Al-Risala · August 1985

ترجمہ

Al-Risala, August 1985, pp. 36–37

By Maulana Wahiduddin Khan

بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال تمہارے اوپر حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو کہ جاہلیت کے معاملے کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہیں اور جاہلیت کے تمام خون باطل کر دیئے گئے اور سب سے پہلا خون جو میں باطل کرتا ہوں وہ ہمارا خون، ربیعہ بن حارث کا خون ہے۔ اس نے بنو سعد سے دودھ پلانے والی طلب کیا تھا پھر اس کو ہذیل نے قتل کیا۔ اور جاہلیت کے تمام سود باطل ہیں۔ اور سب سے پہلا سود جو میں باطل کرتا ہوں وہ ہمارے خاندان کا سود، عباس بن عبد المطلب کا سود ہے وہ سب کا سب باطل ہے۔ لوگ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے ۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے۔ اور ان کے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو، جس کا آنا تمہیں پسند نہیں ، نہ آنے دیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کو ایسی مار مار سکتے ہو جو ظاہر نہ ہو۔ اور تمہارے اوپر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو معروف طریقہ پر کھانا اور کپڑا دو۔ اور میں تمہارے درمیان ایک چیز چھوڑ رہا ہوں ۔ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑو گے تو تم گمراہ نہ ہوگے۔ وہ چیز خدا کی کتاب ہے۔ اور تم سے میری بابت پوچھا جائے تو تم کیا کہوگے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پہونچا دیا اور ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔ آپ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر اس کو لوگوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ، اے اللہ تو گواہ رہ ۔ اے لوگو کیا تم جانتے ہو کہ تم کس مہینہ میں ہو اور تم کس دن میں ہو اور تم کس شہر لوگوں نے کہا کہ حرام دن اور حرام شہر اور حرام مہینے میں آپ نے فرمایا کہ تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تمہارے اوپر اسی طرح قیامت تک کے لیے حرام ہیں جس طرح تمہارا یہ دن ، تمہارا یہ مہینہ اور تمہارا یہ شہر حرام ہے۔ میری بات سنو اور اس کے مطابق زندگی گزارو۔ خبر دار، ظلم نہ کرنا، خبر دار، ظلم نہ کرنا۔ بے شک کسی مسلمان آدمی کا مال لینا جائز نہیں الا یہ کہ وہ راضی ہو۔ سنو، جاہلیت کا ہر خون اور مال اور شرف قیامت تک کے لیے میرے دونوں قدموں کے نیچے ہیں اور پہلا خون جو باطل کیا جاتا ہے وہ ربیعہ ابن حارث ابن عبد المطلب کا خون ہے۔ اس نے بنو سعد سے دودھ پلانے والی طلب کیا تھا۔

نے اس کو قتل کر دیا۔ جاہلیت کے تمام سود باطل کئے گئے اور اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ پہلا سود جو باطل کیا جائے وہ عباس ابن عبد المطلب کا سود ہے ۔ تمہارے لیے تمہارا راس المال ہے نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ تمہارے اوپر کوئی ظلم کیا جائے۔ سنو، زمانہ گھوم گیا (پس وہ آج) اسی نقطہ پر ہے جس دن کہ خدا نے زمین و آسمان کو پیدا کیا تھا ۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: خدا کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہیں، خدا کی کتاب میں، جس دن کہ اس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ ان میں سے چار مہینے محترم ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ۔ سنو، میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے سنو ، شیطان اس سے مایوس ہو چکا ہے کہ نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں، لیکن آپس میں تم کو برانگیختہ کر کے وہ اپنا مقصد حاصل کرے گا ۔ اور عورتوں کے بارے میں اللہ سے کیونکہ وہ تمہاری دست نگر ہیں۔ وہ اپنے لیے کچھ نہیں کر سکتیں اور تمہارے اوپر ان کا حق ہے اور ان کے اوپر تمہارا حق ہے، یہ کہ تمہارے بستر پر وہ تمہارے سوا کسی اور کو نہ آنے دیں اور نہ ایسے شخص کو تمہارے گھر میں آنے دیں جس کو تم نا پسند کرتے ہو۔ پھر اگر تم ان سے نافرمانی کا اندیشہ محسوس کرو تو ان کو نصیحت کرو۔ اور ان کو خواب گاہوں میں چھوڑ دو۔ اور ان کو ہلکی مار مارو۔ اور انہیں معروف طریقے پر کھانے اور کپڑے کا حق ہے۔ تم نے ان کو خدا کی امانت کے طور پر لیا ہے ۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے ۔ سنو، جس کے پاس کوئی امانت ہو تو وہ اس کو صاحب امانت کو واپس کر دے ۔ بعد آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے اور فرمایا، کیا میں نے پہنچا دیا، کیا میں نے پھر آپ نے کہا جو حاضر ہے وہ غیر حاضر کو پہنچا دے کیونکہ بہت سے وہ لوگ جنہیں پہنچایا جائے وہ سننے والوں سے زیادہ خوش بخت ہوتے ہیں ۔

Printed page