اتحاد کیا ہے، اختلاف کے باوجود متحد ہونا
Al-Risala, January 1985, pp. 34–46
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد اور بنگلور سے بھی کچھ صاحبان اس اجتماع میں شرکت کے لئے آئے تھے۔ بنگلور میں خدا کے فضل سے الرسالہ کی تحریک بڑھ رہی ہے۔ اردو اور انگریزی دونوں الرساله وہاں معقول تعداد میں جار ہے ہیں اور دن بدن ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔
پونہ کے اجتماعات میں خلاف امید کافی لوگ شریک ہوئے۔ ۳۰ ستمبر کی شام کو نمازِ عشاء کے بعد پنٹن والی مسجد میں خطاب عام ہوا۔ وسیع مسجد کے تمام حصے پوری طرح بھرے ہوئے تھے” اسلامی تاریخ کیا سبق دیتی ہے؟ کے موضوع پر میں نے ایک گھنٹہ تقریر کی۔ اسلام کے آغاز سے لے کر اسپین کے زوال تک کی تاریخ پر واقعات کی روشنی میں ایک جائزہ پیش کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ تاریخ بنانے کے لئے ہمیشہ جاندار افراد درکار ہوتے ہیں۔ خوش خیالیوں سے نہ پہلے تاریخ بنی اور نہ آج بن سکتی ہے۔ ۳۰ اکتوبر ۱۹۸۱ کی شام کو ایک نشست میں پونہ میں اسلامی مرکز کی شاخ کے قیام کا اعلان کیا گیا اور یہ طے کیا گیا کہ ہفتہ وار اجتماع کا نظم قائم کر کے یہاں باقاعدہ کام کیا جائے۔ پونہ کے عبدالصمد صاحب نے بتایا کہ ایک نوجوان حافظ ثناء الله صاحب جو حال میں گجرات سے عالم کی سند لے کر آئے ہیں اور پونہ کی ایک مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ دکان پر سائیکل کا سیٹ کور خریدنے آئے تھے۔ شوکیس میں رکھی ہوئی آپ کی کتابوں پر نظر پڑی تو فورا آجولائی کا الرسالہ اٹھا لیا۔ اور کہا کہ میں گجرات میں مستقل خریدار تھا۔ اب سوچ رہا تھا کہ پونہ میں بھی اپنے نام الرساله جاری کراؤں لیکن آپ کے پاس دیکھ کر دل خوش ہو گیا۔
دورانِ گفتگو میں نے ان سے کہا کہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ محلہ کی مسجد کے امام کا اثر اطراف کی آبادی میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ائمہ مساجد دعوت کا کام بڑی آسانی سے کرسکتے ہیں لیکن بڑا المیہ یہ ہے کہ اکثر ائمہ مساجد عصری اسلوب میں لٹریچر پڑھنے کے لئے تیار نہیں۔
عبد الصمد صاحب نے اپنی دکان کے سامنے "عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا بورڈ ڈلایا ہے اور سامنے ہی شوکیس میں تمام کتابیں لگا رکھی ہیں۔ اس طرح آنے جانے والے اس کو دیکھتے ہیں۔ سے کام کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔
ایک صاحب جو پونہ ممبئی کے درمیان ایک مقام بوناولہ میں امامت کرتے ہیں۔ وہ اکثر عربی خطبہ
سے پہلے ارسالہ کا کوئی مضمون پڑھ کر سناتے ہیں۔ پونہ کی ایک مسجد جس کو درگاہ والی مسجد کے نام سے جانا جاتا ہے وہاں ایک شخص ہیں عبد الکریم کورٹ والے وہ ایک فریم میں ارسالہ کا مضمون ہر چار چار دن کو مسجد کے دروازے پر لگاتے ہیں اور لوگ بہت پسند کرتے ہیں۔ اس طرح کی کوششیں مختلف حضرات اپنے اپنے مقامات پر کر رہے ہیں۔
ستمبر ۱۹۸۴ کو جناب ایس ایم کیٹی صاحب (سابق وزیر مالیات کرناٹک) دہلی میں ہمارے مرکز میں آئے اور بھٹکل آنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام کے تحت یکم اکتوبر سنہ ۱۹۸۸ء کو پونہ سے بھٹکل کے لئے روانگی ہوئی ۔ تقریبا چھ سو کلومیٹر کا یہ سفر کار کے ذریعہ طے کرنا نہایت درازا وحشت ناک معلوم ہوتا مگر ایک واقعہ نے یہ وحشت ناکی دور کر دی۔ وہ تھا سفر کا راستہ۔ پونہ سے بھٹکل تک کی سڑک پوری کی پوری قدرتی حسن کے درمیان سے گزرتی ہے۔ مسلسل پہاڑی علاقہ اور سڑک کے دونوں طرف پھیلے ہوئے سر سبز مناظر نے سفر کی صعوبت بھلا دی۔ جو سفر ابتداء تکلیف دہ سفر معلوم ہوتا تھا، قدرتی مناظر نے اس کو روح پرور ربانی سفر بنا دیا۔
پونہ سے بھٹکل کے راستہ میں سڑک کے کنارے بہت سے ٹرک الٹے ہوئے نظر آئے۔ کچھ گاڑیاں کیمپٹی سڑک پر دوڑ رہی تھیں اور کچھ گاڑیاں الٹی پڑی تھیں۔ جن لوگوں کی گاڑیاں سڑک پر دوڑ رہی تھیں ان کے چہرے بتاتے تھے کہ وہ اپنے کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ ان کو نہیں معلوم کہ یہ صرف وقت کا سوال ہے۔ کی گاڑی آخر کار الٹنے والی ہے۔ کسی کی آج الٹ گئی ہے کسی کی کل الٹے گی۔ یہ الٹی ہوئی گاڑیاں اپنے انجام کی صورت میں دوسروں کو بتا رہی ہیں کہ تمہارا بھی یہی انجام ہونے والا ہے۔ مگر کوئی نہیں جو اپنے دائیں بائیں بکھری ہوئی ان نشانیوں سے سبق لیتا ہو۔ یہ انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو واقعات سے الگ کر لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ صرف دوسروں کے لئے تھا، میرے اپنے ساتھ ایسا ہونے والا نہیں۔
راستہ میں دو گھنٹے کے لئے ہم لوگ بلگام ٹھہرے۔ بلگام (کرناٹک) کی کل آبادی پونے تین اس میں مسلمان تقریباً ۴۰ ہزار ہیں۔ ۱۹۳۸ء میں یہاں مسٹر محمد علی جناح آئے تھے اور تقریر کی تھی اور اس کے بعد سے یہاں کے ایک چوک کا نام جناح چوک پڑ گیا تھا۔ سرکاری کاغذات میں اس کا یہ نام درج نہیں۔ البتہ مسلمانوں نے یہاں ایک بورڈ لگا دیا جس پر جناح چوک لکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر اپنا سترہ جھنڈا لہرا دیا۔ چند سال پہلے ہندو صاحبان نے اس جھنڈے اور بورڈ کو ہٹا دیا۔ کے بعد دونوں فرقوں میں تنا فہ پیدا ہو گیا۔ ہندو صاحبان کا مطالبہ تھا کہ اس کا نام ویر ساور کر چوک رکھا
یہ نزاع چل رہی تھی۔ حال ہیں معلوم ہوا کہ یہاں کی کارپوریشن نے " دیر ساور کر چوک " کا نام منظور کر دیا ہے۔
مسلمان نام کی اس تبدیلی کو پسند نہیں کر رہے ہیں۔ تاہم یہاں کے مسلمان اس قدر خستہ حال میں کہ وہ غالباً اس کے خلاف کسی اقدام کی ہمت نہ کرسکیں گے۔ اگر یہاں کے مسلمان اچھے حال میں ہوتے تو یقیناً وہ اس چھیڑ چھاڑ کرتے اور بالآخر فساد ہو جاتا۔ اس کے بعد تمام لٹریچر منفقہ طور پر یہ انکشاف کرتے کہ۔ کے تحت ان مقامات کو فساد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں مسلمان اچھی حالت میں ہیں۔ معلوم ہوا کہ بلگام میں سڑک کے کنارے کی مسجدوں پر پہلے یہ بورڈ لگا ہوا تھا " یہاں باجہ بجانے کی منہائی ہے" کچھ سال پہلے تک شادی بیاہ اور پوجا وغیرہ کے جلوس والے اس پر عمل کرتے تھے۔ اس پر عمل ختم ہو گیا ہے۔
ہندوستان کا وہ ساحلی علاقہ جو گجرات سے لے کر ملا بار تک بحر عرب سے ملتا ہے، اس علاقہ میں قدیم زمانہ سے عربوں کی آمد و رفت رہی ہے۔ پہلی صدی ہجری میں صحابہ اور تابعین اس میں داخل ہوتے اور بہت سے لوگ یہاں آباد ہو گئے۔ بھٹکل (کرنا ٹک) اس علاقہ میں واقع ہے۔ یہاں کے مسلمان زیادہ تر انہیں قدیم عربوں کی نسل سے ہیں۔ ابن بطوطہ کے سفر نامہ میں بھی بھٹکل کا ذکر ملتا ہے۔
بھٹکل میں تقریبا ۲۲ ہزار مسلمان آباد ہیں۔ یہ یہاں کی آبادی کا تقریباً ۲۰ فی صد حصہ ہے۔ 1919 میں انجمن حامی مسلمین قائم ہوئی۔ ابتداء وہ مدرسہ سے شروع ہوئی تھی۔ مگر آج وہ ایک وسیع ایجوکیشنل کا مپلکس میں تبدیل ہو چکی ہے۔
بھٹکل کے مسلمانوں کی ایک جماعت " تنظیم واصلاح " کے نام سے ہے۔ یہاں کے تمام مسلمان اس کے فیصلوں کی پوری پابندی کرتے ہیں۔ مقامی کارپوریشن کے الیکشن میں یہی تنظیم مسلمانوں کا نمائندہ منتخب صرف یہی مسلمان الیکشن میں حصہ لیتے ہیں دوسرا کوئی شخص الیکشن میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اور اگر کوئی کھڑا ہو تو اس کو مسلمان کا ایک بھی ووٹ نہیں ملے گا۔ اسی اتحاد کا نتیجہ ہے کہ کارپوریشن پر اکثر مسلمانوں کا قبضہ رہتا ہے۔
بھٹکل میں مسلمانوں نے پرائمری سے لے کر انجینئرنگ تک ہر قسم کی تعلیم کا انتظام کیا ہے۔ نے سترایکڑ کی ایک زمین حاصل کی ہے۔ یہ ایک سطح مرتفع (پلیٹو) ہے ۔ جس کے چاروں طرف پہاڑیاں اور سبز سبز مناظر اس کو اس کو دلکش بنا رہے ہیں۔ اسی زمین میں اسلامک اینڈ عربک اسٹڈیز اکیڈمی قائم کی جارہی ہے۔ اس کی مجوزہ وسیع عمارت اور مسجد کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لئے مجھے بلایا گیا تھا۔
۱۹۸۴ء پہر کو ایک تقریب کے تحت میں نے اس کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس کے بعد ایک جلسہ ہوا جس میں بھٹکل اور اس کے اطراف کے تعلیم یافتہ مسلمان بہت بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہاں میں نے اسلام میں علم کی اہمیت پر تقریر کی۔ نیز یہ دکھایا کہ موجودہ سائنسی ترقیوں نے کس طرح اسلامی دعوت کے نئے وسیع امکانات کھول دئے ہیں۔
بھٹکل میں جو پروگرام ہوتے ان کی تفصیل الگ صفحہ پر درج ہے۔
بھٹکل غالباً ہندوستان میں منفرد جگہ ہے جہاں مسلمانوں کی تعمیر کا کام کامیاب طور پر ہو رہا یہاں ہر قسم کے تعمیری کام کئے جارہے ہیں۔ اس علاقہ میں سیکڑوں سال سے ملا ح آباد تھے جو خستہ حالت میں رہتے تھے۔ اب سمندر کے کنارے ان کے بہت سے خوبصورت گاؤں بن گئے ہیں۔ وہ لوگ مشینی کشتیوں کے ذریعے مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ ان کی بستیوں میں مسجد اور مدر سے قائم ہیں۔ ان کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ بھٹکل کے مسلمانوں کی مزید یہ خصوصیت ہے کہ یہاں کے سرکاری اسکولوں میں مسلمانوں کی اسلامی تعلیم کے لئے ایک گھنٹہ خاص کیا گیا ہے۔ اس میں انجمن کے اساتذہ جاتے ہیں اور مسلمان بچوں کو اسلام کی ضروری تعلیم دیتے ہیں۔
کسی کا قول ہے کہ خدا تجارت کو اپنا مبلغ بناتا ہے: