حج میں کیا نہ کریں
Al-Risala, August 1985, pp. 38–25
By Maulana Wahiduddin Khan
حج کے دنوں میں جو کچھ کرنا منع ہے وہ وہی ہے جس کو بقیہ دنوں میں بھی کرنا منع ہے۔ حج کے دوران میں ان کی ممانعت بطور تربیت ہے۔ حج میں شریعت کی ان ممنوعات پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرایا جاتا ہے تاکہ ان کے بارے میں آدمی کا احساس تیز ہو اور بقیہ دنوں میں ان سے بچنے کی خصوصی استعداد اس کے اندر پیدا ہو جائے۔ انسان جب اپنے گھر اور کاروبار میں ہوتا ہے تو وہ اپنے ذاتی معاملات میں الجھا رہتا ہے اور اس سے آگے کی حقیقتوں کو بھول جاتا ہے۔ اس لئے آدمی کو روزانہ نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد میں لایا جاتا ہے تاکہ کچھ دیر کے لئے وہ اپنے ذاتی ماحول سے علیحدہ ہو اور اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے خالی کر کے یکسوئی کے ساتھ خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔ حج کے دنوں میں اسی مقصد کے لئے آدمی کو اس کے محدود ماحول سے نکال کر زیادہ لمبی مدت کے لئے حجاز (عرب) کے مختلف مقامات پر لے جایا جاتا ہے۔ حج کسی آدمی کے لئے اس کے دنیوی ماحول سے کامل علیحدگی کا نام ہے تاکہ وہ کامل یک سوئی کے ساتھ اپنے خدا کی طرف متوجہ ہو سکے۔
عرب کے ساتھ بہت سی عظیم دینی روایتیں وابستہ ہیں۔ اس بنا پر حج کے مراسم کی ادائیگی کے لئے عرب کا جغرافیہ نہایت موزوں جغرافیہ ہے۔ یہاں کعبہ ہے جس کے بارے میں ہزاروں سال سے تقدس کی روایتیں قائم ہو چکی ہیں۔ پیغمبروں کی قربانی کی داستانیں لکھی گئی ہیں۔ یہاں خدا کے نیک بندوں پر خدا کے انعامات کی یادگاریں ہیں۔ یہ وہ زمین ہے جہاں خدا کے آخری رسول اور آپ کے اصحاب کی زندگیوں کے نشانات ثبت ہیں۔ کی تاریخی نسبتوں نے حج کے مقامات کے ساتھ غیر معمولی تقدس اور احترام کی فضا وابستہ کر دی ہے۔ ماحول میں پہنچتے ہی آدمی کے ذہن میں ایک پوری دینی تاریخ جاگ اٹھتی ہے۔ یہاں بالکل قدرتی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی دینی حس میں اضافہ ہو جائے ۔ وہ زیادہ سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ خدا کے مقرر کئے ہوئے فرائض کو ادا کرنے لگے۔ اسی مخصوص تاریخی اہمیت کی بنا پر اس علاقہ کو خدا نے اس کے لئے چنا کہ یہاں اسلامی زندگی کے بارے میں ایک علامتی مشق (ریہر سل) کرائی جائے اور پھر آدمی کو دوبارہ اس کے سابقہ ماحول میں واپس لایا جائے تاکہ وہ زیادہ بہتر طور پر خدا پرستانہ زندگی گزارنے کے قابل ہو سکے۔
حج کے زمانہ میں مخصوص مراسم کی ادائیگی کے دوران حاجی کے لئے جو چیزیں منع ہیں ان میں سے تین خاص چیزوں کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔
زبان سے کسی شخص کو کوئی تکلیف نہ پہنچانا۔
کسی جانور کو نہ مارنا اور نہ اس کو زخمی کرنا۔
لذت اور آرائش کی چیزوں سے پرہیز۔ مثلاً ناخن کاٹنا، بال سنوارنا، سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا، ازدواجی تعلقات وغیرہ۔
مل جل کر رہنے میں لوگوں کو ایک دوسرے کی جس چیز سب سے زیاوہ سابقہ پیش آتا ہے وہ زبان ایک شخص کو دوسرے شخص سے سب سے زیادہ تکلیف زبان ہی سے پہنچتی ہے۔ حج کے زمانہ میں بیک وقت بہت سے لوگوں کا ساتھ ہو جانے کی وجہ سے بار بار یہ موقع آتا ہے کہ آدمی کی زبان بے قابو ہو جائے اور ایک مسلمان سے دوسرے مسلمان کو ٹھیس پہنچے۔ چنانچہ حج کے موسم کو خصوصیت سے اس کی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا۔ زبان سے کسی کو تکلیف پہنچا نا عام دنوں میں اسلامی اخلاقیات کا ایک جزو ہے۔ مگر حج کے دنوں میں اس کو اسلامی عبادات کا لازمی جزو بنا دیا گیا تا کہ لوگ زیادہ سے زیادہ اہتمام کر کے اپنے کو اس سماجی برائی سے بچائیں۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : حج کے چند معلوم مہینے (شوال، ذی قعدہ، ذی الحجہ) ہیں۔ جو شخص ان مہینوں میں اپنے اوپر حج مقرر کرے تو پھر حج میں نہ کوئی فحش بات ہو اور نہ بد کلامی، اور نہ جھگڑا اور تکرار کیا جائے (بقرہ، ۱۹۷) زبان سے دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی یہی تین خاص صورتیں ہیں۔ آدمی فحش باتیں اپنی زبان سے نکالتا ہے، جو دوسروں کے لئے دل خراشی کا باعث ہوتی ہیں ۔ وہ دوسرے کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور اس کے بارے میں نازیبا کلمات بول کر اس کو بے آبرو کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ بات چیت کے دوران تکرار اور سخت کلامی پر اتر آتا ہے۔ یہ تمام چیزیں حج میں بالکل حرام کر دی گئیں ۔ تا کہ ان کے بارے میں آدمی کی حساسیت بڑھ جائے اور جب وہ حج کے مقدس سفر سے لوٹے تو اس کے اثر سے اس کی زبان ہمیشہ کے لئے ان چیزوں سے محفوظ ہو چکی ہو۔ حج کے لئے احرام باندھنے کے بعد خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا حاجی کے لئے حرام ہے۔ حتیٰ کہ شکار کئے ہوئے جانور کا گوشت بطور ہدیہ قبول کرنا، پرند کا پر اکھاڑنا، شکار میں مدد دینا، شکار کے جانور کو ذبح کرنے کے لئے چھری دینا، وغیرہ سب حاجی کے لئے حرام ہیں۔
حج کے دوران میں حاجی کسی موذی جانور مثلاً سانپ کو مار سکتا ہے۔ یا دہ قربانی کے جانور کو ذبح کرتا ہے جو حج کے مراسم کا ایک جزو ہے۔ اس کے علاوہ کسی جانور کو مار نا یا اسے تکلیف دینا حرام ہے۔ جانور کا شکار عام حالات میں بالکل جائز ہے مگر حج کے دوران شکار کرنے کی اجازت نہیں۔ یہ دراصل ایک شرعی حکم پر مبالغہ کے ساتھ عمل کرانا ہے۔ آدمی پر یہ فرض ہے کہ وہ انسان کو نہ مارے، وہ کسی جان دار کو نہ ستائے۔ یہ شریعت کا ایک عام حکم ہے جو ہر آدمی سے ہر حال میں مطلوب ہے، مگر حج کے دوران اس کو شکار کے جانوروں تک وسیع کر کے اس حکم کے بارے میں آدمی کے احساس کو تیز کیا جاتا ہے تا کہ حج سے واپسی کے بعد وہ زیادہ اہتمام کے ساتھ اس کی تعمیل کر سکے۔
اسلامی زندگی کا خلاصہ ایک لفظ میں یہ ہے کہ اپنے آپ کو کنٹرول میں رکھ کر زندگی گزاری جائے ۔ کے سفر کو اس قسم کی پابند زندگی کے لئے خصوصی تربیت کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے ۔ حج کی یہ حیثیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: جس شخص نے حج کے مراسم اس طرح ادا کئے کہ مسلمان اس کی زبان اور اس کے ہاتھ سے محفوظ رہے تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے (مَنْ قَضَی نُسُکہ وِسْلِم المسلمون
من لسانه ويدلا غفر له ما تقدّم من ذنبه، تفسیر ابن کثیر، سورۃ البقرہ) گویا حج کا فریضہ ادا کرتے ہوئے حاجی کو جس چیز سے خاص طور پر بچنا ہے وہ یہ کہ اس کی زبان سے کسی بندہ خدا کے دل کو ٹھیس نہ لگے۔ اس کے ہاتھ سے کسی انسان کو تکلیف نہ پہنچے۔ جو حج آدمی کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے وہ وہی حج ہے جس سے آدمی اس قسم کی زبان اور اس قسم کا ہاتھ لے کر واپس آیا ہو۔
حج کے دوران لذت اور آرائش کی چیزوں کو بھی ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ حج کا عمل احرام سے شروع ہوتا احرام ایک سادہ لباس (ایک سفید تہمد اور ایک سفید چادر) ہے جو حرم کے حدود میں داخل ہوتے ہی ہر حاجی اور زائر کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔ احرام گویا ایک قسم کا فقیرانہ لباس ہے جو زیارت کعبہ کے لئے پہنا جاتا ہے۔ یہ پہلی علامتی تدبیر ہے جس کے ذریعہ سے خدا اپنے بندوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ سارے انسان برابر ہیں۔ ظاہری چیزوں کی بنیاد پر لوگ ایک دوسرے پر فخر کرتے ہیں یا کسی کو اونچا یا کسی کو نیچا سمجھتے ہیں وہ سب خدا کی نظر میں سراسر باطل ہیں۔ خدا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے حج کے زمانہ میں لاکھوں حاجی ایک قسم کا لباس پہننے کی وجہ سے بالکل ایک جیسے دکھائی دیتے ہیں۔ گویا حج کا احرام اسلام کے اس اصول کا ایک عملی مظاہرہ ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ جو لوگ خدا کے اچھے بندے بننا چاہتے ہیں ان کے لئے لازم ہے کہ وہ ہر قسم کے دوسرے لباس" اپنے اوپر سے اتار دیں اور سب مل کر ایک ہو جائیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے۔ آپ نے فرمایا پراگندہ بال اور غبار آلود" ان الفاظ میں اصلی حاجی کی تعریف بتائی گئی ہے۔ الجھے ہوئے بال اور گرد سے اٹا ہوا جسم با مقصد آدمی کی پہچان ہے۔ جب کوئی شخص پوری سنجیدگی کے ساتھ اپنے آپ کو کسی خاص کام کے لئے وقف کر دے تو اس کو آرائش و زیبائش کی فرصت نہیں رہتی۔ حج میں بالقصد اس قسم کا حلیہ بنانے کا حکم گویا با مقصد زندگی گزارنے کا ایک تاکیدی سبق ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی خدائی مقصد میں اپنے آپ کو اس حد تک مشغول کرے کہ اس کو اپنے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی سُدھ نہ رہے۔ وہ وقتی لذتوں کو بھول جائے۔ برتر مقصد کو پانے کی دھن میں اس کو اپنے ذاتی تقاضے یاد نہ رہیں. حج کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: اور تم سفر حج میں تقویٰ کا زاد راہ لو، بہترین زاد راہ تقویٰ کا زاد راہ ہے۔ اے عقل والو اللہ سے ڈرو (بقرہ ۱۹۷)
قدیم عرب میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ حج کے لئے زاد راہ لے کر نکلنا دنیا دارانہ فعل ہے، جو شخص حج کے لئے اس طرح نکلے کہ وہ دنیا کا سامان لئے بغیر حج کے سفر پر چل پڑا ہو وہ بڑا پارسا اور دین دار خیال کیا جاتا تھا۔ ایسے لوگ اپنے بارے میں کہتے کہ ہم متوکل ہیں (نحن المتوکلون) ہم خدا کے سوا کسی چیز پر بھروسہ نہیں کرتے۔ مگر قرآن میں یہ بتایا گیا کہ اس قسم کی ظاہری نمائش کا نام دین داری نہیں ہے۔ دین داری کا تعلق دل اور ذہن سے ہے نہ کہ کسی قسم کے خارجی مظاہرہ سے۔ آدمی کو جس چیز سے بچنا ہے وہ یہ ہے کہ اس کا دل اور اس کا ذہن غیر اللہ کے ڈر سے خالی ہو، : یہ کہ اس کی جھولی میں کوئی کھانے پینے کا سامان نظر نہ آتا ہو۔
اس کے بعد ہا ہا ہا حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ ہر مسلمان مرد و عورت پر استطاعت کی صورت میں ایک بار حج کرنا فرض ہے ۔ حج کی ادائیگی کے پانچ دن ہیں ۔ ۸ ذی الحجہ سے ۱۲ ذی الحجہ تک ۔
حج کے لئے جانے والے مکہ پہنچنے سے پہلے ایک مقررہ مقام پر احرام ( حج کا لباس ) پہنتے ہیں ۔ اس مقام کو میقات کہا جاتا ہے ۔ ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں کی میقات یلملم کی پہاڑی ہے ۔ مدینہ کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذوالحلیفہ، کوفہ، بصرہ اور بغداد کی طرف سے آنے والوں کے لئے ذاتِ عرق ۔ ترکی اور شام کی طرف سے آنے والوں کے لئے جُحفہ ہے ۔ مکہ پہنچنے سے پہلے میقات پر احرام باندھ لینا ضروری ہے ۔
۸ ذی الحجہ کو یوم ترویہ بھی کہتے ہیں۔ اس تاریخ کو رات میں یا صبح کی نماز کے فوراً بعد غسل کر کے احرام کی ایک چادر تہمد کی طرح پہن لیں اور دوسری اوڑھ لیں۔ حرم میں پہنچ کر کعبہ کا طواف مقام ابراہیم پر دو رکعت نفل نماز واجب الطواف پڑھیں ۔ دُعا اور استغفار کریں۔ اس کے بعد دو رکعت نماز احرام کی نیت سے ادا کریں۔ جب یہ نماز پڑھیں تو سر احرام کی چادر سے ڈھکا ہوا ہو۔ پوری کر چکیں تو سر سے چادر ہٹالیں اور اس طرح نیت کریں :
اللَّهُمَّ إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَيَسِّرْهُ لِي وَتَقَبَّلْهُ مِنِّي ردا پورہ کو سارا پتا وئی ساریاق پاک فینا اے اللہ میں حج کا ارادہ کرتا ہوں، تو اس کو میرے لئے آسان کر دے اور میری جانب سے اس کو قبول فرما احرام باندھنے سے لے کر حج ختم ہونے تک اٹھتے بیٹھتے اور حج کے ارکان ادا کرتے ہوئے بار بار
مندرجہ ذیل دعا پڑھی جاتی ہے جس کو تلبیہ کہتے ہیں۔ مرد بلند آواز سے تلبیہ کہیں اور عورتیں آہستہ آہستہ: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ حاضر ہوں، اے اللہ حاضر ہوں، حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، حاضر ہوں، سب تعریفیں اور نعمتیں تیرے لئے ہیں اور بادشاہی میں تیرا کوئی شریک نہیں۔
حج کے دوران ایک مرتبہ صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا واجب ہے۔ یہ سعی عرفات کی حاضری سے پہلے یا نفلی طواف یا طواف زیارت کے بعد کر سکتے ہیں۔ طواف زیارت (منی سے واپسی کے بعد) کرنا افضل کمزور لوگ، ہجوم کے خیال سے پہلے ہی اس ذمہ داری سے سبک دوش ہو سکتے ہیں۔
طواف کعبہ کے سات چکر ہیں۔ پہلے حجر اسود کا استلام کریں۔ اس کے بعد اضطباع کریں۔ ابتدائی تین چکر میں چادر کو داہنے مونڈھے کے نیچے سے نکال کر دونوں کونوں کو بائیں مونڈھے پر ڈال لیں اور تیزی سے اکڑ کر چلیں جس کو رمل کہتے ہیں (عورتوں کو اضطباع اور رمل کی ضرورت نہیں) باقی چار پھیرے معمول کے مطابق کریں۔ طواف کے دوران دعا پڑھتے رہیں۔ آخر میں مقام ابراہیم پر دو رکعت نماز پڑھیں ۔ اس کے بعد ملتزم پر آئیں اور خوب دعا کریں۔
اس کے بعد زم زم پئیں اور دعا کریں۔ پھر سعی کے لئے باب الصفا سے ہو کر صفا کی طرف چلیں۔ اور پھر صفا سے مروہ کی طرف۔ اب سعی کا ایک پھیرا پورا ہو گیا۔ اسی طرح سات پھیرے صفا سے مروہ اور مروہ سے صفا تک کریں ۔ اس سعی کے دوران تکبیر و تہلیل اور دعا کرتے رہنا چاہئے۔ سعی میں مردوں کو میلین أخضرین کے درمیان دوڑ کر چلنا چاہئے سعی میں سات پھیرے اس طرح کریں کہ ساتواں پھیرا مروہ پر ختم ہو۔
۸ ذی الحجہ کی صبح کو اس کے بعد منیٰ کے لئے روانہ ہونا ہے۔ دوپہر سے پہلے وہاں پہنچ جائیں تاکہ وہاں ظہر کی نماز ادا کر سکیں۔ منی میں مجموعی طور پر پانچ دن قیام کرنا ہے۔ منی میں پہلے ۸ ذی الحجہ کی ظہر سے ۹ ذی الحجہ کی فجر تک پانچ نمازیں حتی الامکان مسجد خیف میں پڑھی جاتی ہیں۔ ۹ ذی الحجہ کو یہاں سے عرفات جانا ہے اور وہاں ٹھہرنا ہے۔ یہ وقوف عرفہ ہی حج کا رکن اعظم ہے۔ یہاں ظہر اور عصر کی نماز اکٹھا پڑھی جاتی ہے۔ عرفات سے ۹ ذی الحجہ کو واپس آکر رات کو مزدلفہ میں ٹھہرنا ہے۔ پھر ۱۰ ذی الحجہ کو طلوع آفتاب سے پہلے مزدلفہ سے چل کر دوبارہ منیٰ آنا ہے۔ اس تمام دوران میں تلبیہ اور دعائیں جاری ایک دعا یہ ہے:
لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ على كل شيء قدير
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ ساری بادشاہت اور ساری تعریف اسی کے لئے ہے۔ وہ زندگی دیتا ہے اور وہی مارتا ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے غروب آفتاب تک میدان عرفات میں رہنا مسنون ہے۔ ۱۰ ذی الحجہ کو مغرب کی نماز میدان عرفات میں پڑھے بغیر مزدلفہ جانا ہے۔ مزدلفہ میں رات کو مغرب اور عشا کی نماز ملا کر پڑھنا ہے۔ اس سفر میں دادی محشر کے سوا ہر جگہ ٹھہرنا ہے۔ ۱۰ ذی الحجہ ہی کو پھر منیٰ آنا ہے۔ مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان تین مقامات ہیں جن کو جمرہ اولیٰ، جمرہ وسطیٰ اور جمرہ العقبہ کہتے ہیں۔ ان مقامات پر مختلف اوقات میں تین بار سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
رمی کے بعد منیٰ میں قربانی کریں۔ قربانی کے بعد حلق یا تقصیر (سر کے بال پورے منڈانا یا تر شوانا) اس کے بعد غسل کر کے معمول کے مطابق کپڑے پہن لیں۔ قربانی کے لئے مذبح جانا پڑتا ہے۔ دو تین افراد وکیل بن کر سب کی طرف سے قربانی کر سکتے ہیں۔ ہر حاجی کو مذبح جانا ضروری نہیں۔ بعد احرام کی پابندیاں بجز رفت کے اٹھ جاتی ہیں۔
اب حاجی کو طواف زیارت کرنا ہے۔ ۱۰ تاریخ کو ان سب سے فارغ ہو کر غروب آفتاب سے پہلے اگر طواف زیارت کے لئے مکہ جاکر واپس آسکتے ہوں تو بہتر ہے۔ ورنہ ۱۲ تاریخ کو غروب آفتاب تک یہ طواف کیا جا سکتا ہے۔ طواف زیارت کے وقت زیادہ سے زیادہ ذکر اور دعا میں مشغول رہنا چاہئے۔ طواف زیارت کے بعد پھر منیٰ واپس آنا ہے اور گیارہ اور بارہ دونوں تاریخوں میں جمرہ کی رمی کنکریا ں مارتے ہوئے یہ کہنا چاہئے : رُجُماً لِلشَّیْطَانِ وَرِضاً لِّلرَّحْمٰن (شیطان کو مارنے کے لئے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے) منیٰ واپس آکر رمی کرتے وقت پہلے چھوٹے شیطان، پھر درمیان والے شیطان اور پھر بڑے شیطان پر کنکریاں ماریں ۔ یہی مسنون طریقہ ہے۔ مزدلفہ سے واپسی پر تین راتیں منیٰ میں گزارنا سنت ہے۔ دو رات گزار کر ۱۲ ذی الحجہ کو غروب سے پہلے منیٰ سے جاسکتے ہیں۔ اب آپ حاجی ہو گئے۔ اس کے بعد جتنے دن مکہ میں قیام ہو، روزانہ کعبہ کا طواف اور دعا کیجئے اور روانگی کے دن طواف وداع کر کے یہاں سے رخصت ہوئیے مدینہ کی حاضری مدینہ جانا، مسجد نبوی میں نماز پڑھنا اور روضہ رسول پر درود پڑھنا اگر چہ حج کے ارکان و فرائض میں داخل نہیں۔ تاہم اس کا بہت ثواب ہے اور حاجی کو ضرور وہاں بھی حاضری دینا چاہئے حاجی کو چاہئے
کہ طوافِ وداع کے بعد مکہ سے مدینہ کے لئے روانہ ہو۔
مدینہ کے سفر میں زبان پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زیادہ سے زیادہ صلوٰة و سلام جاری رہنا چاہئے۔ مدینہ پہنچ کر غسل کرنے اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر دو رکعت نماز پڑھے اور اس کے بعد دعا کرے۔ نماز کے بعد ادب کے ساتھ مواجہہ شریف کی جالیوں کے پاس آئے اور صلوٰة و سلام پڑھے ۔ مدینہ کے قیام کے زمانہ میں نمازیں زیادہ سے زیادہ مسجد نبوی میں ادا کرے۔ مسجد نبوی میں نماز اور درود سے فارغ ہو کر مدینہ کے ان مقامات کی زیارت کرنا چاہئے جن سے اسلام کی تاریخ وابستہ ہے مثلاً جنت البقیع جہاں بہت سے صحابہ کرام دفن ہیں۔ مسجد قبا جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ آکر پہلی نماز پڑھی۔ جبل احد جہاں اسلام اور غیر اسلام کی دوسری بڑی جنگ ہوئی، مسجد قبلتین جہاں عین حالت نماز میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا، وغیرہ۔ احرام باندھنے کے بعد حاجی پر یہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں ۔ لڑائی جھگڑا کرنا۔
غیبت اور برائی کرنا کسی کے اوپر تہمت لگانا گالی دینا، فحش باتیں کرنا، وغیرہ نوٹ: یہ چیزیں ہر حال میں حرام ہیں مگر حج کے دوران ان کی شناعت بہت بڑھ جاتی ہے۔ خشکی کے جانوروں کا شکار کرنا، یا دوسروں کو شکار کی ترغیب دینا۔ بدن کے کسی حصے کا بال منڈانا، ناخن اور مونچھیں وغیرہ کتروانا۔ موزے پہننا، ایسے جوتے پہننا جن سے پاؤں کی درمیانی ہڈی چھپ جائے۔ عمامہ باندھنا یا ٹوپی پہننا۔
سلے ہوئے کپڑے پہننا۔
خوشبو لگانا، تیل لگانا یا سونگھنا۔
بیوی سے ہم صحبت ہونا یا لطف و محبت کی باتیں کرنا۔
گھر سے روانگی۔
۸ ذی الحجہ کو حدود میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا۔ غسل یا وضو کر شہر مکہ میں داخل ہونا۔
مسجد حرام میں داخل ہونا اور خانہ کعبہ کا طواف مقرر طریقے پر کرنا۔ طواف کے بعد صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا۔
۸ ذی الحجہ کو طواف قدوم کرکے کے منیٰ کے لئے روانگی۔ ۹ ذی الحجہ کو عرفات میں جانا اور ظہر و عصر کی نماز ملاکر پڑھنا۔ ۹ ذی الحجہ کی شب کو مزدلفہ پہنچ کر مغرب و عشاء کی نماز اکٹھا پڑھنا، رات کو وہاں قیام کرنا۔ ۱۰ ذی الحجہ کو مزدلفہ سے چل کر منیٰ میں آنا، جمرات پر کنکرياں مارنا۔ قربانی کرنا اور سر کے بال منڈانا۔
۱۰ ذی الحجہ کو سرمنڈانے کے بعد مکہ جاکر طواف زیارت کرنا اور پھر منیٰ واپس آنا، اور اگر ذی الحجہ کو سعی نہ کی ہو تو صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا۔ ۱۱-۱۲ ذی الحجہ کو منیٰ میں قیام۔ تینوں جمرات پر بالترتیب کنکریاں مارنا۔ اب آپ حاجی ہوگئے ۔ ۱۳ ذی الحجہ کو مکہ واپس جاکر طواف کیجئے اور آب زمزم پی کر خدا کا شکر ادا کیجئے ۔