انسان کی کمائی
Al-Risala, September 1985, p. 4
By Maulana Wahiduddin Khan
ويوم يعرض الذين كفروا علی النار اور جس دن انکار کرنے والے لوگ آگ کے سامنے أذهبتم طيباكم في حياتكم الدنيا لائے جائیں گے ، تم اپنی اچھی چیزیں دنیا کی زندگی واستمتعتم بها فاليوم تجزون میں لے چکے اور ان کو برت چکے تو آج تم ذلت کا عذاب الهون بما كنتم تستكبرون عذاب بدلے میں پاؤ گے اس وجہ سے کہ تم دنیا میں في الأرض بغير الحق وبما كنتم ناحق گھمنڈ کرتے تھے اور اس وجہ سے کہ تم نافرمانی (الاحقاف (۲۰) کرتے تھے ۔
دنیا میں آدمی کو جو اسباب ملتے ہیں ، مثلاً جسمانی طاقت ، ذہانت ، مال ، عہدہ ، وسائل اور مواقع یہ سب خدا کی طرف سے ہوتے ہیں ۔ وہ اس لیے دیے جاتے ہیں کہ ان سے آدمی اپنے لیے کمائی کرے ۔
اس کمائی سے مراد نفسیاتی کمائی ہے اور اس کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس کو آیت میں کبر اور فسق کہا گیا ہے۔ دوسری کمائی وہ ہے جو اس کے برعکس ہے ، یعنی تواضع اور شکر ۔ آدمی اگر ان اسباب کو پا کر گھمنڈ میں مبتلا ہو جائے ۔ وہ ان کو ذاتی برتری حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے ۔ وہ ان کو شہرت اور لیڈری حاصل کرنے کا ذریعہ بنائے ، تو گویا کہ اس نے اپنے مواقع کو ضائع کر دیا ۔ اس کو جو سامانِ عمل دیا گیا تھا اس کا انجام اس نے اسی آج کی دنیا میں لے لیا ۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ۔
دوسرا آدمی وہ ہے جس کو اسباب حیات ملے تو اس نے ان کو خدائی چیز سمجھ کر اپنے عجز کا اقرار کیا ، اس نے ان کو خدا کا عطیہ مان کر خدا کا شکر ادا کیا ۔ اس نے ان اسباب کو اپنی ذات کے راستہ میں استعمال کرنے کے بجائے خدا کے راستہ میں استعمال کیا۔ یہ شخص وہ ہے جس نے ان مواقع کے ذریعہ آگے کا ذخیرہ فراہم کیا ۔ اس نے اپنے دنیوی سامان کے ذریعہ آخرت کی کمائی کی ۔ ایسا شخص موت کے بعد اپنے بہترین ذخیرہ کو پائے گا ۔ اس کی کمائی جنت کے ابدی باغوں کی صورت میں اُس کی طرف لوٹا دی جائے گی ۔ موجودہ زندگی میں ہر آدمی کو یکساں طور پر مواقع دیے گئے ہیں۔ مواقع سے طیبات دنیا کما رہا ہے اور کوئی طیباتِ آخرت ۔