Al-Risala · September 1985

ہجرتِ حبشہ

Al-Risala, September 1985, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی ابتدائی تاریخ کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کو ہجرت حبشہ کہا جاتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے پانچویں سال مکہ کے حالات بہت سخت ہو چکے تھے۔ مسلمانوں کو طرح طرح سے ستایا جا رہا تھا۔ اس وقت آپ نے اپنے اصحاب کو مشورہ دیا کہ وہ عرب کو چھوڑ کر سمندر پار کے ملک حبشہ چلے جائیں۔

اس موقع پر روایات میں آپ کے جو الفاظ منقول ہوئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے : تفرقوا فی الارض۔ تم لوگ زمین میں بکھر جباؤ ۔ وان اللہ سیجمعکم بے شک اللہ عنقریب تم کو جمع کرے گا۔

اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد بے حد با معنی تھا۔ اس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہو گا کہ ____ دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے اس وقت تم اپنے آپ کو نشانہ سے ہٹا دو۔ کے بعد خدا کے قانون کے تحت خود ہی ایسے اسباب پیدا ہوں گے کہ دشمن نہ یہ ہو اور تم زیادہ قوت کے ساتھ اپنے مقام پر مجتمع ہو سکو۔

ہجرت دراصل صبر کی ایک صورت ہے ۔ اور خدا کا انعام ہمیشہ صبر کے باٹ سے تول کر دیا جاتا ہے۔

اعلم ان النصر مع الصبر جان لو کہ نصرت صبر کے ساتھ ہے۔ وان مع العسر یسرا (حدیث) ہمیشہ مشکل کے بعد ملتی ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی مدد ہمیشہ صبر کرنے والوں کے حصہ میں آتی ہے۔ صبر ، نصرتِ خدا وندی کا زینہ ہے۔ جب بھی آدمی پر کوئی مشکل پیش آئے اور وہ رد عمل کا طریقہ اختیار نہ کرے بلکہ صبر کا طریقہ اختیار کرے تو یہ ایک بہترین علامت ہے۔ ایسے موقع پر صبر کی توفیق ملنا گویا اس بات کی پیشگی اطلاع ہے کہ آدمی کو خدا کی مدد حاصل ہوگی اور اس کی مشکل بالآخر آسانی اور کامیابی میں تبدیل ہو جائے گی ۔

جنت صبر کے اُس پار ہے ، مگر اکثر لوگ جنت کو صبر کے اِس پار تلاش کرنے لگتے ہیں ۔

Printed page