے تین بار تکبیر کہی اور فرمایا :
الله اكبر لا اله الا الله وحده لاشريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شئ قدير - آئبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون ۔ الله وعده ونصر عبده وهزم الاحزاب
اللہ سب سے بڑا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ اکیلا ہے۔ کوئی اس کا شریک نہیں۔ اور اسی کے لئے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ہم لوٹ رہے ہیں توبہ کرتے ہوئے عبادت کرتے ہوئے۔ اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے۔ نے اپنا وعدہ سچا کیا۔ اور اس نے اپنے بندے کی مدد کی اور اس نے تمام گروہوں کو تنہا شکست
حضرت اسامہ بن شریک کہتے ہیں کہ منی میں لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص کہتا کہ اے خدا کے رسول، میں نے طواف سے پہلے سعی کرلی۔ کوئی کہتا کہ میں نے رمی جمار سے پہلے حلق کرالیا۔ کسی نے کہا کہ میں نے پہلے قربانی کی اور اس کے بعد رمی کیا۔ طرح لوگ مختلف مسائل پوچھتے رہے۔ آپ اس قسم کے سوالات کے جواب میں فرماتے افعل ولا حرج ، افعل ولا حرج (کر لو، کوئی حرج نہیں۔ کر لو کوئی حرج نہیں) حرج کی بات تو یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے بھائی کو بے عزت کرے۔ ایسا ہی شخص ظالم ہے۔ اسی نے حرج والا کام کیا یربِ مدویِ ام۔ اور ہلاک ہواد، بخاری ، مسلم ، ابوداؤد) کونسل کے تمام ارکان کے دستخط موجود نہیں۔