Al-Risala · January 1985

کائناتی نمونہ

Al-Risala, January 1985, pp. 3–4

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمرسن Emerson کا قول ہے کہ فطرت اس اصول پر عمل کرتی ہے کہ ــــــ سب ہر ایک کے لئے اور ہر ایک سب کے لئے:

Nature works on a method of 'all for each and each for all' یہ ایک لفظ میں کائنات کے عمل کی نہایت جامع تعبیر ہے۔ کائنات میں بے شمار چیزیں ہیں۔ مگر ان کا عمل حد درجہ توافق کے ساتھ ہوتا ہے۔ ان میں سے ہر چیز اس طرح عمل کرتی ہے کہ اس کا عمل دوسری تمام چیزوں سے پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اسی طرح تمام چیزیں اس طرح متحرک ہوتی ہیں کہ ان کی حرکت ہر واحد جز ر سے کامل طور پر مطابق رہے۔

یہ گویا خدا کا ایک نمونہ ہے جو اس نے اپنی دنیا میں قائم کر رکھا ہے۔ انسان کو بھی اسی نمونہ پر چلنا انسانی آبادی میں بھی یہی نظام مطلوب ہے کہ ہر فرد اس طرح زندگی گزارے کہ اس سے دوسروں کو فائدہ پہنچے اور مجموعی طور پر پوری انسانیت اس طرح کام کرے کہ اس کا کام فرد کی ترقی اور کامیابی میں معاون بن رہا ہو۔ فرد کا عمل جماعت سے ہم آہنگ ہو اور جماعت کا عمل فرد سے ہم آہنگ۔ کائنات کی صورت میں خدا نے ایک زندہ نمونہ قائم کر دیا ہے جو ہر صبح و شام لوگوں کو بتا رہا ہے کہ وہ کس طرح رہیں اور کس طرح نہ رہیں۔ کون سا انسان خدا کے یہاں قابل قبول ٹھہرے گا اور کون سا انسان خدا کے یہاں رد کر دیا جائے گا۔

ایک درخت اور کائنات کی مثال لیجئے ۔ کائنات میں حرارت ہے، کشش ہے، ہوا ہے، پانی ہے، ان میں سے ہر چیز درخت کی ضروریات کے عین مطابق ہے۔ بیکٹیریا سے لے کر سورج تک تمام چیزیں درخت کے لئے گویا کائناتی دسترخوان ہیں۔ ہر چیز درخت کو عین وہی چیز دے رہی ہے جو اس کی فطرت کے مطابق اسے ملنا چاہئے۔

دوسری طرف ایک درخت کا معاملہ بھی یہی ہے۔ درخت اس دنیا کی کسی چیز سے ٹکرائے بغیر اپنا ارتقائی سفر طے کرتا ہے۔ اس کی لکڑی، اس کی پتی، اس کا پھول، اس کا پھل، غرض اس کی ہر چیز بقیہ دنیا کے لئے عین کارآمد ہے۔ حتیٰ کہ اس کا نائٹروجن لینا اور آکسیجن نکالنا بھی عین خارجی دنیا کے تقاضوں کے مطابق ہے ــــــ جز ر۔ اور کل یا فرد اور اجتماع کے درمیان یہی کامل مطابقت انسان سے بھی مطلوب ہے۔ اس کے سوا انسان کی کامیابی کا کوئی دوسرا راستہ نہیں ۔

ایک واقعہ انگریزی اخبار میں ان الفاظ میں آیا ہے۔

In a daring escape from the Sydney, Australia, jail, a prisoner climbed underneath the hood of a truck. At the truck's next stop, he clambered out and found himself in the yard of another prison 6.5 kilometers from the first. (UPI) آسٹریلیا کی سڈنی جیل کے ایک قیدی نے جیل سے بھاگنے کے لئے ایک جرأت مندانہ اقدام کیا۔ وہ کسی نہ کسی طرح ایک ٹرک کے اندر داخل ہو گیا اور اس کے اندر چھپ کر بیٹھ گیا۔ ٹرک روانہ ہو کر اگلے مقام پر رکی۔ وہ بمشکل ٹرک سے باہر آیا۔ اس نے پایا کہ وہ دوبارہ ایک جیل میں ہے۔ یہ دوسرا جیل اس کی پہلی جیل سے تقریباً چھ کلومیٹر دور تھا۔ جیل کا مذکورہ قیدی جیل کی زندگی سے گھبرایا ہوا تھا۔ اس کے دماغ پر صرف ایک چیز سوار تھی ۔ یہ کہ وہ کسی نہ کسی طرح جیل کی بند دنیا سے باہر پہنچ جائے۔ اس ذہنی کیفیت کے ساتھ جب اس کو ایک ٹرک نظر آیا تو اس نے یقین کر لیا کہ وہ ضرور جیل کے باہر کہیں جا رہا ہے۔ مگر وہ ٹرک ایک جیل سے دوسری جیل میں جا رہا تھا۔ آدمی اس ٹرک میں سوار ہو کر اپنی جیل سے نکلا۔ مگر اس کے بعد صرف یہ ہوا کہ وہ ایک اور جیل میں پہنچ گیا۔ یہ ایک دل چسپ مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بعض اوقات اقدام صرف الٹی چھلانگ کے ہم معنی ہوتا ہے۔ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آدمی ناکام ہو کر دوبارہ اپنے سابقہ مقام پر واپس آجائے۔

زندگی کا سفر دو چیزوں کے ملنے سے طے ہوتا ہے۔ ایک "مسافر" اور دوسرا "ٹرک"۔ کسی مسافر کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ محض ذاتی چھلانگ کے ذریعہ ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ جائے۔ اس کو لازماً اپنے سے باہر ایک سواری درکار ہوتی ہے۔ اگر آدمی محض اپنے ذاتی جوش ش کے تحت خود کو ایک سواری میں داخل ہو جائے۔ اور یہ تحقیق نہ کرے کہ وہ سواری کہاں جا رہی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کا انجام وہی ہو جو مذکورہ مثال میں آسٹریلیا کے قیدی کا ہوا۔ یعنی وہ ایک "قید خانہ" سے نکل کر دوسرے "قید خانہ" میں پہنچ جائے۔

Printed page