Al-Risala · August 1985

خطبہ حجۃ الوداع

Al-Risala, August 1985, pp. 23–35

By Maulana Wahiduddin Khan

حجۃ الوداع کا خطبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری اہم ترین تقریر ہے۔ یہ وہ خطبہ ہے جو آپ نے ۹ ذی الحجہ سن ۱۰ ھ کو عرفات کے میدان میں دیا تھا۔ حجۃ الوداع گویا زمانہ نبوت کا سب سے بڑا اسلامی اجتماع تھا۔ اس موقع پر تقریباً سوا لاکھ اصحاب رسول جمع تھے۔ اس وقت اپنی وفات سے تقریباً دو ماہ قبل آپ نے یہ خطبہ دیا۔ اس میں آپ نے ان تمام باتوں کا آخری اعلان فرمایا جس کے لیے آپ مبعوث کئے گئے تھے۔

حدیث کی کتابوں میں حجۃ الوداع کا نہایت تفصیلی تذکرہ ہے۔ مگر خطبہ حجۃ الوداع کسی روایت میں ایک کامل متن کی صورت میں مذکور نہیں۔ مختلف روایتوں میں اس کے متفرق اجزاء ملتے ہیں۔ اہل علم نے ان اجزا ء کو جوڑ کر ایک مجموعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔

یہ خطبہ ، ایک لفظ میں ، خدا کی عظمت اور انسان کی مساوات کا اعلان تھا۔ آپ نے بتایا کہ انسانوں کے درمیان صحیح تقسیم صرف ایک ہے اور وہ خدا پرست ہونے اور خدا پرست نہ ہونے کی ہے۔ اس کے سوا دوسری تمام تقسیمات مصنوعی ہیں۔ آپ نے انہیں باطل ٹھہرایا اور امت کو ذمہ دار بنایا کہ وہ ہمیشہ اس کا اعلان کرتی رہے ۔

اس اعلان کا ایک عملی اظہار یہ تھا کہ جس وقت سوا لاکھ انسانوں کے درمیان آپ نے عظمت خداوندی اور مساوات انسانی کا یہ خطبہ دیا اس وقت آپ کے سب سے زیادہ قریب دو آزاد شدہ غلام تھے۔ ایک بلال حبشی جو آپ کی سواری کی مہار پکڑے ہوئے تھے۔ اسامہ بن زید جو آپ کے سر پر کپڑے کا سایہ کئے ہوئے تھے۔

اگلے صفحات میں یہ اہم خطبہ شائع کیا جار ہا ہے۔ اولاً خطبہ نبوی کا عربی متن اور اس کے بعد اس کا اردو ترجمہ ۔

نص الخطبة التي خطبها رسول الله ﷺ يوم عرفة إن دماءكم وأموالكم حرام عليكم كحرمة يومكم هذا ، في شهركم هذا ، في بلدكم هذا ، ألا كل شيء من أمر الجاهلية تحت قدمي موضوع ، ودماء الجاهلية موضوعة ، وإنّ أول دم أضعه من دمائنا دم ابن ربيعة بن الحارث كان مسترضعاً في بني سعد فقتلته هذيل ، وربا الجاهلية موضوع ، وأول ربا أضع من ربانا ربا العباس بن عبد المطلب ، فإنّه موضوع كله ، فاتقوا الله في النساء ، فإنكم أخذتموهن بأمانة الله ، واستحللتم فروجهن بكلمة الله ، ولكم عليهن ألاّ يوطئن فرشكم أحداً تكرهونه ، فان فعلن ذلك فاضربوهن ضرباً غير مبرح ، ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف ، وقد تركت فيكم ما لن تضلوا بعده ان اعتصمتم به كتاب الله وسنة بنية ، وأنتم تسألون عنّي ، فماذا أنتم قائلون ؟ نشهد أنك قد بلغت وأديت ونصحت ، فقال بإصبعه السبابة يرفعها الى السماء وينكبها الى الناس اللهم أشهد ثلاث مرات نص الخطبة التي خطبها ﷺ في أوسط أيام التشريق يا أيها النّاس ! هل تدرون في أي شهر أنتم وفي أي يوم أنتم وفي أي بلد أنتم؟ فقالوا : في يوم حرام ، وبلد حرام ، وشهر حرام ، قال : فإنّ دماءكم وأموالكم وأعراضكم عليكم حرام ، كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا ، وفي بلدكم هذا ، الى يوم تلقونه ، ثم قال : اسمعوا مني تعيشوا ، ألا ! لا تظلموا ، ألا ! لا تظلموا ، ألا !

تظلموا ، إنّه لا يحل مال امرىء مسلم إلا بطيب نفس منه ، وان كل دم ومال ومأثرة كانت في الجاهلية تحت قدمي هذه ، الى يوم القيامة وإن أوّل دم يوضع دم ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب، كان مسترضعاً في بني ليث فقتلته هذيل ، وإن كل ربا في الجاهلية موضوع ، وان الله عز وجل قضى أن أوّل ربا يوضع ربا العباس بن عبد المطلب ، لكم رءوس أموالكم ، لا تظلمون ولا تُظْلَمون ، ألا ! قد استدار كهيئته يوم خلق السماوات والأرض ، ثم قرأ « إنّ عدة الشهور عند الله اثنا عشر شهرأ في كتاب الله يوم خلق السماوات والأرض ، منها أربعة حرم ، ذلك الدين القيم ، فلا تظلموا فيهن أنفسكم »، ألا ! لا ترجعوا بعدي كفاراً يضرب بعضكم رقاب بعض، ألا ! إنّ الشيطان قد أيس أن يعبده المصلون ، ولكنه في التحريش بينكم ، واتّقوا الله في النساء ، فإنّهن عندكم عوان لا يملكن لأنفسهن شيئاً ، وإن لهن عليكم حقاً، ولكم عليهن حقاً ألاّ يوطئن فرشكم أحداً غيركم ، ولا يأذنّ في بيوتكم لأحد تكرهونه ، فإن خفتم نشوزهنّ ، فعظوهنّ ، واهجروهنّ في المضاجع واضربوهنّ ضرباً غير مبرح ، ولهنّ رزقهنّ وكسوتهنّ بالمعروف ، وإنما أخذتموهن بأمانة الله ، واستحللتم فروجهنّ بكلمة الله عزّ وجلّ ، ألا ومن كانت عنده أمانة فليؤدّها الى من ائتمنه عليها وبسط يديه ، وقال : ألا ! هل بلّغت ، ثم قال : ليبلّغ الشّاهد الغائب ، فإنّه ربّ مبلغ أسعد من سامع

Printed page